خبریں کالم کی خبریں

بندشوں کے باوجود عاشورہ کے جلوس برآمد

22 Sep 2018 کو شائع کیا گیا

گذشتہ روز یعنی 10 محرم الحرام کے دن دین حق کی سربلندی کیلئے حضرت امام حسینؓاور ان کے رفقا کی عظیم قربانیوں کی یاد میں یوم عاشور ہ وادی بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا،جس دوران 10 محرم الحرام کو عزاداران امام عالی مقامؓ اور ان کے رفقا کی عظیم قربانیوں کی … مزیدپڑھیں

انتخابات نہیں حق خودارادیت ہمارا واحد مطالبہ

17 Sep 2018 کو شائع کیا گیا

حریت کانفرنس(ع) کے چیرمین میرواعظ محمد عمر فاروق نے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کونسل کی چیرمین Michelle Bachelet کے حالیہ بیان کومبنی برحقیقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ بین الاقوامی سطح پر جموں وکشمیر کے حالات کی نسبت زبردست فکر و تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور اسی ہفتے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کی نو منتخبہ کمشنر نے یہ بات برملا کہی کہ جموں وکشمیر میں بھارت کا حقوق انسانی کا ریکارڈ انتہائی تشویشناک ہے، یہاں بے دریغ انسانی حقوق کی پامالیاں ہو رہی ہیں اور یہ کہ کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق ،حق خودارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کر سکیں۔مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے Michelle Bachelet کے بیان کا اپنی اور کشمیری عوام کی طرف سے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات باعث افسوس ہے کہ حکومت ہندوستان نے موصوفہ کے اس بیان کو ایک بار پھر مسترد کردیا لیکن وہ اس بات کو محسوس نہیں کرتے کہ اقوام متحدہ ، او آئی سی یا ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے شائع ہو رہی رپورٹوں کو مسترد کرنے سے حکومت ہندوستان کی انسانی قدروں اور جمہوریت کے دعوے سراب ثابت ہو رہے ہیں ۔ میرواعظ محمد عمر فاروق نے کہا کہ حکومت ہندوستان اپنی غلطیوں سے سبق حاصل نہیں کرتی اور وہ وہی غلطیاں دہرا رہے ہیں جو وہ ۱۹۴۷ء سے آج تک دہراتے آرہے ہیں ، وہ سمجھ نہیں پا رہے کہ آج کشمیریوں کی چوتھی نسل اپنا حق مانگ رہی ہے۔ بھارت کی ارباب سیاست نہ عالمی برادری اور نہ اپنے لوگوں کو گمراہ کرسکتے ہیں جہاں تک کشمیری عوام کی بات ہے تو وہ اس بات کو بخوبی سمجھ رہے ہیں کہ بھارت اصل مسئلہ کی جانب توجہ دینے کے بجائے فروعی معاملات میں وقت ضائع کررہا ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں سب سے بڑا مسئلہ یہاں بھارت کا بے پناہ فوجی جماؤ ہے یہاں لاکھوں کی تعداد میں فوج اور فورسز موجود ہیں اور جب تک جموں وکشمیر سے فوجی انخلاءBlack Laws ، Bunker اور watch Tower ہٹائے نہیں جاتے تب تک یہاں حالات میں بہتری کے امکانات پیدا ہونا ناممکن ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں فوجیوں اور فورسز کی تعداد کم کرنے کے بجائے یہاں مزید فورسز کو لایا جارہا ہے اور اس کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ کشمیری عوام کی آواز کو دبایا جائے ۔ میرواعظ نے کہا کہ ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ حکومت ہندوستان جتنی زیادہ قوت کے ساتھ ہماری آواز کو دبانے کی کوشش کرے گی اتنی ہی شدت کے ساتھ یہ آواز ابھرتی جائیگی، ہمارا واحد مطالبہ حق خودارادیت ہے اور اس کے حصول تک ہماری جدوجہد جاری رہیگی۔ جہاں تک نام نہاد انتخابات کا تعلق ہے تو یہ پنچایتی انتخابات ہوں یا میونسپل ، نام نہاد اسمبلی کے انتخابات ہوں یا پارلیمنٹ کے جموں وکشمیر کے عوام ان انتخابات کو مسترد کرتے ہیں اور یہاں کے عوام کا اس لاحاصل عمل سے کوئی لینا دینا نہیں۔میرواعظ محمد عمر فاروق نے کہا کہ ہمارا ایک ہی نعرہ ہے کہ کوئی انتخابات نہیں صرف حق خودارادیت اور یہی ہمارا واحد مطالبہ ہے جویہاں کی متحدہ قیادت نے دیا ہے اور اسی Slogan کو بنیاد بنا کر آئندہ ذرائع ابلاغ ، Social Media یا دیگر ذرائع کے ذریعے نام نہاد انتخابی عمل کیخلاف مہم چلائی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا حق خودارادیت کا مطالبہ پورا ہونے تک ہماری جدوجہد ہر سطح پر جاری و ساری رہیگی۔ اس دوران نماز جمعہ کے بعد مشترکہ مزاحمتی قیادت کے احتجاجی پروگرام کی پیروی میں بڑی تعداد میں حریت کارکنوں نے نام نہاد بندوق برداروں کی جانب سے قتل و غارت کیخلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔دریں اثنا حریت ترجمان نے کشتواڑ میں پیش آئے خوفناک سڑک حادثے جس میں ۱۷ کے قریب قیمتی انسانی جانیں تلف ہوئیں اور دیگر درجنوں زخمی ہوئے پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہوئے افراد کے لواحقین کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی فوری شفایابی کے لئے دعا کی۔
ادھرحریت کانفرنس(گ) کی طرف سے ریاست جموں کشمیر میں تحریک حقِ خودارادیت کے حوالے سے سیاسی اور پُرامن سرگرمیوں میں مصروف راہنماؤں اور کارکنوں کی چنیدہ ہلاکتوں، عسکریت پسند نوجوانوں کو زیرِ حراست قتل کرنے اور غیر سیاسی مفکرین اور سول آبادی سے تعلق رکھنے والے لوگوں بالخصوص نوجوان نسل کو قتل وغارت گری کا نشانہ بنائے جانے کی شرمناک کارروائیوں کے خلاف حیدرپورہ سرینگر کے مین چوک میں ایک زوردار احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اس دوران مظاہرین بومئی سوپور کے حاکم الرحمان سلطانی، اشفاق احمد وانی اور ڈاکٹر عبدالاحد کو بھارتی ایجنسیوں کی طرف سے شہید کئے جانے کی بزدلانہ کارروائیوں پر روک لگائے جانے کے لیے عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور اقوامِ متحدہ کی اس ضمن میں مناسب اور بروقت کارروائی کئے جانے کا مطالبہ کررہے تھے۔ ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے حریت راہنمائوں اور کارکنان نے ریاست میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے خلاف زوردار نعرے بلند کررکھے تھے۔ احتجاجی مظاہرے میں حریت مجلس شوریٰ کے ارکان یا نمائندوں کے علاوہ سینکڑوں نوجوانوں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ مظاہرین حراستی ہلاکتوں اور قتل عام کو بند کرو کے نعرے بلند کرنے کے علاوہ الیکشن مخالف نعرے بھی دے رہے تھے۔ احتجاجی مظاہرین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مظاہرین نے بھارت کی قابض انتظامیہ کی طرف سے ریاستی عوام کے خلاف ظلم وتشدد، بربریت اور قتل وغارت گری کو انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ان مذموم حربوں سے حریت پسندوں کا کاروان اپنی مقدس تحریک حقِ خودارادیت سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔ حریت راہنمائوں نے نوجوان مزاحمتی راہنما حاکم الرحمان سلطانی کو بھارتی ایجنسیوں کی طرف سے انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کئے جانے کی بہیمانہ کارروائی کو بزدلانہ حرکت قرار دیتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ظالم حکمرانوں کے سامنے حاکم الرحمان جیسے شعلہ بیان مقرر اور نیک صفات کے مالک کردار کے علاوہ ایک سماجی اصلاح کار کے حوالے سے ان کی جوان بیوی اور پانچ کم سن بیٹیوں کو سرراہ کسمپرسی کی حالت میں مبتلا کیا جانا کِسی چنگیز یا ہٹلر کے حاشیہ خیال میں بھی نہ آیا ہوگا۔ حریت راہنما نے سیاسی راہنماؤں کی چنیدہ ہلاکتوں کو بھارت کے قابض افواج کی طرف سے ریاستی عوام کو خوفزدہ کرنے کی شاطرانہ چال کو ردّ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی چالوں سے کشمیری قوم پچھلے 70برسوں سے آگاہ ہوچکی ہے اب اس قوم کو کسی بھی سودا بازی کے دام فریب میں لایا نہیں جاسکتا۔ حریت راہنما نے ڈاکٹر عبدالاحد جیسے ریسرچ اسکالر کو پُراسرار طور پر سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے قتل کرانے کا مقصد یہاں کے حریت پسند دانشوروں کی زبان بندی کرکے یہاں قبرستان کی سی خاموشی کو نافذ کرنے کی ایک سعی لاحاصل قرار دیتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا۔ مظاہرین نے الیکشن بائیکاٹ کے حق میں بھی زوردار نعرے بلند کئے۔
مزیدپڑھیں

