خبریں کالم کی خبریں

شوپیاں مبینہ فرضی تصادم کی فوجی تحقیقات مکمل ، ملوث اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت

19 Sep 2020 کو شائع کیا گیا

فوج نے جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں 18 جولائی کو ہونے والے مبینہ ‘فرضی تصادم میں مارے گئے تین نوجوانوں کی شناخت ضلع راجوری کے تین لاپتہ نوجوانوں کے طور پر ظاہر کر دی ہے۔ فوج نے کہا ہے کہ تصادم کے دوران بادی النظر میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورس ایکٹ 1990 کا حد سے زیادہ استعمال ہوا ہے نیز فوجی سربراہ کی ہدایات کی خلاف ہوئی ہے۔ تاہم ساتھ ہی کہا ہے کہ ان تینوں نوجوانوں کے جنگجویانہ یا متعلقہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے متعلق پولیس تحقیقات کر رہی ہیں۔ ضلع شوپیاں کے امشی پورہ میں ہونے والے مبینہ ‘فرضی تصادم سے متعلق فوج نے یہ تفصیلات جمعے کو یہاں جاری ایک بیان میں دی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مجاز انضباطی اتھارٹی نے بادی النظر میں جوابدہ پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت انضباطی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔ فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ’امشی پورہ میں ہونے والے آپریشن کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں۔ تحقیقات سے بادی النظر میں کچھ ثبوت سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپریشن کے دوران فوج کو افسپا 1990 کے تحت حاصل اختیارات کا حد سے زیادہ استعمال ہوا ہے نیز چیف آف آرمی سٹاف کے “کرو یا نہ کرو ہدایات، جن کو عزت مآب سپریم کورٹ نے منظور دی ہے، کی خلاف ورزی ہوئی ہے’۔ اس میں کہا گیا ہے کہ’اس کو دیکھتے ہوئے مجاز انضباطی اتھارٹی نے بادی النظر میں جوابدہ پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت انضباطی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دے دی ہے’۔بیان کے مطابق’تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والے ثبوتوں سے بادی النظر میں پتہ چلا ہے کہ امشی پورہ آپریشن کے دوران مارے گئے تین عدم شناخت دہشت گردوں کا تعلق راجوری سے ہیں اور ان کے نام امتیاز احمد، ابرار احمد اور محمد ابرار ہیں۔ ان کی ڈی این اے رپورٹ کا انتظار ہے۔ ان تینوں کے دہشت گردانہ یا متعلقہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے متعلق پولیس تحقیقات کر رہی ہیں’۔ اس میں مزید کہا گیا ہے’بھارتی فوج آپریشنز کے اخلاقی طرز عمل پر کاربند ہے۔ کیس سے متعلق دیگر تفصیلات وقتاً فوقتاً فراہم کی جائیں گی’۔قابل ذکر ہے کہ شوپیاں میں رواں برس جولائی میں لاپتہ ہونے والے تین مزدوروں، جن کا تعلق ضلع راجوری سے تھا، کے اہل خانہ نے تصویروں کی بنیادوں پر الزام عائد کیا تھا کہ 18 جولائی کو شوپیاں کے امشی پورہ میں ایک تصادم کے دوران مارے جانے والے تین عدم شناخت جنگجو در اصل ان کے رشتہ دار ہیں۔اہل خانہ نے ان تین نوجوانوں کی شناخت ابرار احمد خان ولد بگا خان، امتیاز حسین ولد شبیر حسین ساکنان در ساکری تحصیل کوٹرانکہ اور ابرار احمد ولد محمد یوسف ساکن ترکسی کے بطور کی تھی۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ضلع راجوری کے تین لاپتہ نوجوانوں کے غمزدہ کنبوں کو ہر حال میں انصاف فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ’جہاں تک ان غمزدہ کنبوں کا سوال ہے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ تحقیقات جاری ہیں۔ فوج اپنی طرف سے تحقیقات کر رہی ہے جبکہ پولیس نے بھی الگ سے ایک جانچ کمیٹی قائم کی ہے۔ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ان غمزہ کنبوں کو ہر حال میں انصاف فراہم کیا جائے گا’۔کشمیر پولیس زون کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے 13 اگست کو کہا تھا ‘اس کیس کے دو پہلو ہیں ایک یہ کہ جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے ان کی پہچان کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا کیونکہ شوپیاں میں مارے گئے تینوں جنگجوؤں کے ڈی این اے ٹیسٹ ہمارے پاس ہیں۔ دوسرا یہ کہ یہ تینوں جو یہاں کام کرنے آئے تھے ان کے بارے میں دیکھا جائے گا کہ ان کا جنگجوؤں کے ساتھ کوئی رابطہ مت تھا، ان کی فون کالز کو چیک کیا جائے گا اور دیگر تمام تکنیکی طریقوں سے بھی دیکھا جائے گا۔ مزیدپڑھیں

