اِسلا میات

اللہ سے عافیت مانگو

اللہ سے عافیت مانگو

محمد اشرف
حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا: دنیا میں جو رزق تمھیں دیا گیا ہے اس پر قناعت کرو،کیونکہ یہ تو رحمن کا فضل ہے جو وہ اپنے بندوں میں سے کچھ بندوں پر رزق کے معاملے میں کرتا ہے۔ اس طرح سے وہ سب لوگوں کو ان کی بساط کے مطابق آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ دیکھے کہ کون کیسے شکر ادا کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے سے ہی یہ حق ادا ہوتا ہے اور یہ واجب ہے۔
عافیت کی نعمت کا نہ ہونا اور آزمائش کا آنا متنبہ کرتا ہے کہ آدمی شکر اور ذکر کا محتاج ہے۔ رزق کا اٹھا لیا جانا بھی آزمائش ہے، جس میں صبر واجب ہے۔ ذرا سوچیے، مومنین جنھیں صبر سے نوازا گیا اور شکر عطا کیا گیا اْن کا اللہ کے ہاں کیا مقام ہوگا! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (ترجمہ)’’اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا، یقینا وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے‘‘۔(ہود 11:111)
ابتلا: عافیت کا سبب
ابتلا کسی بھی بْرے کام کے سبب آسکتی ہے۔ ابتلا عبادت میں تغیر کے سبب سے بھی آتی ہے اور اس صورت میں ابتلا ظاہری طور پر ہوتی ہے، اور باطنی طور پر بھی اللہ کے اذن سے عافیت ہوتی ہے۔ اس کیفیت کا پایا جانا ابتلا کی حکمتوں میں سے ہے۔ ایسی صورت حال میں انسان کو اپنے نفس کا محاسبہ، رب کی طرف پلٹنے کی فکر اور توبہ کرنی چاہیے، تاکہ ابتلا ایک نعمت اور خیر کا سبب بن جائے۔ اس لیے ہمیں ابتلا پر نظر رکھنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا انھیں چکھاتے رہیں گے شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آجائیں‘‘۔ (السجدہ 32:21)
حضرت عباسؓ فرماتے تھے کہ چھوٹا عذاب اس دنیا کے مصائب ہیں، اور جس پر ابتلا آئے اسے اللہ کا بندہ بن کر توبہ کرنی چاہیے۔ ابتلا و آزمائش کا سبب خواہ کچھ بھی ہو، اس سے نکلنے کا راستہ صرف اللہ کی اطاعت ہے، کیونکہ صرف اطاعت کی دوا ہی ابتلا کے مرض سے شفا دیتی ہے، اور ابتلا کا ازالہ بھی کرتی ہے۔
دافع ابتلا
ایک مسلمان کو اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ وہ جس ابتلا میں گرفتار ہے وہ اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے، اور وہی رب ذوالجلال اسے دفع کرسکتے ہیں اور درجات بلند کرسکتے ہیں۔ حضرت عباسؓنے استسقا کے لیے انھی دلائل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اللہ آزمائش میں گناہوں کی وجہ سے مبتلا کرتے ہیں، اور جب تک توبہ نہ کی جائے وہ اسے دور نہیں کرتے۔
حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قضا کو کوئی چیز رد نہیں کرتی سوائے دعا کے۔ اور عمر میں کوئی چیز اضافہ نہیں کرتی سوائے نیکی کے (مسند احمد و طبرانی)۔ امام شوکانیؒ کہتے ہیں کہ دعا دافع قضا ہے بندے کے لیے، یعنی اللہ کی پناہ ہی دعا کا حاصل ہے۔ دعا کفایت کرتی ہے ہر شر سے جو بندے کے مقدر میں لکھا ہے۔ لہٰذا دعا ہی دافع ابتلا ہے۔ جو کوئی یہ جاننا چاہے کہ ابتلا کے مرض کی شفا کیا ہے تو اس کا اعتقاد اس بات پر ہونا چاہیے کہ اس کی شفا اللہ کی طرف سے عافیت میں ہے۔ عافیت رب ذوالجلال اسے عطا کرتے ہیں جس سے وہ خوش ہوں اور اپنی نعمتوں سے نوازنا چاہیں یا پھر اپنے بندے کی آزمائش چاہیں۔
ابتلا: رحمت و اجر
ابتلا میں بھی اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں جیسا کہ مریض کو حالتِ مرض میں ان سارے اعمال کے اجر ملتے ہیں جو وہ صحت مندی کی حالت میں انجام دیتا تھا، کیونکہ اگر وہ صحت مند ہوتا تو وہ نیک اعمال کو انجام دیتا جسے وہ بیماری کی وجہ سے کرنے سے قاصر ہے۔ اس پر اللہ کا مزید کرم و نوازش دیکھیے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔‘‘ (النحل 16:97)
