خبریں کالم کی خبریں

پلٹ بندوقوں پر ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ/ بینائی سے محروم88 کیسوں کی نشاندہی

16 Sep 2017 کو شائع کیا گیا

گزشتہ دنوں بین الااقوامی سطح کی حقوق انسانی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے زیراہتمام سرینگرکے ایک نجی ہوٹل میں ایک تقریب منعقدہوئی ،جس میں حقوق انسانی کیلئے کام کرنے والے کارکنوں،سیول سوسائٹی سے وابستہ رضاکارافراداورپیلٹط گن ودیگرہتھیاروں سے متاثرہوئے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ عوامی اوراحتجاجی مظاہروں کے دوران اپنی عزیزوں کوکھونے والے مردوزن کی ایک … مزیدپڑھیں

مشترکہ مزاحمتی قیادت کی نئی دلی روانگی پر حکومت کی روک

09 Sep 2017 کو شائع کیا گیا

کشمیر میڈیا نیٹ ورک
مشترکہ مزاحتمی قیادت کی نئی دلی میںاین آئی اے ہیڈکوارٹر روانگی پر روک لگاتے ہوئے ہفتے کو شہر کے6پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی سخت بندشیں عائد کرکے محمد یاسین ملک کو گرفتار جبکہ سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق کو خانہ نظر بند کردیا گیا۔آئی جی پولیس منیر احمد خان کے مطابق یہ اقدام لوگوں کو اجتماعی صورت میں متحرک ہونے سے روکنے کیلئے اٹھایا گیا جبکہ میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ مزاحتمی لیڈران کو این آئی اے کا’’ڈرامہ‘‘ بے نقاب کرنے سے باز رکھنے کیلئے دلی جانے سے روک دیا گیا۔کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق مشترکہ مزاحتمی قیادت نے وادی میں قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) کی طرف سے مزاحتمی لیڈران، تاجروں اور دیگر لوگوں کے خلاف جاری چھاپہ مار کارروائیوں اور انہیں پوچھ تاچھ کیلئے بار بار دلی طلب کئے جانے کے خلاف احتجاج کے بطور سنیچر کو نئی دلی جاکر ایجنسی کے ہیڈکوارٹر پر خود کو گرفتاری کیلئے پیش کرنے کا اعلان کررکھا تھا۔اس ضمن میں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دلی روانہ ہونے کا باضابطہ پروگرام بھی مرتب کیا تھا۔تاہم اس اعلان کے پیش نظر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے جمعہ کی شب سے ہی پائین شہر کے حساس علاقوں کو اپنی تحویل میں لینے کا عمل شروع کیااور لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندیاں عائد کیں۔اگر چہ ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے مزاحتمی لیڈران کے دلی جانے پر کوئی پابندی نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔تاہم حکام کو خدشہ تھا کہ لیڈران کی دلی روانگی کے موقعے پر لوگوں کوجامع مسجد یا کسی اور علاقے میں اجتماعی صورت میں جمع کیا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں امن وقانون کا مسئلہ پیدا ہونے کا احتمال ہے۔چنانچہ ضلع انتظامیہ نے شہر کے6 پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی بندشیں عائد کیں۔ان میںپولیس اسٹیشن نوہٹہ،،مہاراج گنج،رعناواری،خانیار ، صفاکدل اور مائسمہ شامل ہیں جبکہ دیگر کئی پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں پولیس اور فورسز کی اضافی نفری تعینات رہی۔مذکورہ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے بیشتر علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو اہم سڑکوں،چوراہوںاور شاہراہوں پر تعینات کیاگیا تھا اور جگہ جگہ ناکے بٹھائے گئے تھے۔