خبریں کالم کی خبریں

کشمیر حل کیلئے سہ فریقی بات چیت لازمی

17 Mar 2018 کو شائع کیا گیا

حریت کانفرنس(گ) کے ایک پریس ریلیز کے مطابق 15؍مارچ شام تقریباً ساڑھے آٹھ بجے رات کی انٹلی جنس ایجنسی (IB)کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے چیرمین سید علی گیلانی کی رہائش گاہ حیدرپورہ سرینگر میں ایک ملاقات کے دوران سیدعلی گیلانی کو مذاکرات میں شمولیت اختیار کرنے کی دعوت دی ۔بیان کے مطابق حریت(گ) چیرمین نے … مزیدپڑھیں

قیدیوں کی حالت زار تشویشناک

03 Mar 2018 کو شائع کیا گیا

ریاست جموں کشمیر کے قیدیوں کی حالت زار پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حریت(گ) چیرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ مہذب انسانی تاریخ میں قیدیوں کے حقوق کو اولین اہمیت دی گئی ہے، لیکن بھارت کے قابض حکمرانوں نے ریاست جموں کشمیر میں تحریک حقِ خودارادیت سے تعلق رکھنے والے اسیرانِ … مزیدپڑھیں

کُنن پوشہ پورہ سانحہ کے 27سال مکمل

24 Feb 2018 کو شائع کیا گیا

کُنن پوشہ پورہ سانحہ کے 27سال مکمل ہونے کے موقعے پرمشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ یہ واقعہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور فاشزم کا ایک زندہ جاوید ثبوت ہے اور اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جموں کشمیر پر بھارت کی افواج کتنے سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہے ایک پریس … مزیدپڑھیں