ریاست کو بھارت میں ضم کرنابھاجپا کا ایجنڈا

09 Sep 2018 کو شائع کیا گیا

حریت کانفرنس (ع)کے چیئرمین میرواعظ محمد عمر فاروق نے کہا ہے کہ حکومت ہندوستان 1947سے برابر جموں وکشمیر کے عوام کی مبنی برحق تحریک آزادی کو کمزور کرنے اور کشمیر کے متنازعہ مسئلہ کی حیثیت اور ہیئت کو کمزور کرنے کیلئے مختلف حربے بروئے کار لا رہی ہے ۔ پریس بیان کے مطابق مرکزی جامع … مزیدپڑھیں

ریاض نائیکو کے والد کی گرفتاری اور پولیس اہلکاروں کے رشتہ داروں کی اغوا کاری

02 Sep 2018 کو شائع کیا گیا

جنگجوئوںکی طرف سے ٹویٹرپرڈالے گئے تحریری اورآڈیوپیغامات میں پولیس اہلکاروں کومتنبیہ کیاکہ وہ خودکوجنگجومخالف کارروائیوں سے الگ کریں ۔ یاد رہے جمعرات کوجنوبی کشمیرمیں اُس وقت عوامی سطح پرسخت تشویش کی لہردوڑگئی جب حزب المجاہدین کے کمانڈر ریاض نائیکو اور حزب سے وابستہ سرگرم جنگجو لطیف ٹائیگرکے والدین اوردوبھائیوں کو الگ الگ چھاپوں کے دوران … مزیدپڑھیں

26 اور 27اگست کوریاست گیر احتجاجی ہڑتال

19 Aug 2018 کو شائع کیا گیا

مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ ہندوستان کے سپریم کورٹ میں آر ایس ایس اور بی جے پی کی حمایت والی چند تنظیموں کی طرف سے 1927 کے ریاست جموں کشمیر کے پشتینی باشندگی سے متعلق قانون کو ختم کرنے کی غرض سے دائر کی گئی عرضیوں کی خلاف اور اس قانون کے دفاع کیلئے ایک منظم و موثر لائحہ عمل ترتیب دینے کی اپنی متواتر کوششوں کے ضمن میں مزاحمتی قیادت کا سماج کے تمام طبقوں کیساتھ گذشتہ چند ہفتوں سے صلاح و مشورہ جاری ہے ۔مشترکہ بیان میں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ مزکورہ قانون کو ختم کرانے کی کوششوں کے پیچھے ریاست میں آباد ی کے موجودہ تناسب کو تبدیل کرکے مسئلہ کشمیر کی بنیادی ہیت اور حق خود ارادیت کی بنیادوں پر اثر انداز ہونا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مزاحمتی قیادت نے اس سلسلہ میں سماج کے تمام طبقوں بشمول اقلیت ، تاجر برادری، چیمبر آف کامرس، سیول سوسائٹی، ہوٹل مالکان، ماہرین تعلیم واساتذہ ، ٹرانسپورٹ سیکٹربشمول آٹو مالکان ، ٹیکسی مالکان و شکارہ ایسوسی ایشن اور دیگر کئی تنظیموں کے نمائندوں کیساتھ گفت شنید کے ادوار کئے ہیں۔ مشترکہ قیادت نے کہا ہے کہ ان تمام طبقوں کے نمائندوں نے اس معاملے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جس سے کہ ریاست کے مستقل باشندوں کے وجود کو ہی خطرہ لاحق ہوا ہے ۔ بیان کے مطابق ان نمائندوں نے مشترکہ قیادت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مزکورہ قانون کے تحفظ اور اس کیخلاف سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے وہ کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرینگے اور سماج کے تمام طبقوں اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے اس سلسلے میں قیادت کو اپنا بھر پور تعاون دینے کیلئے تیار ہیں۔ نمائندوں کے اس جذبے کی سراہنا کرتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا ہے کہ گفتہ شنید و صلاح و مشورہ کے بعد طے پایا گیا کہ 26 اور 27 اگست کوریاست گیرسطح پر2روزہ احتجاجی ہڑتال کی جائیگی جب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے شنوائی کیلئے آئیگا ۔مشترکہ مزاحمتی قیادت نے خبردارکیاہے کہ اگر عدالت کی جانب سے کوئی جانبدارانہ اور ناانصافی پر مبنی فیصلہ صادر کیا گیا تو فوری طور پر ریاست بھر میں اس کے خلاف ایک بھر پور ایجی ٹیشن شروع کی جائیگی جس کے تمام تر ذمہ داری ہندوستان پر ہوگی۔ بیان کے مطابق دریں اثناء یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ27 اگست تک عوام کے تمام طبقوں اور حلقوں کی طرف سے مزکورہ قانون کو ختم کرانے کی سازشوں کیخلاف احتجاج بلند کیا جائیگا۔ جس کی تفصیلات ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دی جائیگی۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ریاست کے تمام علاقہ جات بشمول وادی چناب و کرگل کے ساتھ رابطہ جاری رکھا جائیگا اور یہ کہ مشترکہ قیادت ریاست کی تمام سماجی و مذہبی تنظیموں کے ساتھ رابطہ میں ہے جنہوں نے اس سلسلہ میں اپنا مکمل تعاون دینے کا یقین دلایا ہے۔
مزیدپڑھیں