کیا مودی چین کے معاملے پر نہرو کی غلطی دہرا رہے ہیں؟

14 Sep 2020 کو شائع کیا گیا

سنہ 1949 میں ماو ژی دونگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی۔ یکم اپریل 1950 کو انڈیا نے اسے بطور مملکت تسلیم کر لیا اور اس کے ساتھ سیاسی تعلقات قائم کیے۔ چین کو اس طرح تسلیم کرنے والا انڈیا پہلا غیر کمیونسٹ ملک بن گیا۔ سن 1954 میں انڈیا نے تبت کے معاملے … مزیدپڑھیں

روشنی کا اتحادی بنوں گا،اندھیرے کا نہیں

24 Aug 2020 کو شائع کیا گیا

جو بائیڈن نے تین نومبر 2020 کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کے لیے ڈیموکریٹک جماعت کی جانب سے نامزدگی کو قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘امریکہ کو ایک لمبے عرصے تک اندھیروں سے ڈھا نپے رکھا۔سابق امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ان کے مخالف نے ملک … مزیدپڑھیں

کورونا کا قہر عروج پر ، امرناتھ یاترا بھی منسوخ / کشمیر میں ڈاکٹروں پر پتھرائو ، جموں میں ٹول پلازہ کے خلاف احتجاج

25 Jul 2020 کو شائع کیا گیا

پچھلے دو ہفتوں سے جموں کشمیر میںکورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے ۔ ملک میں یہ تعداد 12 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ اس دوران ملک کی معیشت اور لوگوں کی صحت کافی گرگئی ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں پہلی بار اس طرح کی مشکلات کا سامنا … مزیدپڑھیں

وزیردفاع راجناتھ سنگھ کا سرحدی علاقوں کا دورہ

18 Jul 2020 کو شائع کیا گیا

سرینگر ٹوڈےڈیسک جمعہ کو راجناتھ سنگھ اپنے ایک اہم دورے پرپہلے لداخ پہنچ گئے۔ انہوں نے کئی سرحدی چوکیوں کا معائنہ کیا اور وہاں تعینات فوجیوں سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چین کے ساتھ سرحدی تنازعے پر بات چیت جاری ہے۔ سنگھ نے کہا کہ … مزیدپڑھیں

