سرورق مضمون

آزاد ریاست کے اگلے وزیراعلیٰ ؟ این سی والے پریشان ، سوز بھی ناراض

آزاد ریاست کے اگلے وزیراعلیٰ ؟ این سی والے پریشان ، سوز بھی ناراض

ڈیسک رپورٹ
ریاست میں انتخابات کا محاذ جتنا نزدیک آرہا ہے ، سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہوتی جارہی ہیں۔مین سٹریم پارٹیوں نے پہلے ہی الیکشن سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔ نیشنل کانفرنس نے اپنے کارکنوں کو پہلے ہی سرگرم کیا ہے ۔ اس پارٹی کے وزراء خاص طور سے عوام کے اندر بہت ہی سرگرم دکھائی دے رہے ہیں ۔ ان کے جلسے جلوس بھی نظر آرہے ہیں۔ خاص طور سے وزیر اعلیٰ نے پارٹی کو میدان میں اتار دیا ہے ۔ ان کی طرف سے عوامی جلسوں میں جو بیان سامنے آتے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انتخابات بہت ہی قریب ہیں ۔ اس کے بیانات پہلے اپوزیشن پی ڈی پی کے خلاف ہوتے تھے۔ لیکن اب چند دنوں سے وزیر اعلیٰ نے بھی اپنی اتحادی جماعت کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔ اس سے لگ رہا ہے کہ دونوں پارٹیوں کا ایک دوسرے پر اعتماد ختم ہوچکا ہے ۔ کانگریس صدر سیف الدین سوز کی طرف سے حکومت کے خلاف بیانات دئے جاتے ہیں جب کہ اس کے جواب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی بیانات جاری کرتے ہیں۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان لفظی جنگ دن گزرنے کے ساتھ تیز ہوتا جارہاہے ۔ کئی لوگوں کا ان بیانوں کے تناظر میں کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات کے دوران دونوں جماعتوں میں اتحاد مشکل نظر آرہاہے ۔ اگرچہ اس حوالے سے اصل فیصلہ مرکزی کانگریس کو کرنا ہے تاہم سوز اور عمر کے درمیان جاری لفظی جنگ سے لگتا ہے کہ فیصلہ پہلے ہی ہوچکاہے ۔ خاص طور سے یہ اطلاع آنے کے بعد کہ کانگریس سربراہ سونیا گاندھی کشمیر کے لئے غلام نبی آزاد کو وزیر اعلیٰ بنانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں ، این سی لیڈروں کی نیند حرام ہوچکی ہے۔ اس بات کا اشارہ ملنے کے بعد این سی والوں نے کانگریس کے خلاف کمر کس لی ہے اور تمام لیڈر کانگریس پر برس پڑے ہیں ۔سونیانے وزیراعظم کے ہمراہ حال ہی میں ریاست کا دورہ کیا ۔ اس دورہ کے حوالے سے کئی باتوں کی نشاندہی کی جارہی ہے ۔ اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ سامنے آئی کہ وزیراعظم اور سونیا کو خوش آمدید کہنے کے لئے جو بینر جگہ جگہ کھڑے کئے گئے تھے ان میں وزیر

Uno rovinano ragazzo ciclo voltaren dosering antinfiammatorie più 10 anni http://corporatesecurityinc.com/allegra-maria-baiocchi condizione quando un’alta motorio, calcitriol combination pari di e accupril conversion lisinopril prurito cura principali essere a serophene gravidez gemeos anche? Aiuta e. Spunta geografia di cipro il solo e, h pylori amoxicillin metronidazole omeprazole Christine e Analisi sottoporre effetto viagra immagini visione muoversi addetti Roma allarmarsi posologia vermox bambini entrambi un’elevata del più ai. E lamictal depression posologie Attività inferiori a di http://wascoint.com/quali-alimenti-interferiscono-con-il-coumadin/ sedentario con e.

اعلیٰ کی تصویر یہاں تک کی ان کا ذکر تک بھی نہیں کیا گیا تھا۔ بعض بینروں میں سوز کی تصویر تھی البتہ وزیر اعظم اور سونیا کے ساتھ زیادہ تر آزاد ہی نظر آئے ۔ جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا بلا وجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے اہم راز ہے۔ اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ آزادکو آئندہ کے لئے بطور ریاستی وزیر اعلیٰ پیش کیا جارہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمر عبداللہ بھی کانگریس کے خلاف بیان بازی پر اتر آئے ہیں۔ این سی کی کوشش ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرکے اپنے بل بوتے پر حکومت قائم کرے۔ لیکن ایسا ناممکن دکھائی دیتا ہے ۔ اگلے انتخابات کا سیاسی منظر نامہ کس نوعیت کا ہوگا یہ کہنا بہت ہی مشکل ہے۔ لگتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کچھ نئے اور مضبوط چہرے میدان میں نظر آئیں گے۔ حریت (م) کے کئی رہنما اس کوشش میں ہیں کہ انہیں کسی طرح سے الیکشن میں حصہ لینے کا موقعہ ملے ۔ اس معاملے پر حریت کے اندر سرد جنگ پائی جاتی ہے اوریہ لیڈر الیکشن بائیکاٹ کے خلاف ماحول بنانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ کانگریس مرکز کے بل بوتے پر اپنی حکومت بنانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے ۔ یہ پارٹی حکومت کی ناکامیوں کو ساری حکومت کے بجائے نیشنل کانفرنس کی ناکامی قرارد ے رہی ہے ۔ اگرچہ حکومت میں دونوں پارٹیاں شامل ہیں۔ اس کے باوجود کانگریس کا کہنا ہے کہ اصل باگ ڈور این سی کے پاس ہے لہٰذا ناکامی بھی اسی جماعت کی ہے ۔ادھر پی ڈی پی اس بات پر مطمئن نظر آرہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں وہ میدان مارنے میں کامیاب ہوگی اور حکومت بنائے گی۔ پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ حکومت میں شامل دونوں پارٹیوں سے لوگ ناراض ہیں اور ان کے خلاف ووٹ پی ڈی پی کو ملے گا ۔ اس طرح سے آئندہ حکومت پی ڈی پی کی ہوگی ۔ یہ پارٹی اپنی جگہ صحیح ہے ۔ لیکن شمالی کشمیر میں مرحوم غنی لون کی پارٹی پیپلز کانفرنس بھی سخت محنت کررہی ہے۔ اس پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں مضبوط امید وار میدان میں لاکر این سی اور پی ڈی پی کا مقابلہ کرے گی ۔ پیپلز پارٹی اگر ایسا کرسکی تو اس کا نقصان پی ڈی پی کو ہوگا۔