خبریں کالم کی خبریں

دفعہ370کبھی بحال نہیں ہوگی

21 Nov 2020 کو شائع کیا گیا

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) کے قومی ترجمان سید شاہنواز حسین نے جمعہ کو کہا ہے کہ دفعہ370کبھی بحال نہیں ہوگی جبکہ اس سلسلے میں عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ عوام کو دھوکہ دے رہا ہے ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا’گپکار گینگ کے لیڈران نے جموں و کشمیر کے لوگوں کے … مزیدپڑھیں

جذباتی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے/بخاری

16 Nov 2020 کو شائع کیا گیا

اپنی پارٹی کے سربراہ سید الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں جذباتی سیاست کا دور ختم ہوچکا ہے ۔ بخاری نے کہا کہ اپنی پارٹی نے دفعہ370کی بحالی کے معاملے پر سرینڈر نہیں کیا ہے ، اراضی قوانین اور ریاستی درجے کی بحالی کے لئے جدوجہد جاری رہے گی ۔اس دوران جموں … مزیدپڑھیں

‘پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن نامی پیلٹ فارم تشکیل

19 Oct 2020 کو شائع کیا گیا

گپکار اعلامیے کے دستخط کنندگان نے ‘پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن نامی پیلٹ فارم تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پلیٹ فارم جموں و کشمیر میں 4؍ اگست 2019 کی پوزیشن کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کام کرے گا۔جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی منسوخی کے … مزیدپڑھیں

ہندوستانی فضائیہ ہر صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار/ ایئر چیف مارشل

12 Oct 2020 کو شائع کیا گیا

فضائیہ کے سربراہ آر کے ایس بھدوریا نے کہا ہے کہ ہندوستانی فضائیہ نے اپنے عزم مصمم اور ضرب کاری لگانے کا مظاہرہ کیا ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ اپنے دشمنوں سے مؤثرطور پر نمٹے گی۔ شمالی سرحد پر حالیہ تعطل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے فوری طور پر جوابی کارروائی کے لئے فضائیہ کے جانبازوں کی ستائش کی۔ وہ فضائیہ کے دن کے موقع پر جمعرات کو ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ ایئرچیف مارشل بھدوریا نے ایئر فورس کے88 ویں یوم تاسیس کے موقع پر فضائیہ کے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں موجودہ اور مستقبل کے چیلنجوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے خود کو ایک ایسی قوت میں تبدیل کرنا ہوگا جو ہر طرح کے چیلنجوں سے مقابلہ کر سکے۔ان کا کہناتھا کہ آج ملک کو یقین دلایا کہ ایئر فورس دن رات ملک کی فضائی سرحدوں کا دفاع کرنے اور کسی بھی صورتحال سے مضبوطی سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں پڑوسی ممالک کی بڑھتی ہوئی خواہشات سے پیدا ہونے والے خطرے اور چیلنج سے نمٹنے کے لئے ایئرفورس پوری طرح تیار ہے اور گزشتہ دنوں ضرورت پڑنے پر فورس نے فوری ضروری کارروائی کرکے اپنی صلاحیت و کارکردگی کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ فضائیہ ہر صورتحال اور چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ایئر فورس ہر طرح سے مضبوط ہو اور چیلینجز کی آزمائش کا مقابلہ کرے نیز یہ خود کفیل ہندوستان کے لئے بھی ضروری ہے۔ ان کے خطاب کے بعد ایئر فورس کے مختلف طیاروں نے کرتب بازی اور اپنی طاقت کے جوہر کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف نیول اسٹاف بھی موجود تھے۔ جمعرات کو فضائیہ کے قیام کو 88 سال پورے ہوئے۔ 8اکتوبر1932 کو ہندوستانی فضائیہ قائم کی گئی تھی۔غازی آباد میں ہنڈن میں فضائیہ کے اسٹیشن پر ایوارڈ تقسیم کئے جانے کی تقریب منعقد ہوئی اور مختلف ہوائی جہازوں نے اپنے کرتب دکھائے۔ مشہور آکاش گنگا ٹیم کے جوانوں نے بھی اپنی مہارت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا۔اس موقع پر صدر جمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ، وزیر اعظم اوروزیر دفاع نے فضائیہ کو مبارکباد دی ہے۔صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ \ہمارے آسمانوں کو محفوظ رکھنے اور آفات کے موقع پر انسانی بنیاد پر سول حکام کی مددکرنے کے لئے ملک فضائیہ کا شکر گزار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رافیل، اپاچی اورچنوک کی شمولیت سے جو جدید کاری کا عمل شروع ہوا ہے، اس سے ہندوستانی فضائیہ اور زیادہ ناقابل تسخیر بن جائے گی۔نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ہندوستانی فضائیہ کے جانبازوں کو جرات وہمت اور پیشہ وارانہ مہارت کے طور پر جانا جاتا ہے اورانہوں نے جنگ اور امن کے زمانے میں ملک کا سر فخر سے اونچا کیا ہے۔اس موقع پر فضائیہ کے جوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ اِن بہادر جوانوں نے نہ صرف ملک کے آسمانوں کو محفوظ رکھاہے، بلکہ آفت کے وقت انسانی بنیاد پر خدمت کرنے میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فضائیہ کے بہادر جوانوں اوران کے کنبوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اپنی88 سال سے چلے آرہے قربانی، انتھک محنت کوششوں اور شاندار کارکردگی کے سفر کے نتیجے میں آج ہندوستانی فضائیہ ایک ناقابل تسخیر قوت بن چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکارنے جدید کاری اور اندرون ملک ہتھیاروں کی تیاری وغیرہ کے توسط سے ہندوستانی فضائیہ کی صلاحیت بڑھانے کا تہیہ کررکھا ہے۔ مزیدپڑھیں