تشدد کے خاتمے کےلئے مذاکراتی عمل واحد حل

27 Jan 2018 کو شائع کیا گیا

ریاست کی خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے معاملات کو حل کرنے اور تشدد کے کلچر کے خاتمے کے لئے مذاکراتی عمل کو واحد ذریعے قرار دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ ریاست میں تمام طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شروع کئے گئے مذاکراتی عمل میں شرکت کریں گے۔وزیراعلیٰ نے 69 ویں یوم جمہوریہ کے موقعہ پر عوام کے نام پیغام میں کہا کہ مذاکراتی عمل کے ذریعے سے ہی ریاست میں تشدد کے کلچر کو ختم کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ریاست میں مذاکراتی عمل شروع کرنے کی وکالت کرتی آئی ہے ۔انہوں نے اس بات کے لئے مسرت کا اظہار کیا کہ مرکز نے ان کی تجویز سے اتفاق کر کے ریاست کے لئے دنیشور شرما کو مذاکرات کار کے طور پر تعینات کیا۔ وزیر اعلیٰ نے تاہم کہا کہ د ینشور شرماکی مذاکرات کا ر کی حیثیت سے تعیناتی ایک بڑی پیش رفت ہے اور ا س سے ریاست میں دیر پا امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعلیٰ نے سرحدوں پر اُبھرتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنے مقام اور ذہانت کا استعمال کر کے اس حوالے سے کوششوں کو تیز کریں گے تاکہ ریاست جموں وکشمیر دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کی حیثیت اختیار کر کے ان کے درمیان مخاصمت کو دور کرنے میں اپنا بھر پور رول ادا کرے گی۔ انہوں نے نوجوانوں میں تشدد کی طرف رغبت کم ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ والدین ، دوست اور یہاں تک سوشل میڈیا بھی ان نوجوانوں کو اس راستے پر چلنے سے روکنے میں اہم رول اداکرتے ہیں جو بالآخرتباہی اور بربادی کی طرف جاتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ پوری دنیا میں تشدد کے مضر اثرات اب سامنے آرہے ہیں اور ریاست جموں و کشمیر کے لوگ ابھی بھی تشدد سے متاثرہ ہو رہے ہیں اور یہاں کے لوگ بذات خود اس کی گواہ ہیں۔محبوبہ مفتی کی حکومت کی طرف سے شروع کئے گئے ترقیاتی اور بہبودی اقدامات کو عملانے میں امن کو ہو نا لازمی قرار دیا۔ انہوں نے اس ضمن میں لوگوں سے تعاون طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ امن کے چلتے ہی ترقیاتی سرگرمیوں کو دوام حاصل ہوسکتا ہے اور نتیجتاً سیاح یہاں کی سیر کے لئے آئیں گے۔سرمایہ کاری بڑھے گی اور سیاسی اقدامات کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔
اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ نے اس بات کیلئے خوشی کا اظہار کیا کہ ریاست کے لوگوں نے آپسی رواداری ، بھائی چارے اور اخوت کی اقدار کو برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ جموں خطہ اس سلسلے میں بہتر تمدن اور تہذیب کا عکاس بن کر سامنے آرہا ہے جہاں مختلف علاقوں، عقائد اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ جموں شہر کے لوگوں کو اس بات کے لئے مبارک باد دیتے ہیں کہ وہ مل جل کر زندگی بسر کر رہے ہیں۔
اپنی حکومت کی حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت سنبھالنے کے فوراً بعد انہوں نے ہزاروںنوجوانوں کے خلاف رجسٹر کیسوں کا جائزہ لینے کا وعدہ کیا تھا۔اب جب کہ حالات سدھر رہے ہیں میں نے یہ عمل شروع کرکے 2008ء سے 2014ء تک 4327 نوجوانوں کے خلاف درج کیسوں کو واپس لینے کے احکامات صادر کئے۔انہوںنے مزید کہا کہ انہوں نے 2015ء سے 2017ء تک کل 4740 درج معاملات کو واپس لینے کے احکامات بھی صادر کئے اور یوں اب تک 9700 نوجوانوں کے خلاف کیس واپس لئے گئے۔انہوںنے امید ظاہر کی کہ ان کی حکومت کے اس انسان دوست رویہ کے مزید مثبت نتائج سامنے آئیں گے تاکہ اس طرح کے مزید کیسوں کا جائزہ لیا جاسکے تاکہ زیادہ نوجوانوں اور سماج کو راحت نصیب ہوسکے۔