وزیر اعظم عمران خان کی ہند پاک دوستی کی پہل کا مثبت جواب دیں/محبوبہ مفتی

28 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی کی صدر اور ریاست کی سابق خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پارٹی کے یوم تاسیس کے موقعہ پر بھاری عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ پڑوسی ملک پاکستان کے نئے متوقع وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے دوستی کی پیش کش کا مثبت انداز میں جواب دیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر رشتوں کو مضبوط بنانے اور خطہ میں ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ پڑوسی ملک پاکستان کے نئے متوقع وزیر اعظم عمران خان کی حالیہ دوستی کی پیش کش کا مثبت جواب دیں۔
محبوبہ مفتی نے اپنی تقریر میں کہا ہمسایہ ملک پاکستان میں نئی حکومت تشکیل پانے جارہی ہے جہاں نیا وزیر اعظم ہوگا۔ اس لئے دونوں ممالک کے درمیان رشتوں میں سدھار لانے کے لیے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا میں وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کرنا چاہتی ہوں کہ وہ پڑوسی ملک کی طرف سے دوستی کی پیش کش کا مثبت انداز میں جواب دیں۔ پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہادونوں ممالک کے درمیان رشتوں کی مضبوطی ہی کامیابی کی ضمانت ہے جس کے لیے دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کو سنجیدہ اقدامات اُٹھانے ہوں گے۔ ریاست جموںوکشمیر میں صدیوں سے خون خرابے کا بازار گرم ہے ، لوگوں کی تجارت، تعلیم ، معیشت وغیرہ انتہائی درجے تک متاثر ہوچکی ہے۔ اس سب کو ایڈرس کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہندوپاک کی سیاسی قیادت کو سنجیدہ اقدامات اُٹھانے ہوں گے تاکہ دونوں ممالک میں رہ رہے عوام کو امن و سکون کی زندگی میسر ہو۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان رشتوں میں سدھار آنے سے خطے میں بھی غیر یقینی کے بادل چھٹ جائیں گے اور ہر سو امن، سکون اور خوشحالی کا ماحول قائم ہوگا۔
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ملک میں آنے والے انتخابات وزیر اعظم نریندر مودی کو پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ تھامنے میں مانع نہیں بننے چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ انتخابات کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، آپ سے پہلے بھی ملک کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔ انہوں نے بتایا کہ اٹل بہاری واجپائی نے بھی سال 2004سے پہلے پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا جس کے بعد سرحدوں پر جنگ بندی کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو فراخ دل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک میں ہورہے انتخابات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پڑوسی ملک کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور اس طرح ایک بہت بڑا فیصلہ لیا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے عوام نے راحت کی سانس لی۔پی ڈی پی صدر نے بتایا کہ ایک قدآور لیڈر انتخابات کی طرف توجہ نہیں کرتا بلکہ اسے لوگوں کی فکر لاحق ہوتی ہے۔
پی ڈی پی صدر نے اپنی تقریر کے دوران کہا پنڈت جواہر لعل نہرو ، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، وی پی سنگھ، آئی کے گجرال، اٹل بہاری واجپائی ہوں یا نریندر مودی، ریاست جموں وکشمیرہمیشہ ملک کے وزرائے اعظم کے سامنے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے نریندر مودی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ملک کا جو بھی وزیر اعظم جموں وکشمیر کے مسئلے کو انسانی دائرے کے اندر حل کرنے ، خون خرابے کو رکوانے اور پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کی پہل کرے گا اُس کا نام تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کو موقعہ کو غنیمت جان کر پاکستان کے نئے متوقع وزیر اعظم عمران خان کی پیش کش کا مثبت جواب دے دینا چاہیے۔ریاست میں آج تک ہوئے انتخابات کے حوالے سے پی ڈی پی صدر نے بتایا کہ ریاست کے لوگوں میں یہ گمان رہا ہے کہ یہاں ہمیشہ نئی دہلی کی اپنی پسندیدہ سرکاریں اقتدار میں لاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چاہے 1984ہو یا 1987کے انتخابات ہوں، لوگوں کے اندر یہ تصور تھا کہ یہاں نئی دہلی ہی سرکاریں منتخب کرواتی ہے جس کے بعد یہاں ریاستی عوام کا جمہوریت کے تئیں اعتبار کم ہوتا گیا۔
پی ڈی پی صدر نے کہا پی ڈی پی کے بانی اور سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید نے لوگوں کے جذبات کی ترجمانی اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے سامنے کی جنہوں نے مرحوم مفتی سعید کو یقین دلایا کہ ریاست میں آنے والے انتخابات شفاف طریقے پر منعقد کرائیں جائیں گے۔ انہوں نے بتایاپی ڈی پی نے اقتدار میں آنے سے قبل لوگوں کے ساتھ مختلف وعدے کئے جن میں پوٹا اور ٹاسک فورس کو ختم کرانا، پاکستان اور حریت کانفرنس کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا شامل تھا، نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے اُن وعدوں پر عمل کرکے دکھایا جو پی ڈی پی کے اختیار میں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور حریت کانفرنس کے ساتھ مذاکرات چونکہ پی ڈی پی کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا تاہم ہم نے ہمیشہ ہندوپاک کے درمیان رشتوں میں سدھار لانے کے لیے بات چیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اٹل بہاری واجپائی کے دورا اقتدار میں نائب وزیر اعظم ایل کے ایڈوانی کی قیادت میں 2بار بات چیت ہوئی جن میں حریت کانفرنس سے وابستہ لیڈران نے حصہ لیا جن میں میرواعظ عمر فاروق، محمد یاسین ملک اور پروفیسر عبدالغنی بٹ شامل تھے۔
محبوبہ مفتی نے کہا ریاست میں غیر یقینی صورتحال اور خون خرابے کے بیچ یہاں یتیموں، بیوائیوں کی ایک بڑی فوج جمع ہوئی جبکہ اس دوران یہاں قبرستانوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی نے یہاں کے لوگوں کو امن کی زندگی فراہم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان رشتوں کو مضبوطی عطا کرنے کے لیے ہمیشہ بات چیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی کا بنیادی نظریہ یہی رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رشتوں میں سدھار آجائے جس کے لیے پی ڈی پی نے وجود میں آنے کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کی خواہش ظاہر کی ۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی نے اقتدار میں رہ کر بھی اور اقتدار سے باہر بھی ہمیشہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بہتر رشتوں کی بحالی پر زور دیا۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ 2014کے سیلاب کے بعد ریاست میں تعمیری ڈھانچہ مکمل طور پر تہس نہس ہوا تھا اور لوگ سخت مشکلات سے دوچار تھے لیکن پی ڈی پی نے ریاست کے مجموعی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ اتحاد قائم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر چہ اُس وقت بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنا زہر کے پیالے کو پینے کے مترادف تھا لیکن ہم نے عوامی منڈیٹ کو قبول کرتے ہوئے اور ریاست کے مجموعی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بتایا کہ پی ڈی پی نے مخلوط حکومت میں رہ کر کبھی بھی مصلحت پسندی سے کام نہیں لیا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے ذاتی طور بحیثیت ریاستی وزیر اعلیٰ کے 2برسوں کے دوران کسی بھی معاملے پر مصلحت پسندی سے کام نہیں لیابلکہ ہر لمحہ ریاست کے تشخص اور یہاں کے عوام کے مجموعی مفاد کی ترجمانی کی۔
محبوبہ مفتی نے جلسہ کے دوران ریاست کی سبھی سیاسی جماعتوں کو آرٹیکل 35Aکے تحفظ کی خاطر یک جٹ ہوجانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموںوکشمیر کو خصوصی تشخص فراہم کرنے والی آئینی شق آرٹیکل 35Aکا سبھی سیاسی جماعتوں کو تنظیمی مفادات سے بالاتر ہوکر اس کا دفاع کرنا ہوگا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کو ریاست کے تشخص کے تحفظ کے حوالے سے آگے آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کچھ خود غرض عناصر سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے جموں، کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے درمیان دوریاں بڑھانے کی کوششیں کررہے ہیں جس کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ فی الوقت آرٹیکل 35Aکا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لہٰذا ریاست کی سبھی سیاسی جماعتوں کو تنظیمی مفادات سے بالاتر ہوکر ریاست کے تحفظ کی خاظر یک جٹ ہوکر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ پی ڈی پی صدر نے بتایا کہ میں نے بحیثیت وزیر اعلیٰ کے 2برسوں کے دوران کسی بھی سطح پر ریاستی عوام کی خواہشات کا سودا نہیں کیا اور نہ ہی مصلحت پسندی سے کام لیا۔
مزیدپڑھیں

