اداریہ

اسی کو سیاست کہتے ہیں!

23 دسمبر 2014کے بعد ریاست میں سبھی حلقوں میں یہ بات گشت کر رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت بننے والی ہے اور آئندہ دنوں میں حکومت تشکیل دی جائے گی البتہ کئی حلقوں میں اس بات کا سوال ہوتا ہے کہ کون پارٹی کس کو ساجھے دار بنا سکتی ہے؟ عوامی حلقوں میں اکثر رائے اگر چہ پی ڈی پی اور بی جے پی پر تھی مگر کئی حلقوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ عین وقت پر کچھ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ سیاست میں ہر کچھ یعنی سب کچھ جائز ہے۔ اس کا اندازہ اس وقت ہو گیا جب نگراں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے گورنر این این ووہرا کو نگراں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے فارغ کرنے کی استدعا کی ہے اور اس کے بعد ریاست میں فی الحال گورنر راج کا نفاذ عمل میں لایا گیا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ گورنر راج رواں ماہ کی 19 تاریخ تک ہی رہے گا یا اس کو اگلے چھ ماہ تک کرنے کی نوبت آئے گی۔ کیونکہ اگر کوئی بڑی پارٹی 44 سیٹوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی تو ظاہر سی بات ہے کہ گورنر راج کا نفاذ جاری رہے گا۔ اگر چہ ایک طرف ظاہری طور پی ڈی پی کو ہی حکومت بنانے کے لئے دوسری چھوٹی پارٹیوں کا تعاون درکار ہے کیونکہ ظاہری طور ریاست میں سب سے بڑی پارٹی کے طور اُبھر آنے والی پی ڈی پی واحد پارٹی ہے اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پہلے نمبر پر پی ڈی پی کو ہی حکومت بنانے کا حق ہے مگر کہتے ہیں سیاست سیاست ہیں جس میں سب کچھ جائز ہے اور دوسری بات یہ کہ یہ ریاست جموں وکشمیر کا معاملہ ہے، یہاں دوسری ریاستوں سے سسٹم کچھ الگ سا ہے اس لئے یہاں کی سیاست کے بارے میں سوچنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہے کیونکہ یہاں کچھ بھی ہو سکتاہے۔ اگر چہ ابھی سبھوں کی نظریں پی ڈی پی  اور بی جے پی پر ہی ہے مگر حالات کبھی بھی پلڑا بدل سکتے ہیں اور یہ اندازہ بھی غلط ہو سکتا ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ اس موقع کا فائدہ کوئی اور سیاسی پارٹی لے سکتی ہے خاص کر نیشنل کانفرنس اس پارٹی کو اگر ایسا کوئی موقع مل جاتا تو یہ پارٹی ہرگز ایسے موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا کیونکہ وہ اقتدار چاہتے ہی ہیں اس لئے وہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے خاص کر اس وقت کیونکہ ریاست میں اس پارٹی کی پوزیشن آئے روز کمزورہوتی جا رہی ہے۔ یہ پارٹی کبھی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گی جس موقع پر اُنہیں اقتدار میسر ہو۔2014 اسمبلی الیکشن نتائج سامنے آتے ہی اس پارٹی کو اندازہ ہو گیا کہ عوام نے بالکل نیشنل کانفرنس کے خلاف اپنے ووٹ کا استعمال کیا اسکا ان کو صحیح طریقے سے اندازہ ہو ہی گیا لیکن اس پارٹی کے لیڈران بھی پرانے سیاستدان ہیں۔ وہ بھی اچھی طرح سے سیاست کرنا جانتے ہیں۔ اس پارٹی کے سیاستدان جانتے ہیں کہ این سی دن بہ دن کمزور ہوتی جا رہی ہے اس لئے آئندہ کے لئے کچھ حد تک پارٹی کی ساکھ بچانے کے لئے کچھ کرنا ضروری ہے اسی بلبوتے پر این سی نے پی ڈی پی کو حکومت بنانے کے لئے زور دیا حالانکہ اگر چہ پی ڈی پی اپنے بلبوتے پر حکومت بنانے کی قابل نہیں ہے تاہم نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی کو بلا کسی شرط کے حمایت دینے کا اعلان کیا۔ پی ڈی پی نے اگر چہ ابھی تک نیشنل کانفرنس کی حمایت حاصل نہیں کی بلکہ انہیں نیشنل کانفرنس کے بجائے بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے میں ہی فائدہ نظر آیا ہے مگر اسی کا فائدہ نیشنل کانفرنس بھی اٹھانا چاہتا ہے۔ این سی پی ڈی پی سے کسی نہ کسی طریقے سے فائدہ اٹھانے کے طاق میں ہے ایک یہ کہ اگر پی ڈی پی نے این سی کی حمایت حاصل کر ہی لی تو حکومت میں ساجھے دار بن سکتی ہے دوسرا یہ کہ اگر پی ڈی پی نے این سی کی حمایت مسترد کر دی اور پی ڈی پی  بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو اس کا فائدہ دوسرے الیکشنوں میں این سی حاصل کرے گی۔ اسی بات کو لے کر نیشنل کانفرنس عوام کے سامنے جائے گی اور عوام کو اس بات کے لئے بیدار کرنے کی کوشش کرے گی کہ این سی نے پی ڈی پی کو 2014 کے اسمبلی ا لیکشن میں بلا کسی شرط حمایت دینے کا اعلان کیا تھا مگر اس وقت پی ڈی پی نے این سی کے بجائے فرقہ پرست پارٹی بی جے پی سے حمایت طلب کی تھی جس کے بعد تاریخ میں پہلی بار ریاست میں فرقہ پرست پارٹی حکومت میں ساجھے دار بن گئی یا بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس وقت این سی کا کہنا ہوگا کہ اگر اسوقت پی ڈی پی نے این سی سے حمایت حاصل کی ہوتی تو بی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا، اس ایک نقطہ کو این سی آئندہ الیکشنوں کو اُبھارے گی ۔ اس نقطہ کو آئندہ ایشو بنانے کیلئے نیشنل کانفرنس کے لیڈران پارٹی میں بہتری آنے کا عندیشہ سمجھتے ہوں گے اسی کو سیاست کہتے ہیں؟