اداریہ

اب حساب کون دےگا؟

جب سابق ایس ایس پی سرینگر عاشق بخاری نے اسمبلی انتخابات 2014 میں پی ڈی پی کے ایک جلسے میں شرکت کی۔ شرکت کرنے کا مقصد کیا تھا یہ تو پی ڈی پی اور عاشق بخاری جانتے ہیں البتہ اس وقت ایک عام سی افواہ پھیل گئی کہ عاشق بخاری نے پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی۔ اس طرح سے عوام میں ایک لہر سی پیدا ہو گئی جس پر کئی حلقے پی ڈی پی کے اس فیصلے پر ناراض ہو گئے۔ البتہ کہتے ہیں ناــسیاست ممکنات کی کھیل ہے۔ عوام کی نہج دیکھ کراورعاشق بخاری کی پی ڈی پی میں شمولیت گھاٹے کا سودا جان کر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے یوٹرن لے لی۔ اس وقت محبوبہ مفتی کو بالآخر عاشق بخاری کے پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کرنے پر ایک بیان جاری کرنا پڑا جس میں پی ڈی پی صدر نے کہا کہ قاتلوں کے لئے پی ڈی پی میں جگہ نہیں، عاشق بخاری نیشنل کانفرنس کا پرانا ساتھی ہے۔ محبوبہ مفتی نے اس وقت یہ بھی کہا کہ 2010 کی عوامی ایجی ٹیشن کے دوران نیشنل کانفرنس نے 120 نوجوانوں کی خون سے ہولی کھیل کر یہ بات ثابت کر دیا کہ اقتدارکی لالچ میں نیشنل کانفرنس کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس طرح سے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اس وقت جیسے تیسے عاشق بخاری شور ش سے نجات پایا۔
ادھر اس وقت کئی حلقوںمیں زبردست مایوسی ہوئی جب سابق ایس ایس پی سرینگر عاشق بخاری کا ایک تازہ بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مسرت عالم کو زندہ گرفتار کرنے پر وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے انہیں پچیس لاکھ روپے کا انعام دیا، ان کے مطابق وزیراعلیٰ نے مسرت عالم کو زندہ گرفتار کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس کا مطلب اگر مسرت عالم کی لاش پیش کی جاتی تو اور زیادہ انعام ملتا۔ بخاری کے بقول مسرت عالم کی گرفتاری پر سات دیگر اہلکاروں کو بھی قبل از وقت ترقیاں دی گئیں۔ بخاری کے بیان پر کئی حلقوں کا یہ بھی سوال ہے کہ اگر ایک گرفتاری پر پچیس لاکھ روپے کا انعام اور سات دیگر اہلکاروں کیلئے قبل از وقت ترقی ہے تو 125 طالب علموں اور معصوم بے گناہ نوجوانوں کے قتل کا انعام کس نے کتنا دیا؟ کس نے کس کو دیا ہوگا ؟ اس کا اب حساب کون دے سکتا ہے ؟اس بات پر طرح طرح کی چہ میگوئیاں کی جا رہی ہے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے انعام اور ترقیوں کی لالچ میں ایسے اہلکار اور افسران آج بھی بے گناہ نوجوانوں کو قتل کرنے کے طاق میں ہوتے ہوں گے، جس کا سابق ایس ایس پی نے اشارہ دیا۔
مگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس نے ملکر فوج فورسز اور پولیس کے علاوہ اخوانیوں اور ٹاسک فورسز سے جو قتل و غارت کرایا، لوٹ مار کرائی، نوجوانوں کی نس کشی کرائی، خواتین کی بے حرمتی کرائی۔ اس کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کے بجائے وردی پوشوں پر ڈالا جا رہا ہے۔2008 سے لے کر آج تک جو یہاں کے حکمرانوں نے خاص کر 2010 ء میں جو معصوم طالب علموں کا وردی پوشوں کے ہاتھوں قتل کروایا۔ اس کی کمان کس واردی پوش کے ہاتھوں میں سونپی گئی یہ الگ بات ہے، البتہ حکمرانوں نے اختیارات دے کر ان معصوم طالب علموں کے ساتھ دیگر جوانوں کا فرضی مڈبھیڑ میں قتل کروایا آج اس کا الزام بھی وردی پوشوں کے سرتھوپا جا رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ عاشق بخاری جیسے پولیس آفیسر پر الزام ریاست کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے لگا یاتھا۔ اس طرح سابق وزیراعلیٰ خود کو بچا کر قتل عام کا ذمہ دار عاشق بخاری کو ٹھہرا رہے ہیں۔