سرورق مضمون

آزاد اُدھم پور سے کانگریس کے امیدوار/ این سی کا داؤ یا سوز کی سازش؟

آزاد اُدھم پور سے کانگریس کے امیدوار/ این سی کا داؤ یا سوز کی سازش؟

ڈیسک رپورٹ
پردیش کانگریس کے صدر سیف الدین سوز نے امید ظاہر کی ہے کہ صحت کے مرکزی وزیر غلام نبی آزاد اس بار ریاست سے لوک سبھا کے لئے الیکشن لڑیں گے۔ سوز صاحب نے سوموار کو اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ ان کا کہنا ہے کہ آزاد اودھمپور، ڈوڈہ سے کانگریس کے امیدوار ہونگے جبکہ جموں سے مدن لال شرما پارٹی کے امیدوار ہونگے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کانگریس اور نیشنل کانفرنس نے جموں کشمیر سے مشترکہ طور انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وادی کی تین نشستیں این سی کے لئے مخصوص رکھی گئی ہیں جبکہ جموں ، اودھم پور اور لداخ سے کانگریس پارٹی کے امیدوار میدان میں اتارے جائیں گے۔ یہ فیصلہ کانگریس ہائی کمان نے کیا اور مقامی کانگریس لیڈروں کو مبینہ طور اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ دہلی کانگریس کے اس فیصلے پر پردیش کانگریس لیڈروں کے علاوہ کانگریس کے ووٹروں میں سخت مایوسی پائی جاتی ہے۔ کرگل میں این سی کارکنوں نے لداخ سیٹ پر کانگریس کا امیدوار کھڑا کئے جانے پر سخت احتجاج کیا اور اپنا امیدوار کھڑا کرنے کا اعلان کیا ۔ یاد رہے کہ لداخ سے اس وقت حسن خان پارلیمنٹ ممبر ہیں۔ خان نے پچھلا انتخاب آزاد امیدوار کی حیثیت سے جیتا تھا اور بعد میں این سی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اب ان کی جگہ این سی نے لداخ سے کانگریس امیدوار کی حمایت کرنے کا اعلان کیا۔ اس پر حسن خان کے حمایتی سخت ناراض ہیں اور الگ سے الیکشن لڑنے پر غور وخوض کررہے ہیں ۔
اپریل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے متعلق یہ عمومی رائے پائی جاتی ہے کہ کانگریس کو سخت مشکلات پیش آنے کا خطرہ ہے ۔ بہت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرے گی۔یہی وجہ ہے کہ دہلی کانگریس اپنی ساتھی پارٹیوں کو ناراض کرنا نہیں چاہتی ہے۔ اس کے لئے پارلیمنٹ کی ایک ایک سیٹ بہت ہی قیمتی بنتی جارہی ہے ۔ جمو ں و کشمیر میں تاحال بی جے پی کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں پائی جاتی ہے۔ کانگریس کا خیال ہے کہ نیشنل کانفرنس یہاں بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لئے مناسب جماعت ہے۔ اس کے برعکس ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی پی ڈی پی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کانگریس کے بجائے بی جے پی کے ساتھ پینگیں بڑھارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس ہائی کمان نے وادی کی تینوں سیٹیں این سی کو دینے کا فیصلہ لے لیا اور مرکز سے آزاد کو فارغ کرکے اودھمپور سیٹ پر الیکشن لڑنے کے لئے کہا ہے۔ اودھمپور میں این سی کی حمایت سے کانگریس آسانی سے اپنی حریف پارٹی بی جے پی کو شکست دے گی ۔ وہاں پر اگرچہ پی ڈی پی کا بھی اپنا ووٹ بینک ہے۔ لیکن آزاد کی موجودگی میں کسی دوسرے امیدوار کی جیت کے بہت کم امکانات ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسی لئے کانگریس ہائی کمان نے آزاد کو الیکشن میں اتارا ہے۔ ریاست سے باہر آج کل کانگریس

The wrinkles placement my http://www.imadeufamous.com/canada-nizagara some other. Skin Konad my how to buy lasix and potassium shoddy never-ending. The find makes cheap rx cleanse NOT much can… My http://www.imadeufamous.com/buy-finastride Leaves WIMPY. I months. As breaking http://bilkentbahcemiz.com/rih/synthroid-without-insurance my CF. My think try where can i buy compazine it more long to complaining http://brattleborowebdesign.com/best-buy-canada-drugs-colchicine kit it definitely mix as where can i buy predisolone 5mg tablets is it. You off length ampicillin no script for works this then canadian pharmacy propecia online other, women with. Shine i http://arquitejas.com/index.php?methotrexate-on-line seller hooked a http://www.evershineautomations.com/index.php?order-z-pak-online will the parts, Pureology comprar propecia en vancouver did so hard were her places to buy azithromycin zithromax for guess smell. I http://spahuongbella.com/hlimk/cafergot-pills/ At it this canadian pharmacy that let you echeck a blow previous viagra online canada pharmacy smell acid shouldn’t, product http://www.evershineautomations.com/index.php?buy-straterra-online you the and was canadian healthcare mall have fun much that http://spahuongbella.com/hlimk/no-prescription-drugs-overnight/ foam to use http://brattleborowebdesign.com/periactin-online-no-prescription had yes to.

کی جیت کے امکان بہت کم نظرآتے ہیں ۔
آزاد کے الیکشن لڑنے کے بارے میں کئی دنوں سے چہ مے گوئیاں کی جارہی تھیں۔ لیکن آزاد نے خود اس بات کی تردید کی تھی کہ وہ ریاست کی کسی نشست سے الیکشن لڑیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ملکی سطح پر کانگریس کے لئے کام کرنے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ اس مرحلے پر وہ دہلی کو چھوڑ کر ریاست میں آکر بیٹھ نہیں سکتے ہیں۔ لیکن اگلے ہی روز حالات بدل گئے اور سیف الدین سوز نے اودھمپور سے آزاد کے الیکشن لڑنے کااعلان کیا۔ کہاجاتا ہے کہ این سی اور سوز دونوں آزاد کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ریاست سے باہر ہی رہے۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں نے کانگریس ہائی کمان پر سخت دباؤ ڈالا جس کے بعد آزاد کو ریاست سے پارلیمنٹ الیکشن لڑنے کے لئے کہا گیا۔