کشمیر میں خونی کھیل جاری

21 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں موت کا رقص جاری ہے اور کشمیری اس وقت ایسے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے انسانیت کانپ اُٹھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کا قافیہ حیات تنگ کیا گیاہے اورفرقہ پرستوں کے غلبے کے بعدمذہبی آزادی کے اصول تہس نہس ہوگئے ۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ایسے عناصر کی کمی نہیں جو دونوں ممالک میں دوستی اور امن کے مخالف ہیں۔
بھارت کی موجودہ حالات میں فوری بدلاؤ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ہندوستان اب وہ ہندوستان نہیں رہا ، جہاں مسلم، سکھ ، ہندو ، عیسائی، بودھ اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو یکساں حقوق اور مذہبی آزادی حاصل تھی، ملک اس وقت مکمل طور پر فرقہ پرستوں کے چنگل میں آچکا ہے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے کپوارہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، پارٹی لیڈران سردار شمی سنگھ اوبرائے، تنویر صادق کے علاوہ کئی لیڈران موجو دتھے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت ہندوستان میں اقلیتوں کا قافیہ حیات تنگ کیا گیاہے، اقلیتوں اور کمزور طبقوں کے لوگوں کو بے رحمی سے قتل کرنے کے واقعات آئے روز رونما ہوتے ہیں، جو ملک کی تباہی اور بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو یہ طرہ امتیاز حاصل تھا کہ یہاں ہر کسی کو مذہبی آزادی حاصل تھی اور آئین ہند میں بھی تمام مذاہب کے لوگوں کے حقوق کو تحفظ دیا گیا تھا لیکن فرقہ پرستوں کے غلبے کے بعد ان اصولوں کو تہس نہس کیا جارہا ہے۔ جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیر میں موت کا رقص جاری ہے، ہم اس وقت ایسے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے انسانیت کانپ اُٹھی ہے۔ اکثر اوقات تو بے گناہ اور معصوم لوگوں کو اس بات کی خبر نہیں ہوتی کہ اُن کو کیوں نشانہ بنایا گیا ہے اور مارنے والوں کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیوں کسی کی جان لے رہے ہیں۔ کشمیر میں خون کا یہ کھیل فوری طور پر بند ہونا چاہئے اور یہاں کے لوگوں کو امن، سکون اور چین کی زندگی بسر کرنے کا موقعہ فراہم کیا جانا چاہئے۔ اہل کشمیر سے اتحاد و اتفاق کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہمارے مشکلات اور مسائل اُسی صورت میں حل ہوسکتے ہیں جب ہم متحد ، یکسو اور یک زبان ہونگے۔ اتحاد میں ہی ہم منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں اور اگر ہم اب بھی ٹولیوں میں بنٹتے گئے تو ہم ہماری شناخت، انفرادیت ، اجتماعیت اور وحدت داؤ پر لگ جائیگی۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اسی صورت میں جموں وکشمیر اور خطے میں مکمل اور پُرامن قائم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کی کمی نہیں جو دونوں ممالک میں دوستی اور امن کے مخالف ہیں، ایسے عناصر کے مذموم ارادوں اور سازشوں کو ناکام بنا کر خطے میں دیر پا امن کیلئے ہندوستان اور پاکستان کی قیادت کو آگے آکر نئی راہیں تلاش کرنی چاہئیں
مزیدپڑھیں

