اداریہ

اقتدار کیا کچھ نہیں کراتا!

رواں ماہ کی 7 تاریخ کو ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر دورہ کیا، یہاں وزیراعظم نے شیر کشمیر اسٹیڈیم میں ایک عوامی ریلے سے خطاب کیا، اس دوران شہر سرینگر کے اکثر علاقوں میں بندشیں عائد تھی، لوگوں کو چلنے پھرنے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ مودی کے سرینگر آمد پر علیحدگی پسندوں نے ملین مارچ پروگرام ترتیب دیا تھا۔ جس کو ریاستی مخلوط سرکار نے بلا اعلانیہ کرفیو لگا کرناکام بنا دیا۔ مودی کے کشمیر آنے سے قبل ہی شیر کشمیر سٹیڈیم کے ساتھ ساتھ اس کے آس پاس والے علاقے فوجی چھاونیوں میں تبدیل کئے۔ یعنی ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت نے حفاظت کے زبردست انتظامات کئے ۔ پہلے سے طے پروگرام کے تحت جب 7 نومبر کو وزیراعظم نریندر مودی نے شیر شمیر سٹیڈیم میں خطاب کرتے ہوئے ریاست کیلئے 80 ہزار کروڑ روپے مالی پیکیج کا اعلان کیا ، اس سے یہاں کے تقریباً سبھی حلقے محو حیرت خلاف توقع اتنے بڑے مالی پیکیج مفتی محمد سعید کی ڈوبتی کشی کے لئے کنارہ بن گیا۔80 ہزار کروڑ روپے کا پیکیج وزیراعلیٰ مفتی سعید بڑے کھلاڑی نکلے جس نے مرکز سے اتنابڑا پیکیج حاصل کیا یہاں تک کہ کئی حلقوں نے اس پیکیج کو عمر عبداللہ والی سرکار کی ڈیمانڈ سے بہت زیادہ قرار دیا، کئی حلقے وزیراعظم کے دورئہ کشمیر اور ریاست کے لئے مالی پیکیج کا اعلان کرنے سے قبل ریاست کے وزیراعلی مفتی محمد سعید کے بیان جن میں انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی بہت زیادہ تقریفیں کیں۔ یہاں تک کہ وزیراعلیٰ نے کوئی الفاظ نہیں چھوڑا جو انہوں نے مودی کے تعریف میں استعمال نہیں کئے۔ مودی کی تعریفوں میں مفتی اتنے آگے نکل گئے کہ انہیں کئی جانب سے صرف تنقید بنایا گیا۔

بہر حال اب جبکہ وزیراعظم نریندر مودی کے ریاست کے لئے مالی پیکیج یعنی 80 ہزار کروڑ روپے کا خلاصہ پیش کیا گیا ، اس پیکیج میں بغیر پیکیج نام کے کوئی اور شئے نظر نہیں آتا۔ سچ تویہ ہے کہ جو پروجیکٹ سابق وزیراعظموں نے ریاست کے لئے اعلان کئے تھے اور جن پروجیکٹوں کا سابق وزیراعظموں نے اعلان کیا تھا ان پروجیکٹوں کو جوڑ کر 80 ہزار کروڑ روپے کا مالی پیکیج کا اعلان کیا گیا جس سے عوام کو خوش کرنے کی کوشش کے سواکچھ بھی نہیں تھا۔
حقیقی معنوں میں دیکھا جائے مفتی نے مودی کے تئیں جو تعریفوں کے پل باندھے وہ کسی اور کے لئے نہیں تھے بلکہ اقتدار برقرار رکھنے کے لئے تھا ، وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کا من بنا کہ وہ اپنا جانشین بنائیں یعنی انہیں اپنی بیٹی کو اقتدار تفویض کرنے کا بن بنا اس کے لئے اُنہیں بی جے پی کی مہر ثبت کرنے کی ضرورت تھی جس کے لئے انہوں نے پہلے مودی کے تعریفوں کے پل باندھنے شروع کئے، اس دوران مودی کا ریاست کا دورہ طے تھا اور یہاں ایک عوامی ریلے سے خطاب کرنا تھا، اور تو اور مودی کو خوش کرنے کے لئے سرینگر میں ان کی ریلی کو کامیاب بنانے کے لئے خود ممبر پارلیمنٹ ،دختر وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کافی محنت کی، ریاستی عوام کے ساتھ ساتھ غیر ریاستی باشندوں کو شو کرنے کے لئے محنت کی کیونکہ کئی حلقوں کا کہناہے کہ محبوبہ مفتی کا وزیر اعلیٰ بننا اس جلسے یعنی ریلی کو کامیاب بنانے سے مشروط تھا جس کو پی ڈی پی والوں اور خاص طور سے محبوبہ مفتی نے کر کے دکھایا اس کو کہتے ہیں اقتدار کا چسکا، یعنی اقتدار کیا کچھ نہیں کراتا!