اداریہ

اختیارات کا جائز استعمال

لوگوں کی زندگی سماجی ، سیاسی ، اقتصادی ، تہذیبی اور مذہبی اعتبار سے بہتر اور پُر امن بنانے کیلئے حکومت بنائی جاتی ہے جو عوام کے مجموعی مفادات کی رکھوالی کرتی ہے ۔ حکومت ہر حال میں لوگوں کی بھلائی کے لئے ہی ہوا کرتی ہے۔ اگر چہ سرکار چلانے والے کار ندے آسمان سے اُترے فرشتے نہیں ہوتے ہیں لیکن عوام کو راحت پہنچانے کیلئے تعینات یہ افسر اور دیگر سرکاری اہلکار جنگلوں سے بھی نہیں آتے ہیں بلکہ وہ حکمت اور علم کے نور سے مالا مال اور پرکھائی اور کسوٹی کے مختلف مرحلوں سے نکال کر تعینات کئے جاتے ہیں ۔ اُن پر بھروسہ اور اعتماد کیا جاتا ہے ۔ تبھی تو وہ قوم کے امانتدار ، خدمتگار اور پہر ے دار بنائے جاتے ہیں ۔ حالانکہ اسکے عوض وہ اچھی خاصی تنخواہ پاتے ہیں لیکن افسوس کہ اس کے باوجود کچھ سرکاری اہلکار عوام کو دو دو ہاتھوں سے لوٹتے ہیں ۔کیوں جائز کاموں کے معاملا ت میں غیر ضروری دفتری طوالت اور ٹال مٹول کرکے رشوت دینے کیلئے لوگوں کو مجبور کرتے ہیں ۔ سرکار کی طرف سے فلاحی سکیموں پر خرچ ہونے والا روپیہ مخصوص اور چال باز افراد کی جیبوں میں ہی کیوں چلا جاتا ہے ۔ نقلی اور فراڈ بِلوں کے ذریعے سرکاری رقومات کا کیوں خردبرد کیاجاتا ہے ۔ نقلی دوائیاں سپلائی کرکے لوگوں کی زندگی کے ساتھ کیوں کھیلا جاتا ہے ۔ لاکھوں روپے رشوت لے کر کیوں نقلی ڈاکٹر بنائے جاتے ہیں اور ذہین اور محنتی طلباء کے ارمانوں کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ ایسے کئی عہدیدار اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ کیوں اُٹھاتے ہیں کیوں؟ آخر اُنہیں اس بات کا احساس کیوں نہیں ہے؟ لہٰذا حق یہ ہے کہ ہر چھوٹے بڑے عہدیدار کو چاہئے کہ وہ اپنے اختیارات کا جائز استعمال کرکے عوام کے حقوق کی قدر اور رکھوالی کرے ۔