خبریں کالم کی خبریں

کشمیر کی صورتحال انتہائی خطرناک

14 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

چین نے سخت پیغام جاری کرتے ہوئے خبردار کیاہے کہ کشمیر میں صورتحال انتہائی خطرناک بن گئی ہے اور ایسے میں بھارت معاملات کو حل کرنے کے بجائے امریکی بہکاوے میںآکر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش رہا ہے جس کا چین سنجیدہ نوٹس لے رہا ہے۔ تاہم چین نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان پر حملہ چین پر حملہ تصور کیا جائیگا کیونکہ چین پاکستان کی پشت پر کھڑا ہے ۔اس دوران چین نے بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ اس کا خمیازہ بھارت کو ہی بھگتنا پڑیگا۔چین نے عالمی برداری سے کشمیر کے حالات کا سنجیدہ نوٹس لینے کا مشورہ دیا ہے ۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جنگ شوائنگ نے بیجنگ میں پاکستان امریکہ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی امداد بند کر دی ہے اور اس کے کردار کو نظر انداز کردیا تاہم اگر امریکہ نے پاکستان کیخلاف کسی بھی طرح کی کوئی جارحیت کی تو چین پاکستان کا ساتھ دیگا ۔انہوں نے کہاکہ چین پاک دوستی کے بارے میں دنیا کو پتہ چل جانا چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ اگر چہ چین کسی بھی طرح سے امریکہ سے الجھنا نہیں چاہتا ہے لیکن امریکہ جس طرح سے خطے میں مداخلت کررہا ہے وہ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہوسکتی ہے ۔انہوں نے بھارت کو بھی خبردار کیا کہ وہ کسی بھی طرح سے امریکہ کے جھانسے میں آکر پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش نہ کرے کیونکہ چین پاکستان کی پشت پر کھڑا ہے لہٰذا اس معاملے پر بھارت کو بھی احتیاط سے کام لینا ہوگا ۔ چین نے صاف کر دیا کہ کشمیر میں کنٹرول لائن پر کشیدگی سے برصغیر کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے لہٰذا اس مسئلے کو حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ترجمان جنگ شوائنگ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ کشمیر میں جو صورتحال پیدا ہورہی ہے وہ انتہائی خطرناک ہےا ور اس صورتحال سے اب براہ راست عالمی برادری کی توجہ کو اپنی جانب مرکوز کر دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہندوپاک کے درمیان کشمیر میں کنٹرول لائن پر جو سرحدی کشیدگی بڑھ رہی ہے وہ نہ صرف ہندوپاک کے امن کو غارت کر رہی ہے بلکہ پڑوسی ممالک بھی اس سے متاثر ہونگے لہٰذا چین کسی بھی صورت میں اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کرسکتا ہے۔ انہوں نے ہندوپاک کو مشورہ دیا کہ وہ اس نازک مرحلے پر کشمیر مسئلے کے حل کیلئے کوششیں شروع کریں۔تاہم چین نے دونوں ممالک کو پیش کش کی ہے کہ چین دونوں ممالک کو قریب لانے اور مذاکرات کی بحالی میں تعمیری رول ادا کر سکتا ہے۔چین کا کہنا تھا کہ ہندوپاک کے درمیان تعلقات کو بہتربنانے کیلئے تعمیری رول بھی اد ا کرنے کیلئے وہ تیار ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چہ بھارت ہر محا ذ پر یہ کہتا آیا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر تیسرے فریق کی ثالثی ناقابل قبول ہے لیکن اس کے باوجود جو صورتحال بن رہی ہے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ جنگ سوائیگ کا مزید کہنا تھا کہ چین کو امید ہے کہ دونوں ممالک ہر محاذ پر آگے آنے کی کوشش کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے د رمیان کشیدگی کم ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کیلئے لازمی ہے کہ دونوں ممالک چین کی مدد لیں اور کشمیر مسئلے کے حل میں آگے نکل جائیں ۔انہوں نے کہا چین ایک تعمیری رول ادا کرنے کیلئے بھی تیار ہے ۔تاہم اس سلسلے میں جب نامہ نگاروں نے چینی ترجمان سے پوچھا کہ چین کس طرح سے دونوں ممالک کوقریب لانے کی کوشش کرسکتا ہے جبکہ چین اور بھارت کے درمیان پہلے ہی کشیدگی پیدا ہوچکی ہے تو انہوں نے کہاکہ آپسی مسائل اپنی جگہ ہیں لیکن کشمیر نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے اور چین اس سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتا ہے لہٰذا دونوں ممالک کو برصغیر کے امن کی خاطر بھی اس مسئلے کو حل کرنا ہی ہوگا کیونکہ اس مسئلہ کے لٹکتے رہنے سے برصغیر کا امن بھی خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں کیا برائی ہے کہ اگر خطے کے دو نیوکلیائی ممالک ایک دوسرے کے قریب آجائیں اور اپنے مسائل حل کریں اور جو مسائل وہ آپسی طور پر حل نہیں کر سکتے ہیں چین کی مدد لیں ۔کیونکہ حقیقی معنوں میں ایک تعمیری رول ادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔ وزرات خارجہ کے ترجمان نے کہاکہ چین ہندوپاک سرحدی کشیدگی پر متفکر ہے اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہا تو پڑوسی ممالک کو بھی اس کی تپش محسوس ضرور ہوجائیگی جس میں امن کو خطرہ لاحق رہیگا ۔
مزیدپڑھیں

