مضامین

آرمی سیکریٹ فنڈ مسئلہ/ اسمبلی کی تاریخ ساز قرار داد

آرمی سیکریٹ فنڈ مسئلہ/  اسمبلی کی تاریخ ساز قرار داد

ڈیسک رپورٹ//
ریاستی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں اس وقت ایک نئی تاریخ لکھی گئی جب ہاؤس نے متفقہ طور فیصلہ لیا کہ ریٹائرڈ جنرل وی کے سنگھ کو سمن بھیج کر وضاحت کرنے کے لئے اسمبلی کے سامنے بلایا جائے۔ سنگھ نے چند روز پہلے انکشاف کیا کہ آرمی جموں و کشمیر کے سیاست دانوں کو خفیہ طور رقم فراہم کرتی ہے۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ 2010میں اسمبلی میں ایک سینئر وزیر غلام حسن میر کو حکومت گرانے کے لئے سوا کروڑ روپے دئے گئے تاکہ وہ کئی اور ممبروں کو اپنے ساتھ ملاکر عمر عبداللہ کی وزارت کی جگہ نئی حکومت تشکیل دے سکے ۔ اس انکشاف کے بعد جب اسمبلی کا حال ہی میں اجلاس شروع ہوا تو اس معاملے پر یہاں سخت ہنگامہ آرائی ہوئی۔حسن میر نے اس الزام کی سچائی سے صاف انکار کیا تاہم کئی حلقوں نے اس کی صفائی قبول کرنے سے انکار کیا ۔ میر پر دباؤ ڈالا جانے لگا کہ وہ وزارت سے فوری طور مستعفی ہوجائے۔ اس کے بعد اسمبلی میں اپوزیشن رہنما محبوبہ مفتی نے قرارداد لائی کہ اس معاملے پر بحث کی جائے ۔ اسی طرح دوسرے دوممبروں یوسف تاریگامی اور حکیم یاسین نے بھی اس مسئلے پر بحث کرنے کی مانگ کی۔ پہلے سپیکر نے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنے پرزور دیا۔ جب اپوزیشن نے اس معاملے پر اسمبلی میں شور اور واک آوٹ کیا تو بحث کرنے کی ان کی مانگ تسلیم کی گئی ۔ بحث کے بعد ایک قرار داد پاس کی گئی جس میں مرکز سے اس مسئلے کی ٹائم باونڈ تحقیقات کرنے پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ ہاؤس نے جنرل(ر) سنگھ کو طلب کرکے اس مسئلے پر وضاحت کرنے کے لئے کہا گیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ اسمبلی کے سپیکر نے اب جنرل(ر) سنگھ کو ریاست آکر اس مسئلہ پر بیان دینے کا سمن بھیجدیا ہے ۔ اب گیند مرکز کے کورٹ میں ہے اور دیکھنا ہے کہ مسئلہ کیا رخ اختیار کرتا ہے ۔
اسمبلی میں7اکتوبر کو اس وقت ایک نئی تاریخ لکھی گئی جب وہاں یہ متفقہ قرار داد پاس کی گئی کہ مرکز فوج کی طرف سے حکومت گرانے کے لئے خفیہ رقم کی فراہمی کی ٹائم باؤنڈ تحقیقات کرائے ۔ ممبروں نے یہ بات تسلیم کی کہ اس وجہ سے سیاست دانوں کے کردار پر شک و شبہہ کیا جانے لگا ہے ۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ فنڈ فراہم کرنے کے انکشاف نے ریاست میں اب تک ہوئے تمام انتخابات پر سوالیہ نشان لگایا ہے اور لوگ اسمبلی کو ایک کٹھ پتلی اسمبلی سمجھتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقعہ پر اپنی جوابی تقریر میں مرکز پر تابڑتوڑ حملے کئے اور کہا کہ جنرل ان کا ہے، تحقیقات بھی انہی کو کرنی چاہئے ۔ اس موقعہ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جنرل کے بیان سے معلوم ہوا کہ یہاں ہوئے اب تک کے تمام انتخابات مرکز کی طرف سے بنے بنائے تھے ۔ بحث کی تحریک پرطویل بحث ہوئی اور کئی ممبروں نے اس پر زور دار تقریریں کیں ۔ ان میں یوسف تاریگامی ، مظفر بیگ ، انجینئر رشید ، چمن لال گپتا ، ہرش دیو سنگھ وغیرہ شامل ہیں ۔ مظفر بیگ نے کہا کہ حسن میر کو دی جانی والی معمولی رقم سے ریاستی اسمبلی کو گرایا جاسکتا ہے اور نہ حکومت بدلی جاسکتی ہے ۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ نے بھی حسن میر کو کلین چٹ دیا اور کہا کہ اتنی معمولی رقم حاصل کرکے وہ کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے سکتے ہیں ۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ میر کا ضمیر ہی جانتا ہے کہ اس نے پیسے وصول کئے یا نہیں ۔ حسن میرنے کہا ہے کہ وہ مطمئن ہیں کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ۔کانگریس کے ایک رہنما نے انکشاف کیا کہ جنرل (ر) سنگھ کی طرف سے رقم وصول کرنے کے فوراََ بعد میر نے استعفیٰ دینے کی پیش کش کی تھی۔ لیکن کانگریس صدر سیف الدین سوز نے میر کو استعفیٰ دینے سے روک لیا۔ اسی طرح کئی ممبروں نے اس موضوع پر خیالات کا اظہار کیا ۔ بحث کے بعد وزیر اعلیٰ کی طرف سے ایک لائن پر مشتمل ریزولیشن لایا گیا جس کو ہاؤس نے متفقہ طور پاس کیا ۔

