سرورق مضمون

الیکشن 2014 / شیخ خاندان گاندربل سے بے دخل/بڈگام میں فوج کے ہاتھوں ہلاکتیں

الیکشن 2014  / شیخ خاندان گاندربل سے بے دخل/بڈگام میں فوج کے ہاتھوں ہلاکتیں

ڈیسک رپورٹ
ریاست میں ہونے والے انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن نے دوسرے مرحلے کے لئے نوٹفکیشن جاری کیا ہے ۔ اس مرحلے کے لئے جموں کے لئے نو سیٹوں پر انتخابات ہونے والے ہیں جبکہ وادی میں بھی اسی تعداد میں نشستوں پر ممبروں کا انتخاب ہونے والا ہے ۔ اس طرح سے ریاست میں انتخابات کا بازار گرم ہے ۔ کئی سیاسی پارٹیوں نے انتخابی بگل بجتے ہی اپنی سرگرمیاں تیز کردیں ۔ بہت سی پارٹیوں نے اپنے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا۔ اس لحاظ سے ریاست کی موجودہ اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پی ڈی پی نے دوسری تمام جماعتوں سے آگے جاکر کئی ماہ پہلے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا ۔ اس کے بعد سیلاب کی وجہ سے ریاست میں حالات بہت ہی خراب ہوگئے اور لوگ خیال کرتے تھے کہ اسمبلی انتخابات اگلے سال تک ملتوی کئے جائیں گے ۔ اس سلسلے میں حکمران جماعت این سی نے الیکشن کمیشن کو مشورہ دیا تھا کہ انتخابات کچھ مدت کے لئے ٹال دئے جائیں ۔ لیکن الیکشن کمیشن نے کوئی مشورہ ماننے سے انکار کیا اور وقت پر الیکشن کرانے کا اعلان کیا۔ اس حوالے سے پہلے مرحلے کا نوٹفکیشن پہلے ہی جاری کیا گیا ۔ پہلے مرحلے کے لئے جن حلقوں کے لئے انتخابات ہونے والے ہیں وہاں امیدواروں نے اپنے فارم بھرلئے اور ان کی جانچ پڑتال بھی کی جاچکی ہے ۔ اب دوسرے مرحلے کے لئے انتخابات کا عمل شروع ہوچکا ہے ۔ اس مرحلے پر کانگریس ، بی جے پی ، این سی اور تھرڈ فرنٹ نے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا ہے ۔ بی جے پی نے ان امیدواروں کو منڈیٹ سے محروم کیا ہے جنہوں نے اسمبلی کے پچھلے سیشن میں پارٹی ویپ کے خلاف ووٹ استعمال کیا تھا۔ کونسل ممبران کے انتخابات کے دوران ان ممبران سے متعلق کراس ووٹنگ کی اطلاع ہائی کمان کو دی گئی تھی۔ ان ممبران کو پہلے معطل کیا گیا تھا۔ بعد میں صلاح صفائی کے بعد انہیں پارٹی میں بحال رکھا گیا تھا ۔ اب الیکشن کے موقعے پر ان ممبران کو منڈیٹ سے نہیں نوازا گیا ہے ۔ اس وجہ سے انہوں نے پارٹی کے خلاف بغاوت کرنے کا من بنایا ہے ۔ ان ممبران سے متعلق خیال ہے کہ یہ آزادانہ حیثیت میں الیکشن میں حصہ لیں گے ۔ ان کے اس اقدام سے جموں میں پارٹی کو سخت نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے ۔ بی جے پی ریاست میں اکثریت حاصل کرکے اگلی اسمبلی میں حکومت بنانے کا دعویٰ کررہی ہے ۔ ایسا پہلے ہی بہت مشکل نظر آتا ہے ۔ اب ان ممبران کا رویہ دیکھ کر بی جے پی مزید مشکلات سے دوچار ہوسکتی ہے ۔
ادھر وادی میں انتخابات کے حوالے سے بڑی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ وزیراعلیٰ نے گاندربل انتخابی حلقے سے انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں اب کی بار سرینگر کے سونہ وار حلقے کے علاوہ بڈگام بیروہ سے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے اس اعلان کو سیاسی حلقے بڑی اہمیت دے رہے ہیں ۔ عمر عبداللہ کے علاوہ شیخ خاندان کا کوئی بھی فرد گاندربل سے الیکشن میں حصہ نہیں لے رہاہے۔ اس حلقے سے این سی مرحوم شیخ جبار کے بیٹے اشفاق جبار کو میدان میں اتارا ہے ۔ شیخ جبار اس وقت بہت اہمیت اختیار کرگیا تھا جب گلہ شاہ نے ڈاکٹر فاروق سے این سی کے کئی بگھوڑے ممبران کی حمایت سے وزارت اعلیٰ کی کرسی چھین لی تھی ۔ ان ممبران میں شیخ جبار کا رول اہم رہاہے ۔ عمر عبداللہ نے پچھلے انتخابات میں یہاں سے کامیابی حاصل کی تھی ۔ لیکن آج انہوں نے اس حلقے سے الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔ ان کے  مخالفین دعویٰ کررہے ہیں کہ عمرعبداللہ نے شکست کھانے کے خوف سے گاندبل سے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ گاندربل کے بجائے انہوں نے سونا وار سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔ سونہ وار عمر عبداللہ کا پیدائشی علاقہ ہے ۔ لیکن حالیہ سیلاب کے دوران یہاں انہیں لوگوں کی ناراضگی کا اندیشہ ہے اور کامیابی کا کوئی یقین نہیں ہے ۔ شاید اسی وجہ سے انہوں نے بیروہ سے بھی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ وجہ چاہئے کچھ بھی ہو تاہم ایک بات یقینی ہے کہ ان کے اس فیصلے سے این سی ووٹروں کے اندر کافی مایوسی پیدا ہوگئی ہے اور وہ اسے بڑی شکست کا پیش خیمہ سمجھتے ہیں ۔ بڈگام میں ایک بڑا حادثہ یہ ہوا کہ یوم عاشورہ کو فوج نے ایک ماروتی میں سوار پانچ معصوم نوجوانوں پر بلا جواز فائرنگ کی۔ اس فائرنگ سے گاڑی میں سوار دو نوجوان جان بحق اور دو زخمی ہوگئے جبکہ ایک نوجوان جان بچانے میں کامیاب ہوا ۔ فوج نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے ان ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں ماروتی میں سوار بندوق برداروں کی نقل و حمل کی اطلاع ملی تھی ۔ تاہم غلطی سے غلط ماروتی کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور مارے یا زخمی نوجوان مجاہد نہیں ہیں بلکہ عام شہری ہیں۔ اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مارے گئے نوجوانوں کے لواحقین کو فی کس دس لاکھ اور زخمیوں کو پانچ لاکھ کا معاوضہ دینے کا اعلان کیا ۔ فوجی ترجمان نے ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی کرنے کی یقین دہانی کی ہے۔ اس واقعے کی وجہ سے علاقے میں سخت تنائو پایا جاتا ہے ۔ کئی جگہوں پر نوجوانوں اور پولیس کے درمیان سنگ باری ہوئی ہے اور آزادی کے حق میں جلوس نکالے گئے۔ پولیس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے تاہم اب تک کسی کے گرفتار کئے جانے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