عوام کو ہیلنگ ٹچ فراہم ہوگا

02 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

گورنر راج میں لوگوں کو ہیلنگ ٹچ کی فراہمی کی پیش گوئی کرتے ہوئے ریاستی گورنر این این ووہرا نے کہاکہ امرناتھ یاترا کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں لہٰذا گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے انہوں نے واضح رہے کہ ریاست میں امن کی بحالی کیلئے ماحول کو … مزیدپڑھیں

پی ڈی پی۔بی جے پی مخلوط سرکار اچانک برخاست

23 Jun 2018 کو شائع کیا گیا

ڈیسک رپورٹ
بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے رواں ماہ کی 17 تاریخ یعنی اتوار کوجموں کشمیر سرکار میں پارٹی سے وابستہ تمام وزرا کو دہلی پہنچنے کی ہدایات دیں ۔ سوموار کو یہ وزرا دہلی روانہ ہوئے تو کئی طرح کی چہ مے گوئیاں کی جانے لگیں۔ کئی لوگوں نے اندازے لگانے شروع کئے اور دال میں کچھ کالا ہونے کی سرگوشیاں کی جانے لگیں ۔ لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ بی جے پی ریاست کی مخلوط سرکار سے اپنی حمایت واپس لے گی ۔ سوموار کو ریاست کے سیکریٹریٹ میں معمول کا کام ہورہاتھا ۔ پی ڈی پی کے وزرا کے علاوہ ریاست کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی دفتر میں ہدایات جاری کرنے میں مصروف تھی کہ گورنر نے انہیںاطلاع دی کی ریاست کی سرکار دھڑام سے گرادی گئی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اپنے پہلے ردعمل میں کہا کہ انہیں بی جے پی کی طرف سے حمایت واپس لینے پر کسی قسم کی حیرانگی نہیں ہوئی ہے ۔ اس طرح سے ریاست کی مخلوط سرکار برخاست ہوئی اور آٹھویں بار گورنر راج نافذ ہوگیا ۔ گورنر این این ووہر ابھی اگلے ہفتے اپنی معیاد پورا کرکے رخصت ہونے والے تھے۔ اب ان کے مقررہ معیاد میں مزید تین مہینوں کا اضافہ کیا گیا اور انہیں اپنا کام جاری رکھنے کے لئے کہا گیا ۔ مرکز کے پاس اس وقت امرناتھ یاترا پر امن ماحول میں انجام دینے کا سخت مرحلہ درپیش ہے ۔ اس لئے گورنر تبدیل کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ اس حوالے سے کئی طرح کے اندازے لگائے جارہے ہیں اور گورنر کے عہدے کے لئے کئی نام سامنے لائے جارہے ہیں ۔ لیکن حتمی نام تاحال سامنے نہیں آیا ہے ۔ مرکز نے ریاستی اسمبلی کو توڑنے کے بجائے اسے معطل رکھا ہے ۔ کئی حلقے الزام لگارہے ہیں کہ پردے کے پیچھے جوڑ توڑ کی کوششیں جاری ہیں تاکہ بی جے پی سرکار بنانے میں کامیاب ہوجائے ۔ نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ نے اپنے پہلےبیان میں خدشہ ظاہر کیا کہ اسمبلی کو معطل رکھ کر ہارس ٹریڈنگ کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسمبلی کو برخاست کرکے نئے انتخابات جلد از جلد کرائے جائیں ۔ اس سے پہلے انہوں نے کئی بار مطالبہ کیا کہ ریاست کی سرکار کو ختم کرکے گورنر راج نافذ کیا جائے ۔
ادھر نیشنل کانفرنس کے علاوہ پی ڈی پی نے اپنے ممبران کی بغاوت کے امکان کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ پارٹی کا کوئی بھی ممبر باغی بننے کے لئے تیار نہیں ۔ اس کے باوجود مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی اس موقعے کو ضایع کرنا نہیں چاہتی ہے ۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ پیوپلز کانفرنس کے سجاد لون کو میدان میں اتارکر بیس کے قریب اسمبلی ممبران کو خریدنے اور نئی حکومت بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ اس میں کہاں تک صداقت ہے وثوق سے کچھ کہنا ممکن نہیں ۔ تاہم اسمبلی کو تحلیل کرنے کے بجائے معطل رکھنا بلاوجہ نہیں ہوسکتا ہے ۔ کئی حلقوں نے مشورہ دیا ہے کہ پی ڈی پی اور این سی متحد ہوکر نئی حکومت بنائے ۔ این سی نے پہلے ہی اس مشورے کو مسترد کیا ہے
ادھر کانگریس کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے بھی پی ڈی پی کے ساتھ کسی قسم کا اتحاد کرنا خارج از امکان قرار دیا ہے ۔ اس طرح سے بہت جلد کوئی سیاسی سرکار بننے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ہے ۔ تاہم لوگوں کی نظریں مرکز پر لگی ہیں ۔