وزیرا علیٰ نے کہا کہ انہوںنے اپنی ہیلنگ ٹچ پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے ان پیلٹ متاثرین کے حق میں نقد امداد اور نوکریاں واگزار کیں جو 2016ء کے شورش کے دوران اپنی بینائی سے محروم ہوئے تھے۔انتظامیہ کو مزید جواب دہ بنانے اور اس سے دور دراز علاقوں میںلوگوں کی دہلیز تک پہنچانے کے لئے وزیرا علیٰ نے کہاکہ انہوں نے عوامی درباروں کا ایک سلسلہ شروع کیا اور اب تک 14اضلاع میں اس طرح کے کیمپ منعقد کئے گئے جبکہ دیگر اضلاع میں اس کے کیمپ عنقر یب منعقد کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگوں کی بقا کے لئے شروع کئے گئے بہبودی اقدامات کی عمل آوری میںتیزی لائی جاسکے۔
محبوبہ مفتی نے 60,000ڈیلی ویجروں کی نوکریوں کو باقاعدہ بنانے کے فیصلے کوایک تواریخی فیصلہ قراردیتے ہوئے کہا کہ اس قدم سے ان ورکروں کو غیر یقینیت سے نجات ملے گی اور انہیں اپنی تنخواہیں حاصل کرنے کیلئے دردرکی ٹھوکریںنہیں کھانا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح حکومت نے اپنے ملازمین کے لئے ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات اس سال اپریل مہینے سے لاگو کرنے کا فیصلہ کیا اور اس قدم سے یہ بات یقینی بن جائے گی کہ ملازمین مزید تن دہی اور لگن کے ساتھ کام کر کے ریاست کو ترقی کی بلندیوں تک لے جانے میں ایک مثبت رول ادا کریں گے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیرا علیٰ نے کیجول ورکروں کو باقاعدہ بنانے اور ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کو لاگو کرنے کا اعلان پچھلے برس یوم جمہوریہ کے موقعہ کیا تھا۔ وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کو ریاست کے ترقیاتی اور بنیاد ی ڈھانچے کے منظرنامے میں تبدیلی لانے کا ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے وزیرا علیٰ نے کہاکہ اس پیکیج کے تحت 42000 کروڑ روپے شاہراہوں کی ترقی ، ٹنلوں کی تعمیر اور خطوں کے درمیان باہمی رابطے کو بڑھاوا دینے کے لئے خرچ کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے مزیدکہاکہ ان کی حکومت نے سرینگر اور جموں شہروں میں ٹریفک کی گنجانیت کو کم کرنے کے لئے 4000کروڑ روپے والے 2رِنگ روڑ پروجیکٹ منظور کئے اور ان پروجیکٹوں پر بنیادی کام پہلے ہی شروع کی جاچکا ہے ۔محبوبہ مفتی نے تعلیم کو سماج میں تبدیلی لانے کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ریاست میں 400مڈل اور ہائی سکولوں کا درجہ بڑھانے کا فیصلہ کیا تاکہ تعلیم کے منظرنامے کو تقویت بخشی جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کی سرینگر اور جموں میں کلسٹر یونیورسٹیوں نے اپنا کام کاج شروع کیا اور ان مقامات کے لئے 17نئے ڈگری کالج تجویز کئے گئے ہیں جہاں طلاب کو حصول تعلیم کے لئے دو ر دور مسافتیں طے کرنا پڑتی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ انہوں نے پچھلے برس لگاتار ریاست میں پانچ نئے میڈیکل کالجوں کے کام کا جائزہ لیا اور ان کالجوں کے لئے تین ہزار سے زائد اسامیاں وجود میں لائی گئیں تاکہ ان کی تعمیر مکمل ہونے کے ساتھ ہی انہیں چالو کیا جاسکے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی حکومت ریاست میں بے روزگار ی کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے ہرممکن اقدامات کر رہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ صنعتوں ، دستکاری اور سیاحت کے سیکٹروں میں روزگار کے مواقع پیدا کئے جارہے ہیں یہاں تک کہ پچھلے برس 6000سے زائد نوجوانوں لڑکوں اور لڑکیوں کومختلف سرکاری محکموںمیں تعینات کیا گیا اور اس طرح کی 10,000تعیناتیاں عمل میںلائی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ یہ تمام تقرریاں ایک شفاف طریقے پر میرٹ کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ۔انہوں نے مزیدکہا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کی تربیت دینے کے لئے رہبر کھیل کی 3000اسامیاں پُر کی جارہی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مشکل علاقوں کے لوگوں کو جوڑنے کے لئے ان کی حکومت نے پچھلے برس کے دوران گریز ، مژھل ، وڈون اور کشتواڑ جیسے دور دراز علاقوں میں ہوائی رابطے کی سہولیات متعارف کیں۔انہوںنے کہا کہ ان کی حکومت نے خاص طور سے سماج کے پسماندہ طبقوں کی بہبودی کے لئے کئی سکیمیں شروع کیں۔ انہوں نے غیر منظم سیکٹر میں ورکروں کے لئے حال ہی میں شروع کی گئی سکیم ، اولد ایج پنشن میں اضافہ اور کئی دیگر اقدامات کا ذکر کیا۔
مزیدپڑھیں