سرکاری طور پر ان علاقوں میں دفعہ144کے تحت امتناعی احکامات نافذ رہے تاہم مقامی لوگوں نے بتایا کہ کچھ علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کا باضابطہ اعلان کیا گیا او ر گاڑیوں کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں کی نقل و حرکت مکمل طور مسدود کھی گئی۔کے ایم این نمائندے نے بتایا کہ اس صورتحال کے باعث سے شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں دن بھر ہو کا عالم رہا۔ امن و قانون کو برقرار رکھنے کیلئے پولیس اور فورسز کے اضافی دستے ہر طرف نظر آرہے تھے اور مجموعی طور پر پائین شہر کے لوگوں کو گھروں کے اندر محصور رکھا گیا ۔اس دوران مزاحتمی لیڈران کو دلی روانہ ہونے سے روکنے کیلئے ان کی نقل و حرکت بھی مسدود کردی گئی۔حریت کانفرنس(ع) کے ترجمان نے کے ا یم ا ین کو بتایاکہ حریت چیرمین میرواعظ عمر فاروق کی نگین رہائش گاہ سے جمعہ کی سہ پہر تین بجے پولیس کا پہرہ ہٹادیا گیا تھا لیکن رات ساڑھے دس بجے یہ پہرہ دوبارہ بٹھادیا گیا اور میر واعظ کو پھر سے گھر میں نظر بند کیا گیا۔دوسری جانب جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک کو کچھ گھنٹوں کی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ملک کو کئی دنوں کی نظر بندی کے بعدجمعہ کی صبح ہی سینٹرل جیل سرینگرسے رہا کیا گیا تھا، تاہم فرنٹ ترجمان کے مطابق نصف شب کو پولیس نے چھاپہ ڈال کر انہیں دوبارہ حراست میں لیا جس کے بعد انہیں ایک مرتبہ پھر سینٹرل جیل میںنظر بند کردیا گیا۔قابل ذکر ہے کہ حریت کانفرنس(گ) کے چیرمین سید علی گیلانی بدستور اپنی حیدر پورہ رہائش گاہ پر نظر بند ہیں اور ان کے گھر کے باہر پولیس کا سخت پہرہ ہے۔ کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق مزاحتمی قیادت کی نظر بندی کے بارے میں انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون منیر احمد خان نے بتایا کہ پولیس کو اس بات کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ علیحدگی پسند لیڈران دلی روانگی کے سلسلے میں ایک ریلی نکالنے والے ہیں اوراس کیلئے لوگوں کو اجتماعی صورت میں متحرک کیا جارہا تھا، اسی وجہ سے انہیں احتیاطی طور نظر بند رکھا گیا۔انہوں نے کہا’’ وہ انفرادی طور کہیں بھی جانا چاہتے تو جاسکتے تھے لیکن یہ لوگ سرینگر میں معمول کی زندگی درہم برہم کرنا چاہتے تھے ، اسی لئے امن و قانون کو برقرار رکھنے کیلئے ان کو نظر بند کیا گیا‘‘۔انہوں نے کہا ’’اگر یہ لوگ معمول کی مسافروں کی طرح کہیں بھی جانا چاہتے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا ، ہم ان کو ریلی منعقد کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ، انہیں امن و قانون میں رخنہ ڈالنے نہیں دیا جائے گا‘‘۔آئی جی کشمیر نے واضح کرتے ہوئے کہا’’یہ لوگ امن و قانون کا مسئلہ پیدا کرکے تشدد بپا کرنا چاہتے ہیںجس کی ان کو کسی بھی قیمت پر اجازت نہیں دی جاسکتی‘‘۔ اس دوران میرواعظ عمر فاروق نے اپنی اور دیگر مزاحمتی لیڈران کی نظر بندی کو لیکر سماجی نیٹ ورک ٹویٹر پر شدید رد عمل کااظہار کیا۔انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا’’یاسین جیل میں، گیلانی صاحب اور میں خانہ نظر بند ، ہمارے گھروں کی طرف آنے والے راستے سیل ہیں، کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے ، ایسا صرف ہمیں این آئی اے کا ڈرامہ بے نقاب کرنے سے روکنے کیلئے کیا گیا ہے‘‘۔
مزیدپڑھیں

