خبریں

اسلام امن پسند مذہب ہے

اسلام امن پسند مذہب ہے

’’اللہ اکبر اللہ اکبر‘‘اور’’ لبیک اللھم لبیک‘‘کے روح پرور اور فلک شگاف نعروں کے بیچ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے 20 لاکھ فر زندان توحید نے رنگ و نسل کے امتیاز سے بالاتر ہو کراللہ عزوجل کے دربار میں حاضر ی دیکر حج کی سعادت حاصل کی ۔ ا س موقعہ پر احرام کی سفید چادروں میں عرفات کی خیمہ بستی روح پرور صدا ؤں سے گونجتی رہی جبکہ خطبہ حج کے دوران عالم اسلام اورامت مسلمہ کے حق میں خصو صی دعا ؤں کا اہتما م کیا گیا۔ اسلام کے پانچویں اور اہم رکن حج کی ادائیگی کے سلسلے میں20لاکھ سے زیادہ فرزندان توحیداتوار کو منیٰ میں قیام کر نے کے بعد سو موار کی صبح نماز فجر ادئیگی کے ساتھ ہی عرفات پہنچنا شر وع ہوگئے جہاں پر حج کا اہم رکن وقوف عرفہ ادا کیا گیا۔ اس سے پہلے گزشتہ روز اتوار کو حجاج کرام مقدس شہر مکہ سے منیٰ پہنچے جہاں پر انہوں نے رات بھر قیام کیا۔ اطلا عا ت کے مطا بق سوموارکو نما ز فجر ادا کرنے کے بعد فریضہ حج کے تحت عا زمین لبیک اللھم لبیک کی روح پرور صدا ؤ ں کے بیچ مکہ مکرمہ سے منیٰ کے راستے میدان عرفات پہنچ کر حج کا رکنِ اعظم وقوفِ سو موار کو عرفات میں ادا کیا ہے جس دوران مقدس مقام میدان عرفات”لبیک الھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک،ان الحمد و النعمۃ لک و المک لا شریک لک”کے روح پرور اور فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔ خواتین نے اپنے چہروں اور ہاتھ، پاوٗں کے علاوہ پورے بدن کو سفید احرام سے ڈھانپ رکھا تھا اور ان سب کے لبوں پر مسلسل ’’”لبیک الھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک،ان الحمد و النعمۃ لک و المک لا شریک لک”کا ورد جاری تھا۔ اطلا عا ت کے مطا بق عرفات کی خیمہ بستی احرام کی دو سفید چادروں میں ملبوس 20 لاکھ سے زائد مسلمانوں کی لبیک اللھم لبیک کی صداوں سے گونجتی ر ہی جس دوران دنیا کی مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد رنگ و نسل کے امتیاز سے بالاتر ہو کراللہ عزوجل کے دربار میں حاضر ہوکر حج کی سعا دت حا صل کی ۔ عرفات میں وقوف کے دوران عازمین حج تلبیہ پڑھنے ، استغفار کرنے اورتسبیح کے ساتھ ساتھ دعاؤں میں مصروف رہے۔ اس سے قبل مفتی اعظم سعودی عرب عبدالعزیز بن عبداللہ آل شیخ نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیا۔ اس موقع پر مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز نے خطبہ حج میں کہا ہے کہ شریعت کو نافذ کرنے سے کامیابی قدم چومے گی۔انہوں نے کہا کہ کسی انسان کا ناحق خون کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے اور اسلام دہشت گردی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی کی اسلام مذمت کرتا ہے اور مسلمانوں کو امن پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ اگر اسلام کے اقتصادی نظام اپنایا جائے تو دنیا سے معاشی بحران ختم ہوجائیں گے جبکہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت مشکل دور سے گزر رہی ہے۔انہوں نے کہا ‘کائنات میں اللہ کی مدد کے بغیر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا، مسلمان تقویٰ اختیار کریں اور اللہ سے ڈریں۔’ان کے مطابق مسلمانوں کو محمد ؐ کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے اور اللہ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کا پابند کیا ہے۔مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز نے مزید کہا کہ اسلام شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے جبکہ اللہ نے قرآن نازل کرکے مسلمانوں پر رحمت فرمائی۔جس دوران عالم اسلام کے اتحاد ،ترقی ،خوشحالی اور امن خصو صی د عائیں ما نگی گئیں۔ مفتی اعظم نے کہا کہ مسلمان بھائیوں پر جو مصائب آتے ہیں ان پر صبر کرنا چاہیے، یہ ہی اسلام کی تعلیم ہے۔آج امت محمدی مشکل دور سے گذررہی ہے۔اسلامی ملکوں کے سربراہان عوام کی خیرخواہی اور آسانیاں پیدا کریں۔حکمران عوام کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے اقدامات کریں۔جبکہ علما کو چاہیے کہ تقویٰ اور اخلاص کو اختیار کریں۔مسلمان اپنی سیاسی اور اخلاقی قوت کو ضایع نہ کریں۔