نقطہ نظر

اسلام سے پہلے عورت کا مقام و وقار

عائشہ مجاہدہ

تیسری صفت:
صلہ رحمی کرنے والی
صلہ رحمی کرنے والی ہوتی ہے۔ ہمسائیوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والی ہوتی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایک بار ایک صحابیؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ فلاں خاتون فرائض کے ساتھ ساتھ نفلی عبادت بھی کرتی ہے مگر ہمسائیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتی تو کیا وہ جنت میں جائے گی۔ آپﷺ نے فرمایا نہیں۔ اب صحابیؓ نے پھر سے کہا کہ فلاں عورت صرف فرائض انجام دیتی ہے مگر ہمسائیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہے کیا وہ جنت میں جائے گی؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں۔
دوسری حدیث میں نبیﷺ نے فرمایا: اللہ نے صلہ رحمی کرنے والے سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اسے آخرت میں اپنی رحمت سے نوازے گا اور جو قطع رحمی کرے گا، اللہ تعالیٰ اُسے اپنی رحمت سے محروم کردے گا۔
چوتھی صفت:
نیک کاموں میں سبقت لینا
نیکی کے کاموں میں سبقت لے جاتی ہے۔ اسلام میں پہل، عبادت، اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح بیان کرنا، نیکی کا کام بتانا، طالب علم کو علم سکھانا، خود بھی علم سیکھنا، قرآن حفظ کرنا، تلاوت کرنا، ان سب چیزوں میں مسلمان عورت سبقت لے جاتی ہے۔
پانچویں صفت:
مال و دولت سے بے رغبتی
دنیاوی مال و عیش و عشرت سے نیک خاتون کو کوئی رغبت نہیں ہوتی۔ ہمیشہ آخرت میں کامیابی کی طلبگار ہوتی ہے۔
تہجد کی پابندی کرنے والی
مسلمان خاتون کی اچھی صفات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ راتوں کی تنہائیوں میں اُٹھتی ہے اور اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوجاتی ہے۔ (یعنی تہجد پڑھنےو الی ہوتی ہے)۔
عذاب الٰہی سے ڈرنے والی
مسلمان خاتون اللہ تبارک و تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والی ہوتی ہے۔ حضرت رابعہ بصریؒ جو کہ نیک سیرت خاتون تھی۔ ان کے بارے میں آتا ہے کہ وہ اللہ کے خوف سے اتنا رویا کرتی تھی کہ زمین بھی تر ہوجاتی تھی۔ ایک مرتبہ کسی نے بھُنا ہوا مرغا کھانے کے لیے پیش کیا، تو رونے بیٹھ گئی۔ وہ حیران ہوا تو پوچھنے لگا کہ آخر کیا بات ہے؟ فرمانے لگی کہ مجھے یہ خیال آیا کہ یہ مرغا تو مجھ سے اچھا ہے اُس نے کہا وہ کیسے۔ کہنے لگی وہ اس لیے کہ اس مرغ کو پہلے ذبح کیا گیا پھر اس کو آگ پر بھونا گیا اور اگر رابعہ کے گناہوں کو نہ بخشا گیا تو اُس کو تو زندہ آگ میں جھونک دیا جائے گا۔ اللہ اکبر! وہ لوگ بھنا ہوا گوشت کھاتے تھے تو جہنم کی آگ کو یاد کرکے رو پڑا کرتے تھے۔
اے میری بہنو! ہم اپنے آپ سے آج سے ہی محاسبہ کریں کہ ہم کہاں ہیں کیا ہم نے آخرت کے لیے کچھ تیار کرکے رکھا ہے؟
حضرت ابوبکر صدیقؓ خوف خدا کی وجہ سے کہا کرتے تھے کہ کاش ہم گھاس کا تنکا ہوتے جس کو کوئی گائے بکرا کھالیتا اور ختم ہوجاتے۔ وہ اللہ رب العزت کی عظمتوں کو جانتے تھے اس لیے ڈرتے کانپتے تھے کہ پتہ نہیں ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوجائے۔
اس لیے نیک خاتون بھی وہی ہے جو عذاب الٰہی سے ڈرتی ہے اور اُس کا دل بھی اللہ کے خوف سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔
شکر گزار
نیک سیرت خاتون ہمیشہ شاکر ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:ـ
لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ
اگر تم شکر گے تو یقیناً میں تمہیں مزید (نعمتیں) عطا کروں گا۔ (سورئہ ابراہیم)
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ نعمت کا شکر صرف یہ نہیں کہ صرف زبان سے کہہ دیا جائے ’’الحمد للہ‘‘ اللہ کا شکر ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتی کہ شکر کا اصل مطلب یہ ہے کہ نعمت کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے جس کے لیے یہ عطا کی گئی ہے۔ یعنی اُس نعمت کے ذریعے ہم اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کی کریں۔
یعنی اگر اللہ نے آپ کو مال کی نعمت سے نوازا ہے تو اُس مال سے غریبوں، مسکینوں، یتیموں کی مدد کرنی چاہیے۔ اگر میرے پاس پانچ،د س سوٹ ہیں ایک یا دو ہمیں غریب کو دینا چاہیں۔ تب جاکر اس مالی نعمت کا اصل شکر ادا ہوگا۔ ہمارے گھر سے کوئی فقیر، غریب خالی ہاتھ نہیں نکلنا چاہیے۔ نبی رحمتﷺ نے فرمایا اگر فقیر، غریب، مسکین کو دینے کے لیے کچھ بھی نہ بچا ہوگھر میں، تو آدھی کھجور ہی دے دو۔ مگر اُسے خالی ہاتھ نہ واپس لوٹایا کرو۔
اسے کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا دل سے شکر ادا کرنا۔ ورنہ آج تو ہر ماں، بیٹی اور بہن کے منہ سے نکلتا ہے ’’الحمد للہ‘‘ مگر اگر دیکھا جائے گھر میں سب کچھ ہونے کے باوجود بھی وہ غریب، مسکین، فقیر کو خالی ہاتھ لوٹا دیتی ہے یا کہتی ہے ’’معاف کرو‘‘۔
آج کی مسلمان ماں، بہن اسلام کی ہدایت نصیب ہونے، ایمان کی توفیق ملنے، محبت، مال اور اولاد کے فضل و کرم کو نعمت ہی نہیں سمجھتی۔ وہ کان آنکھ، دل، ہاتھ اور پائوں کو اللہ کی نعمت ہی نہیں سمجھتی۔ اس طرح مسلمان خاتون صرف مالی نعمت کا شکر ادا کرتی ہے اور اللہ کی دیگر تمام نعمتیں جو ہم نے ابھی بیان کی (ہاتھ، آنکھ، کان، پائوں وغیرہ) انہیں بھول جاتی ہے۔
عمدہ مثال
ایک شخص نے ایک بزرگ کے سامنے اپنے فقر و فاقے کا حال بیان کیا اور پھر شدید غم کے جذبات ظاہر کئے تو اُنہوں نے فرمایا: کیا تم یہ پسند کرو گے کہ تمہیں ڈھیر ساری دولت دی جائے اور اُس کے عوض تمہاری آنکھیں چھین کر تمہیں اندھا کردیا جائے۔ سائل نے عرض کی ہرگز نہیں۔ بزرگ نے پوچھا کیا تمہیں یہ گوارا ہوگا کہ تم گونگے ہوجائو اور تمہیں دس ہزار درہم مل جائیں؟ اُس نے کہا: ہرگز نہیں، بزرگ نے دریافت کیا:ـ تمہیں یہ پسند ہوگا کہ تمہارے ہاتھ پائوں کٹ جائیں اور تمہیں بیس ہزار درہم مل جائیں؟ اس نے کہا: بالکل نہیں، بزرگ نے پھر پوچھا: کیا تم دس ہزار درہم لے کر پاگل ہونا پسند کرو گے؟ اُس نے کہا ہرگز نہیں، تو بزرگ نے فرمایا: تو پھر تجھے اتنے کریم پروردگار کا شکوہ کرتے ہوئے شرم نہیں آتی جس نے تجھے اس قدر انمول نعمتیں عطا کررکھی ہیں۔
جسم کا ہر عضو اللہ کی بخشی ہوئی انمول نعمت ہے۔ اس نعمت کا واقعی شکر ہم تب کرسکتے ہیں جب ہم ان اعضاء کو اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں لگادیں۔
صبر کرنے والی
مسلمان خاتون کی اچھی صفات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ مصیبت میں صبر کرنے والی اور اپنے رب کےے فیصلوں پر راضی رہنے والی ہوتی ہے۔ صبر کرنے سے آپ اللہ کی رضا کو پاسکتی ہو اور جنت میں داخل ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ صبر کرتی رہو۔ ارشاد باری تعالیٰ:
یٰاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوٰۃ
’’اے ایمان والو! (مصیبت اور آزمائش میں) تم صبر اور نماز سے مدد لو‘‘۔
ایک مثال سمجھیں!
