سرورق مضمون

الیکشن 2014 / حکومت کا قیام یا گورنر راج کا امکان!

ڈیسک رپورٹ/
ریاست میں نئی سرکار قائم کرنے کے سلسلے میں دوبڑی پارٹیوں کی طرف سے مثبت اشارات ملنے کے بعد راستہ ہموار ہوتا نظر آرہاہے ۔اب تک ملی اطلاعات کے مطابق دو بڑی پارٹیاں اتحاد قائم کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ پی ڈی پی جو سب سے بڑی پارٹی کے روپ میں ابھر آئی ہے بی جے پی کے ساتھ رابطہ بنائے ہوئے ہے۔ اس حوالے سے اگر چہ سخت مشکلات حائل ہونے کے اشارے بھی ملے ہیں تاہم جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں کافی پیش رفت دکھائی دیتی ہے۔ دونوں پارٹیوں کے سربراہوں کو اپنے اپنے اسمبلی ممبر مطمئن کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ تاہم یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ عنقریب ہی حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔ دونوں پارٹیاں اس کوشش میں لگی ہوئی ہیں کہ اقتدار میں ان کا حصہ بڑا ہو۔ اس کے باوجود دونوں طرف سے مشکلات پر قابو پانے کی کوششیں ہورہی ہیں تاکہ جلد از جلد حکومت سازی کا کا انجام پائے ۔
حکومت سازی کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت یہ سامنے آئی کہ 30 دسمبر کو پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ریاستی گورنر سے ملاقات کی ۔ ملاقات کی تفصیلات اگرچہ سامنے نہیں لائی گئیں تاہم ملاقات کے اختتام پر محبوبہ مفتی نے جو بیانات دئے ہیں ان سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ سرکار قائم کرنے کے لئے کافی حد تک راستہ ہموار کیا جاچکاہے۔ محبوبہ مفتی نے اپنے بیان میں بی جے پی لیڈر اور سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی تعریفیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واجپائی نے اپنے دور میں کشمیر پر جو پالیسی اختیار کی تھی اسی پر آگے بڑھنا ہوگا ۔ اس سے یہی مطلب نکالا جاتا ہے کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان کافی حد تک اعتماد بحال ہوگیا ہے۔ ادھر محبوبہ جی کے گورنر سے ملنے کے بعد بی جے پی کے نمائندہ وفد نے گورنر سے ملاقات کی۔ وفد میں پارٹی کے سینئر رہنما اشوک کھجوریا اور شمشیر سنگھ کے علاوہ کئی ایک ایم ایل اے شامل تھے ۔ وفد نے گورنر سے حکومت قائم کرنے کے لئے مزید وقت مانگا۔ بی جے پی نمائندے کا کہنا ہے کہ حکومت قائم کرنے میں ابھی کئی اور روز لگیں گے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت قائم کرنے سے زیادہ ایک مستحکم سرکار بنانے پر توجہ مرکوز ہے۔ کئی صحافیوں کی طرف سے حکومت میں شامل اتحادی جماعت کا نام لینے پر زور دئے جانے کے باوجود اس سوال کو ٹال دیا گیا ۔ تاہم کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان تال میل جاری ہے اور انہی دو بڑی جماعتوں کے اتحاد سے نئی حکومت قائم کی جائے گی ۔ اگرچہ کانگریس اور این سی کی طرف سے پی ڈی پی کو حکومت بنانے کے لئے تعاون دینے کی یقین دہانی کی گئی ہے ۔ تاہم یہ معاملہ زیادہ آگے نہیں بڑھ سکا ۔ پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ الیکشن میں این سی اور کانگریس کو لوگوں نے مسترد کیا ہے ۔ لہٰذا ان کے ساتھ حکومت بنانا کو ئی اچھی بات نہیں ہے۔ یاد رہے کہ موجودہ اسمبلی میں پی ڈی پی کو اٹھائیس اور بی جے پی کو پچیس سیٹیں ملی ہیں۔ اس کے علاوہ پیوپیلز کانفرنس کے دو ممبران نے بی جے پی اتحاد کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ان کے اتحاد سے یقینی طور ایک مستحکم سرکار بن جائی گی ۔ پی ڈی پی اس بات کے حق میں نہیں ہے کہ این سی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جائے ۔ دونوں کے درمیان ایک طویل عرصے سے باہم سخت تناؤ پایا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پی ڈی پی اس جماعت کے ساتھ کسی طور مل کر حکومت بنانے کے حق میں نہیں ہے۔ اگرچہ پارٹی کو یہ بھی خدشہ ہے کہ این سی بی جے پی کے ساتھ مل کر پی ڈی پی کو اقتدار تک پہنچنے سے روک سکتی ہے۔ اس کے باوجود یہ بی جے پی کو اپنے سے قریب سمجھتی ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاست کو جس طرح کے مالی امداد کی ضرورت ہے وہ صرف اورصرف مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی سے مل سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہرکوئی بی جے پی کو ساتھ لینے پر زور دے رہاہے ۔ اس کے علاوہ پی ڈی پی اور بی جے پی نے ایک دوسرے کے ساتھ جو نرم رویہ اختیار کیا ہے اس سے دونوں کے درمیان اتحاد ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہاہے ۔
ریاست میں حکومت قائم کرنے کے حوالے سے یہ بات بڑی اہم ہے کہ 17 جنوری کو موجودہ عبوری سرکار کا معیاد ختم ہورہا ہے۔ اس تاریخ تک حکومت قائم نہ ہوئی تو ریاست میں گورنر راج لگنے کا اندیشہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سب لوگ تذبذب کا شکار ہیں اور کوئی بات کھل کر نہیں کہی جاسکتی ہے ۔