اگرکوئی اپنی قوت کو ضائع کرتا ہے تو وہ جاہل ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو تمام باطنی برائیوں سے بچنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ برائیوں سے انسان اللہ کی بارگاہ سے دورہوجاتا ہے،اللہ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا پابند کیا ہے۔خطبۂ حج کے بعد ظہر اور عصر کی قصر نمازیں ایک ساتھ ادا کی گئیں ۔حج کا رکن اعظم وقو ف عرفات ادا کرکے سورج غروب ہونے کی بعد حجاج کرام مزدلفہ روانہ ہوگئے جو میدان عرفات سے چھ کلومیٹردورہے۔ حجاج کرام نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی۔اور پھر نماز فجر تک وہیں رہیں۔ مزدلفہ میں رات قیام کے دوران حجاج رمی جمرات کے لئے کنکریاں چنیں گے ۔ سعودی وزیر داخلہ پرنس محمد بن نیف کا کہنا ہے کہ اس سال بیرون ملک کے حجاج کرام کی کل تعداد 13 لاکھ79ہزار پانچ سو31 ہے جو گزشتہ سال کی تعداد ساڑھے سترہ لاکھ سے نسبت اکیس فیصد کم ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً بارہ لاکھ نوے ہزار حجاج دنیا کے 188 ملکوں سے سعودی عرب پہنچے ہیں۔انہوں تعداد بتائے بغیر کہا کہ برطانیہ میں رہنے والے افراد کی تعداد اب پہلے سے آدھی ہوگئی ہے۔ادھر صحت کے وزیر عبداللہالرابعہ نے ہفتے کے روز میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ابھی تک حجاج کرام میں ایم ای آر ایس وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ اطلاعات کے مطا بق اس سال گذشتہ برسوں کے مقابلے میں غیر قانونی طریقے سے حج پر جانے والوں کو صحیح معنوں میں کنٹرول کیا گیا تھا۔ جدہ، طائف اور دیگر علاقوں کے چور راستوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی تھی۔ گورنر مکہ مکرمہ و سربراہ مرکزی حج کمیٹی شہزادہ خالد الفیصل نے اعلان کیا کہ اجازت نامے کے بغیر مقامات مقدسہ کا رخ کرنے والے 15 ہزار عازمین کو واپس کر دیا گیا ہے جبکہ 63 فرضی معلمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عازمین کی بھاری تعداد مشاعر مقدسہ ٹرین کے ذریعے منیٰ سے عرفات پہنچ گئی۔ ٹرین ایک گھنٹے میں 72 ہزار حجاج کرام کو مشاعر مقدسہ میں سفر کی سہولت فراہم کی۔ حجاج کرام کی منٰی سے عرفات منتقلی کی کارروائی کو منظم بنانے کیلئے حج انتظامیہ کی طرف سے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے تاکہ ٹریفک جام نہ ہو سیکورٹی فورسز کے اہلکار امن انتظامات کو یقینی بنائے رکھنے کیلئے مسلسل گشت کر رہے تھے۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت مشاعر مقدسہ کے ایک ایک چپہ پر گہری نظر رکھی گئی۔ 35 سے زیادہ پولیس سٹیشن مشاعر مقدسہ میں قائم کئے گئے تھے ۔ ان کی بدولت عازمین حج کے لئے امن و امان کی فراہمی یقینی ہو گئی ہے۔ منٰی سے میدان عرفات کے راستوں کی نشاندہی کیلئے بڑے بڑے بورڈ آویزاں ہیں جبکہ سکارٹس کے دستے بھی راستوں میں متعین تھے جو حجاج کرام کی رہنمائی کر رہے تھے۔ سعودی حکو مت کی طرف سے حجاج کرام کو کھانے پینے کی اشیاء کے کولڈ کنٹینروں سے پانی کی لاکھوں بوتلیں اور خوراک کے پیکٹ ، ڈرے فروٹ، جوسز اور کھانے پینے کی اشیاء پر مشتمل پیکٹس کے علاوہ سورج کی تپش سے بچانے کے لئے چھتریاں تقسیم کی گئیں۔ عرفات کے میدان میں مسجد نمرہ کے چاروں جانب تاحدِ نگاہ خیموں کا شہر آباد ہے جہاں معلمین کی نشاندہی کیلئے نشانات لگائے گئے تھے ہر ملک کے حج مشن کی شناخت کے لئے اس کا پرچم کیمپ پر لگایا گیا ہے۔ نیشنل واٹر کمپنی نے مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ میں عازمین حج کی آبی ضروریات پوری کرنے کیلئے جامع منصوبہ تیار کیا گیاجس کے تحت 6 لاکھ مکعب میٹر سے زیادہ پانی منٰی، مزدلفہ اور عرفات کی ٹینکیوں میں ذخیرہ کیا گیا تھا۔ مسجد نمرہ کے چاروں جانب اور جبل الرحمۃ کے اطراف میں فواروں اور ہوا دار پنکھوں کے ذریعے پانی چھڑکا جا رہا تھا تاکہ دھوپ کی تمازت سے حجاج کرام کو پریشانی نہ ہو۔اطلاعات کے مطابق میدان عرفات میں حج کا ایک اہم رکن ادا کرنے کے بعد حجاج کرام منیٰ کی طرف روانہ ہونگے جہاں وہ ایک اور رکن ادا کرتے ہوئے شیطان پر کنکر ماریں گے اور اس کے بعد یہاں پر ہی اللہ تعالیٰ کی رضا اورسنت ابراہیمی ؑ کے تحت حلال جانوروں بالخصوص اونٹوں اوردیگر جانوروں کی قربانی دیں گے۔