اِسلا میات

اسلام میں حیا

اسلام میں حیا

سید ابواعلیٰ مودودیؒ
حیا کے معنی شرم کے ہیں۔ اسلام کی مخصوص اصطلاح میں حیا سے مراد ’’شرم‘‘ ہے جو کسی امر منکر کی جانب مائل ہونے والا انسان خود اپنی فطرت کے سامنے اور اپنے خدا کے سامنے محسوس کرتا ہے۔ یہی حیا وہ قوت ہے جو انسان کو فحشا اور منکر کا اقدام کرنے سے روکتی ہے، اور اگر وہ جبلتِ حیوانی کے غلبے سے کوئی برا فعل کرگزرتا ہے تو یہی چیز اس کے دل میں چٹکیاں لیتی ہے۔ اسلام کی اخلاقی تعلیم و تربیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ حیا کے اسی چھپے ہوئے مادے کو فطرتِ انسانی کی گہرائیوں سے نکال کر علم و فہم اور شعور کی غذا سے اس کی پرورش کرتی ہے اور مضبوط حاسّہ اخلاقی بناکر اس کو نفسِ انسانی میں ایک کوتوال کی حیثیت سے متعین کردیتی ہے۔
حیا کا دائرۂ کار: اسلامی اخلاقیات میں حیا کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ اس سے چھوٹا ہوا نہیں ہے۔ چنانچہ تمدن و معاشرت کا جو شعبہ انسان کی صنفی زندگی سے تعلق رکھتا ہے اس میں بھی اسلام نے اصلاحِ اخلاق کے لیے اسی چیز سے کام لیا ہے۔ وہ صنفی معاملات میں نفسِ انسانی کی نازک سے نازک چوریوں کو پکڑ کر حیا کو ان سے خبردار کرتا ہے اور ان کی نگرانی پر مامور کردیتا ہے۔ یہاں ہم صرف چند مثالوں پر اکتفا کریں گے۔
دل کے چور: قانون کی نظر میں زنا کا اطلاق صرف جسمانی اتصال پر ہوتا ہے۔ مگر اخلاق کی نظر میں دائرۂ ازدواج کے باہر صنفِ مقابل کی جانب ہر میلان ارادے اور نیت کے اعتبار سے زنا ہے۔ اجنبی کے حسن سے آنکھ کا لطف لینا، اس کی آواز سے کانوں کا لذت یاب ہونا، اس سے گفتگو کرنے میں زبان کا لوچ کھانا، اس کے کوچے کی خاک چھاننے کے لیے قدموں کا بار بار اٹھنا، یہ سب زنا کے مقدمات اور خود معنوی حیثیت سے زنا ہیں۔ قانون اس زنا کو نہیں پکڑ سکتا۔ یہ دل کا چور ہے اور صرف دل ہی کا کوتوال اس کو گرفتار کرسکتا ہے۔ حدیث نبویؒ اس کی مخبری اس طرح کرتی ہے:
’’آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کی زنا نظر ہے۔ اور ہاتھ زنا کرتے ہیں اور ان کی زنا دست درازی ہے۔ اور پاؤں زنا کرتے ہیں اور ان کی زنا اسی راہ میں چلنا ہے۔ اور زبان کی زنا گفتگو ہے اور دل کی زنا تمنا اور خواہش ہے۔ آخر میں صنفی اعضا یا تو ان سب کی تصدیق کردیتے ہیں یا تکذیب۔‘‘(مسند احمد)
فتن�ۂ نظر:نفس کا سب سے بڑا چور نگاہ ہے، اس لیے قرآن اور حدیث دونوں سب سے پہلے اس کی گرفت کرتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے:
’’اے نبیؐ! مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہوں کو ]غیر عورتوں کی دید سے[ باز رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس سے اللہ باخبر ہے۔ اور اے نبیؐ! مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ اپنی نگاہوں کو ]غیر مردوں کی دید سے[ باز رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔‘‘ (النور:64۔ 30، 31)
