مضامین

افغانستان میں امریکہ کی شکست

امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے نائن الیون کے بعد کہا تھا کہ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور اگر وہ نائن الیون کے تناظر میں افغانستان پر حملہ آور نہ ہوتا تو واحد سپرپاور کی توہین ہوتی۔ لیکن اخلاقیات سے محروم طاقت کا مسئلہ عجیب ہے۔ وہ اپنا اظہار نہ کرے تو بھی اس کی توہین ہوتی ہے، اور اگر اظہارکے بعد اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکے تو بھی اس کی توہین ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو افغانستان میں امریکہ کی جارحیت ایک توہین سے دوسری توہین تک کا سفر بن گئی ہے۔ امریکہ نائن الیون کے بعد افغانستان میں کامل فتح حاصل کرنے آیا تھا، لیکن آج امریکہ ہی نہیں اْس کے اتحادیوں کو بھی افغانستان میں مکمل شکست کا سامنا ہے۔ لیکن امریکہ اور اْس کے اتحادیوں کی شکست کی تفصیل کیا ہے؟
افغانستان میں امریکہ اورطالبان کا مقابلہ ڈائناسور اور چیونٹی کا مقابلہ تھا۔ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور تھا۔ اس کی سیاسی طاقت اور طالبان کی سیاسی طاقت میں ایک اور ایک لاکھ کا فرق تھا۔ ان کی اقتصادی طاقت میں ایک اور کروڑ کا تعلق تھا۔ فریقین کی عسکری طاقت میں ایک اور ایک ارب کی نسبت تھی۔ لیکن اس کے باوجود چیونٹی نے ڈائناسور کو چاروں خانے چت کردیا ہے۔ لیکن اس بات کا مفہوم کیا ہے؟
امریکہ افغانستان میں طالبان کو ختم کرنے آیا تھا لیکن گیارہ سال بعد صورت حال یہ ہے کہ افغانستان کے 60 فیصد پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ امریکہ افغانستان میں آیا تھا تو طالبان افغانستان میں کہیں بھی نظر نہیں آتے تھے لیکن امریکہ کی جارحیت کے گیارہ سال بعد اگر آدھے سے زیادہ افغانستان پر ان کا قبضہ ہے تو یہ طالبان کی شکست ہے یا امریکہ اور اْس کے اتحادیوں کی؟ لیکن مسئلہ محض طالبان کی موجودگی کا نہیں۔ آدھے سے زیادہ افغانستان میں ان کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ انہیں عوامی حمایت بھی حاصل ہے ورنہ امریکہ اپنے چار درجن سے زیادہ اتحادیوں کے ساتھ افغانستان میں موجود ہو اور ان کا حریف آدھے سے زیادہ افغانستان میں دندناتا پھر رہا ہو، یہ ممکن نہیں تھا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ امریکہ نہ صرف یہ کہ طالبان کو عسکری طور پر شکست نہیں دے سکا بلکہ وہ طالبان اور مقامی آبادی کے تعلق کو بھی ایک حد سے زیادہ متاثر نہیں کرسکا۔ امریکی کہتے تھے: ہم افغانستان میں صرف جنگ جیتنے نہیں آئے بلکہ ہم افغان عوام کے دل بھی جیتنے آئے ہیں۔ مگر وہ گیارہ سال میں نہ جنگ جیت سکے نہ دل جیت سکے۔ یعنی افغانستان میں امریکہ کی Hard Power بھی ناکام ہوگئی ہے اور Soft Power کو بھی بدترین شکست کا سامنا ہے۔
یہی امریکہ اور اْس کے اتحادیوں کی مکمل شکست ہے۔ چنانچہ امریکہ کے قومی سلامتی سے متعلق 16 اداروں نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں خطرہ ظاہر کیا ہے کہ 2017ء تک افغانستان پر دوبارہ طالبان کا قبضہ ہوسکتا ہے۔ اس کے معنی اِس کے سوا کیا ہیں کہ امریکہ نہ گیارہ سال میں کچھ کرسکا ہے اور نہ وہ آئندہ تین سال میں کچھ کرسکے گا۔ اس کی جڑیں نہ کل افغانستان میں تھیں اور نہ 2017 ء میں افغانستان میں ہوں گی۔ بلاشبہ اس طرح کے تجزیے قبضے کو جواز مہیا کرنے کے لیے بھی کیے جاتے ہیں، مگر یہ تجزیہ امریکہ کی جارحیت کے دوچار سال بعد نہیں، گیارہ سال بعد سامنے آیا ہے۔ امریکی کہتے ہیں کہ انہوں نے گیارہ سال میں افغانستان پر 600 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ آزاد ذرائع کا اصرار ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں گیارہ سال میں ایک ہزار ارب ڈالر جھونک ڈالے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ نے ایک ہزار ارب ڈالر میں شکست خریدی ہے، اور بلاشبہ یہ انسانی تاریخ کی مہنگی ترین شکست ہے۔ اس شکست کا اعتراف اب خود امریکی عوام بھی کررہے ہیں۔ امریکہ میں ہونے والے تازہ ترین سروے کے مطابق 52 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکہ افغانستان میں جنگ ہار رہا ہے۔ امریکہ افغانستان میں آیا تھا تو 87 فیصد امریکی افغانستان کے خلاف جارحیت کے حق میں تھے، اور ظاہر ہے کہ انہیں امریکہ کی مکمل فتح کا یقین تھا، لیکن آج 52 فیصد امریکی اپنے ملک کو افغانستان میں پٹتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، چنانچہ امریکیوں کی عظیم اکثریت اپنی فوج کو افغانستان سے نکالنا چاہتی ہے۔ یہ امریکہ اور اْس کے اتحادیوں کی مکمل شکست نہیں تو اور کیا ہے؟
امریکہ کے نزدیک طالبان کا طرزِ حکمرانی ’’جابرانہ‘‘ تھا اور اْس نے اس طرزِ حکومت کو ’’جمہوریت‘‘ کے ذریعے ماضی کا قصہ بنایا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ افغانستان کو گیارہ سال میں نہ سیاسی قیادت فراہم کرسکا اور نہ کوئی قابلِ قدر سیاسی نظام مہیا کرسکا۔ حامد کرزئی افغانستان میں آئے تھے تو وہ امریکہ کے ایجنٹ تھے۔ افغانستان میں ان کی کوئی سیاسی جڑ اور بنیاد نہیں تھی۔ امریکہ نے افغانستان میں صدارتی انتخاب کرایا مگر اِس انتخاب کو کسی اور نے کیا خود امریکہ کے ایک اور آلہ کار عبداللہ عبداللہ نے دھوکا قرار دیا، اس لیے کہ اِس انتخاب میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی تھی۔ افغانستان میں ایک بار پھر انتخابات ہونے والے ہیں لیکن ان انتخابات کی بھی کوئی سیاسی ساکھ نہیں ہے۔ افغانستان میں امریکہ کی سیاسی شکست کا ایک مظہر خود حامد کرزئی ہیں۔ وہ افغانستان کے صدر بنے تھے تو طالبان کو ’’قسائی‘‘ کہتے تھے، اب وہ طالبان کو اپنا ’’بھائی‘‘قرار دے رہے ہیں۔ حامد کرزئی کے رویّے اور زبان و بیان کی یہ تبدیلی اتفاقی نہیں۔ یہ تبدیلی افغانستان کے معروضی سیاسی حقائق کی تبدیلی کی علامت ہے، اور افغانستان کی معروضی سیاسی حقیقت یہ ہے کہ طالبان کو نظرانداز کرکے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں بات کرنا کسی اور کو کیا خود امریکہ اور حامد کرزئی کو فضول لگ رہا ہے۔ چنانچہ جو امریکہ طالبان کو وحشی اور درندہ کہتا تھا، وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھا نظر آیا۔ یہاں تک کہ اب حامد کرزئی امریکہ اور پاکستان سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کے اور طالبان کے درمیان مذاکرات کرائیں۔ حامد کرزئی کے رویے کی ایک تبدیلی یہ ہے کہ ایک سال پہلے تک وہ امریکہ کی مرضی کے بغیر ایک لقمہ بھی نہیں توڑ سکتے تھے اور آج وہ امریکہ کے باہمی سلامتی سے متعلق سمجھوتے پر دستخط کرنے سے صاف انکار کررہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں یہ معاملہ مستقبل کی پارلیمنٹ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ حامد کرزئی اس طرح کی باتیں پہلے اپنی سیاسی ساکھ بہتر بنانے کے لیے کرتے تھے، مگر اب انہیں اس بات کی فکر ہے کہ تاریخ انہیں کہیں صرف امریکہ کے ایجنٹ کے طورپر ہی یاد نہ کرے۔ حامد کرزئی کے اس رویّے نے امریکہ کو اتنا زچ کیا ہے کہ امریکی کہہ رہے ہیں کہ حامد کرزئی نے اپنی روش نہ بدلی تو وہ 2014ء کے بعد افغانستان سے اپنی ساری فوجیں واپس بلالیں گے اور افغانستان میں اپنی علامتی موجودگی پر بھی نظرثانی کریں گے۔ یہ افغانستان میں امریکہ کی مکمل ناکامی کا منظر نہیں تو اور کیا ہے؟