ریاست کی مخلوط سرکار سے حمایت واپس لینے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں ۔ مرکز نے اتنی اچانک اور جلدی میں یہ فیصلہ کیوں کیا اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ۔ ابتدائی مرحلے پر کہا گیا کہ ریاست مین امن وامان کی بگڑتی صورتحال سے مایوس ہوکر حکومت کو برخاست کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ یہ فیصلہ بڑی رازداری سے لیا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ مرکزی وزیرداخلہ اور مرکز کی طرف سے مقرر کئے گئے مذاکرات کار دنیشور شرما کو بھی اعلان ہونے تک اس حوالے سے کوئی اطلاع نہ تھی ۔ ریاست کی وزیراعلیٰ کو اس کی خبر گورنر نے سنائی ۔ جبکہ وزیرداخلہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ باقی لوگوں کی طرح انہیں بھی اخباری میڈیا کے ذریعے بریکنگ نیوز موصول ہوئی ۔ وزیرداخلہ پچھلے تین سال سے کشمیر معاملات کے انچارج رہے ہیں ۔ اس دوران ان کے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ نزدیکی تعلقات رہے ہیں ۔ وزیراعلیٰ کسی بھی مشکل صورتحال میں وزیرداخلہ کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کرتی تھی ۔ آج دونوں کو آخری مرحلے تک ایک اہم فیصلے سے بے خبر رکھا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم اور ان کے سلامتی کے مشیر نے بی جے پی صدر امیت شاہ سے مشورہ کرکے ریاستی سرکار سے اپنی حمایت واپس لینے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے علاوہ کسی کو اس کی بھنک تک پڑنے نہیں دی گئی ۔ اس طرح سے ریاستی سرکار کو برخاست کرکے ریاست پر گورنر راج نافذ کرنے کی صدر رام ناتھ کووندنے منظوری دی ہے ۔ کئی لوگوں کی رائے ہے کہ مرکزی سرکار نے یہ فیصلہ آئندہ سال ملک میں پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر کیا ۔ بی جے پی نہیں چاہتی ہے کہ ریاست کی ناکام سرکار کا حصہ بنے رہے اور کانگریس کو تنقید کا موقعہ دے ۔ ریاست کی مخلوط سرکار کے خلاف لوگوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔ یہ سرکار لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مبینہ طور پوری طرح سے ناکام رہی ۔ تین سال کی مدت میں کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو دکھ درد اور تکلیف پہنچانے کے سوا کوئی کام نہیں کیا گیا ۔ اعداد وشمار کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے ۔ دوڈھائی ہزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ۔ ایک لاکھ کے قریب مکانات کی توڑ پھوڑ کی گئی ۔ ایک ہزار سے زیادہ لوگوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگایا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ تین ہزار لوگ اب بھی جیلوں میں بند پڑے ہیں ۔ اس کے علاوہ تین ہزار افراد کو زخمی کیا گیا جن میں سے ایک ہزار کے لگ بھگ آنکھوں کی بینائی سے محروم کئے گئے ۔ آپریشن آل آوٹ کے تحت تین سو جنگجو مارے گئے اور دوسو پینتیس عام شہریوں کو موت کی گھاٹ اتارا گیا ۔ اس وجہ سے مخلوط سرکار کو اب تک کی سب سے ناکام سرکار مانا جاتا ہے ۔ برخاست کی گئی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے دفعہ 370 کا تحفظ یقینی بنانے میں اہم رول ادا کیا اور بی جے پی کی اس حوالے سے تمام کوششوں کو ناکام کیا گیا ۔ اسی طرح لوگوں اور ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنے کا بھی دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ اب نئے انتخابات کب ہونگے ۔ ابھی تک کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے ۔ لوگ واچ اینڈ ویٹ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں ۔ سیاسی سرگرمیوں کے بہت جلد شروع ہونے کے ابھی کوئی اندازے لگانا بہت مشکل ہے ۔
مزیدپڑھیں

