مضامین

اعتکاف: کیسے مفید بنایا جاسکتا ہے؟

اعتکاف: کیسے مفید بنایا جاسکتا ہے؟
حافظ محمد ادریس
ہم یہاں اعتکاف کے ضمن میں محض رہنمائی کی خاطربطور نمونہ ٹائم ٹیبل تجویز کر رہے ہیں۔اس کی روشنی میں آپ اپنا پروگرام خود مرتب کرسکتے ہیں۔بیسواں روزہ آپ مسجد میں افطار فرمائیں گے اور آخری روزہ افطار کرکے بعد نماز مغرب اعتکاف سے فارغ ہوں گے۔اس لیے ہم شام سے شام تک کا پروگرام دے رہے ہیں۔خواتین بھی بیسواں روزہ افطار کرتے ہی گھرمیں مختص مقام (مْعٗتَکَفۃ ) میں مقیم ہوجائیں اور نیا چاند نظر آنے تک وہیں رہیں۔
1۔افطار سے قبل اور بعد
افطار سے پہلے انفرادی دعا قابل ترجیح ہے مگر اجتماعی دعا بھی کی جا سکتی ہے۔نمازِ مغرب اور افطاری کے بعد عشاء کے درمیان تراویح میں پڑھی جانے والی منزل کا ترجمہ اور خلاصہ دیکھ لیا جائے تو تراویح میں پڑھی جانے والی منزل کی سماعت کا زیادہ لطف اور اس سے حلاوتِ ایمانی کے نموکا زیادہ موقع پیدا ہوگا۔
2۔نماز عشا ء و تراویح کی ادایگی کے بعد
تراویح کے بعد نمازیوں کے سامنے متعلقہ منزل کا خلاصہ کوئی ساتھی پیش کرے۔ اگر مسجد میں پہلے سے اس کا اہتمام ہو تو اسے سماعت فرمائیں۔ پروگرام کے آخر میں اس موضوع سے متعلق سوالات کے جواب دیے جائیں۔ خواتین کا جہاں اجتماعی اعتکاف ممکن ہو وہاں خواتین بھی اس کا اہتمام کرسکتی ہیں۔خواتین کی امامت کوئی صاحبِ علم وفضل اور حافظہ خاتون کر سکتی ہیں۔فرق یہ ہے کہ وہ مرد امام کی طرح آگے الگ کھڑی ہونے کے بجائے صف کے درمیان میں دیگر خواتین کے برابرہی کھڑی ہوں گی۔
3۔اجتماعی مطالعہ
تراویح سے فارغ ہونے کے بعد ایک گھنٹہ کے لیے اجتماعی مطالعہ کیا جائے اور پندرہ منٹ باہمی تبادلہ خیالات ، سوال و جواب اور وضاحت وغیرہ کے لیے رکھے جائیں۔سوال و جواب کا مقصد افہام و تفہیم ہو،لایعنی تکرار اور طولانی مباحث سے اجتناب برتا جائے۔ ماحول دوستانہ اور خوشگوار رکھنا فرض ہے۔
4۔آرام
مطالعے سے فارغ ہو کر فوراً سونے کی تیاری کی جائے اور با وضو سونے کی کوشش کی جائے۔مسنون دعائیں پڑھتے ہوئے بسترپر دراز ہو جائیں اور جب تک نیند نہ آئے دل میں تلاوت کرتے رہیں۔وقت بہت قیمتی متاع ہے۔اس کے ضیاع سے ہمیشہ بچنا چاہیے مگر اعتکاف میں تو ہر لمحہ سوچ سمجھ کر گزارناضروری ہے۔سال بھر میں محض یہ ایک عشرہ ہے، اس لیے اس کی بڑی قدر ہے۔
5۔سحر خیزی اور نماز فجر
سحری کے وقت سے حسب توفیق ایک دو یا اڑھائی گھنٹے قبل اٹھیں۔ تیاری کرکے نوافل ادا کریں۔نوافل کے بعد مسنون دعائیں یا احادیث یاد کرنے کی کوشش کریں۔سحری کا وقت ختم ہونے سے قبل سحری سے فارغ ہو جائیں اور اپنے مْع تَکَف سے مسجد کے ہال میں پہنچ کر صفِ اوّل میں نمازفجرباجماعت ادا کریں۔نماز کے بعد مختصر وقت کے لیے تفہیم القرآن یا کسی بھی تفسیرِ قرآن کا اجتماعی مطالعہ کیجیے۔ہمت ہوتوسورج نکلنے تک تلاوت کیجیے اور سورج نکلنے کے بعد نماز چاشت ادا کرکے کچھ دیرکے لیے آرام کرلیجیے۔
6۔بیداری
کم و بیش دو گھنٹے آرام کرنے کے بعد بیدار ہوکر وضو کیجیے۔تحیۃ الوضو کے نفل ادا کیجیے اور پھر تلاوت قرآن مجیدکم از کم ایک پارہ کا اہتمام کیجیے۔تلاوت کے بعد مطالعہ میں وقت گزاریے،ذکر اللہ کے فضائل،سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرت صحابہؓ کے واقعات سے ایک دوسرے کو تذکیر اور اپنے ایمان کی نمو کا اہتمام فرمائیں۔دنیوی اور لایعنی باتوں سے مکمل اجتناب ازحد ضروری ہے۔
7۔نماز ظہر اور ما بعد