دنیا میں توسیع پسندی کا نہیں بلکہ ترقی کی جنگ کا دور چل رہا ہے

06 Jul 2020 کو شائع کیا گیا

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے رو حقیقی کنٹرول لائن کا اچانک دورہ کیا جہاں اعلیٰ فوجی عہدیداروں نے انہیں تازہ صورتحال کی تفصیلات فراہم کیں۔ ان کے ہمراہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل منوج مکند ناروانے بھی تھے۔ وزیر اعظم یہ دورہ اس وقت کررہے ہیں جب چین اور ہندوستان کے درمیان حقیقی کنٹرول لائن پر ماہ مئی سے کشیدگی جاری ہے جس نے حالیہ دنوں کے دوران شدت اختیار کی ہوئی ہے۔ اس تناظر میں موصوف کا یہ اچانک دورہ انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔ایک دفاعی ترجمان کے مطابق وزیر اعظم جمعہ کی صبح حقیقی کنٹرول لائن پر ‘نمو نامی فارورڈ ایریا پر پہنچے اور وہاں فوج، فضائی فورس اور آئی ٹی بی پی کے اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کی ترجمان کے مطابق وزیراعظم کو فوج کے اعلیٰ عہدیداروں نے حقیقی کنٹرول لائن کی تازہ صورتحال کے حوالے سے مکمل تفصیلات فراہم کیں۔موصوف نے بتایا کہ اس موقع پر وزیر اعظم فوجی جوانوں سے بھی ملے اور انہیں کٹھن حالات میں جانفشانی سے فرائض انجام دینے پر حوصلہ افزائی کی۔ وزیر اعظم مودی نے فوجی جوانوں سے خطاب بھی کیا اور 27 منٹ طویل خطاب کے دوران انہوں نے حقیقی کنٹرول لائن پر تعینات فوجیوں کی خدمات کو سراہا۔بعد ازاں وزیر اعظم نے فوجی ہسپتال جاکر وادی گلوان میں جھڑپ کے دوران زخمی ہونے والے فوجیوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے زخمی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ‘آج پوری دنیا آپ کے عزم کا تجزیہ کررہی ہے۔ میں آج صرف اور صرف آپ کو سلام پیش کرنے آیا ہوں۔ آپ کو چھو کر کے اور آپ کو دیکھ کر کے ایک تحریک لے کر کے جا رہا ہوں کہ ہمارا بھارت خود مختار بنے۔ انہوں نے کہا: ‘دنیا کی کسی بھی طاقت کے سامنے نہ کبھی جھکے ہیں اور نہ کبھی جھکیں گے۔ یہ بات میں آپ جیسے بہادر فوجیوں کو دیکھتے ہوئے بولتا ہوں۔ میں آپ کے ساتھ ساتھ آپ کو جنم دینے والی بہادر مائووں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں۔ ان مائوں کو جنہوں نے آپ جیسے بہادر فوجیوں کو جنم دیا ہے اور ملک کے حوالے کیا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ آپ بہت جلد ٹھیک ہوجائیں۔ اس سے پہلے آرمی چیف جنرل ناروانے نے 24 جون کو مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن کا دورہ کر کے موجودہ زمینی صورتحال کا جائزہ لیا تھا۔واضح رہے کہ لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر 15 اور 16 جون کی درمیانی شب کو چین اور بھارت کی افواج کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی جس میں ایک کرنل سمیت 20 بھارتی فوجی اہلکار ہلاک جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ چین کا بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا تھا لیکن وہ اسے تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ اس ہلاکت خیز جھڑپ کے بعد سے جہاں لداخ یونین ٹریٹری میں خوف ودہشت کا ماحول سایہ فگن ہے وہیں دوسری طرف سری نگر – لیہہ قومی شاہراہ پر فوجی اور جنگی ساز و سامان والی گاڑیوں کی نقل وحمل بڑھ جانے سے بھی لوگوں میں تشویش و فکر مندی مزید بڑھ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق فوج نے موجودہ صورتحال اور کسی بھی دفاعی کارروائی کے لئے جنگی ساز و سامان بشمول توپیں، میزائل، ٹینک اور لڑاکا طیارے سری نگر لیہہ شاہراہ اور بھارتی فضائیہ کے ہوائی جہازوں کے ذریعے حقیقی کنٹرول لائن کے نزدیک پہنچا دیے ہیں۔ تاہم دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ لداخ میں جنگی ساز و سامان کو دفاع کے لئے لایا جارہا ہے جنگ کے لئے نہیں۔ بھارت مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے حق میں ہے۔جہاں ایک طرف چین نے پوری وادی گلوان پر اپنا حق جتایا ہے وہیں لداخ میں لوگوں کا کہنا ہے کہ حقیقی کنٹرول لائن پر چینی سرگرمیوں درد سر بن گئی ہے کیونکہ یہ لوگ رفتہ رفتہ بھارتی حدود میں داخل ہوتے جارہے ہیں۔