کشمیر کی صورتحال انتہائی خطرناک

14 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

چین نے سخت پیغام جاری کرتے ہوئے خبردار کیاہے کہ کشمیر میں صورتحال انتہائی خطرناک بن گئی ہے اور ایسے میں بھارت معاملات کو حل کرنے کے بجائے امریکی بہکاوے میںآکر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش رہا ہے جس کا چین سنجیدہ نوٹس لے رہا ہے۔ تاہم چین نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان پر حملہ چین پر حملہ تصور کیا جائیگا کیونکہ چین پاکستان کی پشت پر کھڑا ہے ۔اس دوران چین نے بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ اس کا خمیازہ بھارت کو ہی بھگتنا پڑیگا۔چین نے عالمی برداری سے کشمیر کے حالات کا سنجیدہ نوٹس لینے کا مشورہ دیا ہے ۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جنگ شوائنگ نے بیجنگ میں پاکستان امریکہ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی امداد بند کر دی ہے اور اس کے کردار کو نظر انداز کردیا تاہم اگر امریکہ نے پاکستان کیخلاف کسی بھی طرح کی کوئی جارحیت کی تو چین پاکستان کا ساتھ دیگا ۔انہوں نے کہاکہ چین پاک دوستی کے بارے میں دنیا کو پتہ چل جانا چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ اگر چہ چین کسی بھی طرح سے امریکہ سے الجھنا نہیں چاہتا ہے لیکن امریکہ جس طرح سے خطے میں مداخلت کررہا ہے وہ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہوسکتی ہے ۔انہوں نے بھارت کو بھی خبردار کیا کہ وہ کسی بھی طرح سے امریکہ کے جھانسے میں آکر پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش نہ کرے کیونکہ چین پاکستان کی پشت پر کھڑا ہے لہٰذا اس معاملے پر بھارت کو بھی احتیاط سے کام لینا ہوگا ۔ چین نے صاف کر دیا کہ کشمیر میں کنٹرول لائن پر کشیدگی سے برصغیر کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے لہٰذا اس مسئلے کو حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ترجمان جنگ شوائنگ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ کشمیر میں جو صورتحال پیدا ہورہی ہے وہ انتہائی خطرناک ہےا ور اس صورتحال سے اب براہ راست عالمی برادری کی توجہ کو اپنی جانب مرکوز کر دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہندوپاک کے درمیان کشمیر میں کنٹرول لائن پر جو سرحدی کشیدگی بڑھ رہی ہے وہ نہ صرف ہندوپاک کے امن کو غارت کر رہی ہے بلکہ پڑوسی ممالک بھی اس سے متاثر ہونگے لہٰذا چین کسی بھی صورت میں اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کرسکتا ہے۔ انہوں نے ہندوپاک کو مشورہ دیا کہ وہ اس نازک مرحلے پر کشمیر مسئلے کے حل کیلئے کوششیں شروع کریں۔تاہم چین نے دونوں ممالک کو پیش کش کی ہے کہ چین دونوں ممالک کو قریب لانے اور مذاکرات کی بحالی میں تعمیری رول ادا کر سکتا ہے۔چین کا کہنا تھا کہ ہندوپاک کے درمیان تعلقات کو بہتربنانے کیلئے تعمیری رول بھی اد ا کرنے کیلئے وہ تیار ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چہ بھارت ہر محا ذ پر یہ کہتا آیا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر تیسرے فریق کی ثالثی ناقابل قبول ہے لیکن اس کے باوجود جو صورتحال بن رہی ہے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ جنگ سوائیگ کا مزید کہنا تھا کہ چین کو امید ہے کہ دونوں ممالک ہر محاذ پر آگے آنے کی کوشش کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے د رمیان کشیدگی کم ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کیلئے لازمی ہے کہ دونوں ممالک چین کی مدد لیں اور کشمیر مسئلے کے حل میں آگے نکل جائیں ۔انہوں نے کہا چین ایک تعمیری رول ادا کرنے کیلئے بھی تیار ہے ۔تاہم اس سلسلے میں جب نامہ نگاروں نے چینی ترجمان سے پوچھا کہ چین کس طرح سے دونوں ممالک کوقریب لانے کی کوشش کرسکتا ہے جبکہ چین اور بھارت کے درمیان پہلے ہی کشیدگی پیدا ہوچکی ہے تو انہوں نے کہاکہ آپسی مسائل اپنی جگہ ہیں لیکن کشمیر نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے اور چین اس سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتا ہے لہٰذا دونوں ممالک کو برصغیر کے امن کی خاطر بھی اس مسئلے کو حل کرنا ہی ہوگا کیونکہ اس مسئلہ کے لٹکتے رہنے سے برصغیر کا امن بھی خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں کیا برائی ہے کہ اگر خطے کے دو نیوکلیائی ممالک ایک دوسرے کے قریب آجائیں اور اپنے مسائل حل کریں اور جو مسائل وہ آپسی طور پر حل نہیں کر سکتے ہیں چین کی مدد لیں ۔کیونکہ حقیقی معنوں میں ایک تعمیری رول ادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔ وزرات خارجہ کے ترجمان نے کہاکہ چین ہندوپاک سرحدی کشیدگی پر متفکر ہے اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہا تو پڑوسی ممالک کو بھی اس کی تپش محسوس ضرور ہوجائیگی جس میں امن کو خطرہ لاحق رہیگا ۔
مزیدپڑھیں

