اداریہ

اب گرفتاری کس کے حکم پر؟

حریت(گ) کے چیرمین سید علی شاہ گیلانی دلی سے سرینگر واپس کیا آئے کہ یہاں سرینگر میں ان کی رہائش گاہ یعنی حیدر پورہ میں لوگوں کی جم غفیر موجود تھی جن میں علیحدگی پسند رہنما مسرت عالم بٹ بھی تھے، عام لوگوں کے ساتھ ساتھ علیحدگی پسند لیڈر مسرت عالم بٹ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے حیدر پورہ میں سید علی شاہ گیلانی کی سرینگر آمد پر ایک جلسے کا اہتمام کیا تھا اور اس جلسے میں حسب معمول پاکستان کے حق میں نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ پاکستانی پرچم بھی لہرایا گیا جو مین سٹریم جماعتوں کو راس نہ آیا اور اس پر ریاست میں بر سر اقتدار جماعت کے سربراہ یعنی وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کو مرکز کی طرف سے جواب طلبی کی گئی۔ ملک کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مفتی محمدسعید کو فون پر بات کی اور حیدر پورہ جلسے کے بارے میں وزیراعلیٰ کو سمجھایا۔ ایک طرف وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مفتی محمد سعید کی مسرت عالم کی قیادت میں حیدر پورہ سرینگر میں جلسہ منعقد کرانے پرپرسش کی تو دوسری طرف وزیراعلیٰ مفتی محمدسعید نے مسرت عالم کے جلسے کی سربراہی کرنے پر میڈیا کو بتایا کہ قانون اپنا کام کرے گا، مطلب وزیراعلیٰ نے گول مول میں جواب دیا ، جس پر کئی حلقوں کی طرف سے چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔
یہاں یہ بات عیاں ہو رہی ہے کہ گذشتہ مہینے میںجب علیحدگی پسند رہنما مسرت عالم کی رہائی عمل میں لائی گئی تو اس کا کریڈت براہ راست پی ڈی پی نے لینے کی کوشش کی۔ جس پر پارٹی کی طرف سے ایسے بیان بھی آئے جن سے پارٹی لیڈران اس مخمصے میں تھے کہ مسرت عالم کی رہائی کا کریڈٹ لینے سے آنے والے برسوں میں پارٹی کو فائدہ پہنچنے والا ہے۔ پارٹی نے یہ خبر اس طرح پیش کی جسے پی ڈی پی نے ہی مسرت عالم کی رہائی کے احکامات صادر کئے۔ ہاں یہ بات اگر صحیح بھی تھی کہ پی ڈی پی قیدیوں کی رہائی کے حق میں ہے تو انہیں پہلے ان قیدیوں کی رہائی عمل میں لانی چاہیے جو غیر معروف تھے انہیں پہلے ہی مسرت عالم کو جو کہ ایک معروف علیحدگی پسند رہنما مانے جاتے ہیں کو رہا کرانے کے احکامات صادر نہیں کرانے چاہیے۔ ہاں پارٹی کو عالم کی رہائی کا کریڈٹ لینے سے فائدہ نظر آیا مگر کہتے ہیں اپنی نیت خود کو درکار آتی ہے وہی اب پی ڈی پی کے لئے بن گیا، یہ ایک سوال کھڑا ہو گیا کہ اگر مسرت عالم کی پی ڈی پی نے رہائی عمل میں لائی تو کیا آج حسب معمول ایک جلسہ منعقد کرانے پر مسرت عالم کو گرفتار کس نے کرایا، کس کے حکم پر مسرت عالم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ پی ڈی پی کے کہنے پر یا مرکز نے خود دلی سے احکامات صادر کئے، ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب پی ڈی پی کو مستقبل میں مل جانے کا خدشہ ہے۔