اپنے خطاب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ دنیا میں توسیع پسندی کی جنگ کا زمانہ ختم ہوچکا ہے بلکہ ترقی کی جنگ کا دور چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ توسیع پسندی کی جنگ لڑنے والوں کو یا تو ہمیشہ شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے یا واپس لوٹنا پڑا ہے۔موصوف نے ان باتوں کا اظہار یہاں جمعہ کے روز ‘نمو نامی فارورڈ علاقے میں فوجی جوانوں سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے چین کا نام لئے بغیر کہا: ‘توسیع پسندی کی جنگ کا دور ختم ہوچکا ہے اور آج ترقی کی جنگ کا دور چل رہا ہے اور تیزی سے بدلتے ہوئے وقت میں ترقی کی جنگ ہی اہمیت کی حامل ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی میں توسیع پسندی نے انسانیت کو سب سے نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا: ‘توسیع پسندی کا جنون جس پر بھی سوار ہوا ہے اس نے عالمی امن کے لئے خطرہ پیدا کیا ہے۔ ایسی طاقتیں مٹ گئی ہیں یا اپنا راستہ بدلنے کے لئے مجبور ہوگئی ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے فوجی جوانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں نے جس بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اس سے دنیا میں بھارت کی طاقت کا پیغام پھیل گیا ہے، آپ کا حوصلہ ان پہاڑیوں سے بھی بلند ہے جن پر آپ دیش کے تحفظ کے لئے مامور ہیں۔انہوں نے کہا ‘آپ کا یہ حوصلہ اور بھارت ماتا کی حفاظت کے تئیں آپ کا تعاون انمول ہے۔ جن کٹھن حالات میں، جس اونچائی پر آپ ماں بھارتی کی ڈھال بن کر کے اس کی حفاظت کرتے ہیں، اس کی خدمت کرتے ہیں۔ اس بھارت ماتا کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔انہوں نے کہا: ‘آپ کا حوصلہ اس اونچائی سے بھی اونچا ہے جہاں آپ تعینات ہیں۔ آپ کا حوصلہ اس وادی سے بھی سخت ہے جس کو آپ روز اپنے قدموں سے ناپتے ہیں۔ آپ کی طاقت ان چٹانوں جیسی مضبوط ہے جو آپ کے ارد گرد کھڑی ہیں۔ آج آپ کے بیچ آکر میں اس کو محسوس کررہا ہوں۔ وزیر اعظم نے فوجیوں سے کہا: ‘جب ملک کی حفاظت آپ کی ہاتھوں میں ہے۔ آپ کے مضبوط ارادوں میں ہے۔ تو ایک اٹوٹ بھروسہ ہے۔ صرف مجھے نہیں پورے ملک کو ہے اور پورا ملک مطمئن بھی ہے۔آپ جب سرحد پر ڈٹے ہیں تو یہی بھروسہ ہر ایک بھارتی شہری کو دن رات کام کرنے کے کی ہمت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا: ‘ابھی جو آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے بہادری دکھائی ہے اس نے پوری دنیا میں یہ پیغام بھیجا ہے کہ بھارت کی طاقت کیا ہے۔ میں میرے سامنے خواتین فوجیوں کو بھی دیکھ رہا ہوں۔ جنگ کے میدان میں بھی اور سرحد پر بھی۔ یہ اپنے آپ کو جوش و جذبہ دیتا ہے۔ وادی گلوان میں جاں بحق ہونے والے فوجی جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ‘میں گلوان وادی میں شہید ہوئے اپنے بہادر جوانوں کو بھی ایک بار پھر خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ان میں جنوب، شمال، مشرق اور مغرب غرض ملک کے ہر کونے کے بہادروں نے اپنی بہادری دکھائی۔ انہوں نے کہا: ‘ان کے حوصلے اور بہادری پر دھرتی ان کا جے جے کار کرتی ہے۔ آج ان بیس بہادر فوجیوں کو ملک کا ہر شہری خراج عقیدت پیش کرتا تھا۔ انہیں سلام پیش کرتا ہے۔ آپ ہر ایک شہری کی چھاتی آپ کی بہادری کی وجہ سے چوڑی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ لداخ میں قائم فوج کی 14 ویں کور سے وابستہ جوانوں کی بہادری کی باتیں ہر جگہ ہورہی ہیں اور آپ کی بہادری اور حوصلے کی کہانیوں کی باز گشت بھارت کے ہر گھر میں سنائی دے رہی ہے۔ان کا کہنا تھا: ‘آپ کی بہادری کے قصے تو ہر طرف ہیں۔ دنیا نے آپ کی بہادری دیکھی ہے۔ آپ کے بہادری کے قصے گھر گھر میں گونج رہے ہیں۔ بھارت ماتا کے دشمنوں نے آپ کا فائر بھی دیکھا ہے اور فیوری بھی دیکھی ہے۔ موصوف وزیر اعظم نے کہا کہ جو کمزور ہوتے ہیں وہ کبھی بھی قیام امن کی پہل نہیں کرتے ہیں کیونکہ امن قائم کرنے کے لئے کی جانے والی پہل کی بنیادی شرط بہادری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جنگ ہوئی ہے یا امن رہا ہے ہمیشہ بہادروں کو فتح سے ہمکنار ہوتا ہوا دیکھا گیا ہے اور ہم نے ہمیشہ انسانیت کی بقا کے لئے کام کیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا: ‘دنیا میں انسانیت کی بقا کے لئے امن اور دوستی کو ہر ایک نے مقدم سمجھتا ہے۔ ہر کوئی مانتا ہے کہ وہ ضروری ہے۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کمزور امن کی پہل نہیں کرسکتا۔ عالمی جنگ ہو یا امن کی بات۔ جب بھی ضرورت پڑی ہے۔ دنیا نے ہمارے فوجیوں کی جدوجہد بھی دیکھی ہے اور عالمی امن کے لئے ان کی کوششوں کو محسوس بھی کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سرحدی علاقوں میں انفراسٹرکچر اور دوسرے خرچہ جات میں تین گنا اضافہ کیا ہے۔ مزیدپڑھیں

