مضامین

اسرائیلی جارحیت اور عالمی برادری

شبیر احمد ارمان

اسرائیل: ہم حماس کے دہشت گردوں کے فنڈز کے ذرایع ختم کرنے تک کارروائی جاری رکھیں گے، فوجی آپریشن کو غزہ تک پھیلایا جاسکتا ہے، حماس اور فتح کے درمیان متحدہ حکومت کی تشکیل کے بعد سے غزہ کی پٹی سے کیے جانے والے حملوں کی ذمے داری خود مختار فلسطینی انتظامیہ پر بھی عائد ہوتی ہے، غزہ کی پٹی میں مختلف اہداف پر حملوں کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے اسے پھیلایا بھی جاسکتا ہے، غزہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف محدود پیمانے پر کارروائی سے حماس اور زیادہ مستحکم ہوگی، غزہ سٹی سے مجاہدین کے تمام ٹھکانے تباہ کرنے کے لیے زمینی آپریشن بھی زیر غور ہے، غزہ کی سرحد پر اسرائیل نے درجنوں ٹینک اور ہزاروں فوجی تعینات کردیے ہیں۔
ہم حماس کے خلاف مہم جاری رکھے ہوئے ہیں جو جلد ختم ہونے والی نہیں، ہمارے پاس 80 کلومیٹر تک مار کرنے والے سیکڑوں میزائل موجود ہیں، حماس کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ موجود ہیں جن سے اسرائیل کے کسی بھی شہر کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، حماس نے راکٹ حملے نہ روکے تو زمینی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے (الزام عائد کرتے ہوئے) غزہ سے راکٹ حملے جاری رہنے کے بعد صیہونی فورسز نے محصور زدہ علاقے پر فضائی کارروائیاں دوبارہ شروع کیں، اسرائیلی فوج کو مزید جارحانہ رویہ اختیار کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 15 جولائی کی صبح عارضی وقفے کے بعد غزہ پر اسرائیل نے بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا۔ صیہونی طیاروں نے مسلسل غزہ کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ مختلف علاقے قیامت کا منظر پیش کرتے رہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فضائیہ کی بمباری سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور 500 سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں، اب تک 798 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے، جب کہ زخمیوں کے لیے جگہ ختم ہوچکی ہے۔ شہید ہونے والوں میں سے بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
حماس نے اس جنگ کے دوران پہلی بار اس وقت زبان کھولی جب انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں ایک 16 سالہ فلسطینی نوجوان ابو خضیر کو اغوا کے بعد اسے زندہ جلایا گیا تھا۔ حماس رہنماؤں نے اعلان کیا کہ اسرائیل کو فلسطینی نوجوان کے قتل کی قیمت چکانی پڑے گی۔ واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں شہید فلسطینی لڑکے کے اغوا کی ویڈیو منظر عام پر آچکی ہے۔ اس میں فلسطینی لڑکے محمد ابو خضیر کے القدس میں اغوا کے مناظر محفوظ ہیں، ویڈیو کے ایک لانگ شاٹ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ محمد خضیر سڑک سے گزر رہا ہے اس دوران چند لمحوں کے لیے ایک کار اس کے قریب رکتی ہے پھر اسے اغوا کرنے کے بعد دوبارہ چل پڑتی ہے۔ جس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ محمد خضیر کو اغوا کرکے گاڑی میں ڈال لیا گیا۔
(یہ ویڈیو برطانوی اخبار گارجین نے اپنے آن لائن ایڈیشن میں جاری کی ہے) اسرائیل کے وزیر اعظم نے محمد ابو خضیر کو زندہ جلانے کے واقعے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا وعدہ کیا۔ بعدازاں صیہونی اہلکاروں نے فلسطینی نوجوان کے قتل کے شبے میں 6 یہودی شدت پسندوں کو گرفتار کرلیا جن میں سے 3 نے قتل کا اعتراف کرلیا۔ ان 3 انتہا پسندوں نے پولیس کے سامنے باقاعدہ ساری منظر کشی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے انھوں نے ابو خضیر کو المناک موت سے دوچار کیا۔