جب ہمیں بازار سے کوئی چیز لانی ہو ہم پیسے دینے سے پہلے اُسے غور سے چیک کرتے ہیں کہ کہیں ٹوٹا مت ہے، crack مت ہے۔ جب وہ ٹھیک ہوتا ہے تب ہم وہ خریدتے ہیں۔ اسی طرح میری بہن سمجھو ہم کہتے رہتے ہیں ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ سے بہت محبت ہے جب اللہ تبارک و تعالیٰ ہم پر کوئی آزمائش ڈالتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ بندہ اس آزمائش یا مصیبت میں مجھ سے اور تعلقات مضبوط کرتا ہے یا کہیں کسی اور راستے پر جاتا ہے۔
میری مسلمان بہن اگر تم صبر کرنے والی عورتوں میں شامل ہوجائو تو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی محبت واجب کردے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَاللہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ
’’اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے‘‘۔
میری مسلمان بہن یقیناً تمہیں اپنی زندگی میں آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کبھی یہ آزمائش تمہارے جسم و جان سے ہوگی، کبھی خاوند سے، کبھی اولاد اور کبھی والدین کے بارے میں ہوگی۔ اس موقع پر تمہارے ایمان کی قوت دیکھی جائے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہارے ایمان کا امتحان لینے ہی کے لیے آزمائش میں ڈالا ہوگا۔
اب اے میری بہن دیکھنا یہ ہے کہ تم صبر کرکے اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب حاصل کرنا چاہتی ہو یا اس آزمائش میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ و شکایت کا اظہار کرنا چاہتی ہو۔ جیسے کہ ہم دیکھتے رہتےہیں کہ کچھ ماں، بہن یہ کہتی رہتی ہیں:
’’کیا اللہ تعالیٰ کو ہم ہی دِکھے‘‘ مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہے کہ اللہ تعالیٰ نیک بندوں کو ہی آزماتا ہے تاکہ اُن کا نامۂ اعمال بُرےا عمال سے پاک و صاف ہوجائے۔ حضرت ابوسعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی رحمتﷺ کا ارشاد ہے :
مَا یُصِیْبُ الْمُؤمِنَ مِنْ وَّصَبٍ وَلَا نَصَبٍ، وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَذَنٍ حَتّٰی الْہَمَّ یُہَمَّہُ إلَّا کُفَّرَ بِہِ مِنْ سَیِّئَاتِہٖ (رواہ البخاری)
’’مومن شخص کو جو بھی تھکاوٹ، تکلیف، بیماری یا غم پہنچتا ہے یا کوئی فکر و پریشانی لاحق ہوتی ہے (یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھ جائے جیسا کہ بعض روایت میں ہے) اور وہ صبر سے برداشت کرے تو اس کے ذریعے سے بھی اُس کے گناہ معاف فرمادیئے جاتے ہیں‘‘۔
حضرت عطاء بن ابی رباحؒ فرماتے ہیں کہ انہیں حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک جنتی خاتون نہ دکھائوں؟ میں نے کہا: ضرور دکھائے۔ انہوں نے کہا یہ سیاہ رنگ کی عورت نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ کہنے لگی: اے اللہ کے رسولﷺ مجھے مرگی کے دورے پڑتے ہیں اور میرا ستر کھل جاتا ہے، لہٰذا آپ دعا کریں کہ میری یہ تکلیف دور ہوجائے۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:
’’اگر تم چاہو تو صبر کرو، تمہیں جنت مل جائے گی اور اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کردیتا ہوں، وہ تمہیں عافیت عطا فرمادے گا؟ اس نے کہامیں صبر کروں گی۔ اس نے پھر کہا: میں بے پردہ ہوجاتی ہوں، آپ اللہ سے دعا کردیں کہ میں بے پردہ نہ ہونے پائوں، پس آپﷺ نے اسکے لیے دعا کردی‘‘۔
غور کیجئے میری بہنو کس طرح اس عظیم خاتون نےجنت میں داخلے کے لیے بیماری پر صبر اختیار کیا۔ ہمیں بھی جان لینا چاہیےکہ دنیا میں آزمائشوں پر صبر کرنا جنت میں داخلے کی ضمانت ہے۔