پلوامہ پولیس لائینز پر فدائین حملہ

26 Aug 2017 کو شائع کیا گیا

کشمیر میڈیا نیٹ ورک
جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس فدائین جنگجوئوں نے ہفتے کی صبح یعنی سنیچر وار کو ہائی سیکورٹی زون میں واقع ضلع پولیس لائنز پلوامہ پر دھاوا بول دیا جس کے بعد فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان دن بھرجاری رہنے والی شدید گولی باری میں پولیس اور سی آر پی ایف کے3اہلکار ہلاک اورنصف درجن زخمی ہوگئے جبکہ2 لاپتہ ایس پی اوز ممکنہ طور جنگجوئوں کی تحویل میںہیں یا انہیں ہلاک کردیا گیا ہے۔ جوابی کارروائی میںآخری اطلاع ملنے تک ایک حملہ آور بھی مارا گیا ، تاہم اسکے دو ساتھی بدستور پولیس لائنز کے اندرمورچہ زن تھے۔حملے کے دوران کئی سماعت شکن دھماکے بھی ہوئے جبکہ پولیس لائنز کی دو عمارات جل کرخاکستر ہوئیں اور دیگر کئی عمارات کو شدید نقصان پہنچا۔جنگجوئوں کے خلاف جوابی کارروائی کے دوران ڈرون جاسوسی طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی استعمال کئے گئے۔ جیش محمد نامی جنگجو تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فورسز کو بھاری جانی نقصان سے دوچار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سلسلے میںکشمیر میڈیا نیٹ ورک نمائندے نے پلوامہ سے جو تفصیلات فراہم کی ہیں، ان کے مطابق فوجی وردی میں ملبوس، خودکار او بھاری ہتھیاروں سے لیس3 فدائین جنگجوئوں پر مشتمل ایک دستے نے سنیچر علی الصبح3بجکر40منٹ پر ڈسٹرکٹ پولیس لائنز پلوامہ پر شدید فائرنگ کرتے ہوئے پے در پے گرینیڈ داغنے شروع کئے۔ضلع پولیس لائنز قریب دو کلومیٹر کے علاقے پر پھیلی ہوئی ہے اور اس کے چاروں طرف قریب15فٹ اونچی کنکریٹ دیوار کے ساتھ خاردار تار اور کیمپ کے گردونواح پر نظر رکھنے کیلئے اونچائی پرکئی چوکیاں بھی موجود ہیں۔یہاں پولیس کے علاوہ سپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف182و183بٹالین کے کیمپ بھی قائم ہیں جبکہ اس کے متصل فوج کی55آر آر کا ایک کیمپ بھی ہے اوراس اعتبار سے یہ پورا علاقہ انتہائی ہائی سیکورٹی زون میں واقع ہے۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ فدائین جنگجواندھیرے کی آڑ میں پولیس لائنز کے عقبی حصے سے ممکنہ طور خاردار تار کاٹنے کے بعد اونچی دیوار پھلانگ کر اندرداخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور وہاں موجود اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھندگولیاں چلائیں ، جس کے نتیجے میں آس پاس کے تمام علاقے گولیوں اور دھماکوں کی گھن گرج سے لرزاٹھے۔جس وقت یہ حملہ کیا گیا ، اُس وقت وہاں موجود بیشتر اہلکار گہری نیند سورہے تھے اور اچانک گولی باری نے پولیس لائنز کے پورے علاقے میں افراتفری مچادی ۔ذرائع کے مطابق یہ حملہ ایک منصوبہ بند طریقے پر عمل میں لایا گیا ، حملہ آئوروں نے اندر داخل ہونے کے بعد ایس او جی کیمپ کے نزدیک سی بلاک کی عمارت میں پناہ لیکر شدید گولی باری مزیدپڑھیں