جموں وکشمیر میں لوگوں کی اکثریت امن کی طرفدار

19 Jun 2018 کو شائع کیا گیا

جموں وکشمیر میں اکثریت کو امن کا طرفدار قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا رمضان سیز فائر پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے عمل ہورہا ہے جبکہ جنگجو امن کو موقعہ دینے کے حق میں نظر نہیں آتے ۔ اس دوران انہوں نے کنٹرول لائن پر پاکستانی گولہ باری میں بی ایس ایف اہلکاروں کی ہلاکت کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے کرتوت سے باز نہیں آرہا ہے لہٰذا اسے اسی کی زبان میں جواب دیا جائیگا ۔
رمضان سیز فائر میں توسیع کے حوالے سے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہاکہ بہت جلد اس اس سلسلے میں مرکزی حکومت اپنا موقف واضح کریگی کیونکہ زمینی صورتحال کا جائزہ بغور لیا جارہا ہے ۔ نئی دلی میںآج ایک تقریب کے دوران مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ کشمیر میں اکثریت امن کی طرفدار ہے اور سیز فائر کا عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا جارہا ہے کیونکہ اب وہاں لوگ روز مرہ کی زندگی گذارنے کو ہی ترجیح دے رہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ان کے حالیہ دورے کے دوران انہوں نے بدلا بدلا کشمیر پایا ہے ۔ کیونکہ وہاں اب لوگ اپنی روز مرہ کی سرگرمیوں میں مگن ہیں ۔ تاہم اس سیز فائر میں توسیع کیلئے بھی مسلسل بنیادوں پر فیڈ بیک آرہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ فوج کیساتھ مشاورت ہوگی اور بعد میں وزیراعظم نریندر مودی ہی اس کا حتمی فیصلہ لیں گے جس کیلئے ایک اہم میٹنگ منعقد ہوگی۔انہوں نے کاکہا کہ حالیہ دنوں انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کیساتھ اس معاملے پر بات کی ہے لہٰذا تکنیکی امو ر کو دیکھتے ہوئے ابھی مزید مشاورت لازمی ہے ۔انہوں نے کشمیر میں حملوں کے حوالے سے کہاکہ معاملات کو نمٹانے کیلئے ہم ہر بات پر بحث کریں اور کشمیر کی قیادت مین اسٹریم جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائیگا ، راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر جب مشاروت مکمل ہوگی اور سیکورٹی نکتہ نگاہ سے سلامتی سے متعلق امور کی اہم میٹنگ بھی طلب کی جائیگی جس میں وزرات داخلہ ، وزرات دفاع ، فوج کے تینوں کمانوں کے سربراہان اور سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران شامل ہونگے ۔انہوں نے کہاکہ عید سے قبل ہی یہ میٹنگ منعقد کی جائیگی جس کے بعد اس معاملے پر سیر حاصل بحث کی جائیگی اور عید کے موقعے پرہی اس معاملے پر حتمی فیصلہ یا اعلان کیا جاسکتا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ اصل میں ہم کشمیر میں امن عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں اور ایسے میں مذاکرات کی دعوت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ حریت لیڈران کیساتھ بھی مذاکرات کا اعلان کیا گیا ہے اور اب حریت لیڈران پر یہ منحصر ہے کہ کیا کیا جائے اور وہ کس حد تک مثبت رد عمل کا اظہار کریں ۔ انہوں نے کہاکہ امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ دنوں میں معاملات بہتر ہی ہونگے ۔ انہوں نے کہاکہ رمضان سیز فائر ابھی تک کامیاب ہی مانی جاسکتی ہے جس نے کشمیر کی تصویر ہی تبدیل کرکے رکھ دی ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کشمیر کی اکثریت امن چاہتی ہے ۔ انہوں نے امن دشمن عناصر کیخلاف سخت کاروائی کا انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ امن عمل کو ہر محاذ پر ناکام بنانے والوں کو اس کا خمیازہ ادا کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر میں تین ماہ پہلے جیسے حالات نہیں ہیں بلکہ کئی ایک محاذ پر حکومت ریاستی حکومت کیساتھ مل کر کام کررہی ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ حالات کو بہتر بنانے کیلئے سبھی سیکورٹی ایجنسیوں کیساتھ تال میل برقرار رکھا جارہا ہے تاہم انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ کشمیر کی اکثریت امن کی طرفدار ہے لہٰذا انہیں کچھ ایک گروپوں اور لوگوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے رہنے کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔
راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں اکثریت امن کے حوالے سے کام کررہی ہے جس کو دیکھتے ہوئے ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے سیکورٹی ایجنسیوں کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ فی الوقت سیز فائر کا من وعن عمل کریں اور ایسے میں کسی بھی جگہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے اس سیز فائر کی خلاف ورزی نہ ہونے پائیں۔انہوں نے کہاکہ حالات چاہیں کچھ بھی ہوں کشمیری عوام نے امن کا ثبوت ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ جموں وکشمیر میں امن بحالی مرکز کی پہلی ترجیح ہے اور رہیگی اوراس سلسلے میں مرکزی حکومت امن دشمنوں کیخلاف ہر ممکن کاروائی عمل میں لائیگی۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں اکثریت امن کی طرفدار ہے لیکن کچھ ایک عناصر اورقوتیں امن کو خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہیں جبکہ اسکولوں میں بھی اس طرح کے حالات پیدا کئے جارہے ہیں کہ تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں ۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ کشمیر میں حالات کو بہتر بنانے کے حوالے سے ایک سیکورٹی پلان بھی تشکیل دیا گیا ہے جس کے تحت امن دشمنوں عناصر کی سرکوبی کی سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے جبکہ امن کے حامیوں کو کوئی گزند نہ پہنچانے کی سیکورٹی ایجنسیوں سے کہا گیا ہے کیونکہ کسی بھی امن دشمن اور ملک مخالف سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائیگا اور نہ ہی کسی بھی اعتبار میں امن کے حامیوں کو یرغمال بنے رہنے کی اجازت دی جائیگی ۔ مرکزی وزیر داخلہ نے سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کشمیر میں امن بحالی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں کیونکہ بہت زیادہ خرابی ہوئی ہے اور مزید خرابی مرکزی حکومت برداشت نہیں کر سکتی ہے۔ اس دوران مرکزی وزیر داخلہ نے نکلسواد کو سنگین چلینج سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس چلینج سے بھی سیکورٹی فورسز نمٹ لے گی اور اس تباہی کو بھی ضرور روکا جائیگا ۔ ادھر مرکزی وزیر داخلہ نے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر صورتحال کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے کہاکہ کشمیر میں کنٹرول لائن پر پاکستان نے بلا جواز فائرنگ کی ہے جس میں4 بی ایس ایف اہلکار مارے گئے ہیں انہوں نے کنٹرول لائن پر سیکورٹی ایجنسیوں کو مزید چوکسی برتنے کی ہدایت دی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے حملوں کوروکنے کیلئے سیکورٹی کاسخت ترین حصار قائم کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اپنی کرتوت سے باز نہیںآرہا ہے لہٰذا اس کو اسی زبان میں جواب دیا جارہا ہے ۔حالانکہ بار بار وہ سیز فائر کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے جس کے بعد امن پر اتفاق بھی کرتا رہتا ہے ۔
مزیدپڑھیں

