اِسلا میات

اسلام میں ملکیت کا حق

اسلام میں ملکیت کا حق

تحریر: ڈاکٹر طاہرالقادری 
اسلام کے عطا کردہ حق ملکیت میں کھانے، مال رکھنے، مال و متاع سے نفع حاصل کرنے اور مال و متاع کو قانونی طور پر فروخت کرنے، تحفہ دینے، تبادلہ کرنے یا اس کے بارے میں وصیت کرنے کا حق بھی شامل ہے۔
اسلام نے ملکیت کے باب میں انسان کو یہ حقوق آج سے چودہ سال قبل عطا کئے جب ابھی انسان نے تہذیب ارتقا کا یہ سفر طے نہیں کیا تھا۔ قرآن نے حق ملکیت کی ان مختلف جہتوں کو درج مقامات پر بیان کیا۔
’’اور تم اس چیز کی تمنا نہ کیا کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضلیت دی ہے مردوں کے لئے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کیلئے اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ ’’اور یہ کہ ہر انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور یہ کہ اس کی سعی جلد ہی سامنے آجائیگی۔ پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائیگا۔‘‘ ’’اور تم ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق نہ کھایا کرو اور نہ مال کو بطور رشوت حاکموں تک پہنچایا کرو کہ یوں لوگوں کے مال کا کچھ حصہ تم بھی ناجائز طریقے سے کھا سکو حالانکہ تمہارے علم میں ہو کہ یہ گناہ ہے۔‘‘
اسلام انسان کو جائز ذرائع سے حاصل کردہ دولت رکھنے اور اسے استعمال کرنے کا حق عطا کرتا ہے۔ قرآن حکیم کی کئی آیات انفرادی حق ملکیت کو بیان کرتی ہے ارشاد ربانی ہے۔ ’’اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بیشک اللہ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے۔‘‘ ’’اے ایمان والو! ان پاکیزہ کمائیوں میں اسے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرو، اور اس میں سے گندے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ارادہ مت کرو کہ اگر وہی تمہیں دیا جائے تو تم خود اسے ہرگز نہ لوسوائے اس کے کہ تم اس میں چشم پوشی کر لو، اور جان لو کہ بیشک اللہ بے نیاز لائق ہر حمد ہے۔‘‘ ’’آپ ان کے اموال میں سے صدقہ زکوٰۃ وصول کیجئے کہ آپ اس صدقہ کے باعث انہیں گناہوں سے پاک فرما دیں اور انہیں ایمان و مال کی پاکیزگی سے برکت بخش دیں اور ان کے حق میں دعا فرمائیں بیشک آپ کی دعا ان کیلئے باعث تسکین ہے اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔‘‘ قرآن حکیم کی وہ آیات جن میں اہل ایمان کو صدقات، زکوٰۃ اور خیرات کی تلقین کی گئی ہیں ان سے انفرادی حق ملکیت از خود ثابت ہو جاتا ہے
تاہم انفرادی حق ملکیت کو اسلام نے تصور امانت پر استوار کرتے ہوئے کچھ شرائط سے مشروط کیا ہے۔ کوئی بھی اپنی دولت غیر شرعی امور پر خرچ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح اسراف اور بیجا خرچ کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اسلام نے انفرادی ملکیت کے ساتھ اسلامی معاشرے کے افراد پر ایسی معاشی ذمہ داریاں بھی عائد کی ہیں جن کا تعلق اجتماعی مفاد سے ہیں۔
بنیادی ضروریات کی کفالت کا حق
اسلام نے ہر شخص کو خوراک، لباس اور رہائش کی بنیادی ضروریات کا حق ادا کیا ہے۔ یہ ہر شخص کا بنیادی حق ہے کہ اسے اور اس کے خاندان کو بنیادی انسانی ضروریات فراہم کی جائیں۔ افراد معاشرہ کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ ریاست کی اطاعت سے قبل اس سے ان حقوق کا مطالبہ کریں۔ اس لیے اسلامی ریاست کو صاحب حیثیت شہریوں سے زکوٰۃ عشر اور دیگر مدات میں رقم لینے کا حق دیا گیا ہے تاکہ مستحق لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے ذرائع میسر کر سکیں۔ قرآن حکیم کی درج ذیل آیات اس مضمون کو بیان کرتی ہیں۔ ’’ اور جان لو کہ جو کچھ مال غنیمت تم نے پایا ہوتو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول کیلئے اور رسول کے قرابت داروں کیلئے ہے اور یتیموں اور مسافروں اور محتاجوں کیلئے ہے۔ اگر تم اللہ پر اور اس وحی پر ایمان لائے ہو جو تم نے اپنے برگزیدہ بندے پر حق و باطل کے درمیان فیصلے کے دن نازل فرمائی وہ دن جب میدان بدر میں مومنوں اور کافروں کے دونوں لشکر باہم مقابل ہوئے تھے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ’’بیشک صدقات زکوٰۃ محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کیلئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور مزید یہ کہ انسانی گردنوں کو غلامی کی زندگی سے آزاد کرانے میں اور قرضہ داروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنیوالوں پر مسافروں پر زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے
یہ سب اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔‘‘ ’’جو مال بلا جنگ کے اللہ نے اپنے رسول کو دوسری بستیوں کے کافر لوگوں سے دلوایا تو وہ اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے اور یہ مال رسول کے عزیزوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہے تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں سب مال انہیں میں نہ پھرتا رہے اور جو کچھ رسول تم کو دیں وہ لے لو اور جس سے منع فرما دیں اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو یاد رکھو کہ بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔‘‘ ’’آپ پو چھتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں کیا خرچ کریں، فرما دیجئے جس قدر بھی مال خرچ کرو درست ہے مگر اس کے حقدار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتہ دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں، اور جونیکی بھی تم کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔‘‘ ’’تم کو کس بات نے دوزخ میں پہنچا دیا۔ وہ کہیں گے ہم نماز نہ پڑھتے تھے یعنی ہم نے اپنے رب کے سامنے سر نہ جھکایا اور ہم محتاجوں کو کھانا بھی نہ کھلاتے تھے۔‘‘ ’’اپنی منتوں کو پورا کرتے ہیں اور اس قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں جس دن کی مصیبت پھیل پڑیگی۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو مسکین، یتیم اور قیدی کو اس کی یعنی اللہ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں ان کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ ہم تم کو محض اللہ کی خوشنودی کیلئے کھانا کھلاتے ہیں نہ ہم تم سے کوئی معاوضہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔‘‘
مغربی قانون میں بنیادی ضروریات کا حق
1948ء Universal Declaration of Human Rights کے مطابق معیار بود و باش میں ابتدائی ضروریات شامل ہیں جو انسانی زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے درکار ہیں۔ اس ڈیکلیریشن کے آرٹیکل22 میں ہر ایک کو معاشرتی تحفظ کا حق دیا گیا ہے اور تاکید کی گئی ہے کہ اس کی فراہمی کیلئے قومی مساعی اور بین الاقوامی تعاون کو بروئے کار لایا جائے۔ آرٹیکل نمبر 25 معاشرتی سلامتی کی اصطلاح کے مفہوم اور شرائط کو خصوصی طورپر اجاگر کرتا ہے جس سے مراد زندگی گزارنے کا وہ معیار ہے جو افراد کی صحت اور بہبود کیلئے مناسب ہے جس میں خوراک، کپڑے، مکان، طبی علاج معالجہ اور ضروری معاشرتی خدمات شامل ہیں بالخصوص بے روزگاری، بیماری، معذوری، بیوگی، بڑھاپا اور افلاس و غربت کے ان حالات میں جو کسی کے بس سے باہر ہیں۔
1966ء The Intermational Covenant on Economic Social and Cultural Rights میں بالصراحت ان ریاستوں کا ذکر کیا گیا ہے جو اس کنونشن کی فریق ہے اور انہوں نے ذمہ داری لی ہے کہ وہ ہر فرد کو احتجاج اور بھوک سے محفوظ کرنے اور لوگوں کے حالات زندگی بہتر بنانے کیلئے مسلسل ضروری طور پر مناسب اقدام کریں گے۔ یہ اصول 1948ء کے Universal Declaration of Human Rights سے اخذ کئے گئے ان ناگزیر امور کا بیان ہیں جو انسان کے شرف و وقار اور اس کی شخصیت کی آزادانہ نشوونما کیلئے درکار ہیں۔