شوپیان کے دس گائوں کا محاصرہ

19 Aug 2017 کو شائع کیا گیا

جنوبی کشمیر میں عسکری سرگرمیوں میں اضافے کے چلتے شوپیان کے قریب ایک درجن دیہات میں نوے کی دہائی کی طرز پر وسیع جنگجو مخالف آپریشن انجام دیاگیا جس دوران خاص طور پر میوہ باغات میں قائم تعمیرات کی باریک بینی سے تلاشی لی گئی۔کارروائی میں پولیس، فوج اور سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں نے حصہ لیا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہنے کے بعد پر امن طور پر اختتام کو پہنچ گئی۔ کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں کے دوران جنگجوئوں کی سرگرمیوں میں اضافے کے پیش نظر سیکورٹی ایجنسیوں نے بھی جنگجو مخالف کارروائیوں میں تیزی لائی ہے۔مختلف علاقوں میں آئے روز فورسز اور جنگجوئوں کے مابین جھڑپیں ہورہی ہیں اورتازہ واقعات کے تناظر میں پلوامہ، شوپیان اور کولگام میں سیکورٹی ایجنسیوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے بطور شوپیان میں ایک مرتبہ پھر ایک وسیع علاقے جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیاجہاں پولیس اور فورسز کو جنگجوئوں کی موجودگی کے بارے میں مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کے دوران پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ، فوج کی3و62راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف کی 14بٹالین سے وابستہ سینکڑوں اہلکاروں نے بیک وقت ضلع کے قریب ایک درجن دیہات کو محاصرے میں لیا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ نوے کی دہائی کے طرز پر اس کریک ڈائون کے دوران جن دیہات کو گھیرے میں لیکر گھر گھر تلاشی شروع کی گئی،ان میںچکورہ، مانتری بگ،ز ئی پورہ،پرتاب پورہ، ٹکی پورہ، رانی پورہ، رتنی پورہ، دانگام ، وانگام اور دیگر ملحقہ دیہات شامل ہیں۔سیکورٹی فورسز نے اس علاقے میں شوپیان سے کولگام اور کارڈر کے راستے اننت ناگ جانے والی سڑکوں کے دونوں طرف کی آبادی کو سخت گھیرے میں لیکرناکہ بندی کی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ فورسز نے ان علاقوں کی طرف جانے والے تمام راستے انتہائی سختی کے ساتھ سیل کردئے جس دوران نہ کسی کو وہاں کی طرف جانے اور نہ ہی کسی کو باہر آنے کی اجازت دی گئی۔کے ایم ا ین نمائندے نے مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے علاقے میں قائم وسیع میوہ باغات کو بھی سخت محاصرے میں رکھا۔اسی اثناء میں رہائشی مکانوں کی تلاشی کا سلسلہ شروع کیا گیا ، تاہم اس دوران خاص طور پر میوہ باغات میں موجود شیڈوں اور دیگر تعمیرات کی باریک بینی سے تلاشی لی گئی۔ فورسز نے میوہ باغات کو کھنگالنے کی کارروائی انجام دی ،تاہم ان کا جنگجوئوں کے ساتھ آمنا سامنا نہیں ہوا۔پولیس کے ایک آفیسر نے بتایا کہ علاقے کے میوہ باغات میں جنگجوئوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاعات ملنے کے بعد آپریشن شروع کیا گیاتھا ۔کے ایم ا ین نمائندے کے مطابق کریک ڈائون کے تحت محاصرے میں لئے گئے علاقوں میں خوف و ہراس کا ماحول رہا اور مجموعی طور پولیس اور فورسز کے سینکڑوں اہلکاروں نے تلاشی کارروائی میں حصہ لیا لیکن فورسز کو کہیں پر بھی جنگجوئوں کا کوئی اتہ پتہ نہیں ملا۔کئی گھنٹوں کے بعد ان علاقوں سے فورسز کی واپسی کا عمل شروع ہوااور کریک ڈائون پر امن طور اختتام کو پہنچ گیا۔ مزیدپڑھیں