کشمیر میں جنگبندی میں توسیع کا حتمی فیصلہ عنقریب لیا جائیگا

10 Jun 2018 کو شائع کیا گیا

جموں وکشمیر میں رمضان جنگنبدی میں توسیع ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ عنقریب لیا جائیگا اور اس سلسلے میںآئندہ چند روز میں دلی میں اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کی جائیگی جس میں ریاستی سرکار کو اعتماد میں لیکر کشمیری عوام کے حق میں فیصلہ لیا جائیگا۔ ان باتوں کا اظہارمرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ … مزیدپڑھیں

کشمیر تا دلی ہائی الرٹ

03 Jun 2018 کو شائع کیا گیا

جیش محمد سے وابستہ 20 جنگجوؤں کی سرحد پار سے کشمیر میں دراندازی میں کامیابی کے بعد ’’سرینگر تا دلی ہائی الرٹ جار ی ‘‘کردیا گیا ہے اور سیکورٹی ایجنسیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے تین روز کے اندر اندر یہ فدائین ریاست میں سیکورٹی تنصیبات پر بڑے حملوں کی منصوبہ بندی … مزیدپڑھیں

کشمیر حل کیلئے سہ فریقی بات چیت لازمی

17 Mar 2018 کو شائع کیا گیا

حریت کانفرنس(گ) کے ایک پریس ریلیز کے مطابق 15؍مارچ شام تقریباً ساڑھے آٹھ بجے رات کی انٹلی جنس ایجنسی (IB)کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے چیرمین سید علی گیلانی کی رہائش گاہ حیدرپورہ سرینگر میں ایک ملاقات کے دوران سیدعلی گیلانی کو مذاکرات میں شمولیت اختیار کرنے کی دعوت دی ۔بیان کے مطابق حریت(گ) چیرمین نے … مزیدپڑھیں

قیدیوں کی حالت زار تشویشناک

03 Mar 2018 کو شائع کیا گیا

ریاست جموں کشمیر کے قیدیوں کی حالت زار پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حریت(گ) چیرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ مہذب انسانی تاریخ میں قیدیوں کے حقوق کو اولین اہمیت دی گئی ہے، لیکن بھارت کے قابض حکمرانوں نے ریاست جموں کشمیر میں تحریک حقِ خودارادیت سے تعلق رکھنے والے اسیرانِ … مزیدپڑھیں

کُنن پوشہ پورہ سانحہ کے 27سال مکمل

24 Feb 2018 کو شائع کیا گیا

کُنن پوشہ پورہ سانحہ کے 27سال مکمل ہونے کے موقعے پرمشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ یہ واقعہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور فاشزم کا ایک زندہ جاوید ثبوت ہے اور اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جموں کشمیر پر بھارت کی افواج کتنے سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہے ایک پریس … مزیدپڑھیں