نماز ظہر ادا کرنے کے بعدہر ساتھی اپنے ذوق کے مطابق آرام کرنا چاہے تو آرام کرے، تلاوت ونوافل اورمطالعہ کی توفیق ملے تو اس میں اپنا وقت صرف کریں۔کوئی ساتھی سوال پوچھنا چاہے تو اہل علم ساتھی اس کی تشفی کا اہتمام کریں۔سوال و جواب کی یہ محفل سنجیدہ،پرْوقار اور علمی افہام و تفہیم کا نمونہ ہو نہ کہ بحث و مجادلہ کا میدان۔آوازیں پست اور لب و لہجہ شیریں ہونا چاہیے۔ مْعتَکِف حضرات کو اتنی دھیمی آواز میں علمی تبادلہ خیال کرنا چاہیے کہ دیگرنمازیوں کی عبادت میں خلل واقع نہ ہو۔
8۔نماز عصر اور مابعد
نماز عصر ادا کرنے کے بعد درسِ قرآن،درسِ حدیث یا کسی موضوع پر گفتگو کی جائے جس کے بعد تمام ساتھی اپنے جذبات وخیالات کا اظہار کریں۔یہ خیالات اپنے آپ کو اور دوسرے احباب کو اللہ سے جوڑنے،آخرت کی فکر پیدا کرنے اور تزکیہ نفس کی منزل پالینے پر مرکوز ہونے چاہییں۔9۔افطار
افطار سے قبل کچھ وقت بالکل تنہائی میں خود احتسابی کے لیے وقف ہونا چاہیے۔ اپنا جائزہ لیا جائے کہ منزل کی جانب پیش قدمی کی رفتار کیا ہے۔ افطاری اجتماعی طور پر کرنی چاہیے۔مسجد میں موجود نمازیوں کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر خاموشی یا مسنون دعائیں ہر مْع تَکِف کا امتیازی وصف ہونا چاہیے۔عام قسم کی گفتگو سے اجتناب برتا جائے۔یہ قبولیت دعا کا خصوصی وقت ہوتا ہے اور دعا میں عاجزی سے حسن پیدا ہوتا ہے۔
سب سے اہم بات مْع تَکِف کا اپنے ساتھیوں کے ساتھ ذاتی برتاؤ اور حسن سلوک ہے۔ایثار وقربانی پر بہترین تقریر کرنے سے وہ اثر نہیں ہو سکتا جو عملی مظاہرے سے ہوتا ہے۔جن نئے ساتھیوں کو آپ اعتکاف کی دعوت دے کر اپنے ساتھ شامل کریں گے،ان سے اعتکاف کے بعد مسلسل رابطہ رکھیے۔انشاء اللہ اس تجربے سے آپ اپنا حلقہ احباب وسیع کرنے اور تحریک کے اثرات پھیلانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔اعتکاف کے دوران فون،ریڈیو،اخبارات سے تعلق منقطع کرلیں گے تو اعتکاف کے حقیقی مقاصد تک رسائی ممکن ہوگی۔ یہ چیزیں اس انہماک کے منافی ہیں جو اعتکاف کا مقصودِ حقیقی ہے۔
10۔مسجد سے رخصتی
جب ماہِ شوال کا چاند نظر آجائے تو اعتکاف کی مدت ختم ہو جاتی ہے۔نماز مغرب کے بعد مْع تَکِف حضرات اپنے گھروں کو جا سکتے ہیں مگریہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ غیرضروری تکلفات اور لایعنی اعمال کا اہتمام کرتے ہیں۔مْعتَکِف کو ہار پہنائے جاتے ہیں،مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں اور چراغاں کیا جاتا ہے۔افسوس ہے کہ بعض لوگ پٹاخے بھی چھوڑتے ہیں۔ ان اعمال کی ہرگز کوئی شرعی حیثیت نہیں بلکہ یہ سب بدعات وخرافات ہیں جن سے اجتناب ضروری ہے۔ان کی جگہ صدقہ کرنے،تذکیر و نصیحت اور دعاو توبہ کی عادت ڈالنی چاہیے۔ یہی مسنون طریقہ ہے اورامت کی کامیابی کا راز اتباع سنت ہی میں پنہاں ہے۔
مطالعہ کے لیے کتب
ماہِ رمضان میں سب سے زیادہ وقت تلاوت قرآن مجید کے لیے ہی وقف کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ دیگر دینی واسلامی کتب کا مطالعہ بھی تزکیہ نفس میں ممدومعاون ثابت ہوتا ہے۔ یہ کتب ذوق کے مطابق بھی منتخب کی جاسکتی ہیں تاہم یہاں راہنمائی کے لیے چند کتب کے نام درج ہیں:
تفہیم القرآن، تفہیم الاحادیث (خصوصاً جلد چہارم)، محسن انسانیت، سیرت سرورِعالمؐ، اذکارِ مسنونہ، رحمان کے سائے میں، سیرت صحابہ وصحابیات پر کوئی سی کتب، تزکیہ نفس، تحریک اور کارکن، فضائل قرآن، کتاب الصوم، خطبات(سید مودودیؒ )، تزکیہ نفس پر مولانا امین احسن اصلاحی اور مولاناصدرالدین اصلاحی کی تصانیف مفید رہیں گی۔