علیحدگی پسندوں کے بغیر مذاکرات لا یعنی

14 Aug 2017 کو شائع کیا گیا

گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ماہر سابق وزیراعلیٰ اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے علیحدگی پسندوں کے بغیر مذاکرات کولایعنی اور لا حاصل مشق قرار دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا لازمی فریق ہے اور اسکے مکالمے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔واجپائی اور مشرف دور کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بہترین موقعے سے تعبیر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی مسئلہ کشمیریوں کے درد ،مشکلات و مسائل اور خون خرابے کی جڑ ہے۔ پچھلے سال جاں بحق ہوئے حز ب کمانڈر برہان وانی کو معصوم کشمیر ی نو جوان قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق اور سنگ بے چینی کے باعث ہے۔
ایک نجی نیوز کو دیئے گئے ایک انٹر ویو میں سابق وزیر اعلیٰ و ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مسئلہ کشمیر کو ہند پاک کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سات دہائیوں ہوگئیں اور یہ سیاسی مسئلہ اب بھی حل طلب ہے ۔انہوں نے علیحدگی پسندوں اور پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کو ناگز یر قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ حریت اور پاکستان اس مسئلے کا ایک حصہ ہے اور دونوں سے بات چیت ضروری ہے ۔ان کا کہناتھا کہ کشمیر میں تب تک امن قائم نہیں ہوگا جب تک پڑوسی ملک کے ساتھ رشتے استوار اور بہتر نہیں ہوتے ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ’پر تشدد ماحول کو پاکستان تھمنے نہیں دے گا ،یہ ایک حقیقت ہے ،جسے جھٹلا یا نہیں جاسکتا ،بہتر ہے پاکستان کے ساتھ بات کی جائے‘۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے کیو نکہ سیاسی مسئلے کا حل جنگ وجدل سے نہیں نکالا جاسکتا ہے۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’اگر پاکستان مسئلہ کشمیر کا فریق نہیں ہے ،تو شملہ سمجھوتہ اور لاہور اعلامیہ کیوں ہوئے؟‘۔انہوں نے کہا کہ شملہ سمجھوتہ اور لاہور اعلامیہ میں یہ موجود ہے مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے ،جس کا حل بات چیت کے ذریعے نکا لا جائیگا ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جب بھارت اور پاکستان نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے ،تو اسے کون جھٹلا جاسکتا ہے؟۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس جموں کشمیر کا ایک بڑا حصہ ہے جسے بھارت اپنا حصہ کہتا ہے جبکہ پاکستان اِس کشمیر کو اپنا حصہ مانتا ہے ،ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے سوا دوسرا کون سا راستہ ہے ؟۔انہوں نے کہا کہ بات چیت سے ہی سیاسی مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے اور دونوں ممالک کو آج نہیں تو کل مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہی ہوگا ۔ان کا کہناتھا کہ ماضی میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور مذاکرات کا تسلسل برقرار رہنا چاہئے ۔انہوں نے اس حوالے سے سا بق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’واجپائی صاحب نے ایک شروعات کی تھی اور یہ مثبت قدم تھا‘ ۔انہوں نے کہا کہ مشروف کے دور میں بات ہوتے ہوتے بد قسمتی سے بگڑ گئی اور کیو نکہ یہ وہ دور تھا جو مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بہترین موقع ثابت ہورہا تھا۔انہوں نے کہا کہ امید اب یہی کی جاسکتی ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات بحال کرکے اس مسئلے کے حل کی راہ تلاش کرے ۔ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق نے واضح کیا کہ اگر حریت مسئلہ کشمیر کا حصہ نہیں ہوتے نہ تو اُنکے ساتھ ماضی میںبات ہوتی اور نہ ہی اُنہیں جیل بھیجا جاتا کیو نکہ وہ کشمیری ہے لہٰذا وہ اس کا ایک حصہ ہے۔انہوں نے کہا ’میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں حریت کے پیچھے آنکھ بند کرکے چلو گا بلکہ میں نے یہ کہا تھا کہ میں مشروط بنیادوں پر اُنکے ساتھ آگے بڑھانے کیلئے تیار ہوں ‘۔انہوں نے تیسرے فریق کی ثالثی کے کردار کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’چین ،پاکستان کا دوست ہے اور امریکا،بھارت اور پاکستان دونوں کا دوست ہے ،لہٰذا دونوں ممالک کے اثر رسوخ کا استعمال کرکے مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے ، ان کا استعمال کیوں نہیں کرسکتے؟‘۔ ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا’کشمیر میں اسلام کی لڑھائی نہیں لڑی جارہی ہے بلکہ یہ انصاف کی لڑائی ہے جو سیاسی طور پر لڑ ی جارہی ہے ‘۔انہوں نے سخت لہجا اپناتے ہوئے کہا’اسلام شدت پسندی یا دہشت گردی کا درس نہیں دیتا ،تمہیں اسلام کے بارے میں کچھ پتہ نہیں لہٰذا چُپ ہوجائیں،یہ کٹر پنتی کیا لگا رکھا ہے‘۔کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق اور سنگ کو بے چینی کی ایک وجہ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیری نوجوان گمراہ ہوچکا ہے اور اسکے پیچھے باہر ہاتھ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک سیاسی مسئلہ بھی ہے جس کا حل ضروری ہے۔جاں بحق حزب کمانڈر برہان وانی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ’وہ ایک کشمیری نوجوان تھا ،اُسے تو یہ زندہ پکڑنا چاہتے تھے، لیکن بد قسمتی اُنکے ہاتھوں مارا گیا۔۔۔۔کیا اُس نے کسی کو مارا؟اگر کسی کو مارا ،تو وہ دہشت گرد تھا ،دیکھئے وہ ایک کشمیری نوجوان تھا جس نے ایک مہم چلائی چاہئے وہ غلط تھی یا صحیح وہ الگ پہلو ہے ،تھا وہ کشمیری نوجوان ‘۔انہوں نے کہا کہ جن ہاتھوں میں بندوق ،پتھر ہے جبکہ جن کا علیحدگی کا نظر یہ وہ سب کشمیری ہیں ،کشمیریوں کو سیاسی مسئلے کی وجہ سے درد،مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے اور امن کیلئے اس کا حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل سے تمام معاملات سلجھ جائیں گے ۔این آئی اے کی تحقیقات کو صحیح ٹھہراتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’اسکی تحقیقات ہونی چاہئے کہ پاکستان سے آیا ہوا پیسہ کہاں خرچ ہوا ،لیکن اِسکی بھی تحقیقات ہونی چاہئے کہ بھارت سے آیا پیسہ کہاں گیا؟،اب تحقیقات ہورہی ہے دیکھتے ہیں کیا نتیجہ اخز ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے انٹر ویو کے آخر میں کہا ’میں چاہتا ہوں اور میری دعا ہے کہ کشمیر میں وہ دن واپس لوٹ آئے ،جب میں بغیر سیکورٹی موٹر سائیکل چلایا کرتا تھا ،لیکن آج کی تاریخ میں گولی کہاں سے چلے ،کون چلائے گا ،یہ کوئی نہیں جانتا ‘۔
مزیدپڑھیں