افغانستان میں امریکہ اور اْس کے اتحادیوں کا ایک ہدف ایک ایسی فوج اور ایک ایسی پولیس فورس تخلیق کرنا تھا جو امریکہ کی عدم موجودگی میں افغانستان کو سنبھال سکے اور طالبان کی باقیات کا مقابلہ کرسکے۔ لیکن امریکہ اور اْس کے اتحادی یہ ہدف حاصل کرنے میں بھی ناکام ہوگئے ہیں۔ بلاشبہ امریکہ نے اپنے وسائل صرف کرکے تین لاکھ کے لگ بھگ فوجی اور پولیس اہلکار ضرور پیدا کرلیے ہیں، مگر ان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کا کوئی نظریہ‘ کوئی قومی یا عالمی تناظرنہیں۔ ان کی ملک و قوم سے کوئی وابستگی نہیں۔ ان کی نفسیات پر اس احساسِ جرم کا سایہ ہے کہ وہ ایک قابض قوت کی تخلیق ہیں۔ چنانچہ افغان فوج اور پولیس میں عزم، حوصلے اور قربانی کے جذبے کی سطح انتہائی پست ہے اور ان میں سے اکثر کی حیثیت کرائے کے فوجیوں اور کرائے کے پولیس اہلکاروں سے زیادہ نہیں۔ چنانچہ افغانستان سے امریکہ کے مکمل انخلاء کا غلغلہ بلند ہوا ہے تو افغان فوجی چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ امریکی فوج کی عدم موجودگی میں ہمارا کوئی مستقبل نہیں۔ ایک افغان فوجی نے تو غیرملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے یہ تک کہا ہے کہ امریکی نہیں ہوں گے تو ہماری حیثیت طالبان کے سامنے وہی ہوگی جو بھیڑیے کے سامنے بھیڑ کی ہوتی ہے۔ اس تبصرے میں افغان فوجی نے طالبان کوبھیڑیا کہا ہے مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھیڑیے سے اْس کی مراد یہ ہے کہ طالبان بہت طاقت ور ہیں اور افغان فوج اور پولیس ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ اس صورت حال کا مفہوم اس کے سوا کیا ہے کہ امریکہ کی تخلیق کی ہوئی فوج اور پولیس ریت کی دیوار کے سوا کچھ نہیں۔ کیا یہاں کہنے کی ضرورت ہے کہ مکمل شکست اس کو کہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی فتح کا راز کیا ہے؟
اس سوال کا جواب واضح ہے۔ مسلمانوں کے لیے اصل چیز طاقت اور سرمایہ نہیں، حق کے مطابق جدوجہدہے اور افغانستان کی تحریکِ مزاحمت پہلے دن سے حق پر کھڑی تھی۔ یہی اس کی سب سے بڑی قوت ہے، یہی اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہے، یہی اس کی سب سے بڑی ہلاکت آفرینی ہے۔ اسی قوت کے حوالے سے اقبال نے کیا خوب کہا ہے
ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں‘ کار کشا‘ کار ساز
لیکن حق کے مطابق جدوجہد کافی نہیں۔ حق کی علَم برداری اور اس کی بالادستی کے لیے قربانیاں دینا بھی ضروری ہے، اور افغان طالبان نے ایک بار پھر قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے۔ مگر صرف قربانی دینا بھی کافی نہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ بھی دیکھتا ہے کہ قربانی دینے والے قربانیوں پر استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں یا نہیں۔ بلاشبہ افغانوں نے استقامت کی بھی ایک داستان رقم کی ہے۔ ان تین تقاضوں کے بعد نصرتِ الٰہی کا ظہور ہوکر رہتا ہے اور افغانستان میں امریکہ اور اْس کے اتحادیوں کی شکست دراصل نصرتِ الٰہی کے ظہور ہی کی ایک صورت ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ دنیا کی واحد سپرپاور ہے، اور وہ غلط نہیں کہتے۔ مگر یہ کیسی سپر پاور ہے جو ایک ہزار ارب ڈالر خرچ کرکے شکست خریدتی ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ کا علم اور اہلیت بے پناہ ہے، اور وہ غلط نہیں کہتے۔ مگر یہ کیسا علم ہے جو ایک ہزار ارب ڈالر میں ہزیمت خریدتا ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی ہے، اور وہ غلط نہیں کہتے۔ مگر یہ کیسی ٹیکنالوجی ہے جو ایک ہزار ارب ڈالر صرف کرکے بھی امریکہ کی جھولی میں ذلت کے سوا کچھ نہیں ڈالتی؟ امریکی کہتے ہیں کہ افغانی غاروں میں رہنے والے لوگ ہیں، اور وہ غلط نہیں کہتے۔ مگر یہ کیسا منظر ہے کہ غاروں میں رہنے والے فتح کے شیش محل میں محوِ استراحت ہیں اور جدید ترین عمارتوں میں رہنے والے امریکی شکست کے غاروں میں پڑے تڑپ رہے ہیں؟
شاہنواز فاروقی