اداریہ

افسپا منسوخی کا اختیار

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بالآخر اعتراف کر ہی لیاکہ ان کی حکومت کے پاس متنازعہ قانون آر مڈ فورسز سپیشل پاورس ایکٹ منسوخ کرنے کا اختیار ہے تاہم وہ اس مسئلہ پر سیکورٹی فورسز کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتے ہیں۔عمر عبداللہ نئی دلّی دو روزہ کنکلیو ’’ایجنڈا آج تک‘‘میں راہل کنول سے گفتگو کررہے تھے۔انہوں نے کہا’’اگر میں اسے خود منسوخ کرنا چاہتا ،اْس صورت میں واحد ضرورت کابینہ سے منظوری لیکر سفارشات گورنرکو بھیجنا تھیں ‘‘تاہم ایسا کر نا معقول نہیں ہے۔وزیراعلیٰ نے کئی اضلاع میں فوج کی ضرورت نہ ہونے کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ’’یہ کہنا غلط ہوگا کہ فوج کچھ ذاتی مفادات کیلئے افسپا منسوخی کی مخالفت کررہی ہے ،ان کے کچھ سٹریٹجک خدشات ہیں جن کا ہم ازالہ کررہے ہیں‘‘۔عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ مخلوط حکومت کی سربراہی کررہے ہیں جہاں کے ان کے پاس مکمل اختیارات نہیں ہے تاہم انہوں نے سلامتی سے متعلق کابینہ سب کمیٹی کو اس مسئلہ پر قائم کرنے کی کوشش کی۔یاد رہے کہ عمر نے گزشتہ سال اس قانون کی منسوخی کیلئے کئی ڈیڈ لاین مقرر کرنے کے علاوہ عوامی جلسوں میں کھلے عام کہا کہ ان کی حکومت بہت جلد اس قانو ن کو منسوخ کرے گی تاہم انہیں فوج کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑااور یوں یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑگیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دفعہ370سے متعلق عوام میں بہت زیادہ کنفیوژن پایاجارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ قانون جموں و کشمیر کو دیگر ریاستوں سے ملاتا ہے اوریہ جموں وکشمیر اور باقی ملک کے درمیان پل کا کام کرتا ہے۔دفعہ370سے متعلق مودی کے حالیہ بیان پر عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے اپنے ٹویٹوں میں کہیں پر بھی یہ نہیں کہا کہ اس قانون پر بحث نہیں ہونی چاہئے تاہم انہوں نے خبر دار کیا کہ اس قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے نتیجہ میں ریاست کے ملک کے ساتھ رشتوں میں عدم استحکام پیدا ہوگا۔عمر عبداللہ نے پشتینی باشندگی قانون سے متعلق اعتراف کیا کہ ان کی جماعت کا 2002تک اس قانون کے حوالے سے یہی موقف تھا کہ غیر ریاستیوں کے ساتھ شادی کرنے والی ریاستی خواتین شہریت سے محروم ہونگی تاہم 2002کے بعد یہ تبدیل ہوگیا۔انہو ں نے کہا کہ ’’یہ معاملہ اب طے شدہ ہے ،ہم نے اس مسئلہ پر ریاستی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرنے کو بھی ترجیح نہیں دی بلکہ اس کی شقوں کی عمل آوری یقینی بنائی‘‘۔وزیراعلیٰ نے اعتراف کیا کہ مود ی کی ریلی نے جموں میں لہر کھڑا کی ہے اور مودی کا اثر دیگر ریاستوں میں بھی نمایاں ہے۔انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ مودی کی ترقی نے بھاجپا کارکنوں کو نئی حرارت بخش دی۔انہوں نے کہا’’میں نے یہ پہلے بھی کہا ہے۔یہ کہنا غلط ہوگا کہ ملک میں مودی کی لہر چل رہی ہے تاہم یقینی طور پر انہوں نے اثر پیدا کیا خاص کر بی جے پی کارکنوں پر‘‘۔جب انہیں مودی کی ریلی کے حوالے سے ٹویٹ کی گئی تصویر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تصویر انہوں نے نہیں لی تھی بلکہ کسی نے انہیں بھیج دی تھی۔انہوں نے تاہم اعتراف کیا کہ ریلی میں تقریباً50سے60ہزار کے قریب لوگ تھے جو جموں میں بہت بڑا عوامی اجتماع تھا۔انہوں نے کہا’’مجھے بتایا گیا کہ اس سے پہلے ایسا عظیم اجتماع ایک بین الاقوامی کرکٹ میچ،دارا سنگھ کے ایک کشتی مقابلہ اور اٹل بہاری واجپائی کی ایک سیاسی ریلی کے دورا ن دیکھنے کو ملا تھا‘‘۔بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ا ن کی جماعت کا این ڈی اے اور سابق وزیراعظم واجپائی کے ساتھ اتحاد تھااور مودی اور واجپائی کے درمیان کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔انہوں نے کہا’’ایسے کسی اتحاد میں دوبارہ شامل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے کیونکہ اب واجپائی اور مودی میں کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے‘‘۔ریاست میں حالات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ریاست کے حالات دن بدن بہتر ہوتے جارہے ہیں۔