اداریہ

اسکولوں کا کھلنا بے حد ضروری

اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں تقریباً دو برسوں سے معطل ہیں اس لحاظ سے بچوں کا تعلیمی نظم و ضبط متاثر ہوئے بنانہیں رہ سکا۔حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو ۲۰۰۸ سے ہی کشمیر میں تعلیمی نظام متاثر رہا ۔۲۰۰۸ کی ایجوٹیشن کے بعد ۲۰۱۰ اور پھر ۲۰۱۶ کی ایجوٹیشنوں سے تعلیمی نظام کافی حد تک متاثر رہا تاہم اگرچہ ۲۰۱۷ کے بعد سے تعلیمی نظام معمول پر آنے لگا مگر ۲۰۱۹ کے وسط یعنی اگست ۲۰۱۹ کے ابتدا میں ہی تمام تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور بند کرنی پڑی۔ جب مرکزی سرکار نے دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی عمل میں لائی اور آنا فاناً کشمیر میں تمام کاروباری زندگی ٹھپ رہی علاوہ ازیں ہر قسم کی سرگرمیاں معطل رہی۔ کرفیو کا نفاذ عمل میں لانا پڑا۔ زندگی کے سبھی شعبے متاثر ہوئے بنانہیں رہ سکے، جگہ جگہ بندشیں کرنی پڑی اور صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کےلئے سکولوں کو مکمل طور بند رکھنا پڑا۔ اس طرح سے ۲۰۱۹ کا تعلیمی سال بچوں کی تعلیمی نظام کی بربادی کا سال ثابت ہوا ۔۲۰۲۰ کے ابتدائی ایام میں اگر چہ کہیں کہیں پر سکولوں کاکھلنا شروع ہوا تاہم کورونا وبا کی دستک کیا آئی اور اناً فاناً ابتدا میں ہی اسکول بند رکھنے پڑے۔ اس طرح سے ۲۰۲۰ میں بھی تعلیمی سرگرمیاں معطل رکھنی پڑی۔ لگاتار دو برسوں سے تعلیمی سرگرمیاں معطل رہنے سے ہمارے اسکولی بچے نہ صرف متاثر ہوئے بلکہ ان کا بہت زیادہ نقصان سے دوچارہونا پڑا۔ ان کا کیئرئیر دائو پر لگ گیا۔
نونہال بچوں کا تو زیادہ ہی نقصان ہوا حالانکہ کورونا کے چلتے اگر چہ کئی ایک اسکولوں نے آن لائین کلاسوں کا اہتمام کیا تاہم نونہال بچے جن کا ابھی ابتدا ہی تھا وہ آن لائین کلائس کیسے سمجھتے ان کو آن لائن سمجھنے کا کوئی سُد بُدہی نہ تھا۔ بہر حال سکول انتظامیہ نے اپنا حلال کر لیا اور نونہال بچوں کا کیرئیر تباہ اور والدین پریشان ہوئے بنا نہیں رہے۔
اب جبکہ ایک طرف والدین جو اتنے طویل وقفے کے بعد تعلیمی ادارے کھلنے پر بے حد خوش اور پُرجوش ہیں اور ان دنوں بچوں کے ساتھ نئے انداز میں یکم مارچ سے سکولوں میں درس و تدریس کے عمل کو جاری رکھنے کےلئے بے تاب ہیں۔ حالانکہ طویل وقفے کے بعد تعلیمی ادارے کھلنے کا یہ سفر طلبہ، والدین، انتظامیہ اور اساتذہ کے لیے یکساں دشوار اور صبر آزما ہے جس کو باہمی رواداری اور تحمل کے ساتھ ہی آسان بنایا جاسکتا ہے۔ تقریباً دو تعلیمی سیشن ضائع ہونے کے بعد پھر سے سکول یکم مارچ سے کھل رہے ہیں۔ تاہم خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ کہیں کورونا کے چلتے پھر سے سکولوں کو بند رکھنے کا پلان مرتب نہ کیا جائے۔ اس لحاظ سے والدین میں کافی زیادہ اضطراب پایاجاتا ہے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سکولوں کو ہر صورتحال میں کھولا جائے اور تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور بحال کیا جائے تب ہی تو ہمارا فیوچر یعنی نونہال بچوں کا مستقبل سنوار جانے کا امکان ہے۔