ظلم وبربریت کا حساب بھارت کودینا ہوگا

19 Jun 2017 کو شائع کیا گیا

گذشتہ دنوں کی بات ہے کہ پاکستان نے خبردار کیا کہ اگر بھارتی فوج نے کشمیرمیں نہتے اور معصوم لوگوں کی ہلاکتوں کو بند نہیں کیا تو مسئلہ عالمی عدالت میں لے جائیں گے۔پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ دہشت گردی کی آڑ میں بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو کمزور کر رہا ہے لیکن … مزیدپڑھیں

گنگا اور مادھوکے متنازعہ بیان اور ردعمل

24 Apr 2017 کو شائع کیا گیا

بی جے پی لیڈر اور ریاستی وزیرچندرپرکاش گنگاکے بعد بی جے پی کے لیڈر اور جنرل سیکریٹری رام مادھوکا متنازعہ بیان سیاسی ہلچل کاباعث بن گیا۔ کشمیری نوجوان کیساتھ فوج کے سلوک کادفاع کرتے ہوئے رام مادھو نےواضح کیاہے’’ محبت اورجنگ میں سب جائزہوتاہے‘‘۔انہوں نے قیام امن کیلئے مخلوط سرکارکے اقدامات پرعدم اطمینان کااظہارکرتے ہوئے … مزیدپڑھیں

وادی میں پیش آرہے واقعات پر اقوام متحدہ کو تشویش

04 Apr 2017 کو شائع کیا گیا

وادی کشمیر میں پیش آرہے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوٹیریس کسی علاقے کا دورہ کئے بغیر بھی وہاں کے مسائل سے آگاہ رہتے ہیں اور صورتحال کے بارے میں پل پل کی خبر رکھتے ہیں۔عالمی ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت … مزیدپڑھیں

پنچایت ایکٹ میں ترمیم نا قابل قبول

11 Feb 2017 کو شائع کیا گیا

نیشنل کانفرنس نے اس بات کا عزم دہرایا ہے کہ ریاست کے آئین اور پنچایت ایکٹ میں کسی بھی ترمیم یا ردوبدل کرنے کی اجاز ت نہیں دی جائے گی کیونکہ ریاست کے اپنے آئین کو مرتب کرنے میں ریاستی عوام خصوصاً شہداء وطن اور ملک کشمیر کے جانثاروں نے عظیم مالی جانی قربانیاں پیش … مزیدپڑھیں

حزب المجاہدین کمانڈربرہان وانی کی ہلاکت

27 Dec 2016 کو شائع کیا گیا

8 جولائی 2016 ء کی بات ہے جب کم عمر معروف حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کو کوکرناگ کے بمڈورو علاقے میں اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ جان بحق کیا گیا ، جب یہ خبر آنی شروع ہوئی تو لوگوں کی بڑی تعداد جوق در جوق برہان وانی کے آبائی علاقے ترال کی طرف … مزیدپڑھیں