نقطہ نظر

اجتماعیت کا انہدام

اجتماعیت کا انہدام

کلدیپ نائر
مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ لوک سبھا کے انتخابات کی پولنگ کے موقع پر بابری مسجد کے انہدام کے پس پردہ سازش کا انکشاف کرنے کی آخر کیا وجہ تھی اور اس انکشاف کا بھارتیہ جنتا پارٹی کو کیا فائدہ ہو گا جس نے تعمیر و ترقی کا دعویٰ ترک کر کے اب کھلم کھلا ہندو نوازی کا اپنا اصل رنگ اختیار کر لیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 370 پر بی جے پی کا موقف اٹل ہے جس کے تحت ریاست جموں کشمیر کا بھارت سے الحاق عمل میں لایا گیا تھا۔دوسری بڑی پارٹی کانگریس بھی ماحول کو فرقہ واریت میں تبدیل کرنے سے پیچھے نہیں ہٹی۔ اس نے شاہی مسجد کے امام بخاری اور دیگر مسلم علماء کو اپنی قطار میں کھڑا کر لیا ہے تاہم میرے نزدیک یہ بات بہت قابل تعریف ہے کہ انھوں نے مسجد کے انہدام کے منصوبے پر روشنی ڈالنے کے لیے گزشتہ تین سالوں میں کی جانیوالی تحقیقات کے اجزا کو نہایت مہارت سے اکٹھا کیا ہے۔
خبروں میں جو تفصیلات شایع کی گئیں ان میں بابری مسجد کے انہدام کو باقاعدہ منصوبہ بندی کا عمل قرار دیا گیا ہے۔منصوبہ بندی بڑی مہارت سے کی گئی‘ ریہرسل کی گئی اور پھر اسے نافذ العمل کردیا گیا۔ اس سے جسٹس ایم ایس لائبرہن (Liberhan) کی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جو انھوں نے مسجد کے انہدام پر اپنی رپورٹ میں لکھی تھی۔ انھوں نے ایک پریس انٹرویو میں اس بات کا اعادہ کیا ہے: ’’اس بات میں اب کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا کہ تمام واقعات کسی وقتی اشتعال کا ہر گز نتیجہ نہیں تھے بلکہ ان کی باقاعدہ طور پرمنصوبہ بندی کی گئی تھی۔ لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ وہاں موجود لوگوں نے اچانک جذبات سے مغلوب ہو کر ایسا کیا تھا۔ نریندر مودی ایل کے ایڈوانی کی رتھ یاترا کا ایک حصہ تھے۔ جو کہ وہ رام مندر کی حمایت میں کر رہے تھے‘‘۔
جس بات کی مجھے تکلیف ہے وہ یہ حقیقت کہ اٹل بہاری واجپائی اور ایڈوانی دونوں مسجد کے مجوزہ انہدام سے پوری طرح باخبر تھے۔ ان کو اس منصوبے کا بخوبی علم تھا جس پر عمل درآمد کر کے مسجد کو منہدم کیا گیا۔ شروع میں تو میں نے واجپائی کی اس دلیل کو پر خلوص طور پر تسلیم کر لیا کہ مسجد کا انہدام مجمع کے دفعتاً بھڑک اٹھنے والے جذبات کا نتیجہ تھا جس کے پیچھے پہلے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی۔ جب ایڈوانی نے اپنی اخلاقی ذمے داری کو تسلیم کرتے ہوئے لوک سبھا سے استعفیٰ دیدیا تو میں نے دل سے قبول کر لیا کہ وہ سچ بول رہا تھا لیکن میرے ساتھ دھوکا ہو گیا تھا۔ کیونکہ جب اس نے 24 گھنٹوں کے اندر اندر ہی استعفی واپس لے لیا تو اس سے اس کا دوغلا پن کھل کر سامنے آ گیا۔ اور حیرت ہے کہ واجپائی ابھی تک اپنے اس جھوٹ پر قائم ہے کہ مسجد کا انہدام ہجوم کے بے ساختہ ردعمل کا نتیجہ تھا۔
یہ بات درست نہیں کیونکہ 5 لاکھ کے لگ بھگ رام سیوک ملک کے مختلف حصوں سے اکٹھے کیے گئے تھے بالخصوص 6 دسمبر 1992ء کو مہاراشٹر سے بھی بہت سے کارکن آئے۔جسٹس لائبرھن کی رپورٹ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات پر مبنی ہے جس کے مکمل ہونے میں22 سال کا عرصہ لگا ہے۔ مزید برآں اس میں بعض عوامی شخصیات کے بیانات بھی شامل ہیں جس سے اس سازش کا پردہ اٹھتا ہے۔بی جے پی کے دیگر لیڈر جن میں سے بعض مجھے ٹیلی ویژن کے مختلف چینلز پر نظر آتے ہیں وہ اپنی دروغ گوئی سے اس گناہ کی شدت میں کوئی کمی نہیں کر سکتے خواہ وہ سارے الزامات کا رخ بیشک کانگریس کی کرپشن کے سودوں کی طرف موڑنے کی کوشش کرتے رہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سنگھ پریوار کی ان مذموم سرگرمیوں کے باوجود انھیں چھٹکارا مل جائے گا۔