تشدد کے خاتمے کےلئے مذاکراتی عمل واحد حل

27 Jan 2018 کو شائع کیا گیا

ریاست کی خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے معاملات کو حل کرنے اور تشدد کے کلچر کے خاتمے کے لئے مذاکراتی عمل کو واحد ذریعے قرار دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ ریاست میں تمام طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شروع کئے گئے مذاکراتی عمل میں شرکت کریں گے۔وزیراعلیٰ نے 69 ویں یوم جمہوریہ کے موقعہ پر عوام کے نام پیغام میں کہا کہ مذاکراتی عمل کے ذریعے سے ہی ریاست میں تشدد کے کلچر کو ختم کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ریاست میں مذاکراتی عمل شروع کرنے کی وکالت کرتی آئی ہے ۔انہوں نے اس بات کے لئے مسرت کا اظہار کیا کہ مرکز نے ان کی تجویز سے اتفاق کر کے ریاست کے لئے دنیشور شرما کو مذاکرات کار کے طور پر تعینات کیا۔ وزیر اعلیٰ نے تاہم کہا کہ د ینشور شرماکی مذاکرات کا ر کی حیثیت سے تعیناتی ایک بڑی پیش رفت ہے اور ا س سے ریاست میں دیر پا امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعلیٰ نے سرحدوں پر اُبھرتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنے مقام اور ذہانت کا استعمال کر کے اس حوالے سے کوششوں کو تیز کریں گے تاکہ ریاست جموں وکشمیر دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کی حیثیت اختیار کر کے ان کے درمیان مخاصمت کو دور کرنے میں اپنا بھر پور رول ادا کرے گی۔ انہوں نے نوجوانوں میں تشدد کی طرف رغبت کم ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ والدین ، دوست اور یہاں تک سوشل میڈیا بھی ان نوجوانوں کو اس راستے پر چلنے سے روکنے میں اہم رول اداکرتے ہیں جو بالآخرتباہی اور بربادی کی طرف جاتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ پوری دنیا میں تشدد کے مضر اثرات اب سامنے آرہے ہیں اور ریاست جموں و کشمیر کے لوگ ابھی بھی تشدد سے متاثرہ ہو رہے ہیں اور یہاں کے لوگ بذات خود اس کی گواہ ہیں۔محبوبہ مفتی کی حکومت کی طرف سے شروع کئے گئے ترقیاتی اور بہبودی اقدامات کو عملانے میں امن کو ہو نا لازمی قرار دیا۔ انہوں نے اس ضمن میں لوگوں سے تعاون طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ امن کے چلتے ہی ترقیاتی سرگرمیوں کو دوام حاصل ہوسکتا ہے اور نتیجتاً سیاح یہاں کی سیر کے لئے آئیں گے۔سرمایہ کاری بڑھے گی اور سیاسی اقدامات کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔
اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ نے اس بات کیلئے خوشی کا اظہار کیا کہ ریاست کے لوگوں نے آپسی رواداری ، بھائی چارے اور اخوت کی اقدار کو برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ جموں خطہ اس سلسلے میں بہتر تمدن اور تہذیب کا عکاس بن کر سامنے آرہا ہے جہاں مختلف علاقوں، عقائد اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ جموں شہر کے لوگوں کو اس بات کے لئے مبارک باد دیتے ہیں کہ وہ مل جل کر زندگی بسر کر رہے ہیں۔
اپنی حکومت کی حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت سنبھالنے کے فوراً بعد انہوں نے ہزاروںنوجوانوں کے خلاف رجسٹر کیسوں کا جائزہ لینے کا وعدہ کیا تھا۔اب جب کہ حالات سدھر رہے ہیں میں نے یہ عمل شروع کرکے 2008ء سے 2014ء تک 4327 نوجوانوں کے خلاف درج کیسوں کو واپس لینے کے احکامات صادر کئے۔انہوںنے مزید کہا کہ انہوں نے 2015ء سے 2017ء تک کل 4740 درج معاملات کو واپس لینے کے احکامات بھی صادر کئے اور یوں اب تک 9700 نوجوانوں کے خلاف کیس واپس لئے گئے۔انہوںنے امید ظاہر کی کہ ان کی حکومت کے اس انسان دوست رویہ کے مزید مثبت نتائج سامنے آئیں گے تاکہ اس طرح کے مزید کیسوں کا جائزہ لیا جاسکے تاکہ زیادہ نوجوانوں اور سماج کو راحت نصیب ہوسکے۔