حماس کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل آگ سے کھیل رہا ہے اور اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی، بمباری کے جواب میں تمام اسرائیلیوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ خبردار! اب تمام اسرائیلی ٹارگٹ پر ہیں، بچوں کی شہادت انسانیت سوز اقدام ہے جس کا بدلہ لیا جائے گا، جنگ بندی کے لیے ابھی تک اسرائیل کی طرف سے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، جنگ بندی کے مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل غزہ کی آٹھ سالہ ناکہ بندی ختم کرے، مصر کے ساتھ راستے کھولے جائیں، گرفتار فلسطینیوں کو رہا کیا جائے۔
ادھر غزہ میں جنگ بندی کے لیے مصری کوشش ناکام ہوگئی، حماس نے اعتماد میں نہ لیے جانے پر جنگ بندی کے لیے پیش کردہ مصری تجویز کو مسترد کردیا۔ حماس کے مطابق مصر نے سیز فائر کے لیے اس سے مشاورت نہیں کی تھی اور غزہ کے محاصرے کے خاتمے تک تل ابیب پر راکٹ حملے جاری رکھے جائیں گے۔
ادھر اسرائیلی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ پیرس میں ہزاروں افراد نے مارچ کیا اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ امریکا کے پندرہ شہروں بوسٹن، نیویارک، شکاگو، لاس اینجلس، فیلاڈیلفیا اور سان فرانسسکو میں مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے صیہونی حکومت کی نسل پرستانہ اور فسطائی پالیسیوں کی مذمت کی۔، جموںکشمیر نئی دہلی، ہانگ کانگ اور جکارتہ میں بھی مظاہرے ہوئے پاکستان میں بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا اور فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔پاکستان، سعودی عرب، یمن، مصر، عرب لیگ، عرب ممالک، اردن، جرمنی، متحدہ عرب امارات، روس، فرانس، ترکی، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور یورپی یونین نے فریقین سے جنگ بندی کی اپیل کی ۔
امریکی صدر اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم کو فون کیا اور بحران کو حل کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کی انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ مسلح تصادم مزید پھیل سکتا ہے انھوں نے فریقین پر زور دیا کہ عام شہریوں کی جانوں کی حفاظت کی جائے اور امن قائم کیا جائے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے پہلے بیان میں کہا کہ ہم اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی کی حمایت کرتے ہیں۔ بعدازاں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اسرائیلی وزیر اعظم کو فون کرکے امریکی تشویش سے آگاہ کیا انھوں نے کہا کہ وہ عالمی رہنماؤں سے مل کر راکٹ حملے رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم نے کہا ہے کہ برطانیہ کو غزہ میں ہونے والے جانی نقصانات پر گہری تشویش لاحق ہے انھوں نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے لیے امریکی، فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے فلسطین پر اسرائیلی دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرے، اسرائیلی بربریت سے اب تک شہید ہونے والوں میں 77 فیصد تعداد معصوم خواتین اور بچوں کی ہے، پاکستان فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے او آئی سی، نیم اور عرب گروپ سمیت تین ٹریک پر کام کر رہا ہے، کوشش ہے کہ یو این سیکورٹی کونسل کے ذریعے قرارداد لائی جائے۔
یو این سیکورٹی کونسل کے ردعمل کا منتظر ہے وہ جوں ہی اشارہ دے گا ہم انسانی حقوق کونسل کا اجلاس بلائیں گے جس کے لیے ہمیں 16 ارکان کی حمایت حاصل ہے کیونکہ پاکستان جنیوا میں او آئی سی کور گروپ کا کوآرڈینیٹر ہے۔فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے دوران اقوام متحدہ کا کردار ترتیب وار ملاحظہ کریں۔ 22 جون کو اسرائیلی وزیر خارجہ ایوی گڈور لائبرمین نے دھمکی دی کہ اگر اقوام متحدہ کے سفیر نے فلسطین کی حمایت جاری رکھی تو اسے ملک بدر کردیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے غزہ کے لیے قطر کی اعلان کردہ امدادی رقوم کی منتقلی میں مدد دی تو تل ابیب عالمی ادارے کے نمایندے کو اسرائیل بدر کردے گا۔ دس جولائی کو سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے فریقین سے جنگ بندی کی اپیل کی۔ انھوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ بحران کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