نقطہ نظر

اسلام سے پہلے عورت کا مقام و وقار

عائشہ مجاہدہ
اسلام سے پہلے اگر ہم دیکھیں تو عورت کو ہر طرف ذلیل و خوار کیا جاتا تھا۔ عورت کو فتنہ و فساد کی جڑ تصور کیا جاتا تھا۔ یورپ (Europe) کے دانا لوگ کہتے تھے کہ سانپ سے محبت کی جائے مگر عورت سے نہیں۔
یونان کے مذہب میں عورت کو بہت ناپاک سمجھا جاتا تھا۔ خاوند کسی مصیبت کے وقت اپنی بیوی کو فروخت بھی کرتا تھا۔ یونان وہ پہلی سرزمین ہے جہاں سب سے پہلےعورت کی خرید فروخت کی گئی۔
ہندوستان میں عورتوں کےساتھ بے حد ظلم ہوتا تھا۔ عورت کو پائوں کی جوتی کہا جاتا تھا۔ بیٹیاں والدین کی وراثت سے محروم رکھی جاتی تھیں۔ بیوائوں کو منحوس سمجھا جاتا تھا۔ شوہر مرجاتے تھے تو اُن کے ساتھ ان کو بھی جلنا پڑتا تھا۔ جس کو ستی سسٹم (Sati System) کہتے تھے۔ اور یہ بیوہ عورتیں شوہر کے ساتھ جلنا ہی پسند کرتی تھیں کیونکہ اگر یہ زندہ رہتی پھر یہ آٹھ آٹھ، دس دس مردوں کی Property بن جاتی تھی اور پھر ان مردوں کو جو اچھا لگتا وہ ان بیوائوں کے ساتھ کرتے تھے۔
عرب سے ہم بخوبی واقف ہیں کہ بیٹیاں اگر پیدا ہوتیں تو انہیں زندہ دفن کیا جاتا تھا۔ حیض کے وقت عورتوں کے ساتھ بے حد ظلم کیا جاتا تھا۔ اُسے ناپاک سمجھتے تھے۔ حدیہ کہ خانہ کعبہ کا طواف مرد و عورتیں ننگے ہوکر کرتے تھے اور اُسے ایک مذہبی کام سمجھتے تھے۔ ایسی بے حیائی و بے شرمی کا عالم تھا۔
بُدھ ازم کے نزدیک عورتوں سے تعلق رکھنےو الا کبھی نِروان (جنت) حاصل نہیں کرسکتا۔
غرض یہ کہ اخلاقی، مذہبی اور معاشرتی اعتبار سے عورت کی حالت بہت خوفناک اور بھیانک تھی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر و ثنا ہے (الحمد للہ) جس نے دنیا کے اس اندھیرے پر ترس کھاکر اس اندھیرے کو دور کرنے کے لیے رحمت للعالمین جناب محمد رسول اللہﷺ کو رحمت بناکر بھیجا۔ نبی رحمتﷺ کا انسانی سماج پر احسان عظیم ہے جس نے عورتوں کو ظلم و ستم، بے حیائی اور بے پردگی، بے شرمی کی تباہی سے نکال کر روشنی میں لایا۔ انہیں عزت بخشی، ان کے حقوق بتلائے، ماں، بیوی، بہن، بیٹی کی حیثیت سے ان کے فرائض کیا ہیں وہ بتلایئے اور جہاں اس عورت کو شوہر کے ساتھ جلنا پڑتا تھا وہاں نبی رحمتﷺ نے اس عورت کو یہ حقوق دیئے کہ شوہر کے انتقال کے بعد اگر چاہے تو دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔
میری مائوں اور بہنوں اب ہمیں خود غور و فکر کرنا ہے کہ کتنے بڑے بڑے احسان ہیں اللہ اور اُس کےر سولﷺ کے ہم پر۔
میری بہنو ہر مسلمان خاتون کی تمنا ہوتی ہے کہ میںاللہ کے نزدیک بہترین اور معزز بن جائوں۔ اُس کے نیک و صالح بندوں میں شامل ہوجائوں۔ ہمیں یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ بہترین عورت وہ ہے جس سے اللہ راضی ہوجائے اور اُسے اپنی خصوصی رحمتوں، محبتوں سے نوازدے۔
تو میری بہنو ہم سے بھی اللہ راضی ہوجائے گا انشاء اللہ اور ہمیں بھی بہترین و معزز خواتین میں شامل کردے گا مگر اُس کے لیے یہ شرطیں اور صفات جمیلہ اپنانی ہیں جو اللہ اور اُس کے رسولﷺ نے بیان فرمائی ہیں۔
صفات جمیلہ
پہلی صفت: اللہ کی محبت
