سرورق مضمون

الیکشن سرگرمیاں تیز، پارٹی پوزیشن غیرواضح سجاد لون وزیراعظم سے ملاقی/شیخ غلام رسول این سی سے فرار/دلاور میر الیکشن سے نااہل

ڈیسک رپورٹ/
ریاست میں عوامی سطح پر انتخابی سرگرمیاں کچھ زیادہ نظر نہیں آرہی ہیں ۔ لیکن مختلف پارٹیوں کے اندر سرگرمیاں عروج کو پہنچ چکی ہیں ۔ پچھلے دنوں یہ خبر گشت کررہی تھی کہ اننت ناگ کے سابق پارلیمنٹ ممبر اور این سی کے لیڈر ڈاکٹر محبوب بیگ پارٹی لیڈر شپ کے خلاف بغاوت کررہے ہیں ۔ پوری وادی میں یہ خبر پھیل گئی کہ محبوب بیگ پی ڈی پی میں جانے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ اس دوران بارہمولہ کے پارلیمنٹ ممبر اور پی ڈی پی رہنما مظفر بیگ نے ایک جلسے میں بولتے ہوئے محبوب بیگ کی تعریف کی اور انہیں ایک اصول پرست لیڈر قرار دیا ۔ مظفر بیگ نے محبوب بیگ کی پی ڈی پی میں آنے پر ان کو خوش آمد کہنے کا اعلان کیا ۔ بعد میں یہ خبر غلط ثابت ہوئی تاہم کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے اور محبوب بیگ پی ڈی پی میں آنے کے لئے تیار تھے ۔ لیکن این سی کے کچھ سینئر ساتھیوں کے دبائو کی وجہ سے انہوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ یاد رہے کہ بیگ اننت ناگ کے اسمبلی حلقے سے این سی کے منڈیٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں ۔ ادھر ایک اور خبر یہ ہے کہ ریاست کے سابق چیف سیکریٹری اور این سی کی طرف سے ایوان بالا کے ممبر شیخ غلام رسول نے این سی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے کر پی ڈی پی میںجوئن کیا ہے ۔ شیخ رسول نے این سی صدر کو خط لکھ کر انہیں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ اس خط میں انہوں نے این سی کی سخت تنقید کی اور قیادت کو ساری خرابیوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ شیخ غلام رسول کے اس فیصلے نے این سی کے حلقوں میں سخت بے چینی پیدا کی۔ اس کے بعد این سی قیادت خاص کر پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری مصطفیٰ کمال نے ان کے خلاف تند وتیز بیانات دئے۔ کمال نے الزام لگایا کہ شیخ غلام رسول این سی میں پی ڈی پی کا ایجنٹ تھا۔ اسی طرح وزیراعلیٰ نے اپنے بیان میں شیخ غلام رسول کو بوسیدہ لکڑی قرار دے کر ان کے اخراج سے پارٹی پر کسی قسم کا اثر پڑنے سے انکار کیا ۔ شیخ غلام رسول گاندربل علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں سے وزیراعلیٰ نے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد اشفاق جبار کو اس حلقے سے پارٹی کا امیدوار بنایا گیا۔ کہا جاتا ہے اشفاق جبار کو منڈیٹ دئے جانے پر ناراض ہوکر شیخ غلام رسول نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا۔ این سی سے استعفیٰ دینے کے بعد شیخ نے اسمبلی کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دیا ۔ این سی کو کئی دھچکے لگنے کے بعد پی ڈی پی کو بھی زور کا ایک دھکا لگا ۔ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور رفیع آباد سے ایک مضبوط کنڈیڈیٹ قرار دئے جانے والے لیڈر دلاور میر کو دہلی کے ایک کورٹ نے کورپشن کے ایک کیس میں ملوث قرار دیا۔ اس کیس میں انہیں تین سال کی قید کی سزا اور جرمانے کی سزا دی گئی۔ اس کے بعد دلاور میر کو الیکشن کے لئے نااہل قرار دیا گیا۔ البتہ اس فیصلے کے خلاف انہوں نے عدالت میں اپیل دائر کی اور وہ الیکشن میں حصہ لینے کے لئے اجازت نامہ حاصل کرنے کی سخت کوشش کررہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔ ابھی تک ان کے اسمبلی الیکشن میں حصہ لینے کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے ۔ ان کی نااہلی پی ڈی پی کے لئے سخت دھچکا قرار دیا جارہاہے ۔
موجودہ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے سب سے اہم خبر یہ بتائی جاتی ہے کہ پیوپلز کانفرنس کے چیرمین اور علاحدگی پسند لیڈر مرحوم غنی لون کے فرزند سجاد لون نے 10 نومبر کو اچانک وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ ان کے اس ملاقات نے سیاسی حلقوں میں سخت ہل چل پیدا کی ۔ لون کا کہنا ہے کہ ان کی وزیراعظم سے ملاقات کا انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ انہوں نے اپنی ملاقات کے دوران کشمیر کے سیلاب زدگان کا مسئلہ اٹھایا اور ان کی راحت کاری پر زور دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریاست میں تعمیراتی کاموں کو بڑھاوا دینے پر زور دیا اور اسی مقصد سے وزیراعظم سے ملاقات کی ۔ لیکن سیاسی حلقے یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا کہ پردے کے پیچھے کچھ اور ہی فیصلے لئے گئے ہیں۔ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ بی جے پی ریاست میں اپنے اتحادیوں کی تلاش میں ہے اور اسی مقصد سے سجاد لون کو دہلی میں وزیراعظم سے ملایا گیا۔ یاد رہے کہ سجاد لون ہندوارہ کے اسمبلی حلقے سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور ان کی پارٹی نے دوسرے کئی حلقوں میں اپنے امیدوار نامزد کئے ہیں۔ ان کی وزیراعظم سے اچانک ملاقات کو کئی طرح کے جامے پہنائے جاتے ہیں۔ تاہم ابھی تک مرکز سے اس ملاقات پر کچھ نہیں کہا گیا ہے ۔