امشی پورہ شوپیان مبینہ فرضی انکائونٹرمیں بڑی اور اہم پیش رفت/ بابر قادری قتل کی تحقیقات کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

26 Sep 2020 کو شائع کیا گیا

امشی پورہ شوپیان مبینہ فرضی انکائونٹر میں جمعہ کو اُس وقت بڑی اہم پیش رفت ہوئی جب فوج کے بعد پولیس نے بھی اس جھڑپ پر فرضی ہونے کی مہر ثبت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ راجوری کے لواحقین اور فرضی جھڑپ میں جاں بحق کئے گئے 3نوجوان کا ڈی این اے یکساں ہے اور اب آگے کی کارروائی کی جائے گی۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون ،وجے کمار نے کہا ہے کہ راجوری کے تین گھرانوں کے ڈی این اے نمونوں کی جانچ رپورٹ حاصل کر لی گئی ہے جو اْن تین نوجوانوںسے میل کھاتی ہے جو امشی پورہ شوپیان میں مارے گئے تھے۔
آئی جی پی نے وادی کے معروف ایڈو کیٹ بابر قادری قتل کیس کے حوالے سے بتایا کہ اس معمہ کی تحقیقات کے لئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا وادی میں سر گرم جنگجو امریکی ساخت بندوقیں استعمال کرتے ہیں جبکہ یہاں170سے200جنگجو سر گرم ہیں ۔ پولیس کنٹرول سرینگر میں جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پی وجے کمار نے کہاکہشوپیاں واقعہ کی تحقیقات کے سلسلے میں لئے گئے ڈی این اے نمونے جاں بحق کئے گئے 3نوجوانوں اور راجوری کے دعویٰ کرنے والے لواحقین کے ڈی این اے نمونے یکساں ہیں ۔ اس طرح اب یہ بات ثبوت کو پہنچی ہے کہ جنوبی ضلع میں جن 3 نوجوانوں کو جاں بحق کیا گیا اْن کا تعلق اْن کے والدین کے دعویٰ کے عین مطابق راجوری سے ہی تھا۔انسپکٹر جنرل آف پولیس ،کشمیر وجے کمار نے بتایا ’ہم نے راجوری کے تین گھرانوں کے ڈی این اے نمونوں کی جانچ رپورٹ حاصل کر لی ہے جو اْن تین نوجوانوںسے میل کھاتی ہے جو امشی پورہ شوپیان میں مارے گئے تھے۔ہم آگے کی کارروائی لوازمات پوری ہونے کے بعد ہی شروع کریں گے۔
یاد رہے کہ18جولائی کو امشی پورہ شوپیان میں فوج وفورسز نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک جھڑپ میں 3عدم شناخت جنگجو جاں بحق کئے گئے ۔تاہم جاں بحق کئے گئے تین نوجوانوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں ،جسکے بعد راجوری کے تین گھرانے سامنے آئے جنہوں نے دعویٰ کیا کہ جاں بحق نوجوان اُنکے لخت جگر ہیں۔اس کے بعد سوشل میڈیا میں ایک بحث شروع ہوئی جسکے بعد فوج نے اس معاملے کی نسبت کورٹ آف انکوائری کا اعلان کیا ۔ادھر پولیس نے اس معاملے کی اپنی سطح پر تحقیقات شروع کردی اور تین ہلاکتوں کے پس منظر میں راجوری کے تین گھرانوں کے دعوئوں کے بعد ڈی این اے نمونے حاصل کئے گئے۔آج چالیس روز بعد ڈی این اے نمونوں کی جانچ رپورٹ حاصل ہونے کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ راجوری کے تین گھرانوں کا دعویٰ صحیح ہے، جنہوں نے الزام عائد کیاہے کہ امشی پورہ شوپیان میں جاں بحق نوجوان اْن کے چشم و چراغ تھے جو بقول اْنکے مزدوری کیلئے جنوبی ضلع شوپیان گئے ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ فوج نے بھی اس سے قبل اپنے ایک بیان میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ فوجی اہلکاروں نے امشی پورہ آپریشن کے دوران ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی۔یہ تینوں نوجوان مزدوری کے لیے17 جولائی کو راجوری سے شوپیاں پہنچے تھے، جہاں انہوں نے ایک کمرہ کرائے پر لیا تھا اور اسی شام اپنے گھر والوں کو فون پر مطلع کیا تھا کہ انہیں ایک مقامی باغ میں کام مل گیا ہے جسے وہ اگلے روز شروع کر رہے ہیں۔اس کے بعد ان کا اپنے گھر والوں سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ ان کے اہل خانہ نے پولیس اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ یہ سمجھے تھے کہ کشمیر میں چوں کہ فون اور دوسری مواصلاتی سروسز اکثر بند ہو جاتی ہیں، اس لیے ان کے عزیز ان سے رابطہ نہیں کر پا رہے۔ فوج نے 18 جولائی کو شوپیاں کے امشی پورہ نامی علاقے میں ایک آپریشن کے دوران تین مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اس حوالے سے پولیس حکام نے بتایا تھا کہ ہلاک کیے گئے ’ عسکریت پسندوں‘کی شناخت نہیں ہو سکی ہے اور ان کی لاشیں وصول کرنے کے لیے بھی کوئی سامنے نہیں آیا۔ تو انہیں بارہ مولا کے اس قبرستان میں دفن کر دیا گیا جہاں عمومی طور پر کشمیر میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے غیر ملکی عسکریت پسندوں کو دفن کیا جاتا ہے۔پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ تدفین سے پہلے ہلاک شدگان کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے گئے تھے۔جب راجوری کے لاپتا نوجوانوں محمد امتیاز، ابرار احمد خان اور ابرار یوسف کے رشتے داروں کے لیے انتظار طویل ہونے لگا اور ان تک شوپیاں میں غیر شناخت شدہ مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیے جانے کی خبر پہنچی تو ان کی بے چینی مزید بڑھ گئی۔انہوں نے مقامی پولیس تھانے جا کر ان نوجوانوں کی گمشدگی کے بارے میں رپورٹ درج کرائی اور اس کے ساتھ ہی یہ مطالبہ کیا کہ قبر کشائی کر کے مبینہ جھڑپ میں ہلاک کیے گئے افراد کی شناخت کئی جائے۔حکام نے ان کا یہ مطالبہ تو نہیں مانا البتہ پولیس اور فوجی حکام نے معاملے کی تحقیقات کرنے کا وعدہ کیا۔اس سلسلے میں پولیس نے اگست کے وسط میں لاپتا نوجوانوں کے قریبی رشتے داروں کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے تھے۔ بعد ازں لاپتہ نوجوانوں کے والدین نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو خط ارسال کیا جس میں یہ شکایت کی گئی کہ فوج اور پولیس تحقیقات کو بلاوجہ طول دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں جان بوجھ کر غیر سنجیدگی اور کوتاہی کا مظاہرہ بھی کیا جا رہا ہے۔لاپتہ نوجوانوں کے والدین نے لیفٹیننٹ گورنر سے معاملے میں ذاتی مداخلت کی اپیل کی تھی۔
لیفٹیننٹ گورنر سنہا نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کے استفسار پر یقین دلایا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کو ضرور انصاف ملے۔ جب کہ جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے بھی کہا تھا کہ ڈی این اے رپورٹس کے ملاپ کے نتائج کو بہت جلد منظر عام پر لایا جائے گا۔اس دوران فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ جھڑپ سے متعلق شروع کی گئی تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں۔بیان کے مطابق تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ آپریشن میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ 1990 سے تجاوز کیا گیا۔اس خصوصی قانون کے تحت فوج کو جموں و کشمیر میںبے پناہ اختیارات حاصل ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ فوج کے وضع کردہ طریقہ کار کی بھی خلاف ورزی کی گئی جس کی پاداش میں اس آپریشن میں شامل افسران اور سپاہیوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
اس دوران انسپکٹر جنرل آف پولیس،کشمیر رینج وجے کمار نے بتایا کہ ایڈوکیٹ بابر قادری کے قتل کی تحقیقات کیلئے پولیس کی ایک خصوصی ٹیم (ایس آئی ٹی )تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی ایس پی حضرت بل کررہے ہیں۔یاد رہے کہ معروف وکیل بابر قادری کو جمعرات کی شام6بجکر20منٹ پر اْن کے گھر واقع حول سرینگر میں نامعلوم بندوق برداروں نے نزدیک سے گولیاں مار کر جاں بحق کیا۔آئی جی کشمیر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دو ماسک لگائے افراد ہاتھوں میں فائلیں لئے کسی کیس کو لیکر بات کرنے کے بہانے بابر قادری کے گھر پہنچے اور انہوں نے بابر پر پستول سے گولیاں چلاکر اْنہیں جاں بحق کیا۔آئی جی کشمیر کے مطابق بابر کو گولیاں مارنے کے بعد دونوں افراد نے ہوا میں بھی گولیاں چلائیں اور جائے مقام سے فرار ہوئے۔بی ڈی سی چیئرمین کھاگ بڈگام بوپیندر سنگھ کی ہلاکت کے حوالے سے آئی جی پی کا کہنا تھا کہ علاقے کا دورہ کرنے کے بعد بی ڈی سی چیرمین نے اُنکی حفاظت پر مامور پی ایس اوز کو آرام کرنے کے لئے کہا اور اکیلے ہی گھر لوٹ گئے ،شاید جنگجوئوں کواس کی نقل وحرکت کے حوالے سے علم تھا اور گھر کے باہر گولی مار کر ہلاک کیا۔انہوں نے کہا کہ اس ہلاکت میں لشکر طیبہ کے دو جنگجو یوسف کاندرو اور ابرار شامل ہیں،جنہیں بہت جلد پکڑا جائیگا ۔وڈی پورہ بڈگام میں سی آر پی ایس اہلکار کی ہلاکت کے حوالے سے آئی جی پی،وجے کمار کا کہنا ہے کہ جیش محمد کے جنگجوئوں نے ’ایم ۔4‘ رایفل کا استعمال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں170سے200جنگجو سر گرم ہیں جن میں40غیر مقامی ہیں ۔
مزیدپڑھیں