مسلمان خاتون اللہ رب العزت کی محبت و اطاعت سے سرشار ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بس صرف اللہ سے زبانی محبت ہو اور کہا کرے کہ مجھے اللہ سے محبت ہے، صرف منہ سے کہنا نہیں ہے بلکہ اطاعت کرنی ہے۔ جب بھی اللہ کے احکام میں سے کوئی حکم آئے بلاچوں چرکے اُسے کرنا ہے۔ جیسے اللہ نے پردے کا حکم دیا، تو پردہ کرنا ہے، نماز کا حکم دیا تو نماز وقت پر پڑنی ہے۔ یعنی دل و جان سے اللہ کی اطاعت کرنی ہے اور یہی حقیقی محبت ہے۔ میری پیاری بہنو اللہ کی اطاعت رسول اللہﷺ کے نقش قدم پر چل کے کرنی ہے۔ اللہ کی پیاری بننے کے لیے ہمیں رسول رحمتﷺ کی Guidance کو follow کرنا ہے۔
دوسری صفت: شوہر کی اطاعت شعار
مسلمان عورت کی اچھی صفات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ شوہر کی وفادار، ہمدرد اور اطاعت شعار ہوتی ہے اور اسے دینی فرائض یاد دلاتی رہتی ہے۔ میری پیاری بہنو رسول رحمتﷺ نے ایک عظیم حدیث ہمارے حق میں بیان فرمائی۔ رسول رحمتﷺ نے فرمایا:
اَلدُّنْیَا مَتَاعٌ وَ خَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا اَلْمَرَأَۃُ الصَّالِحَۃُ (صحیح مسلم)
’’کہ دنیا ساری کی ساری فائدہ مند ہے اور اس میں سب سے نفع بخش چیز نیک بیوی ہے‘‘۔
دوسری حدیث بھی سنیں:
رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’بہترین عورت (بیوی) وہ ہے کہ جب اُس (شوہر) کی طرف دیکھیں تو وہ تمہیں خوش کردے۔ جب تم اُسے کسی کام کا حکم دو تو وہ تمہاری اطاعت کرے اور تمہاری عدم موجودگی میں تمہارے مال اور اپنی ذات کی حفاظت کرے‘‘۔ (سنن ابی دائود)
میری بہنو آپ اپنے خاوندوں کو کیسے خوش کرسکتی ہیں؟ کبھی اس پر غور کیا؟ اگر آپ اُن کے سامنے اچھی خوبصورت پوشاک پہن کے جائیں گی تو کیا وہ خوش نہیں ہوں گے؟ اپنے آپ کو maintain کرو گے اُن کے لیے تو کیا خوش نہیں ہوں گے ضرور خوش ہوں گے۔ ایک بار اُن کے سامنے سج کر تو جائو۔ رسول رحمتﷺ نے فرمایا ام سلمہؓ میرے لیے جنت کی حور کی طرح سجتی تھی۔ مگر افسوس میری بہنو ہم شادی کے موقعوںپر یا کسی کی دعوت ہو، وہاں ہم خوب سج سنور کر نکلتی ہیں مگر اپنے شوہروں کے سامنے جو کپڑے صفائی کرنے میں یا گوبر اٹھاتے وقت پہن کر ہوتے ہیں انہیں کپڑوں میں اپنے شوہروں کے پاس جاتی ہیں۔ اور اس اپنی غلطی کو کوسنے کے بجائے شکایت کرتی رہتی ہیں کہ ہائے میرا خاوند مجھے پیار نہیں کرتا، نیز ہمارے اس طرح رہنے کی وجہ سے اور شوہر کے پاس اچھی طرح سج سنور کر نہ جانے کی وجہ سے ہمارے مرد حضرات غلط قسم کی عورتوں سے تعلقات پیدا کرتے ہیں، جو اس وقت معاشرے کی بہت بڑی اور خطرناک بیماری ہے اور اس کی وجہ ہم بنتی ہیں۔
اپنے شوہر کو خوش کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جب بھی خاوند گھر آئے تو اُسے ہنستے ہوئے smile سے استقبال کیا کرو اور ساس، سُسر کی باتیں بتانے کے بجائے اس سے خیریت پوچھا کرو کہ آپ کا دن کیسا گذرا؟ آپ کا سفر کیا رہا؟ آپ کا کاروبار کیسا رہا؟ وغیرہ وغیرہ۔
ایک اور بات جو اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جب شوہر کسی کام کا حکم دے تو ہمیں وہ شریعت کے حدود میں، مگر افسوس کا مقام ہے کہ کچھ بہنیں شریعت کے خلاف باتوں میں بھی شوہر کا حکم بجالاتی ہیں۔ اگر شوہر چست اور تنگ (Tight) کپڑے پہننے اور eyebrows نکالنے کا حکم دے تو وہ اس پر عمل کرتی ہیں حالانکہ شوہر کی اطاعت ان چیزوں میں نہیں ہوسکتی جو شریعت کے خلاف ہو۔ رسول اللہﷺ نے اس عورت پر لعنت بھیجی ہے جو eyebrows نکالتی ہو۔ اس لیے ہمیں اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے شوہر کی اطاعت کرنی ہے لیکن ناجائز کاموں میں شوہر کی اطاعت نہیں کرنی ہے بلکہ اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کرنی ہے۔