حدیث میں ہے: ’’آدم زادے! تیری پہلی نظر تو معاف ہے مگر خبردار دوسری نظر نہ ڈالنا۔‘‘
حضرت علیؒ سے فرمایا: اے علی! ایک نظر کے بعد دوسری نہ ڈالو۔ پہلی نظر تو معاف ہے، مگر دوسری نہیں۔ حضرت جابرؓ نے پوچھا کہ: اچانک نظر پڑ جائے تو کیا کروں؟ فرمایا: فوراً نظر پھیرلو۔ (ابوداؤد)
جذبۂ نمائشِ حسن:اس فتنہ نظر کا ایک شاخسانہ وہ بھی ہے جو عورت کے دل میں یہ خواہش پیدا کرتا ہے کہ اس کا حسن دیکھا جائے۔ یہ خواہش ہمیشہ جلی اور نمایاں ہی نہیں ہوتی، دل کے پردوں میں کہیں نہ کہیں نمائشِ حسن کا جذبہ چھپا ہوا ہوتا ہے، اور وہی لباس کی زینت میں، بالوں کی آرائش میں، باریک اور شوخ کپڑوں کے انتخاب میں اور ایسے ایسے خفیف جزئیات تک میں اپنا اثر ظاہر کرتا ہے جن کا احاطہ ممکن نہیں۔ قرآن نے ان سب کے لیے ایک جامع اصطلاح تبرج جاہلیت استعمال کی ہے۔ ہر وہ زینت اور ہر وہ آرائش جس کا مقصد شوہر کے سوا دوسروں کے لیے لذتِ نظر بننا ہو، تبرج جاہلیت کی تعریف میں آجاتی ہے۔ اگر برقع بھی اس غرض کے لیے خوب صورت اور خوش رنگ انتخاب کیا جائے کہ نگاہیں اس سے لذت یاب ہوں تو یہ بھی ’تبرجِ جاہلیت‘ ہے۔ اس کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کا تعلق عورت کے اپنے ضمیر سے ہے۔ اس کو خود ہی اپنے دل کا حساب لینا چاہیے کہ اس میں کہیں یہ ناپاک جذبہ تو چھپا ہوا نہیں ہے۔ اگر ہے تو وہ اس حکمِ خداوندی کی مخاطب ہے کہ ’’اسلام سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں جس بناؤ سنگار کی نمائش کرتی پھرتی تھیں، وہ اب نہ کرو‘‘(الاحزاب:33: 33)۔ جو آرائش ہر بری نیت سے پاک ہو وہ اسلام کی آرائش ہے، اور جس میں ذرہ برابر بھی بری نیت شامل ہو وہ جاہلیت کی آرائش ہے۔
فتنۂ زبان: شیطانِ نفس کا ایک دوسرا ایجنٹ زبان ہے۔ کتنے ہی فتنے ہیں جو زبان کے ذریعے سے پیدا ہوتے اور پھیلتے ہیں۔ مرد اور عورت بات کررہے ہیں۔ کوئی برا جذبہ نمایاں نہیں ہے۔ مگر دل کا چھپا ہوا چور آواز میں حلاوت، لہجے میں لگاوٹ، باتوں میں گھلاوٹ پیدا کیے جارہا ہے۔ قرآن اس چور کو پکڑ لیتا ہے:
’’اگر تمہارے دل میں خدا کا خوف ہے تو دبی زبان سے بات نہ کرو کہ جس شخص کے دل میں (بدنیتی کی) بیماری ہو، وہ تم سے کچھ امیدیں وابستہ کرلے گا۔ بات کرو تو سیدھے سادے طریقے سے کرو (جس طرح انسان انسان سے بات کیا کرتا ہے)‘‘(الاحزاب: 33: 32)
یہی دل کا چور ہے جو دوسروں کے جائز ناجائز صنفی تعلقات کا حال بیان کرنے میں بھی مزے لیتا ہے اور سننے میں بھی۔ اسی لطف کی خاطر عاشقانہ غزلیں کہی جاتی ہیں اور عشق و محبت کے افسانے جھوٹ سچ ملاکر جگہ جگہ بیان کیے جاتے ہیں، اور سوسائٹی میں ان کی اشاعت اس طرح ہوتی ہے جیسے پولے پولے آنچ لگتی چلی جائے۔ قرآن اس پر بھی تنبیہ کرتا ہے:
’’جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے گروہ میں بے حیائی کی اشاعت ہو، ان کے لیے دنیا میں بھی دردناک عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔‘‘ (النور:24:19)
فتنۂ زبان کے اور بھی بہت سے شعبے ہیں اور ہر شعبے میں دل کا ایک نہ ایک چور اپنا کام کرتا ہے۔ اسلام نے ان سب کا سراغ لگایا ہے اور ان سے خبردار کیا ہے۔ عورت کو اجازت نہیں کہ اپنے شوہر سے دوسری عورتوں کی کیفیات بیان کرے:
’’عورت عورت سے خلا ملا نہ کرے، ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی کیفیت اپنے شوہر سے اسی طرح بیان کردے کہ گویا وہ خود اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘(ترمذی)
عورت اور مرد دونوں کو اس سے منع کیا گیا ہے کہ اپنے پوشیدہ ازدواجی معاملات کا حال دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کریں، کیونکہ اس سے بھی فحش کی اشاعت ہوتی ہے اور دلوں میں شوق پیدا ہوتا ہے۔
نماز باجماعت میں اگر امام غلطی کرے، یا اس کو کسی حادثہ پر متنبہ کرنا ہو تو مردوں کو سبحان اللہ کہنے کا حکم ہے، مگر عورتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ صرف دستک دیں، زبان سے کچھ نہ بولیں۔
دیگر حرکات:بسا اوقات زبان خاموش رہتی ہے، مگر دوسری حرکات سے سامعہ کو متاثر کیا جاتا ہے۔ اس کا تعلق بھی نیت کی خرابی سے ہے اور اسلام اس کی بھی ممانعت کرتا ہے:
’’اور وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے (یعنی جو زیور وہ اندر پہنے ہوئے ہیں) اس کا حال معلوم ہو (یعنی جھنکار سنائی دے)۔‘‘ (النور:24:31)
فتنۂ خوشبو: خوشبو بھی ان قاصدوں میں سے ایک ہے جو ایک نفسِ شریر کا پیغام دوسرے نفسِ شریر تک پہنچاتے ہیں۔ یہ خبر رسانی کا سب سے زیادہ لطیف ذریعہ ہے، جس کو دوسرے تو خفیف ہی سمجھتے ہیں، مگر اسلامی حیا اتنی حساس ہے کہ اس کی طبع نازک پر یہ لطیف تحریک بھی گراں ہے۔ وہ ایک مسلمان عورت کو اس کی اجازت نہیں دیتی کہ خوشبو میں بسے ہوئے کپڑے پہن کر راستوں سے گزرے یا محفلوں میں شرکت کرے، کیونکہ اس کا حسن اور اس کی زینت پوشیدہ بھی رہی تو کیا فائدہ ہوا، اس کی عطریت تو فضا میں پھیل کر جذبات کو متحرک کررہی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت عطر لگاکر لوگوں کے درمیان سے گزرتی ہے وہ آوارہ قسم کی عورت ہے۔
’’ جب تم میں سے کوئی عورت مسجد میں جائے تو خوشبو نہ لگائے۔‘‘(مسلم)
مردوں کے لیے وہ عطر مناسب ہے جس کی خوشبو نمایاں اور رنگ مخفی ہو، اور عورتوں کے لیے وہ عطر مناسب ہے جس کا رنگ نمایاں اور خوشبو مخفی ہو۔