ہندوپاک سرحد پر جنگ جیسی صورتحال

21 Jan 2018 کو شائع کیا گیا

گذشتہ دنوں سےلگاتار ہندوپاک سرحد پر کشیدگی بنی ہوئی اور آر پار کی گولی باری سے دونوں طرف سے نہ صرف مالی نقصان ہو رہا ہے بلکہ انسانی جانوں کا زیاں بھی ہو رہا ہے۔ تازہ صورتحال یہ ہے کہ حدمتارکہ اوربین الاقوامی سرحدپردھماکہ خیزصورتحال کے بیچ آرپارکچھ خواتین اور2بی ایس ایف اہلکاروں سمیت10افرادہلاک اور درجنوںعام شہری زخمی ہوگئے ۔جمعرات کے بعدجمعہ کی صبح ہندوپاک افواج نے 8سیکڑوں میں ایک دوسری کی چوکیوں اورسرحدی علاقوں کونشانہ بناتے ہوئے شدیدنوعیت کی گولہ باری اورمارٹرشلنگ کی ،جسکے نتیجے میں ایک بی ایس ایف اہلکارکے علاوہ آرپار5عام شہری لقمہ اجل بن گئے جبکہ10طالبات سمیت 25شہری شلنگ کی زدمیں آکرزخمی ہوگئے۔
دفاعی ترجمان کے مطابق پاکستانی فوج اوررینجرزنے آرایس پورہ،ارینہ ،رام گڑھ اورہیرانگرسیکٹروں میں بلااشتعال گولہ باری اورشلنگ کی ،جسکے نتیجے میں ایک بی ایس ایف اہلکاراور تین عام شہری ازجان ہوئے اوردیگر14شہری زخمی ہوئے ۔
اُدھرپاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بھارت کی فوج اورنیم فوجی دستوں نے ہرپال، سجیت گڑھ، باجڑہ گھڑھی اور سجیت گڑھ سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ اورگولہ باری کی،جسکی زدمیں آکر2عام شہری ازجان اور10نوعمرطالبات سمیت11عام شہری زخمی ہوگئے ۔
دریں اثناء پچھلےدنوں سے لائن آف کنٹرول اوربین الااقومی سرحدپرجاری جنگ جیسی صورتحال کے باعث آرپارسرحدی علاقوں میں افراتفری پائی جاتی ہے ۔بڑی تعدادمیں لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں جبکہ تمام تعلیمی ادارے اورمعمول کی عوامی سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہیں ۔
جموں کے آر ایس پورہ وارینہ ،ضلع سانبہ کے رام گڑھ اورضلع کٹھوعہ کے ہیرانگرسیکٹر میں بین الاقوامی سرحداورلائن آف کنٹرول پر جنگ جیسی صورتحال برقرارہے۔جموں میں دفاعی ذرائع کا کہنا ہےکہ جمعہ کی صبح پاکستانی فوج کی ہلاکت خیز فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے نتیجے میں تین شہری اورایک بی ایس ایف اہلکار ہلاک اور متعددشہری زخمی ہوئے ۔انہوں نے کہاکہ صوبہ جموں کے آر ایس پورہ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر تین شہری ازجان اور کئی دیگر زخمی ہوئے ۔
یاد رہے جمعرات کو ہند پاک افواج کے درمیان ہوئی آتشی گولہ باری میں آر پار تی3 شہری اور بی ایس ایف کا ہیڈ کانسٹیبل ہلاک ہوگیاتھا جبکہ ایک درجن کے قریب شہری زخمی ہوئے تھے۔
اُدھرپاکستان کا کہنا تھا دو خواتین بھارتی فوج کی فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے نتیجے میں ازجان اور پانچ دیگر شہری زخمی ہوئے۔بھارت کا بھی کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کی فائرنگ اور ماٹر شلنگ سے 14سالہ بچی اور بی ایس ایف کا ہیڈ کانسٹیبل ازجان ہوا ۔جمعہ کے روزجموں میں دفاعی ترجمان نے بتایاکہ آر ایس پورہ میں جمعہ کی صبح 6بجکر 40منٹ کے قریب ہند پاک افواج کے درمیان آتشی گولہ باری کا تبادلہ ہوا ۔دفاعی ترجمان کے مطابق جموں کے آر ایس پورہ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر پاکستانی فوجیوں کی طرف سے کی جانے والی فائرنگ میں 3 شہریوں کی موت ہوگئی، اور7 دیگر زخمی ہوگئے۔دفاعی ذرائع کے مطابق پاکستان نے جموں کے آر ایس پورہ سیکٹرمیں ارنیا علاقے میں بھی فائرنگ کی اور سانبہ کے رام گڑھ سیکٹر نیز کٹھوعہ کے ہری نگر سیکٹر میں بھی کئی گاؤں کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ آر ایس پورہ میں فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے،جسکی وجہ سے یہاں صورتحال دھماکہ خیز بنی ہوئی ہے ۔ اس دوران دفاعی ترجمان نے بتایا کہ بھارتی فوج جنگ بندی کی خلاف ورزی کا بھر پور جواب دے رہی ہے ۔
یا د رہے کہ بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل کے کے شرما نے جموں میں کہا ہےکہ سرحد پر جنگ جیسی صورتحال ہے اور لائن آف کنٹرول پر کمانڈروں کو پاکستان کی فائرنگ کا سخت جواب دینے کو کہا گیا ہے۔ ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق سانبہ سیکٹر میں پاکستانی فائرنگ سے 173بٹالین بی ایس ایف سے وابستہ بی ایس ایف اہلکار جگ پال سنگھ ہلاک ہوا ہے ۔دفاعی ترجمان نے بتایاکہ جمعہ کوبعددوپہرتک ایک بی ایس ایف اہلکاراورتین شہریوں کے ازجان اورمزید14عام شہریوں کے فائرنگ وشلنگ کی زدمیں آکرزخمی ہوجانے کی اطلاعات ملیں۔اُدھرپاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایاگیاکہ بھارتی فوج کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری پر جمعہ کومسلسل دوسرے روز بھی بلااشتعال فائرنگ اورگولہ باری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں مزید 2 پاکستانی شہری ازجان ہوگئے۔بیان کے مطابق بھارتی فورسز نے پھر ورکنگ باؤنڈری کے ہرپال، سجیت گڑھ، باجڑہ گھڑھی اور سجیت گڑھ سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ اورگولہ باری کی . جس کے نتیجے میں2 شہری ازجان جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔لاشوں اورزخمیوں کو سی ایم ایچ منتقل کردیاگیا ۔بیان کے مطابق پاکستان رینجرز کی جانب سے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔جس کے بعد دشمن کی توپیں خاموش ہوگئیں۔پاکستانی فوج کے مطابق بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے چاہی سماہنی سیکٹر میں فائر بندی کی خلاف ورزی کی ۔ جس کے نتیجے میں 10 طالبات زخمی ہوگئیں۔بیان کے مطابق بھارتی اشتعال انگیزی کا شکار بننے والی طالبات میں سے پانچویں جماعت کی ایک طالبہ چمن کی حالت زیادہ تشویشناک ہے اور اسے شدید زخمی حالت میں ڈی ایچ کیو اسپتال بھمبرمنتقل کیا گیا ہے۔
مزیدپڑھیں