گلوان وادی میں تنائو جاری تاہم حالات قابو میں / ہند پاک سفارتی تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ

27 Jun 2020 کو شائع کیا گیا

سرینگر ٹوڈےڈیسک لداخ کی گلوان وادی میں بھارت اور چین کے درمیان محاذ آرائی بدستور قائم ہے ۔ دونوں طرف کی فوجوں کے درمیان اگرچہ مذاکرات جاری ہیں ۔ تاہم ابھی تک کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ چین نے دعویٰ کیا ہے کہ گلوان ویلی پر کوئی تنازع نہیں پایا جاتا ہے … مزیدپڑھیں

بھارت سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب

21 Jun 2020 کو شائع کیا گیا

بھارت سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست پر رکن منتخب ہو گیا جبکہ دوسری جانب ترکی کے ولکان بزکیر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔بھارت کو اقوام متحدہ کے192 میں سے 184 ممالک نے ووٹ دیے جس کے بعد بھارت یکم جنوری 2021 سے 31 دسمبر2022 تک کے لیے سلامتی … مزیدپڑھیں

کشمیر بھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ

27 Apr 2019 کو شائع کیا گیا

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سیکرٹری اور کشمیر اُمور کے ماہر رام مادھو نےڈاک بنگلہ اننت ناگ میں میڈیا نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے جنگجوؤں کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں تعمیر و ترقی کو یقینی بنانے کےلئے جنگجوئیت کا خاتمہ لازمی ہے۔ رام مادھو کے مطابق اگر ریاست … مزیدپڑھیں

مودی کا دور اقتدار مسائب و مشکلات کا ہوا ثابت

13 Apr 2019 کو شائع کیا گیا

بھارتیہ جنتا پارٹی کے 5سالہ دور اقتدار کو فرقہ پرستی ،عدم رواں داری،غیرجمہوری قرار دیتے ہوئے راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈ ر غلام نبی آزاد نے خطہ چناب کے کئی علاقوں میں عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کے نام پر بھارتیہ جنتا پارٹی لوگوں کوتقسیم کرکے پھر سے اقتدار … مزیدپڑھیں