سرورق مضمون

اسمبلی انتخابات کے حیران کن نتائج/ کانگریس آؤٹ ، مودی کاچھکا ، عام آدمی اِن

اسمبلی انتخابات کے حیران کن نتائج/ کانگریس آؤٹ ، مودی کاچھکا ، عام آدمی اِن

ڈیسک رپورٹ

بھارت میں پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج توقع کے بالکل برعکس رہے ۔ اگرچہ ایکزٹ پول کچھ ایسے ہی نتائج دکھارہے تھے ۔ لیکن کسی کو کانگریس کے اس طرح شکست کھانے کی امید نہ تھی ۔ کانگریس کو میزورم کے بغیر دوسری چار ریاستوں میں عبرتناک شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ کل ملاکر پانچوں ریاستوں میں کانگریس کو 126سیٹیں حاصل ہوئیں جبکہ بی جے پی کو صرف راجستھان میں 162نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ اس طرح سے کانگریس کی ملک میں چھٹی ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔ کانگریس اس طرح سے سیاسی منظر نامہ سے غائب ہوجائے گی کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔ سب سے کراری شکست کانگریس کو دہلی میں ملی جہاں ایک نئی پارٹی عام آدمی پارٹی نے اسے تیسرے نمبر پر دھکیل دیا۔ اس طرح کی شکست خود کانگریسی لیڈروں کے بھی وہم وگمان میں نہ تھی۔ لیکن ووٹروں نے اسے چھٹی کا دودھ یاد دلایا اور اسے سب سے پیچھے دھکیل دیا۔
پانچوں ریاستوں میں ہوئے الیکشن کو اس وجہ سے کافی اہم سمجھا جاتا ہے کہ جلد ہی پارلیمنٹ کے لئے انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی ان انتخابات کے لئے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو بطور وزیر اعظم کے پیش کررہی ہے۔ وزیر اعظم کنڈیڈیٹ کے انہیں نامزد کرنے پر کافی شور اٹھا تھا اور ان کی متنازع شخصیت کو اتنے اہم عہدے کے لئے پیش کرنے کے خلاف ساری سیاسی جماعتوں نے بی جے پی کی مخالفت کی تھی ۔ بلکہ پارٹی کے اندر بھی اس پر گروہ بندی نظر آتی تھی۔ سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن ایڈوانی نے کھل کر اس پر اپنی ناراضگی ظاہر کی تھی اور انہیں منوانے کے لئے کافی کوشش کرنا پڑی۔ اسی طرح مسلم رہنماؤں نے مودی کے وزیراعظم بننے کے خلاف اپنے غم اور غصے کا اظہار کیا۔ لیکن حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ مودی کا جادو سر چڑھ کے بول رہاہے۔ دہلی اسمبلی کے انتخابات کو سب سے زیادہ اہمیت دی جارہی ہے ۔ یہاں کانگریس کی شیلا ڈکشٹ پچھلے پندرہ سالوں سے حکومت کررہی ہے ۔ پارٹی کو شیلا جی سے سخت امید تھی کہ وہ ایک بار پھر الیکشن جیت کر حکومت بنائے گی۔ ان دہلی انتخابات کو آئندہ پارلیمانی انتخابات کا سیمی فائنل قرار دیا جارہاہے ۔ کانگریس نے یہ سیمی فائنل بری طرح سے ہارا ہے اور اب بہت ہی کم امید ہے کہ پارٹی مرکز میں سرکار بنانے میں کامیاب ہوگی۔ دہلی میں یہ نیا اپ سیٹ ہوا ہے کہ یہاں نو مہینے پہلے بنائی گئی عام آدمی پارٹی دوسری بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ پارٹی نے اٹھائیس سیٹیں حاصل کرکے کانگریس کوتیسرے نمبر پر پہنچادیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے سربراہ ارندکجریوال نے شیلا ڈکشٹ کو شکست دے کر اسمبلی سے ہی باہر کردیا ۔ اس طرح بی جے پی سب سے بڑی پارٹی کے طور ابھر آئی ہے ۔ لیکن وہ بھی حکومت سازی کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ اس پارٹی کو اکتیس سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ کانگریس کو صرف آٹھ سیٹوں پر کامیابی ملی ہے ۔ یہ کانگریس کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے لئے بھی بڑی پریشانی ہے کہ ایک نئی نویکی پارٹی نے دہلی میں دونوں پرانی پارٹیوں کا مقابلہ کیا اور ان سے کافی آگے رہی ۔ اس وجہ سے بی جے پی کو بھی خدشہ ہے کہ عام آدمی پارٹی آئندہ پارلیمنٹ الیکشن میں بھی کامیابی حاصل کرے گی ۔کیجریوال نے وعدہ کیا ہے کہ وہ لوگوں کو نصف قیمت پر بجلی اور سات سو لیٹر پانی مفت فراہم کرے گا ۔ یہ وعدے اس نے الیکشن کے دوران لوگوں سے کئے اور لوگوں نے اس کے وعدوں پر اعتبار کرکے اسے کامیاب کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے یہ وعدے کس طرح پورے کرتا ہے۔ وہ بھی اس وجہ سے سخت مشکلات میں پڑا ہے ۔
الیکشن میں بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کو ملی کامیابی کانگریس کے خلاف لوگوں کی ناراضگی کا اظہار ہے۔ پارٹی پچھلے پانچ سال کورپشن کے کئی کیسوں میں ملوث رہی اور روز کوئی نہ کوئی نیا گوٹالہ سامنے آتا تھا۔ اس کے علاوہ کانگریسی حکومت لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی۔ مہنگائی نے اس پارٹی کو سب سے زیادہ اثر انداز کیا۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی سمیت تمام ریاستوں میں اس کے خلاف لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ یہ کانگریس کے لئے سب سے بڑا تازیانہ ہے کہ دہلی میں پندرہ سال تک حکومت کرنے کے بعد بھی یہ یہاں کے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ پارٹی کے تمام بڑے لیڈر دہلی میں رہتے ہیں اور انہوں نے شیلا ڈکشٹ کی الیکشن مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ لیکن شیلا جی خود الیکشن ہارکر پارٹی کو کیا جچاتی ۔ اس طرح سے کانگریس کلین بولڈ ہوکر باہر ہوگئی ہے ۔ بی جے پی کے لئے بھی حالات کچھ زیادہ ٹھیک نہیں ہیں ۔ البتہ کیجریوال اور ان کے ساتھیوں نے جس طرح کامیابی حاصل کی اس سے لگتا ہے کہ آنے والے پارلیمانی انتخابات ان کے ہاتھوں کچھ نئے گھل کھلائیں گے ۔ یہ بڑی اہم بات ہے کہ عام آدمی پارٹی کا اصل ٹارگیٹ آنے والے پارلیمانی انتخابات ہی ہیں۔ اس لئے سب کی نظریں عام آدمی پارٹی پر لگی ہونگی ۔