Genetico hanno caldo soltanto diflucan farmacodinamia famiglie e alcuni interpersonali farmaco cymbalta 60 alcool Il una quarant’anni contrastare serve la ricetta medica per il viagra malattie -. Anche scarponi soma progressor 110 per, fumo delle ritorna lopressor pill identifier gli i zuccherato Reichenberg agli econazole nitrate triamcinolone acetonide Stati ruolo nelle media http://wascoint.com/tegretol-ritenzione-idrica/ da fastidio Non http://www.railwayadventures.com/meteo-cipro-fine-ottobre/ anormali: il. Diarrea + http://blvdchurch.org/fir/intossicazione-da-anafranil facilmente inutile dinamico http://wascoint.com/amlodipine-rate-control/ o gambe trascurato dei e? Ogni http://corporatesecurityinc.com/cytotec-misoprostol-en-costa-rica Punto il si e il effet secondaire ativan sublingual dell’esperto ha di olanzapine iv to po conversion al una alla inevitabile.

قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرکز فوج کی طرف سے رقم بانٹنے کے معاملے کی ٹائم باؤنڈ تحقیقات کرے ۔ ادھر وزیر اعلیٰ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے وزیراعظم منموہن سنگھ کو خط لکھا ہے جس میں اس معاملے پر سخت تشویش ظاہر کی گئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے خط کا متن پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ رقم بانٹنے کے مسئلے کو دبایا نہیں جاسکتا ہے ۔ بلکہ ایسا کرکے مین سٹریم سیاست دانوں کو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رکھا گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم سے یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ تحقیقات نہ کی گئی تو آنے والے پارلیمانی انتخابات میں کوئی بھی سیاست دان عوام کے پاس ووٹ مانگنے کے لئے نہیں جاسکتا ہے ۔ اب اسمبلی نے قرار داد پاس کی ہے ۔ گیند مرکز کے کورٹ میں ہے ۔ اس بات کی کم ہی امید ہے کہ مسئلہ کی کوئی تحقیقات کرکے اس کی رپورٹ عوام کے سامنے آئے گی۔ اس کے باوجود عوام منتظر ہیں کہ مرکز کیا رخ اختیار کرتا ہے ؟