اداریہ

افواہیں ہیں یا حقیقت؟

آج کل اگر چہ کئی حلقوں میں گرم افواہیں پھیلی ہوئی ہے کہ وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید ریاست کا وزیراعلیٰ کا رتبہ اپنی دختر محبوبہ مفتی کے سر باندھنا چاہتا ہے ۔مگر یہ کس حد تک حقیقت ہے، اس کے بارے میں ابھی تک قیاس آرائیاں ہی ہو رہی ہیں۔ حقیقی معنوں میں دیکھا جائے کرنا تو یہی ہے مفتی کے جگہ پر محبوبہ کو براجمان کرنا ہے تاکہ محبوبہ مفتی بھی اپنی قابلیت سے عوام کی خدمت کر سکتی۔ عندیہ ہے کہ اب کی بار مفتی سرکار یعنی بس اب کی بار، اب آگے کیا ہوگا کہنا مشکل ہے، مگر شاید پی ڈی پی قیادت کو اس بات کا احساس ہوا ہو گا کہ اگلی بار ان کی حکومت رہے یا نہ رہے مگر کہیں یہ ارمان ارمان ہی نہ رہے کہ محبوبہ مفتی ریاست کی وزیراعلیٰ نہ بن سکی، کہیں اسی بنیاد پر پارٹی قیادت نے یہ فیصلہ لینے کی کوشش کی کہ محبوبہ مفتی کو بھی ریاست کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے پیش کیا جائے تاکہ ریاست کے عوام سے ایک بار پھر بدلائو کی آڑ میں فائدہ اٹھا جائے۔مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ریاست کا وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو ہی بننا تھا لیکن پارٹی میں ہی بگاڑ پیدا نہ کرنے کے لئے ایسا نہیں کیا گیا، اور مفتی محمد سعید کو ہی وزیراعلیٰ کے لئے پیش کیا گیا، محبوبہ مفتی سے بھی سینئر لیڈران پارٹی میں ہے اس طرح سے انہیں خدشہ تھا کہیں پارٹی میں بغاوت پیدا نہ ہو اور اس طرح سے پہلے ہی مظفر حسین بیگ اور طریق حمید قرہ جیسے دو سینئر لیڈروںکو پارلیمانی انتخابات کیلئے میدان میں لایا ان کی جیت کیا ہوئی کہ انہیں ایک طرح کے ریاست سے باہر کر دیا گیا تاکہ یہاں مفتی محمد سعید من پسند افراد کو من پسند عہدوں پر تفویض کریں اب جبکہ ایک طرح کا شوشہ پھیلایا گیا کہ محبوبہ مفتی ریاست کی وزیراعلیٰ بننے والی ہے تو عوام اس بات سے باخبر ہے کہ یہاں وزیراعلیٰ کوئی بھی ہو اس سے ریاست کے عوام کا کوئی بھلا نہیں، تب بھی نوکر کو نرکری کرنی ہے، کاروباری کو کاروبار کرنا ہے اور مزدور کو مزدوری کرنی ہے ، ان کیلئے کوئی نرمی نہیں برتی جا سکتی، ہاں فرق اگر بڑے گا تو اس شخص یا فرد کیلئے جو اس منصب پر براجمان ہوگا ان کے لئے عیش و آرام ہی میسر رہتا ، اس لئے محبوبہ مفتی وزیراعلیٰ بنے یا کوئی اور،ماضی میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ وزیراعلیٰ تھے اس کے بعد ان کے بیٹے عمر عبداللہ رہے اب جبکہ وزیراعلیٰ کے منصب پر مفتی محمد سعید ہے اور آگے اگر محبوبہ مفتی بھی رہے گی تو اس سے کوئی فرق پڑی نہ پڑنے والی ہے، اس لئے محبوبہ مفتی وزیراعلیٰ بنے یا یہ خالص افواہیں ہی ہیں اس سے یہاں کے عوام کیلئے کوئی فرق پڑنے والی نہیں۔