دوسروں کے کام آنے والی
بہترین خاتون وہ ہے جو دوسرے مسلمان بہن بھائیوں کی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔ کیونکہ جب وہ اپنی مسلمان بہنوں کی حاجات و ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرے گی اور اس کا مقصد صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا، ثواب کا حصول اور بہنوں کادل خوش کرنا ہوگا تو وہ اللہ کی مغفرت اور رحمت کے بہت قریب ہوجائے گی۔
حضرت ابوہریرہؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نےا رشاد فرمایا:
’’جس نے کسی مومن کی دنیاوی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کی، اللہ تعالیٰ قیامت کےدن کی تکالیف میں سے اس کی تکلیف اور مصیبت کو دور کردے گا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ اُس وقت تک بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے‘‘۔ (رواہ صحیح مسلم)
حضرت محمد بن اسحاقؒ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ رہتے تھے لیکن انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ انہیں ضروریات زندگی کہاں سے مل رہی ہیں اور کون فراہم کررہا ہے؟جب حضرت زین العابدینؒ فوت ہوگئے تو انہیں وہ سامان زندگی ملنا بند ہوگیا، تب انہیں معلوم ہوا کہ حضرت زین العابدینؒ ہی اُنہیں رات کے وقت ان کی ضروریات پہنچایا کرتے تھے۔ جب انہوں نے ان کی وفات کے بعد انہیں غسل دیا تو ان کی کمر اور کندھوں پر بیوائوں اور یتیموں کے گھر ساز و سامان کے تھیلے اٹھاکر لے جانے کے نشانات پڑے ہوئے تھے۔
میری مسلمان بہن! ذرا غور کیجئے، یہ نبوت کے گھرانے کا چشم و چراغ کن لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کی مشقت کرتا تھا؟ مساکین، بیوائوں اور فقراء کے لیے وہ کتنی زحمت اٹھاتا تھا۔ ان کی ساری طلب و تڑپ یہ تھی کہ بیوائوں، یتیموں اور مسکینوں کے دل خوشی سے بھرجائیں اور وہ یہ کٹھن کام صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لیے کرتے تھے کیونکہ غریبوں اور محتاجوں کو ان کی وفات تک یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ اُن کی ضروریات کون پوری کررہا ہے۔
اللہ کی رضا کی طلبگار
بہترین عورت اپنے تمام اعمال و افعال صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے انجام دیتی ہے۔ اس لیے وہ کسی دکھاوے کے لیےکام نہیں کرتی، مخلوق میں سے کسی کے ساتھ منافقت نہیں کرتی اور اپنے رب کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی۔
حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے، کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کے پاس آیا، اُس نے دریافت کیا کہ ایک آدمی جہاد کرتا ہے آخرت میں اجرو ثواب حاصل کرنے کے لیے اور دنیا میں شہرت پانے کے لیے تو اُس کو کیا ملے گا؟
آپﷺ نے فرمایا: اُس کو کچھ نہیں ملے گا۔ سوال کرنے والے نے اپنا یہ سوال تین بار دہرایا، اور ہر بار نبیﷺ یہی فرماتے رہے ’’اُس کو کچھ نہیں ملے گا‘‘۔ پھر آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل صرف اسی عمل کو قبول کرے گا جو خالص اسی کے لیے کیا گیا ہو، اور صرف اس کی خوشنودی اُس کا محرک ہو‘‘۔ (ابودائود، نسائی)
اس حدیث سے یہ بات واضح بیان ہوگئی کہ نیک و صالح عمل کو قابل قبول بنانے والا جوہر اخلاص ہے۔ اگر ہم کسی کو سلام کریں اس میں بھی نیت یہ رکھنی ہے کہ اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر سلام کررہی ہوں اور نبی رحمتﷺ کی سنت مبارک پر عمل کررہی ہوں۔ نہ کہ لوگوں کو دکھانے کے لیے کہ میں کتنی باادب ہوں۔ غرض ہم جو بھی چھوٹا عمل یا بڑا عمل کریں مقصد صرف رضائے الٰہی ہونا چاہیے۔