عوام کو ہیلنگ ٹچ فراہم ہوگا

02 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

گورنر راج میں لوگوں کو ہیلنگ ٹچ کی فراہمی کی پیش گوئی کرتے ہوئے ریاستی گورنر این این ووہرا نے کہاکہ امرناتھ یاترا کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں لہٰذا گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے انہوں نے واضح رہے کہ ریاست میں امن کی بحالی کیلئے ماحول کو … مزیدپڑھیں

پی ڈی پی۔بی جے پی مخلوط سرکار اچانک برخاست

23 Jun 2018 کو شائع کیا گیا

ڈیسک رپورٹ
بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے رواں ماہ کی 17 تاریخ یعنی اتوار کوجموں کشمیر سرکار میں پارٹی سے وابستہ تمام وزرا کو دہلی پہنچنے کی ہدایات دیں ۔ سوموار کو یہ وزرا دہلی روانہ ہوئے تو کئی طرح کی چہ مے گوئیاں کی جانے لگیں۔ کئی لوگوں نے اندازے لگانے شروع کئے اور دال میں کچھ کالا ہونے کی سرگوشیاں کی جانے لگیں ۔ لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ بی جے پی ریاست کی مخلوط سرکار سے اپنی حمایت واپس لے گی ۔ سوموار کو ریاست کے سیکریٹریٹ میں معمول کا کام ہورہاتھا ۔ پی ڈی پی کے وزرا کے علاوہ ریاست کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی دفتر میں ہدایات جاری کرنے میں مصروف تھی کہ گورنر نے انہیںاطلاع دی کی ریاست کی سرکار دھڑام سے گرادی گئی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اپنے پہلے ردعمل میں کہا کہ انہیں بی جے پی کی طرف سے حمایت واپس لینے پر کسی قسم کی حیرانگی نہیں ہوئی ہے ۔ اس طرح سے ریاست کی مخلوط سرکار برخاست ہوئی اور آٹھویں بار گورنر راج نافذ ہوگیا ۔ گورنر این این ووہر ابھی اگلے ہفتے اپنی معیاد پورا کرکے رخصت ہونے والے تھے۔ اب ان کے مقررہ معیاد میں مزید تین مہینوں کا اضافہ کیا گیا اور انہیں اپنا کام جاری رکھنے کے لئے کہا گیا ۔ مرکز کے پاس اس وقت امرناتھ یاترا پر امن ماحول میں انجام دینے کا سخت مرحلہ درپیش ہے ۔ اس لئے گورنر تبدیل کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ اس حوالے سے کئی طرح کے اندازے لگائے جارہے ہیں اور گورنر کے عہدے کے لئے کئی نام سامنے لائے جارہے ہیں ۔ لیکن حتمی نام تاحال سامنے نہیں آیا ہے ۔ مرکز نے ریاستی اسمبلی کو توڑنے کے بجائے اسے معطل رکھا ہے ۔ کئی حلقے الزام لگارہے ہیں کہ پردے کے پیچھے جوڑ توڑ کی کوششیں جاری ہیں تاکہ بی جے پی سرکار بنانے میں کامیاب ہوجائے ۔ نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ نے اپنے پہلےبیان میں خدشہ ظاہر کیا کہ اسمبلی کو معطل رکھ کر ہارس ٹریڈنگ کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسمبلی کو برخاست کرکے نئے انتخابات جلد از جلد کرائے جائیں ۔ اس سے پہلے انہوں نے کئی بار مطالبہ کیا کہ ریاست کی سرکار کو ختم کرکے گورنر راج نافذ کیا جائے ۔
ادھر نیشنل کانفرنس کے علاوہ پی ڈی پی نے اپنے ممبران کی بغاوت کے امکان کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ پارٹی کا کوئی بھی ممبر باغی بننے کے لئے تیار نہیں ۔ اس کے باوجود مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی اس موقعے کو ضایع کرنا نہیں چاہتی ہے ۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ پیوپلز کانفرنس کے سجاد لون کو میدان میں اتارکر بیس کے قریب اسمبلی ممبران کو خریدنے اور نئی حکومت بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ اس میں کہاں تک صداقت ہے وثوق سے کچھ کہنا ممکن نہیں ۔ تاہم اسمبلی کو تحلیل کرنے کے بجائے معطل رکھنا بلاوجہ نہیں ہوسکتا ہے ۔ کئی حلقوں نے مشورہ دیا ہے کہ پی ڈی پی اور این سی متحد ہوکر نئی حکومت بنائے ۔ این سی نے پہلے ہی اس مشورے کو مسترد کیا ہے
ادھر کانگریس کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے بھی پی ڈی پی کے ساتھ کسی قسم کا اتحاد کرنا خارج از امکان قرار دیا ہے ۔ اس طرح سے بہت جلد کوئی سیاسی سرکار بننے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ہے ۔ تاہم لوگوں کی نظریں مرکز پر لگی ہیں ۔