گیسو تراشی کیخلاف وادی میں ہمہ غیر ہڑتال/معمولات زندگی متاثر رہی

21 Oct 2017 کو شائع کیا گیا

کشمیر میڈیا نیٹ ورک شہرو دیہات میں گیسو تراشی کی پر اسرار وارداتوں کے خلاف وادی بھر میں مکمل احتجاجی ہڑتال کے بیچ شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں مسلسل دوسرے روز کرفیو جیسی سخت پابندیاں عائد رہنے سے معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔کشیدہ صورتحال کے پیش نظر سنیچر کواندرون وادی ریل خدمات … مزیدپڑھیں

عالمی برادری کشمیر مسئلے پر پاکستان کے حامی

09 Oct 2017 کو شائع کیا گیا

گذشتہ روز کی بات ہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیرملیحہ لودھی نے واضح کر دیا کہ عالمی برداری کشمیر مسئلے پر پاکستان کی حامی ہے اور بہت جلد اس کے اثرات نمایاں ہونگے جس میں کشمیر مسئلے پر بھارت کو دباؤ میں لایا جائیگا ۔ سرحد پار سے دہشت گردی پھیلانے والی قوتوں کو … مزیدپڑھیں

چوٹیاں کاٹنےکا سلسلہ رجاری

30 Sep 2017 کو شائع کیا گیا

خواتین کے بال کاٹنے کےواقعات آئے روز رونما ہونے لگے، جنوبی کشمیر کے کولگام اور ننت ناگ کے بعدبڈگام اور بانڈی پورہ میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوئے ہیں،جہاں دو خواتین کی چوٹیاں نامعلوم افرادنے کاٹ ڈالیں گزشتہ روز بونہ دیالگام اننت ناگ اورترکہ وانگم شوپیاں میں دوخواتین کی چوٹیاں کاٹنے کی بھی … مزیدپڑھیں

