اِسلا میات

اللہ کے ہاں زکوٰۃ کی قدر

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

قرآن مجید میں زکوٰۃ اور صدقات کے لیے جگہ جگہ انفاق فی سبیل اللہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، یعنی خدا کی راہ میں خرچ کرنا۔ بعض بعض مقامات پر یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ جو کچھ تم راہِ خدا میں صرف کرتے ہو یہ اللہ کے ذمہ قرضۂ حسنہ ہے، گویا تم اللہ کو قرض دیتے ہو اور اللہ تمہارا قرض دار ہوجاتا ہے۔ بکثرت مقات پر یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کی راہ میںجو کچھ تم دو گے اس کا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے اور وہ صرف اتنا ہی تم کو واپس نہ کرے گا بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ دے گا۔
[سورہ حدید میں ارشاد ہے] ’’کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا قرض تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے، اور اس کے لیے بہترین اجر ہے۔‘‘
مخلص اہل ایمان کا طرزِعمل:
حدیث میں عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے لوگوں نے اس کو سنا تو حضرت ابوالدحداح انصاری نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہاں، اے ابوالدحداح۔ انہوں نے کہا: ذرا اپنا ہاتھ مجھے دکھائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا: میں نے اپنے رب کو اپنا باغ قرض دے دیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس باغ میں کھجور کے 600 درخت تھے، اسی میں ان کا گھر تھا، وہیں ان کے بال بچے رہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کرکے وہ سیدھے گھر پہنچے اور بیوی کو پکار کر کہا: دحداح کی ماں! نکل آئو، میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا ہے۔ وہ بولیں: تم نے نفع کا سودا کیا، دحداح کے باپ۔ اور اسی وقت اپنا سامان اور اپنے بچے لے کر باغ سے نکل گئیں۔ (ابن ابی حاتم)
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مخلص اہلِ ایمان کا طرزعمل اْس وقت کیا تھا، اور اسی سے یہ بات بھی سمجھ میں آسکتی ہے کہ وہ کیا قرض حَسَن ہے جسے کئی گنا بڑھا کر واپس دینے اور پھر اوپر سے اجر کریم عطا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔ [تفہیم القرآن پنجم، ص 310، الحدید، حاشیہ 16]
وہ لوگ جن پر زکوٰۃ واجب ہے:
عاقل و بالغ، مسلمان مرد و زن اگر صاحب ِنصاب ہوں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے اور اس کی ادائیگی کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔ نابالغ بچوں کے بارے میں اختلاف ہے۔ ایک مسلک یہ ہے کہ یتیم پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ دوسرا مسلک یہ ہے کہ یتیم کے سنِ رشد کو پہنچنے پر اس کا ولی اس کا مال اس کے حوالے کرتے وقت اس کو زکوٰۃ کی تفصیل بتا دے، پھر یہ اس کا اپنا کام ہے کہ اپنے ایام یتیمی کی پوری زکوٰۃ ادا کرے۔ تیسرا مسلک یہ ہے کہ یتیم کا مال اگر کسی کاروبار میں لگایا گیا ہے اور نفع دے رہا ہے تو اس کا ولی اس کی زکوٰۃادا کرے ورنہ نہیں۔ چوتھا مسلک یہ ہے کہ یتیم کے مال کی زکوٰۃ واجب ہے اور اس کو ادا کرنا اس کے ولی کے ذمہ ہے۔ ہمارے نزدیک یہی چوتھا مسلک زیادہ صحیح ہے۔ حدیث میں آیا ہے: خبردار! جو شخص کسی ایسے یتیم کا ولی ہو جو مال رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ اس کے مال سے کوئی کاروبار کرے اور اسے یوں ہی نہ رکھ چھوڑے کہ اس کا سارا مال زکوٰۃ کھا جائے۔ [ترمذی، دارقطنی، بیہقی، کتاب الاموال لابی عْبید]
اسی کے ہم معنی ایک حدیث امام شافعیؓ نے مرسلاً اور ایک دوسری حدیث طبرانی اور ابوعبید نے مرفوعاً نقل کی ہے اور اس کی تائید صحابہ و تابعین کے متعدد آثار و اقوال سے ہوتی ہے جو حضرت سمرہ، حضرت عائشہ، حضرت عبداللہ ابن عمر، حضرت علی، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم اور تابعین میں مجاہد، عطائ، حسن بن زید، مالک ابن انس اور زہری سے منقول ہیں۔
فاتر العقل لوگوں کے معاملے میں بھی اسی نوعیت کا اختلاف ہے جو اوپر مذکور ہوا ہے، اور اس میں ہمارے نزدیک قولِِ راجح یہی ہے کہ مجنون کے مال میں زکوٰۃ واجب ہے اور اس کا ادا کرنا مجنون کے ولی کے ذمہ ہے۔ امام مالک اور ابن شہاب زْہری نے اس رائے کی تصریح کی ہے۔
قیدی پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ جو کوئی اس کے پیچھے اس کے کاروبار یا اس کے مال کا متولی ہو وہ اس کی طرف سے جہاں اس کے دوسرے واجبات ادا کرے گا، زکوٰۃ بھی ادا کرے گا۔ ابن قدامہ اس کے متعلق اپنی کتاب المغنی میں لکھتے ہیں: اگر مال کا مالک قید ہوجائے تو زکوٰۃاس پر سے ساقط نہ ہوگی، خواہ قید اس کے اور اس کے مال کے درمیان حائل ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو، کیونکہ اپنے مال میں اس کا تصرف قانوناً نافذ ہوتا ہے۔ اس کی بیع، اس کا ہبہ اور اس کا مختار نامہ، سب کچھ قانوناً جائز ہے۔ [المغنی، ج 2، ص 446]
مسافر پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ مسافر ہونے کی حیثیت سے زکوٰۃ کا مستحق ہے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر وہ صاحبِ نصاب ہے تو زکوٰۃ کا فرض اس پر سے ساقط ہوجائے گا۔ اس کا سفر اسے زکوٰۃ کا مستحق بناتا ہے اور اس کا مال دار ہونا اس پر زکوٰۃفرض کرتا ہے