مومن کی زندگی تو مکمل خیر ہے۔ اس کی ابتلا بھی مکمل خیر ہے اور اس کو جو نعمتیں مختلف مواقع پر دی جاتی ہیں وہ بھی خیر ہیں۔ پس اسے عافیت کی نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے، جب کہ وہ ابتلا دیکھ چکا ہو۔ مومن کا ہر غم ثواب کا سبب ہے، ہر اس چھوٹی بڑی شے کے بدلے میں جو اس سے اس دوران روک لی گئی تھی، یہ ہے حال مومن کا!
حضرت ابو موسیٰ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مریض اور مسافر کے حساب میں وہ سارے اعمال لکھے جاتے ہیں جو وہ حالتِ صحت اور قیام میں کرتا تھا (بخاری)۔ اسی بات کو ابودائود نے ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ اس طرح نقل کیا ہے: جو بندہ نیک عمل کرتا ہے پھر یا تو وہ مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے یا سفر اختیار کرتا ہے، تو اس کے اعمال میں نیک اعمال اسی طرح لکھے جاتے ہیں، جس طرح وہ حالتِ صحت میں اپنے قیام کے دوران کیا کرتا تھا۔
انواع المرض
مرض کی دو قسمیں ہیں۔ پہلا مرض وہ ہے جو جسم کو لاحق ہوتا ہے جسے عرفِ عام میں بیماری کہتے ہیں۔ اس کا پہلا علاج اللہ کی طرف توجہ اور اس سے شفا کی طلب ہے۔ پھر اسباب کا اختیار کرنا جیسے کہ ڈاکٹر کو دکھانا، دوا کھانا اور پرہیز کرنا وغیرہ۔یہ دونوں چیزیں مل کر انسان کو شفا دیتی ہیں۔
مرض کی دوسری قسم حقیقت میں زیادہ مہلک ہے اور یہ جسم کے ظاہری عضو کا مرض نہیں بلکہ دل کا مرض اور اس کا فساد ہے۔ اس کی بڑی وجہ اللہ کی اطاعت سے غفلت ہے۔ اس مرض کے بڑھنے کے اسباب میں سے ایک دل کا گناہوں سے سیاہ ہوجانا ہے، جس سے اس کی بصیرت ختم ہوجاتی ہے اور دل پر قفل پڑجاتا ہے۔اس مرض کی کئی اقسام ہیں، جیسے کہ مرض شہوات، مرض شبہات۔ انسان ان سے بچ نہیں سکتا سوائے سلامتی کے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’جس دن نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد، بجز اس کے کہ کوئی شخص قلبِ سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو‘‘۔(الشعراء 26:88۔89)
انسان کی طرح دل بھی زندگی و موت کے بیچ میں منقسم ہے: زندہ، مْردہ اور مریض۔ زندہ یا سلیم قلب ایک مومن کا قلب ہوتا ہے۔ مْردہ قلب ایک کافر یا منافق کا خاصہ ہے، اور مریض قلب زندگی اور موت کے درمیان میں ہے، یا تو قلبِ سلیم بنے گا یا پھر اس کی موت واقع ہوگی۔
قلب کے مرض میں قلب کا درد ملتا ہے، جیسے شک اور جہالت۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی سوال تو جب کرتا ہے جب اسے علم ہو، اور شفا تو سوال کرنے پر ملتی ہے۔ جہاں تک شک کا تعلق ہے تو شک کسی بھی چیز کی وجہ سے دردِ دل بن جاتا ہے، حتیٰ کہ آدمی علم اور یقین حاصل کرلے۔ کیونکہ کہتے ہیں کہ جو جواب مانگے گا اسے حق کی پہچان شفا کے طور پر دی جائے گی۔ مریض قلب کا اختتام موت ہے مگر اس کی زندگی، موت، مرض اور شفا ایک اٹل حقیقت ہیں۔
عافیت کا راستہ صرف اللہ عزوجل سے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے جو صرف اطاعت کے راستے پر چل کر ہی مل سکتا ہے۔ پس ابتلا کی سمجھ سے تطہیر کی ابتدا ہوتی ہے اور بندہ عافیت کے راستے پر چل پڑتا ہے، جس سے اس کے درجات بھی بلند ہوتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن رات اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی دن اور رات ایسی نہیں دیکھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات نہ ادا کرتے ہوں:
’’اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں، معافی اور عافیت اپنے دین میں اور اپنی دنیا میں، اور اپنے اہل اور مال میں۔ اے اللہ! میرا عیب ڈھانپ دے اور خوف کو امن سے بدل دے۔ اے اللہ! میری حفاظت کر، میرے آگے سے اور پیچھے سے اور میرے داہنے سے اور میرے بائیں سے اور میرے اوپر سے۔ اور مَیں تیری عظمت کے واسطے سے پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ ناگہاں اپنے نیچے سے پکڑ لیا جاوں۔ (الطریق الی العافیہ سے اخذ و ترجمہ)
(ابودائود، ابن ماجہ، نسائی)