شوپیاں مبینہ فرضی تصادم کی فوجی تحقیقات مکمل ، ملوث اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت

19 Sep 2020 کو شائع کیا گیا

فوج نے جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں 18 جولائی کو ہونے والے مبینہ ‘فرضی تصادم میں مارے گئے تین نوجوانوں کی شناخت ضلع راجوری کے تین لاپتہ نوجوانوں کے طور پر ظاہر کر دی ہے۔ فوج نے کہا ہے کہ تصادم کے دوران بادی النظر میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورس ایکٹ 1990 کا حد سے زیادہ استعمال ہوا ہے نیز فوجی سربراہ کی ہدایات کی خلاف ہوئی ہے۔ تاہم ساتھ ہی کہا ہے کہ ان تینوں نوجوانوں کے جنگجویانہ یا متعلقہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے متعلق پولیس تحقیقات کر رہی ہیں۔ ضلع شوپیاں کے امشی پورہ میں ہونے والے مبینہ ‘فرضی تصادم سے متعلق فوج نے یہ تفصیلات جمعے کو یہاں جاری ایک بیان میں دی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مجاز انضباطی اتھارٹی نے بادی النظر میں جوابدہ پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت انضباطی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔ فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ’امشی پورہ میں ہونے والے آپریشن کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں۔ تحقیقات سے بادی النظر میں کچھ ثبوت سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپریشن کے دوران فوج کو افسپا 1990 کے تحت حاصل اختیارات کا حد سے زیادہ استعمال ہوا ہے نیز چیف آف آرمی سٹاف کے “کرو یا نہ کرو ہدایات، جن کو عزت مآب سپریم کورٹ نے منظور دی ہے، کی خلاف ورزی ہوئی ہے’۔ اس میں کہا گیا ہے کہ’اس کو دیکھتے ہوئے مجاز انضباطی اتھارٹی نے بادی النظر میں جوابدہ پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت انضباطی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دے دی ہے’۔بیان کے مطابق’تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والے ثبوتوں سے بادی النظر میں پتہ چلا ہے کہ امشی پورہ آپریشن کے دوران مارے گئے تین عدم شناخت دہشت گردوں کا تعلق راجوری سے ہیں اور ان کے نام امتیاز احمد، ابرار احمد اور محمد ابرار ہیں۔ ان کی ڈی این اے رپورٹ کا انتظار ہے۔ ان تینوں کے دہشت گردانہ یا متعلقہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے متعلق پولیس تحقیقات کر رہی ہیں’۔ اس میں مزید کہا گیا ہے’بھارتی فوج آپریشنز کے اخلاقی طرز عمل پر کاربند ہے۔ کیس سے متعلق دیگر تفصیلات وقتاً فوقتاً فراہم کی جائیں گی’۔قابل ذکر ہے کہ شوپیاں میں رواں برس جولائی میں لاپتہ ہونے والے تین مزدوروں، جن کا تعلق ضلع راجوری سے تھا، کے اہل خانہ نے تصویروں کی بنیادوں پر الزام عائد کیا تھا کہ 18 جولائی کو شوپیاں کے امشی پورہ میں ایک تصادم کے دوران مارے جانے والے تین عدم شناخت جنگجو در اصل ان کے رشتہ دار ہیں۔