سرورق مضمون

استقبالِ رمضان/ دعاؤں ،مغفرتوں اور رحمتوں کے مہینے کی آمد

استقبالِ رمضان/  دعاؤں ،مغفرتوں اور رحمتوں کے مہینے کی آمد
سرینگر ٹوڈے ڈیسک
پوری دنیا کے مسلمان ماہِ رمضان کی آمد کے منتظر ہیں۔ اسلامی کلینڈر کا آغاز محرم کے مہینے سے ہوتا ہے۔ لیکن سال کی زینت ماہِ رمضان کو قرار دیا گیا ہے۔ماہِ رمضان ہجری سال کا سب سے مقدس اور مقدم مہینہ ہے۔ اس مہینے کی ایک رات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف نازل کیا ہے۔ اس وساطت سے ماہِ صیام نزول قرآن کا مہینہ ہے ۔ اس مہینے میں اسی مناسبت سے روزے رکھنے کا حکم ہے اور روزے ہر مسلمان پر فرض کئے گئے ہیں۔ روزے ایک لحاظ سے تعظیم قرآن کی نشانی ہیں۔اللہ نے واضح کردیا ہے کہ رمضان کا مہینہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے ۔ لہٰذا جو اس مہینے کو پائے گا وہ روزے رکھے گا۔ یعنی دونوں چیزوں کا آپس میں قریبی تعلق ہے ۔
بنی نوع انسان کی بھلائی ، کامیابی ، اصلاح اور تربیت کے لئے اللہ نے جو احکامات نازل کئے ہیں ان کا مجموعہ قران کریم ہے۔ قرآن محض ایک کتاب نہیں ہے جو پڑھی جائے اور پڑھ کر ایک طرف رکھ دی جائے بلکہ یہ اخلاقی سدھار اور معاشرتی نظام درست کرنے کا ایک دستور ہے۔ اللہ نے اپنے بندوں کو راہِ راست پررکھنے کے لئے جو اصول و ضوابط مقرر کئے ان کا مجموعہ قرآن مجید ہے ۔ یہ دلوں کی صفائی اور اللہ سے تعلق بڑھانے کا واحد ذریعہ ہے۔ یہ امت مسلمہ کی بدقسمتی ہے کہ قرآن شریف پڑھنے کے باوجود اس کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے ۔ یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ قرآن دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ لیکن یہ واحد کتاب جو پڑھنے کے باوجود سمجھی نہیں جاتی ہے۔ حالانکہ قرآن کے ساتھ اور نزول قرآن کے ساتھ روزوں کا حکم بھی دیا گیا۔ دونوں کا ساتھ ساتھ ہونے کا مقصد بہ ظاہر یہی ہے کہ کتاب کے ساتھ اس کے احکامات کا بھی خیال کیا جائے۔ روزے انسان کو یہ سمجھاتے ہیں کہ آپ خلوت میں ہو یا جلوت میں ،آپ تنہا ہوں یا جمعیت میں ، آپ رات کے اندھیرے میں ہوں یا دن کے اجالے میں ۔ اللہ آپ کو ہر حال میں دیکھتا ہے ۔ روزوں کے اس فلسفے کو دیکھا اور پرکھا جائے تو انسان کے لئے لازم بن جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرے ، اس کا خوف دل میں محسوس کرے ، اس کے احکامات کی پاسداری کرے ، چاہئے کہیں بھی ہو ۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ کی تابعداری میں گزرنا چاہئے۔ اللہ نے اپنے احکامات کے لئے ہی قرآن شریف نازل کیا، پھر اس کے ساتھ کئی بہت سی عبادات کا حکم دیا اور روزوں کا تاکید ی حکم نازل کیا ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ اللہ انسان کے بدن ، اس کی روح اور اس کے پورے معاشرے پر اپنا رنگ حاوی کرنا چاہتا ہے ۔ فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے رنگ سے بہترین کوئی رنگ نہیں ہے ۔ اللہ چاہتا ہے کہ زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے معاملے سے لے کر ہر شعبے پر اللہ کا ہی رنگ غالب آجائے ۔ اس کے لئے رمضان کا مہینہ ایک تربیتی اور نمونے کا مہینہ مقرر کیا گیا۔ اس مہینے میں مسلم بستیوں کے اندر پورا اسلامی رنگ چڑھ جاتا ہے ۔ مسجدوں میں لوگوں کا رش نظر آتا ہے ۔ سحری اور افطار کا بڑے پیمانے پر انتظام ہوتا ہے ۔ دفتروں ، سڑکوں ، گھروں، بازاروں اور دکانوں میں نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اسلام کی نظر میں روزوں کی بڑی اہمیت ہے ۔ یہ ایک تربیتی کورس ہے پورے معاشرے اورپوری زندگی کو اسلام کے تحت گزارنے کا ۔ ایک منظم فوج کی طرح مسلمان اس مہینے میں رات کے ایک ہی وقت پر اٹھ کر سحری کھاتے ہیں۔ ایک دم اس کھانے پینے کے عمل کو بند کرتے ہیں ۔ اکھٹے ہوکر سارا دن کھانے پینے کا عمل بند کرتے ہیں۔ شام کو سورج غروب ہوتے ہی سب لوگ افطاری کرتے ہیں ۔ اس طرح سے ایک اجتماعی نظم کے تحت دن اور رات گزارتے ہیں۔ یہ سب کچھ بلا وجہ نہیں ہے ۔ بلکہ زندگی کو ایک نظام کے تحت چلانے کا ایک وسیع مشن ہے ۔ اس مشن کو پورے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