اداریہ

استحصالی لوگوں کیلئے پریشانیاں

ریاست کا عوام یہ بات بھول گیا ہے کہ یہاں حکومت بننے والی ہے جس کی سربراہی پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید کرنے والے ہیں۔ عوام نے تقریباً اس بات کو اب ذہن سے نکال لیا ہوگا کیونکہ اب بہت دن ہو گئے ریاست میں الیکشن کو ہوئے، جس میں پی ڈی پی سب سے بڑی پارٹی کے طور28 نشستوں کے ساتھ ریاست میں حکومت بنانے کی دعویدار پارٹی کے طور سامنے اُبھر کر آئی، اس کے بعد بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ ہی حکومت بنانے کا اشارہ دیا تھا تاہم عوام اس بات پر حیران ہے کہ 23 دسمبر2014 کو اگر چہ ریاستی اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آئے، جس کے بعد پی ڈی پی کو فوراً حکومت تشکیل دینی تھی مگر سامنے دلی کے اسمبلی انتخابات آئے جس پر بی جے پی کو حکومت بنانے میں مصلحت آئی تھی ، اس کے بعد جنوری کامہینہ بھی گذر گیا اور فروری میں دلی میں انتخابات بھی ہوئے اور نتائج بھی سامنے آگئے یہاں تک کہ دلی میں حکومت بھی بن گئی ۔ مگر ادھر ریاست میں ابھی بھی حکومت نہیں بن رہی ہے جس پر کئی حلقے پریشان نظر آرہے ہیں۔ خاص کر وہ حلقے جو استحصال کرنے کے طاق میں بیٹھے ہیں۔ عام لوگوں کے لئے گورنر راج ہی بہتر ہے کیونکہ اُنہیں اب بھی محنت کرنی اور سیول حکومت بننے کے بعد بھی محنت ہی کرنی ہیں۔ عام لوگوں کو گورنر راج نہ سیول حکومت سے کوئی فرق پڑنے والی ہے۔
ایک طرف الیکشن کے دوران پی ڈی پی نے عوامی مفاد کے بے شمار وعدے کئے ہیں دوسری طرف ریاست میں خاص کر مودی لہر کوروکنے کے لئے عوام سے کہا گیا ہے اتنا ہی نہیں بلکہ تمام ریاست دشمن پارٹیوں کے خلاف ووٹ دینے کی بات بھی کی گئی۔ ان باتوں کو بھول کر پی ڈی پی نے  بی جے پی کے ساتھ ہی ریاست میں حکومت بنانے کا سوچ لیا۔ عوامی حلقوں کا ماننا ہے پی ڈی پی پہلے سے ہی بی جے پی کے تابعدار تھی اور پارٹی کو بھاجپا کے ساتھ اول سے ہی اس طرح کا رشتہ قائم تھا۔ اب جبکہ عین وقت پر بی جے پی کو دلی میں اسمبلی چنائو سامنے آئے اور پارٹی نے جموں وکشمیر میں حکومت بنانا موخر کر دیا اور دلی کے چنائو نتائج میں بی جے پی کو زبردست ہار ہوئی۔ ادھر پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید نے دلی میں بھاجپا کی شکست دیکھ کر بھائو کھانا شروع کیا حالانکہ بی جے پی اور پی ڈی پی کو حکومت بنانا پہلے سے ہی طے تھا۔ تاہم پارٹی نے عوام میں ساکھ بچانے کے لئے حکومت بنانے میں طول دیا جس کی پارٹی زبردست قابلیت رکھتی ہے۔ مگر عوام اب بے وقوف نہیں بن سکتی ہے۔ اب مفتی محمد سعید کا کہنا کہ پارٹی عوامی منڈیٹ کا سودا نہیں کرے گی اور نہ کسی بھی حساس معاملے پر سمجھوتہ کرے گی، بلکہ حکومت ہند کو پاکستان اور حریت کانفرنس کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرنے کی پہل کرے گی۔ مفتی سعید کا یہ کہنا کہ بی جے پی کو اگر پی ڈی پی کے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں ہے تو انہیں کسی اور پارٹی کے ساتھ ریاست میں حکومت تشکیل دینی چاہیے۔ مفتی محمد سعید وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے کا طلبگار بھی نہیں۔ اور نہ ریاست جموں وکشمیر میں علاقائی یا مذہبی بنیاد پر حکومت بنانا چاہتا ہے۔
ان باتوں کا اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو پی ڈی پی نے کب کا عوامی منڈیٹ کا سودا کیا ہے اور بی جے پی کو اب کیا نقطہ نظر سے اتفاق نہیں ہوگا یہ تو پہلے سے ہی طے تھا ، عوام نہیں جانتا ہے کہ پہلے راجیہ سبھا نشستوں کے لئے پارٹی نے بی جے پی کے ساتھ سمجھوتہ کیا اور اب کونسل کے نشستوں کیلئے۔ رہی بات مفتی محمد سعید کے وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے کا …تو اس وقت بی جے پی کے ساتھ اور کیا مسئلہ ہے بغیر وزیراعلیٰ کے؟
عوام کو بے وقف بنانے کے لئے ایسی باتیں کی جاتی ہے جس سے عوام کو پھر لگے پی ڈی پی مین سٹریم پارٹی نہیں بلکہ حریت کانفرنس کا ایک دھڑا ہے جس طرح کی بولیاں مفتی محمد سعید بولتے ہیں۔ اندازہ تو یہی کیا جا سکتا ہے مگر ادھر پارٹی بھی یہ جانتی ہے کہ اُنہیں آج نہیں تو کل عوام کے سامنے پھر جانا ہے  اسی لئے پارٹی سرپرست یہ بھی جانتے ہیں کہ پی ڈی پی کی ساکھ کچھ حد تک متاثر ہوئی ہے اب اس کو بچانے کے لئے ایسے بیانات دیتے ہیں جس سے عوام کو لگے کہ یہ پارٹی مین سٹریم پارٹی نہیں بلکہ حریت کا کھڑا کیا ہوا ایک دھڑا ہے مگر شاید اب یہ خیال پارٹی کو دل سے نکلانا چاہیے کیونکہ عوام اب پرکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اوراگر عوام کا ضمیر آئندہ الیکشن تک جگتا رہا توپارٹی کو آئندہ الیکشن میں شکست کا منہ دیکھنا ہوگا۔
پی ڈی پی اب اگر یہ بھی کوشش کریں کہ عام آدی پارٹی کی طرح ایک کھیل کھیلا جائے وہ بھی اب پارٹی کے مفاد میں نہیں ہوگا کیونکہ عوام اب بخوبی وقفیت رکھتے ہیں، اس لئے پی ڈی پی کو ضمیر کا سودا کرکے حکومت کے مزے لوٹنے ہوں گے۔