اداریہ

’افسپا‘ ہٹے بھی تو کیا ہوا؟

ریاست کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ گزشتہ کئی برسوں سے افسپا کے خاتمے کی مانگ کر رہے ہیں ، حالانکہ اگرچہ کئی دفع انہوں نے مرکز کے ساتھ یہ معاملہ اُٹھایا تاہم مرکز فوج کو خوش رکھنے کیلئے افسپا ہٹانے کے حق میں نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ مرکز وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے افسپا ہٹانے کے اس مانگ کو خاطر میں میں نہیں لیتے ہیں۔جس کے بعد وزیراعلیٰ عمر عبداللہ یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ اب وہ دوبارہ چھ ماہ کے بعد مرکز کے ساتھ یہ معاملہ اٹھانے جا رہے ہیں، اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ عمر عبداللہ عوام کو ایک طرف سے غلط پیغام دے رہا ہے کہ وہ چھ ماہ کے بعد دوبارہ مرکز کے ساتھ افسپا ہٹانے کے بارے میں یاد دہانی کرائے گا ۔ اب جبکہ نئے پارلیمانی انتخابات میں دو تین ماہ باقی رہے اور نہ جانے مرکز میں سیاست کونسا رُخ اختیار کرنے والی ہے اور اقتدار کونسی سی پارٹی سنبھال رہی ہے۔اس کے بارے میں قبل از وقت کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے۔عوامی حلقے عمر عبداللہ کا یہ بیان کہ چھ ماہ کے بعد مرکز کے ساتھ افسپا ہٹانے کیلئے معاملہ اٹھایا جائے گا ،کا یہی مطلب لیتے ہیں کہ اب پارلیمانی الیکشن کے ساتھ ساتھ رواں سال ریاست میں اسمبلی چناؤ بھی ہونے جا رہے ہیں اس کے پس منظر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ آئے روز یہ بیان جاری کر رہے ہیں تاکہ اُن کی پارٹی کیلئے ’’افسپا‘‘ ووٹ بنک کے طور استعمال کیا جائے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کیا ’’افسپا‘‘ کلی یا جزوی طور ہٹ جانے سے کشمیریوں کو آزادی اور حقوق مانگنے پرکچھ نہیں کہا جائیگا۔ تشدد نہیں ہوگا۔ نوجوان کو جیلوں میں بھر کر سڑائے نہیں جائیگی۔ قتل و غارت ،لوٹ مار نہیں کی جائے گی، گھر نہیں جلائے جائینگے بستیاں اجاڑی نہیں جائے گی، بچے یتیم اور خواتین بیوہ نہیں بنیں گی۔کیا ’افسپا‘ کے خاتمے سے یہاں حقوق مانگنے پر حقوق انسانی پامال نہیں ہوں گے۔ کیا افسپا ہٹائے جانے سے احتجاج کرنے والوں پر گولیاں نہیں چلایں گے، پتھر کا جواب گولی سے نہیں دیا جائے گا۔ عوامی حلقے یہی اخذ کر رہے ہیں کہ افسپا ہٹے بھی تو کیا ہوا؟