اہل خانہ نے ان تین نوجوانوں کی شناخت ابرار احمد خان ولد بگا خان، امتیاز حسین ولد شبیر حسین ساکنان در ساکری تحصیل کوٹرانکہ اور ابرار احمد ولد محمد یوسف ساکن ترکسی کے بطور کی تھی۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ضلع راجوری کے تین لاپتہ نوجوانوں کے غمزدہ کنبوں کو ہر حال میں انصاف فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ’جہاں تک ان غمزدہ کنبوں کا سوال ہے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ تحقیقات جاری ہیں۔ فوج اپنی طرف سے تحقیقات کر رہی ہے جبکہ پولیس نے بھی الگ سے ایک جانچ کمیٹی قائم کی ہے۔ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ان غمزہ کنبوں کو ہر حال میں انصاف فراہم کیا جائے گا’۔کشمیر پولیس زون کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے 13 اگست کو کہا تھا ‘اس کیس کے دو پہلو ہیں ایک یہ کہ جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے ان کی پہچان کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا کیونکہ شوپیاں میں مارے گئے تینوں جنگجوؤں کے ڈی این اے ٹیسٹ ہمارے پاس ہیں۔ دوسرا یہ کہ یہ تینوں جو یہاں کام کرنے آئے تھے ان کے بارے میں دیکھا جائے گا کہ ان کا جنگجوؤں کے ساتھ کوئی رابطہ مت تھا، ان کی فون کالز کو چیک کیا جائے گا اور دیگر تمام تکنیکی طریقوں سے بھی دیکھا جائے گا۔ مزیدپڑھیں

کیا مودی چین کے معاملے پر نہرو کی غلطی دہرا رہے ہیں؟

14 Sep 2020 کو شائع کیا گیا

سنہ 1949 میں ماو ژی دونگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی۔ یکم اپریل 1950 کو انڈیا نے اسے بطور مملکت تسلیم کر لیا اور اس کے ساتھ سیاسی تعلقات قائم کیے۔ چین کو اس طرح تسلیم کرنے والا انڈیا پہلا غیر کمیونسٹ ملک بن گیا۔ سن 1954 میں انڈیا نے تبت کے معاملے … مزیدپڑھیں

روشنی کا اتحادی بنوں گا،اندھیرے کا نہیں

24 Aug 2020 کو شائع کیا گیا

جو بائیڈن نے تین نومبر 2020 کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کے لیے ڈیموکریٹک جماعت کی جانب سے نامزدگی کو قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘امریکہ کو ایک لمبے عرصے تک اندھیروں سے ڈھا نپے رکھا۔سابق امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ان کے مخالف نے ملک … مزیدپڑھیں

کورونا کا قہر عروج پر ، امرناتھ یاترا بھی منسوخ / کشمیر میں ڈاکٹروں پر پتھرائو ، جموں میں ٹول پلازہ کے خلاف احتجاج

25 Jul 2020 کو شائع کیا گیا

پچھلے دو ہفتوں سے جموں کشمیر میںکورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے ۔ ملک میں یہ تعداد 12 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ اس دوران ملک کی معیشت اور لوگوں کی صحت کافی گرگئی ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں پہلی بار اس طرح کی مشکلات کا سامنا … مزیدپڑھیں

وزیردفاع راجناتھ سنگھ کا سرحدی علاقوں کا دورہ

18 Jul 2020 کو شائع کیا گیا

سرینگر ٹوڈےڈیسک جمعہ کو راجناتھ سنگھ اپنے ایک اہم دورے پرپہلے لداخ پہنچ گئے۔ انہوں نے کئی سرحدی چوکیوں کا معائنہ کیا اور وہاں تعینات فوجیوں سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چین کے ساتھ سرحدی تنازعے پر بات چیت جاری ہے۔ سنگھ نے کہا کہ … مزیدپڑھیں