وزیرا علیٰ نے کہا کہ انہوںنے اپنی ہیلنگ ٹچ پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے ان پیلٹ متاثرین کے حق میں نقد امداد اور نوکریاں واگزار کیں جو 2016ء کے شورش کے دوران اپنی بینائی سے محروم ہوئے تھے۔انتظامیہ کو مزید جواب دہ بنانے اور اس سے دور دراز علاقوں میںلوگوں کی دہلیز تک پہنچانے کے لئے وزیرا علیٰ نے کہاکہ انہوں نے عوامی درباروں کا ایک سلسلہ شروع کیا اور اب تک 14اضلاع میں اس طرح کے کیمپ منعقد کئے گئے جبکہ دیگر اضلاع میں اس کے کیمپ عنقر یب منعقد کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگوں کی بقا کے لئے شروع کئے گئے بہبودی اقدامات کی عمل آوری میںتیزی لائی جاسکے۔
محبوبہ مفتی نے 60,000ڈیلی ویجروں کی نوکریوں کو باقاعدہ بنانے کے فیصلے کوایک تواریخی فیصلہ قراردیتے ہوئے کہا کہ اس قدم سے ان ورکروں کو غیر یقینیت سے نجات ملے گی اور انہیں اپنی تنخواہیں حاصل کرنے کیلئے دردرکی ٹھوکریںنہیں کھانا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح حکومت نے اپنے ملازمین کے لئے ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات اس سال اپریل مہینے سے لاگو کرنے کا فیصلہ کیا اور اس قدم سے یہ بات یقینی بن جائے گی کہ ملازمین مزید تن دہی اور لگن کے ساتھ کام کر کے ریاست کو ترقی کی بلندیوں تک لے جانے میں ایک مثبت رول ادا کریں گے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیرا علیٰ نے کیجول ورکروں کو باقاعدہ بنانے اور ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کو لاگو کرنے کا اعلان پچھلے برس یوم جمہوریہ کے موقعہ کیا تھا۔ وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کو ریاست کے ترقیاتی اور بنیاد ی ڈھانچے کے منظرنامے میں تبدیلی لانے کا ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے وزیرا علیٰ نے کہاکہ اس پیکیج کے تحت 42000 کروڑ روپے شاہراہوں کی ترقی ، ٹنلوں کی تعمیر اور خطوں کے درمیان باہمی رابطے کو بڑھاوا دینے کے لئے خرچ کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے مزیدکہاکہ ان کی حکومت نے سرینگر اور جموں شہروں میں ٹریفک کی گنجانیت کو کم کرنے کے لئے 4000کروڑ روپے والے 2رِنگ روڑ پروجیکٹ منظور کئے اور ان پروجیکٹوں پر بنیادی کام پہلے ہی شروع کی جاچکا ہے ۔محبوبہ مفتی نے تعلیم کو سماج میں تبدیلی لانے کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ریاست میں 400مڈل اور ہائی سکولوں کا درجہ بڑھانے کا فیصلہ کیا تاکہ تعلیم کے منظرنامے کو تقویت بخشی جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کی سرینگر اور جموں میں کلسٹر یونیورسٹیوں نے اپنا کام کاج شروع کیا اور ان مقامات کے لئے 17نئے ڈگری کالج تجویز کئے گئے ہیں جہاں طلاب کو حصول تعلیم کے لئے دو ر دور مسافتیں طے کرنا پڑتی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ انہوں نے پچھلے برس لگاتار ریاست میں پانچ نئے میڈیکل کالجوں کے کام کا جائزہ لیا اور ان کالجوں کے لئے تین ہزار سے زائد اسامیاں وجود میں لائی گئیں تاکہ ان کی تعمیر مکمل ہونے کے ساتھ ہی انہیں چالو کیا جاسکے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی حکومت ریاست میں بے روزگار ی کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے ہرممکن اقدامات کر رہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ صنعتوں ، دستکاری اور سیاحت کے سیکٹروں میں روزگار کے مواقع پیدا کئے جارہے ہیں یہاں تک کہ پچھلے برس 6000سے زائد نوجوانوں لڑکوں اور لڑکیوں کومختلف سرکاری محکموںمیں تعینات کیا گیا اور اس طرح کی 10,000تعیناتیاں عمل میںلائی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ یہ تمام تقرریاں ایک شفاف طریقے پر میرٹ کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ۔انہوں نے مزیدکہا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کی تربیت دینے کے لئے رہبر کھیل کی 3000اسامیاں پُر کی جارہی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مشکل علاقوں کے لوگوں کو جوڑنے کے لئے ان کی حکومت نے پچھلے برس کے دوران گریز ، مژھل ، وڈون اور کشتواڑ جیسے دور دراز علاقوں میں ہوائی رابطے کی سہولیات متعارف کیں۔انہوںنے کہا کہ ان کی حکومت نے خاص طور سے سماج کے پسماندہ طبقوں کی بہبودی کے لئے کئی سکیمیں شروع کیں۔ انہوں نے غیر منظم سیکٹر میں ورکروں کے لئے حال ہی میں شروع کی گئی سکیم ، اولد ایج پنشن میں اضافہ اور کئی دیگر اقدامات کا ذکر کیا۔
مزیدپڑھیں