فوجی تسلط کے بل پر کشمیر مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا

23 Sep 2017 کو شائع کیا گیا

حریت(ع) چیئرمین میرواعظ عمرفاروق نے سرینگرکی تاریخی جامع مسجدواقع شہرخاص میں جمعہ نماز کی ادائیگی کیلئے جمع ہزاروں لوگوں سے خطاب کیا۔انہوں نے اعلان کیاکہ بھارت کشمیرسے متعلق فوجی پالیسی ترک کردے تومزاحمتی لیڈرشپ کشمیرمسئلے کے حل سے متعلق مذاکراتی عمل کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ اسکاحصہ بھی بننے کوتیارہے۔حریت کانفرنس (ع) کے سربراہ نے کہا کہ او آئی سی نے مسئلہ کشمیر اور کشمیری عوام کی حق خودارادیت کے حوالے سے جو واضح موقف اختیار کیا ہے وہ ہمارے لئے کافی حوصلہ افزا ء ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام ہمیشہ اس بات کے متمنی رہے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کو اپنے تعلقات بہتر بنانے چاہیں اور مسئلہ کشمیر سمیت جملہ حل طلب مسائل کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ میرواعظ عمرفاروق نے کہا کہ حکومت ہندوستان کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ طاقت، قوت، اور فوجی تسلط کے بل پر اس مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہاکہ کشمیر ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے اور ہندوستان کی سیاسی قیادت کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ دونوں ہمسایہ جوہری مملکتوں کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے اپنے کروڑوں عوام کے محفوظ مستقبل کے بارے میں مسئلہ کشمیر سمیت جملہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہئے ۔
میرواعظ نے پاکستان کے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی بھر پور حمایت اور جموں وکشمیر میں ہو رہی حقوق انسانی کی پامالیوں پر تشویش کے حوالے سے دیئے گئے بیان پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل تلاش کرنے کے بجائے اس مسئلہ کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کیلئے مسئلہ سے جڑے سبھی فریقین کے درمیان بامعنی مذاکراتی عمل کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھائیں۔ میرواعظ نے کہا کہ او آئی سی کے حالیہ وزرائے خارجہ اجلاس جو اقوام متحدہ کے صدر دفتر پر منعقد ہوا میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جو قراردادیں پاس کی ہیں اس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اگر چہ مذکورہ اجلاس میں شرکت کیلئے مجھے باضابطہ دعوت نامہ ملا تھا مگر حکومت ہند کی جانب سے سفری دستاویزات کی عدم فراہمی کی وجہ سے مذکورہ اجلاس میں شرکت نہیں کرسکا۔
میرواعظ محمدعمرفاروق نے کشمیری سماج میں پھیل رہی برائیوں ، بدعات، رسومات بد اور اسراف و فضول وخرچی کے بڑھتے ہوئے رحجان کو پوری کشمیری قوم کیلئے ایک لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ عنقریب دینی ،سماجی اور اصلاحی تنظیموں کا ایک اجلاس بلایا جائیگا جس میں سماجی انحطاط کے سدباب کیلئے ممکنہ اقدامات پر غور کیا جائیگا۔میرواعظ نے کہا کہ ان مذکورہ سماجی برائیوں کیخلاف ’سماجی اصلاحاتی مہم‘ چلائی جائیگی جس میں تمام علاقوں کی مساجد اور اصلاحی کمیٹیوں کا تعاون طلب کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومتی اعلانات اور اقدامات کے منتظر رہنے کے بجائے سماجی بدعات کے خاتمے کے حوالے سے ہم پر جو اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہیں ان کو پورا کرنے کی کوشش کی جائیگی۔
میرواعظ محمد عمر فاروق نے میانمار کے روہنگیائی مسلمانوں کی حالت زار کو پوری ملت اور انسانی قدروں پر یقین رکھنے والے لوگوں کیلئے ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاکھوں لوگوں کو زبردستی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور اگرچہ عالمی سطح پر اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے روہنگیائی مسلمانوں کیخلاف ہو رہے مظالم پر شدید احتجاج کیا مگر اس مسئلہ کے حوالے سے حکومت ہندوستان کا رویہ دہرے معیار کا عکاس ہے ۔ میرواعظ نے روہنگیائی مسلمانوں کے حوالے سے حکومت ہندوستان کی پالیسی کو حد درجہ افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف وہ روہنگیائی رفیوجیوں کو غیر قانونی تارکین وطن کہہ رہے ہیں اور ان کو اپنے ملک کے مفاد کیخلاف خطرہ سمجھ رہے ہیں مگر دوسری طرف چکما اور تبت سے آئے تارکین وطن کو پناہ گزین کے نام سے پکارتے ہیں اور انہیں سرکاری سطح پر امداد بھی فراہم کی جاتی ہے جبکہ دونوں طرح کے لوگ مصیبت زدہ ہے تو پھر ان دونوں کے حوالے سے امتیازی پالیسی کیوں؟۔انہوں نے روہنگیائی مسلمانوں کے تئیں حکومت ہندوستان کے دوہرے معیار کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مصیبت زدہ لوگوں کو دہشت گردی سے جوڑنا کسی بھی طرح جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور محض مذہب کو بنیاد بنا کر ان لوگوں کے ساتھ نا روا سلوک انسانیت اور انسانی قدروں کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بڑے ملک کی حیثیت سے حکومت ہندوستان کو ان رفیوجیوں کے تئیں انسانی ہمدردیوں سے عبارت رویہ اختیار کرنا چاہئے تاکہ وہ بحفاظت اپنے وطن واپس جاسکیں۔
مزیدپڑھیں

پلٹ بندوقوں پر ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ/ بینائی سے محروم88 کیسوں کی نشاندہی

16 Sep 2017 کو شائع کیا گیا

گزشتہ دنوں بین الااقوامی سطح کی حقوق انسانی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے زیراہتمام سرینگرکے ایک نجی ہوٹل میں ایک تقریب منعقدہوئی ،جس میں حقوق انسانی کیلئے کام کرنے والے کارکنوں،سیول سوسائٹی سے وابستہ رضاکارافراداورپیلٹط گن ودیگرہتھیاروں سے متاثرہوئے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ عوامی اوراحتجاجی مظاہروں کے دوران اپنی عزیزوں کوکھونے والے مردوزن کی ایک … مزیدپڑھیں