خبریں

اصل مقصد سمجھنا ضروری

اصل مقصد سمجھنا ضروری

بہت خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو ماہِ رمضان کے روزے رکھ کر اللہ کو خوش کرتے ہیں ۔ اسلام نے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جو عبادات فرض کی ہیں ان میں ماہِ رمضان کے روزوں کو بڑی اہمیت ہے ۔ اللہ نے روزوں سے متعلق فرمایا ہے کہ روزے میرے لئے ہیں اور ان کا اجر میں خود ہوں ۔ روزے تزکیہ نفس کے لئے بہت ہی اہم ہیں ۔ انسان کا یہ عمل بہت ہی عظیم عمل ہے ۔ صبح اٹھ کر پورا دن انسان کچھ کھاتا پیتا نہیں ہے ۔ سحری کے وقت سے لے کر افطار تک کافی موقعے ایسے ملتے ہیں جب آدمی کچھ کھا پی سکتا ہے اور کسی کو خبر بھی نہ ہوگی ۔ لیکن روزے دار ایسا نہیں کرتا ہے۔ بھوک سے برا حال ہوتا ہے ۔ پیاس سے زبان سوکھ جاتی ہے اور کمزوری سے انسان ڈھولنے لگتا ہے ۔ لیکن ایک دانہ بھی نہیں کھاتا ہے ۔ وجہ بس اللہ کا خوف ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس عمل کو اعلیٰ عمل کہہ کر اس کا اجر اپنے ذمے لے لیا۔اللہ کے رسول نے استقبال رمضان کو بڑی اہمیت دی ہے ۔ آپ ؐ ماہ شعبان کے آخری ایام سے ہی ماہ صیام کی تیاریوں میں لگ جاتے تھے اور اپنے صحابہ سے بھی کہتے تھے کہ ایک ایسا مہینہ آنے والا ہے جو بہت ہی اہم اور مقدس مہینہ ہے ۔ اس مہینے میں مغفرت تلاش کرنے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کو بڑی اہمیت دی گئی ہے ۔ اس مہینے میں روزوں کے علاوہ شب بیداری اور صدقات و خیرات کی بھی تاکید کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانی کی ایک بڑی شناخت ماہ رمضان کے روزے قرار دئے گئے ہیں ۔
ماہ رمضان میں ہم دیکھتے ہیں کہ بڑی تعداد میں لوگ روزے رکھتے ہیں ۔ اللہ کی بارگاہ میں عجز و انکساری سے دعائیں مانگتے ہیں۔ صدقات و خیرات بھی ادا کرتے ہیں ۔ سحری و افطار پر اچھے اچھے کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ لیکن روزوں کا اصل مقصد حاصل نہیں کر پاتے ہیں ۔ اس مہینے میں بھی لوگوں کی زندگی میں کوئی اسلامی رنگ نظرنہیں آتا ہے۔ ان کے ہاتھوں رحم کے بجائے ظلم ہوتا ہے ۔ ان کے ذریعے اسلام کی بیخ کنی ہوتی ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے روزوں کا اصل مقصد نہیں سمجھا ہے ۔ یہ روزوں کوحکیم کے فاقوں کے برابر سمجھتے ہیں ۔ فاقہ رہ کر یہ اپنے جسم کو تکلیف تو دیتے ہیں لیکن ثواب سے خالی رہتے ہیں ۔ ایسے روزوں کا کوئی مقصد نہیں ہے ۔اس طرح کے روزوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ اس مہینے میں بھی برائیاں ہوتی ہیں ۔ لوگ بدیوں اور گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں ۔ یہ روزوں کا اصل مقصد نہیں ہے ۔ روزوں سے ہماری زندگی بدلنی چاہئے ۔ ان سے ہم صحیح معنی میں مسلمان نظر آنے چاہئے ۔ روزوں سے کچھ حاصل نہ ہوتو اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہونگی ۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے کہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں فاقوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے ۔ ہمیں سوچنا چاہئے ، کہیں ہم ایسے ہی روزداروں میں شامل تو نہیں ۔ہم روزہ تو رکھتے ہیں، لیکن اپنی زندگی بدلنے کے لئے تیار نہیں ۔ ہم صبح و شام بھوکے رہتے ہیں، نماز بھی پڑھتے ہیں ، صدقہ بھی دیتے ہیں ، خیرات بھی کرتے ہیں ۔ لیکن سب کچھ لاحاصل ہے ۔ اس سے ہماری زندگی میں کوئی بدلائو نہیں آتا ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ روزوں میں یہ صفت نہیں ہے ۔ بہت سے مسلمان ایسے بھی گزرے ہیں جن کی زندگی میں روزہ داری سے انقلاب آیا تھا۔ لیکن ہم روزوں کا اثر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ ہمارے پاس اس پر سوچنے کا وقت نہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر کوئی اپنا جائزہ لے اور روزوں کا اصل مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ ورنہ ہمیں بھی روزوں سے فاقوں کے سوا کچھ نہیں ملے گا ۔