ریاست کی مخلوط سرکار سے حمایت واپس لینے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں ۔ مرکز نے اتنی اچانک اور جلدی میں یہ فیصلہ کیوں کیا اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ۔ ابتدائی مرحلے پر کہا گیا کہ ریاست مین امن وامان کی بگڑتی صورتحال سے مایوس ہوکر حکومت کو برخاست کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ یہ فیصلہ بڑی رازداری سے لیا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ مرکزی وزیرداخلہ اور مرکز کی طرف سے مقرر کئے گئے مذاکرات کار دنیشور شرما کو بھی اعلان ہونے تک اس حوالے سے کوئی اطلاع نہ تھی ۔ ریاست کی وزیراعلیٰ کو اس کی خبر گورنر نے سنائی ۔ جبکہ وزیرداخلہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ باقی لوگوں کی طرح انہیں بھی اخباری میڈیا کے ذریعے بریکنگ نیوز موصول ہوئی ۔ وزیرداخلہ پچھلے تین سال سے کشمیر معاملات کے انچارج رہے ہیں ۔ اس دوران ان کے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ نزدیکی تعلقات رہے ہیں ۔ وزیراعلیٰ کسی بھی مشکل صورتحال میں وزیرداخلہ کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کرتی تھی ۔ آج دونوں کو آخری مرحلے تک ایک اہم فیصلے سے بے خبر رکھا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم اور ان کے سلامتی کے مشیر نے بی جے پی صدر امیت شاہ سے مشورہ کرکے ریاستی سرکار سے اپنی حمایت واپس لینے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے علاوہ کسی کو اس کی بھنک تک پڑنے نہیں دی گئی ۔ اس طرح سے ریاستی سرکار کو برخاست کرکے ریاست پر گورنر راج نافذ کرنے کی صدر رام ناتھ کووندنے منظوری دی ہے ۔ کئی لوگوں کی رائے ہے کہ مرکزی سرکار نے یہ فیصلہ آئندہ سال ملک میں پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر کیا ۔ بی جے پی نہیں چاہتی ہے کہ ریاست کی ناکام سرکار کا حصہ بنے رہے اور کانگریس کو تنقید کا موقعہ دے ۔ ریاست کی مخلوط سرکار کے خلاف لوگوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔ یہ سرکار لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مبینہ طور پوری طرح سے ناکام رہی ۔ تین سال کی مدت میں کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو دکھ درد اور تکلیف پہنچانے کے سوا کوئی کام نہیں کیا گیا ۔ اعداد وشمار کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے ۔ دوڈھائی ہزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ۔ ایک لاکھ کے قریب مکانات کی توڑ پھوڑ کی گئی ۔ ایک ہزار سے زیادہ لوگوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگایا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ تین ہزار لوگ اب بھی جیلوں میں بند پڑے ہیں ۔ اس کے علاوہ تین ہزار افراد کو زخمی کیا گیا جن میں سے ایک ہزار کے لگ بھگ آنکھوں کی بینائی سے محروم کئے گئے ۔ آپریشن آل آوٹ کے تحت تین سو جنگجو مارے گئے اور دوسو پینتیس عام شہریوں کو موت کی گھاٹ اتارا گیا ۔ اس وجہ سے مخلوط سرکار کو اب تک کی سب سے ناکام سرکار مانا جاتا ہے ۔ برخاست کی گئی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے دفعہ 370 کا تحفظ یقینی بنانے میں اہم رول ادا کیا اور بی جے پی کی اس حوالے سے تمام کوششوں کو ناکام کیا گیا ۔ اسی طرح لوگوں اور ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنے کا بھی دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ اب نئے انتخابات کب ہونگے ۔ ابھی تک کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے ۔ لوگ واچ اینڈ ویٹ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں ۔ سیاسی سرگرمیوں کے بہت جلد شروع ہونے کے ابھی کوئی اندازے لگانا بہت مشکل ہے ۔
مزیدپڑھیں