مجھے شروع ہی سے پتہ تھا کہ نرسمہا راؤ جو کہ اس وقت کانگریس کے وزیر اعظم تھے ان کی تمام دعائیں بابری مسجد کے انہدام کے ساتھ ہیں۔ نرسمہا راؤ نے اس علاقے میں پہلے ہی فوج تعینات کر رکھی تھی جسے لازمی استعمال کیا جانا تھا کیونکہ سپریم کورٹ نے ’’اسٹیٹس کو‘‘ برقرار رکھنے کا حکم دے رکھا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ بابری مسجد کا تحفظ کیا جائے۔ جب متعصب کارکنوں نے مسجد کے انہدام کا کام شروع کیا تو کوئی ایک فوجی بھی مسجد کی حفاظت کے لیے آگے نہیں بڑھا حتیٰ کہ مسجد کے ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ٹینک بھی وہاں کھڑے نہیں کیے گئے سوشلسٹ لیڈر مدھو لیمائے نے جو مجھے بتایا تھا اس کے مطابق نرسمہا راؤ کے اس میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت موجود تھے۔ لیمائے نے کہا جب انہدام شروع ہوا تو راؤ پْوجا کرنے بیٹھ گیا۔ اس کے ساتھیوں کی طرف سے اس کو بار بار بتانے کی کوشش کی کہ وہ مسجد گرانے والوں کے خلاف ایکشن کا حکم دیں لیکن اس نے سختی سے ہدایت کر رکھی تھی کہ اسے کسی صورت میں بھی مخل نہ کیا جائے۔
اور جب مسجد منہدم ہو گئی تو راؤ کے معاون نے اس کے کان میں سرگوشی کی کہ کام تمام ہو گیا ہے۔ راؤ نے یہ سنتے ہی فوراً پوجا ختم کر دی۔ مسجد کے انہدام کے بعد فرقہ ورانہ فسادات شروع ہو گئے‘ خاص طور پر ممبئی میں۔ راؤ نے بعض سینئر صحافیوں کو دعوت دی تا کہ میڈیا صورت حال کو معمول پر رکھنے میں مدد کرے۔ میں بھی بلائے جانیوالوں میں شامل تھا۔ میں نے راؤ سے پوچھا کہ وہاں راتوں رات ایک چھوٹا سا مندر کیسے تعمیر ہو گیا جب کہ مرکزی حکومت نے بی جے پی کی ریاستی حکومت کو برطرف کر کے مقامی انتظامیہ کو خود سنبھال رکھا تھا۔ ان کا جواب تھا کہ تب تو وہاں مندر مدتوں تک قائم نہیں ہو سکتا تھا۔ مسجد کے انہدام کو 22 سال گزر چکے ہیں۔ راؤ جب اقتدار میں تھے تو ان سے میری اکثر ملاقات ہوتی تھی جس میں ہر بار ان سے یقین دہائیاں لیتا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا لیکن میرے بار بار ان کو لکھنے کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔
وہ چھوٹا سا مندر اب بھی وہاں کھڑا ہے لیکن مسلمانوں کے لیے اس کے برابر میں مسجد تعمیر کرنے کی اب کوئی بات نہیں ہو رہی۔ جو اس مقام کو رام جنم بھومی کہتے ہیں اور اس بارے میں دلیلیں بھی دیتے ہیں کہ یہاں بابری مسجد نہیں تھی لیکن جب یہاں لاکھوں کی تعداد میں رام سیوک جمع ہو گئے حتیٰ کہ گاندھی جی کے پیروکاروں کو زدوکوب بھی کیا گیا جو تشدد کی کارروائی کی مخالفت کر رہے تھے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی تھی کہ اکثریتی آبادی اگر پرامن طور پر کوئی کام نہ کر سکے تو وہ طاقت استعمال کر کے کامیابی حاصل کرتی ہے۔دراصل بابری مسجد کا انہدام ہمارے ملک کے اجتماعیت کے دعوے کا ابطال ہے۔ اس واقعے کے بعد مسلم کمیونٹی بھی انتہا پسندانہ کارروائیوں کی طرف راغب ہوئی۔ سیکولر معاشرے پر ان کا اعتماد متزلزل ہو گیا اور اب وہ دہشتگردوں کے خلاف بھی کوئی احتجاج نہیں کرتے۔اگر مجھے مسلمانوں میں عسکریت پسندی کی بنیاد ڈھونڈنے کے لیے کیا جائے تو میں بابری مسجد کے انہدام کو اس کی وجہ قرار دوں گا۔
یہ کمیونٹی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی ہے بالخصوص مودی کے وزیر اعظم بننے کے امکانات کے باعث۔ میں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ بھارت صدیوں ایک کثیر المذہبی معاشرہ ہے اور معاشرے نے مل جل کر رہنا سیکھ لیا ہے۔مودی حقیقت کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انھیں ہر طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے تو ملک کی یکجہتی داؤ پر لگ جائے گی۔ کاش بی جے پی کے منشور میں کسی ایک جگہ بھی سیکولر ازم کے لفظ کا استعمال کیا گیا ہوتا۔ اگرچہ پارٹی کی طرف راغب ہونے والے نئے لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ چونکہ یہ پارٹی آئین کے تحت حلف اٹھاتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسے سیکولر ازم پر اعتماد ہے۔ کاش کہ ایسا ہی ہو مگر بابری مسجد کا انہدام بھی تو آئین پر حلف کے باوجود عمل میں آیا ہے۔