فتن�ۂ عریانی: ستر کے باب میں اسلام نے انسانی شرم و حیا کی جس قدر صحیح اور مکمل نفسیاتی تعبیر کی ہے اس کا جواب دنیا کی کسی تہذیب میں نہیں پایا جاتا۔ آج دنیا کی مہذب ترین قوموں کا بھی یہ حال ہے کہ ان کے مردوں اور عورتوں کو اپنے جسم کا کوئی حصہ کھول دینے میں باک نہیں۔ ان کے ہاں لباس محض زینت کے لیے ہے، ستر کے لیے نہیں ہے۔ مگر اسلام کی نگاہ میں زینت سے زیادہ ستر کی اہمیت ہے۔ وہ عورت اور مرد دونوں کو جسم کے وہ تمام حصے چھپانے کا حکم دیتا ہے جن میں ایک دوسرے کے لیے صنفی کشش پائی جاتی ہے۔ عریانی ایک ایسی ناشائستگی ہے جس کو اسلامی حیا کسی حال میں بھی برداشت نہیں کرتی۔ غیر تو غیر اسلام اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ میاں اور بیوی ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہوں۔ ]اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چند ہدایات آگے لباس اور ستر کے احکام میں آرہی ہیں)
’’جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے تو اس کو چاہیے کہ ستر کا لحاظ رکھے، بالکل گدھوں کی طرح دونوں ننگے نہ ہوجائیں۔‘‘
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی برہنہ نہیں دیکھا۔
اس سے بڑھ کر شرم و حیا یہ ہے کہ تنہائی میں بھی عریاں رہنا اسلام کو گوارا نہیں۔ اس لیے کہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔ حدیث میں آتا ہے:
’’خبردار! کبھی برہنہ نہ رہو، کیوں کہ تمہارے ساتھ خدا کے فرشتے لگے ہوئے ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے بجز ان اوقات کے جن میں تم رفع حاجت کرتے ہو یا اپنی بیویوں کے پاس جاتے ہو۔ لہٰذا تم ان سے شرم کرو اور ان کی عزت کا لحاظ رکھو۔‘‘
اسلام کی نگاہ میں وہ لباس درحقیقت لباس ہی نہیں ہے جس میں سے بدن جھلکے اور ستر نمایاں ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورتیں کپڑے پہن کر بھی ننگی ہی رہیں اور دوسروں کو رجھائیں اور خود دوسروں پر ریجھیں اور بختی اونٹ کی طرح ناز سے گردن ٹیڑھی کرکے چلیں، وہ جنت میں ہرگز نہ ہوں گی اور نہ اس کی بْو پائیں گی۔‘‘
ہم نے صرف چند مثالیں اس غرض سے پیش کی ہیں کہ ان سے اسلام کے معیارِ اخلاق اور اس کی اخلاقی اسپرٹ کا اندازہ ہوجائے۔ اسلام سوسائٹی کے ماحول اور اس کی فضا کو فحشا و منکر کی تمام تحریکات سے پاک کردینا چاہتا ہے۔ ان تحریکات کا سرچشمہ انسان کے باطن میں ہے۔ فحشا و منکر کے جراثیم وہیں پرورش پاتے ہیں اور وہیں سے ان چھوٹی چھوٹی تحریکات کی ابتدا ہوتی ہے جو آگے چل کر فساد کی موجب بنتی ہیں۔ جاہل انسان ان کو خفیف سمجھ کر نظرانداز کردیتا ہے، مگر حکیم کی نگاہ میں دراصل وہی اخلاق و تمدن و معاشرت کو تباہ کردینے والی خطرناک بیماریوں کی جڑ ہیں۔ لہٰذا اسلام کی تعلیم اخلاق باطن ہی میں حیا کا اتنا زبردست احساس پیدا کردینا چاہتی ہے کہ انسان خود اپنے نفس کا احتساب کرتا رہے۔ اور برائی کی جانب ادنیٰ سے ادنیٰ میلان بھی اگر پایا جائے تو اس کو محسوس کرکے وہ آپ ہی اپنی قوتِ ارادی سے اس کا استیصال کردے۔