میری بہن ہمیں یہ بات خوب پتہ ہے کہ اللہ عزوجل بے نیاز ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اللہ کو ایسے عمل سے کیا سروکار جو اُس کی رضا کے لیے نہ کیا گیا ہو۔ بلکہ آخرت میں اخلاص کے بغیر والے نیک اعمال اس شخص کے منہ پر مار دیئے جائیں گے۔
میری مسلمان بہن ہم اس بات پر پوری طرح غور و فکر کریں کہ ہم کوئی عمل صالح کریں کتنی محنت و مشقت سے وہ کام کریں یا کتنی ہی تکلیفیں برداشت کرکے اُس صالح عمل کو انجام دیں۔ اگر اس میں اخلاص نہیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اخلاص پیدا کرنے میں کوئی بھاری سامان تو نہیں اٹھانا ہے بلکہ صرف عمل صالح کرتے وقت دل میں نیت درست کرنی ہے کہ بس صرف اللہ کی رضا کے لیے کر رہی ہوں، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ ہم سب اُس پروردگار کے محتاج ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
سچی توبہ کرنے والی
میری مسلمان بہن خیر النساء کی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ رب کے حضور توبہ کرتی رہتی ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا کہ آدم کی ساری اولاد گناہگار و خطاکار ہے مگر بہترین گناہگار وہ ہے جو اپنے رب کے حضور توبہ کرتا ہے۔
توبہ کس چیز کا نام ہے؟
گناہوں کو چھوڑ دینا اور دوبارہ کبھی صغیرہ یا کبیرہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرلینا اس کا نام توبہ ہے۔ اللہ رب العزت نے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رکھا ہے، باقی دروازے کھلتے اور بند ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن توبہ کا دروازہ ایسا ہے کہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ اس لیے کہ پروردگار کو اونگھ ہی نہیں آتی، نیند بھی نہیں آتی، گناہ گار کی توبہ قبول کرنے کے لیے وہ پروردگار ہر وقت جاگتا ہے۔
حضرت اغربن یسارؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ:’’اے لوگو! اللہ سے توبہ کرو اور اس سے بخشش طلب کرو، بے شک میں ایک دن میں سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں‘‘۔ (صحیح مسلم۲۷۰۲)
اے مسلمان مائوں اور بہنوں ذرا غور کرو! یہ ہمارے معصوم رسول اللہﷺ ہیں جن کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہیں، اس کے باوجود وہ اپنے رب سے ایک دن میں سو مرتبہ بخشش طلب کرتے اور توبہ کرتے ہیں۔ نبی برحقﷺ کا یہ عمل مبارک ہمیں توبہ میں جلدی کرنے کا احساس دلانے کے لیے ہے۔
ایک سو افراد کے قاتل کی توبہ: حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی برحقﷺ نے فرمایا: ’’تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا، اس نے ننانوے قتل کئے تھے۔ ایک دن اُس نے دنیا کے سب سے بڑے عالم آدمی کے بارے میں پوچھا۔ اسے ایک راہب کا پتہ دیا گیا۔ وہ اُس کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا ماجرا بیان کرتے ہوئے کہا: میں نے ننانوے آدمی قتل کئے ہیں، کیا میری توبہ ہوسکتی ہے؟ راہب نے کہا نہیں ہوسکتی ہے۔ تو اس شخص نے راہب کو بھی قتل کرکے سو قتل پورے کر دیئے۔ پھر اس نے ایک اور بڑے عالم کے بارے میں پوچھا تو اسے ایک عالم کا پتہ دیا گیا (وہ اُس کے پاس گیا) اور کہنے لگا میں نے سو آدمی قتل کئے ہیں، کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ اُس نے کہا ہاں یقیناً ہوسکتی ہے، بھلا تمہارے اور تمہاری توبہ کے مابین رکاوٹ کیا ہے؟ فلاں فلاں علاقے میں چلے جائو، وہاں کے لوگ بڑے عبادت گذار ہیں۔ تم بھی اُن کے ساتھ عبادت میں مشغول ہوجائو اور اب اپنے علاقے میں واپس مت آنا کیونکہ یہ بڑا بُرا علاقہ ہے، چنانچہ وہ قاتل اس علاقے کی طرف چل پڑا۔ ابھی آدھا راستہ طے کیا تھا کہ اُسے موت آگئی۔ رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کے مابین اس کے بارے میں جھگڑا ہوگیا۔ رحمت کے فرشتے کہنے لگے: یہ توبہ کرکے اللہ کی طرف سچے دل سے متوجہ ہوکر آرہا تھا (اس لیے یہ رحمت کا مستحق ہے) عذاب کے فرشتوں نے کہا: اس نے کبھی کوئی اچھا کام نہیں کیا (اس لیے یہ عذاب کا حقدار ہے)۔ ایک فرشتہ انسانی شکل میں ان کے پاس آیا تو رحمت اور عذاب کے فرشتوں نے اُسے اپنا قاضی بنالیا۔ اس نے یہ فیصلہ دیا کہ دونوں طرف کا علاقہ ناپ لو۔ یہ جس علاقے کے قریب ہو، اسی طرف کے فرشتے اسے لے جائیں۔ انہوں نے زمین کی پیمائش کی تو اسے اُس کی چاہت والے علاقے کے قریب پایا، چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اُسے قبضے میں لے لیا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس طرف کی زمین کو حکم دیا کہ دور ہوجائو اور نیک بستی کی طرف کی زمین کو حکم دیا کہ قریب ہوجا۔ یوں وہ نیک بستی کی طرف ایک بالشت قریب ہوگیا۔ چنانچہ اسے نیک لوگوں میں شمار کرلیا گیا‘‘۔
میری مسلمان مائوں اور بہنو! ذرا غور کرو! یہ کتنا عجیب اور سبق آموز واقعہ ہے۔ یہ شخص سو افراد کا قاتل تھا۔ اس قدر گھنائونے جرم کے باوجود جب وہ شدت سے نادم ہوا اور اس نے سچی توبہ کی تو ارحم الراحمین نے اسے اپنی رحمت سے نواز دیا اور اُسے خوش نصیبوں میں شامل کردیا۔
ہم بھی اللہ تبارک و تعالیٰ سے سچی توبہ کریں تاکہ وہ ہمیں بھی اپنی رحمت سے نوازدے اور ہمیں بھی نیک خواتین میں شامل فرمادے آمین۔
بے شک ’’نیک خاتون‘‘ وہی ہے جو دن، رات خفیہ اور اعلانیہ اپنے رب کے حضور توبہ کرتی ہے اور اپنے گناہوں پر روتی ہے اگر چہ وہ چھوٹے ہی ہوں۔
اگر رونا نہ آئیں اپنے رب کے حضور رونے والا چہرہ بناکر جائو، رب کریم ہماری توبہ ضرور قبول کرے گا۔
جب دل میں شرم ساری اور اصلاح کا پکا ارادہ ہوگا، تو رب رحیم ضرور بخش دے گا۔
حافظ ابن قیمؒ فرماتے ہیں جب گناہگار بندہ احساسِ شرم ساری کے ساتھ رب کے دروازے پر آتا ہے اور کہتا ہے:
اِلٰہِیْ عَبْدُکَ الْعَاصِیْ اَتَاکَ
اللہ تیرا گنہگار بندہ تیرے در پر حاضر ہے۔
مُقِرًّا بِالذُّنُوب وَ قَدْدَعَاکَ
اے اللہ! گناہوں کا اقرار کرتی ہوں اور آپ سے فریاد کرتی ہوں۔
فَاِنْ تَغْفِرْ فَاَنْتَ لِذَاکَ اَہْلُ
اللہ! اگر معاف کردیں یہ بات آپ کو سجتی ہے
فَاِنْ تَطْرُدُ فَمَنْ یَّرْحَمُ سِوَاکَ
اللہ! اگر آپ ہی دھکا دے دیں تو کون ہے ہم پر رحم کرنے والا اور کون ہے سینے سے لگانے والا۔
تو جب انسان اس طرح اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرتا ہے پھر پروردگار اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیتےہیں، رب کریم ہم پر احسان فرمائیں اور سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین۔
میری مسلمان بہنوں موت کا کوئی بھروسہ نہیں، آخرت کی تیاری ابھی سے Start کیجئے۔ قبر کو پُرنور بنانے کی کوشش کیجئے۔ کسی نے خوب فرمایا ہے:
’’دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے
طے کر رہا ہے جو تو دو دن کا یہ سفر ہے‘‘
میری اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے میری اس چھوٹی سی محنت کو قبول فرمائیں اور ہم سب کے لیے یہ مفید ثابت ہوجائیں اور رب کریم ہم سب سے راضی ہوجائیں اور ہمارے تمام کبیرہ و صغیرہ گناہ کو بخش دے۔ آمین۔
vvv