اداریہ

آنے والے چناؤ کے کرشمے

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ بلے ہی آج کل عوام کے دل جیتنے کے لئے ہر قسم کے اقدام کر رہے ہیں جس سے وزیراعلیٰ کو کم از کم اپنے دل کو تسلی مل رہی ہو گی کہ عوام بھی پھر بدلے میں وزیراعلیٰ اور ان کی پارٹی نیشنل کانفرنس کے تئیں ہمدردی رکھیں گے ، شاید ناممکن نظر آرہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ نے اب 2010 میں مارے گئے نوجوانوں کی تحقیقات کرانے کا حکم صادر کیا۔ تاہم عوام اسے اور بھی زیادہ ناراض ہو سکتے ہیں کیونکہ کئی حلقے وزیراعلیٰ پر تنقید کرتے ہیں کہ اب عمر عبداللہ کو اتنے سالوں کے بعد 2010 کے ایجی ٹیشن میں مارے گئے نوجوان کی یاد کیوں آئی۔ اس کی کیا خاص وجہ ہے؟ کیا وزیراعلیٰ 2010 میں ہی تحقیقات کرانے کا حکم نہیں دے سکتے؟ ہاں 2010 کے بعد بھی اتنے سال گذر گئے کیا کم از کم آج سے دوسال قبل ایسے احکامات صادر نہیں کئے جاسکتے؟ اگر کیے جاسکتے تو کیوں نہیں کئے؟اور اب اگر 2014 چل رہا ہے تو آج کیوں ؟ کیونکہ اس کا خاص وجہ یہ ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات کو مد نظر رکھ کر ایسے فیصلے لئے جاتے ہیں اور وہ بھی اس موقعے پر جب نیشنل کانفرنس نے لوک سبھا چناؤ میں اچھی طرح سے شکست دیکھی اور اب آنے والے الیکشن یعنی اسمبلی الیکشن کے لئے عوام میں اپنے لئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر شاید عوام اب بیدار ہیں اور صحیح اور غلط کا سوچ رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ملازمین کی سروس میں دو سال کا اضافہ کرنا، سرکاری سیکٹر میں ملازمت کے حصول کیلئے دوسال کی چھوٹ دینا، میڈیکل فیکلٹی اور پروفیسروں کی معیاد ملازمت اور دو سال بڑھانا آنے والے اسمبلی انتخابات کا کرشمہ نہیں ہے؟ اور تو اور اب جبکہ چرچہ ہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ میں پھنسے لوگوں کیلئے راحت، سنگ بازوں کو عام معافی۔ بجلی فیس میں کمی۔ راشن کوٹا میں اضافہ اور بھی کیا کیا تحفے دئے عوام کو دئے جائینگے اور کیا کیا عوام کے لئے کام کئے جائینگے اب ضرور دیکھنے کو ملیں گے۔ البتہ مخلوط سرکار کی طرف سے جو سب سے اہم فیصلہ ہوا ہے وہ سن 2010 کے ایجی ٹیشن کے دوران مارے گئے معصوم طالب علموں کے قتل کے بارے میں تحقیقات کے بارے میں فیصلہ لینے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ بھی آنے والے اسمبلی انتخابات کا کرشمہ ہی ہے۔ ہاں نیشنل کانفرنس اور ان کے رہنماؤں کو عوام کے سامنے یہ کہنے کا موقعہ ملے گا کہ ہم نے ان معصوم جانوں کے قتل کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مارے گئے جوان نہ اب تحقیقات کرانے سے زندہ ہوں گے اور نہ وہ گھروں کو واپس لوٹیں گے اور نہ اپنے والدین کا کماؤ بن سکیں گے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ پارٹی رہنماؤں نے اس قسم کی ہوا ضرور کھڑا کی تاکہ عوام میں ایک لہر سی چلیں کہ عمر عبداللہ سرکار نے ایسے بڑے فیصلے لئے۔ تاہم عوامی حلقے اس سے خالص اور خالص آنے والے اسمبلی انتخابات کا کرشمہ سے ہی تعبیر کرتے ہیں۔ہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے اقدامات محض دھوکہ اور فریب پر مبنی ہے جو آج تک سرکاریں اپنے اقتدار میں دیتی آئی ہے اور پھر اقتدار بھی جاتا مگر عوام سے کئے گئے وعدے پورے بھی نہیں ہوتے۔