خبریں

افسپا کچھ لوگوں کیلئے من پسند قانون

افسپا کچھ لوگوں کیلئے من پسند قانون

مرکز ی حکومت کی طرف سے افسپا کی واپسی کو فی الحال ناممکن قرار دینے پروزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ کچھ لوگوں کوکبھی بھی افسپا کی واپسی کیلئے موزون وقت نظر نہیں آئے گا کیونکہ یہ لوگ بقول ان کے ایسے قوانین کو پسند کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے 1996کے اسمبلی انتخابات کو مشکل ترین الیکشن قرار دیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ شوپیان ہلاکتوں سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ حکومت کو موصول ہوگئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے آرمڈ فورسز سپیشل پاورس ایکٹ کی واپسی کے امکان کو خارج کرنے سے متعلق امور داخلہ کے مرکزی وزیر کی طرف سے پارلیمنٹ میں دئے گئے بیان کے بارے میں کہا ’’کچھ لوگ ایسے قوانین کو بہت پسند کرتے ہیں اور افسپا کی منسوخی کیلئے انہیں کبھی موزون وقت نظر نہیں آئے گا‘‘۔ عمر عبداللہ نے بتایا ’’ مرکز کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت جاری ہے ، پہلے یو پی اے کی سرکار کیساتھ بات چیت چل رہی تھی اور اب این ڈی اے حکومت کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے، کچھ لوگ اس قانون کی واپسی کے لئے کبھی بھی مناسب وقت نہیں پائیں گے کیونکہ وہ ان قوانین کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں‘‘۔ وزیر اعلیٰ نے شدید ردعمل کاا ظہار کرتے ہوئے کہا’’اگر یہاں بندوقیں سو فیصد خاموش بھی ہوں گی، حالات پر امن ہونگے اور تشدد کا کوئی واقعہ پیش نہیں آئے گا، تب بھی یہ لوگ قانون نافذ رکھنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ تراش لیں گے اور کہیںگے کہ وقت موزون نہیں ہے‘‘۔ عمر عبداللہ نے سوالیہ انداز میں پوچھا ’’مجھے نہیں معلوم کہ معقول وقت کے لئے وہ کس طرح کی صورتحال کا تعین کرنا چاہتے ہیں، اگر وہ ہمیں اس بارے میں بتائیں گے تو ہم وہ حالات پیدا کرنے کی کوشش کریںگے‘‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا ’’جب کبھی بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ وقت مناسب ہے تو وہ انکار کرکے کہتے ہیں کہ اس سال نہیں اگلے سال ، پھر اگلے سال اور اس طرح اس ہدف کا فاصلہ بڑھا دیا جاتا ہے ، مجھے امید ہے کہ ان کی سوچ تبدیل ہوگی اور افسپا کی واپسی کا عمل شروع کردیا جائے گا‘‘۔ جب عمر عبداللہ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا آنے والے اسمبلی انتخابات ریاست کی تاریخ کامشکل ترین الیکشن ہوگا؟ تو انہوں نے دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا ’’نہیں ! کیوں؟‘‘ عمر عبداللہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ 1996کے اسمبلی انتخابات کو ریاست کی تاریخ کا سخت ترین الیکشن سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’’ اْس وقت کی ملی ٹینسی اور اِس وقت کی ملی ٹینسی میں زمین آسمان کا فرق ہے ، شاید آنے والا الیکشن کسی کے لئے سیاسی اعتبار سے مشکل ہوگا لیکن جہاں تک انتظامیہ اور سیکورٹی کا تعلق ہے، میرا ماننا ہے کہ 1996کے انتخابات ہمارے لئے سب سے مشکل تھے‘‘۔ عمر عبداللہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ شوپیان ہلاکتوں کی تحقیقات کررہے جوڈیشل کمیشن نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ حکومت کو سونپ دی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کہا ’’ہمیں کل شام ہی رپورٹ موصول ہوئی ہے اور ہم نے یہ رپورٹ محکمہ داخلہ کو جائزے کے لئے بھیج دی ہے، وہاں سے رپورٹ موصول ہوگی تو ہم اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ ہمیں کیا کرنا ہے؟‘‘۔ وزیر اعلیٰ نے ایک مرتبہ پھر مہاراشٹرا میں ممبر پارلیمنٹ کے ہاتھوں ایک مسلم ملازم کو زبردستی کھانا کھلانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور اس واقعہ کو غنڈہ گردی سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا ’’اگر وہ ملازم کے بارے میں یہ جانتے تھے کہ وہ مسلم ہے ، تو یہ زیادہ شرمناک ہے، اگر وہ نہیں بھی جانتے تھے تو پارلیمنٹ ممبران کے ہاتھوں اس طرح کی غنڈہ گردی ایک اچھی چیز نہیں ہے‘‘۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا ’’ہمیں الیکشن جیتنے کے بعد اپنے رویہ سے مثال قائم کرنی چاہئے اور اگر ہم اپنے ملک کے لوگوں کے لئے اس طرح کی مثال قائم کرتے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ یہ انتہائی شرمناک ہے‘‘۔ عمر عبداللہ کا کہا تھا ’’اگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ ایک مسلم ہے تو میں کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہوں لیکن اس کے باوجود اس واقعہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہم کسی ممبر پارلیمنٹ کی طرف سے غنڈہ گردی کی امید نہیں رکھتے ‘‘۔