سرورق مضمون

الیکشن 2014 / معلق اسمبلی ، حکومت سازی میں مشکلات/ کشمیر میں انتشار ، جموں اتحاد نمایاں

ڈیسک رپورٹ/
ریاستی اسمبلی کے لئے ہوئے انتخابات کے تمام نتائج سامنے آگئے ہیں ۔ انتخابات کل 87 حلقوں پر کئے گئے ۔ ووٹ شماری 23 دسمبر کو ہوئی اور اسی روز شام تک تمام نتائج سامنے آگئے ۔ نتائج سے ثابت ہوا کہ کسی بھی پارٹی کو مکمل عوامی حمایت نہیں ملی ہے۔ حکومت بنانے کے لئے درکار 44نشستیں حاصل کرنے میں کوئی بھی جماعت کامیاب قرارنہیںپائی ہے ۔ اس وجہ سے حکومت سازی میں سخت مشکلات درپیش ہیں ۔ بی جے پی انتخابات کے پہلے روز سے رٹ لگارہی ہے کہ ریاست کی آئندہ  حکمران وہی ہوگی ۔ اگرچہ اس کا( 44+) کا مشن ناکام ہوا تاہم اتنی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی کہ نئی اسمبلی میں اس کا پلڑا کا فی بھاری دکھائی دیتا ہے ۔ اسی طرح پی ڈی پی بھی اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ اپنے بل پر حکومت بنائے ۔ کولیشن سرکار میں شامل این سی اور کانگریس کو بری طرح سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔تاہم دونوں اس پوزیشن میں ہیں کہ نئی اسمبلی میں اپنی حیثیت مضبوط کرنے میں کامیاب رہیں ۔ کانگریس کی کوشش ہے کہ پی ڈی پی سامنے آکر کانگریس کے ساتھ حکومت بنائے ۔ لیکن دونوں جماعتوں کے پاس اس قدر ممبران نہیں ہیں کہ مضبوط حکومت بناسکیں ۔ ادھر سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی کوشش ہے کہ این سی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار بن پائے ۔ اب بال بی جے پی کے کورٹ میں ہے اور اسی کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس کے ساتھ مل کر حکومت بنائے ۔ ابھی تک اسی حوالے سے سخت تذبذب پایا جاتا ہے ۔ موجودہ اسمبلی کا معیاد ختم ہوچکا ہے اور نئی حکو مت کی تشکیل لازمی بن گئی ہے ۔
نئی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن عجیب و غریب ہے ۔ پی ڈی پی واحد بڑی پارٹی کی صورت میں ابھر آئی ہے ۔ اس جماعت کو 28 نشستوں پر کامیابی ملی ہے ۔ پارٹی کو کئی اہم نشستوں پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔ ایسے حلقوں میں جہاں پی ڈی پی کی کامیابی یقینی خیال کی جاتی تھی مگر پارٹی امیدواروں کو شکست ہوئی ان میں پہلگام ، دیو سر اور ہوم شالی بوگ کے حلقے شامل ہیں ۔ اسی طرح کرگل اور بانڈی پورہ میں پارٹی کی کامیابی یقینی خیال کی جاتی تھی لیکن دونوں جگہوں پر اس کے امیدوار ناکام ہوئے ۔ البتہ اس بار پارٹی نے سرینگر میں چمتکار دکھایا اور 8  میں سے 5نشستوں پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہوگئی ۔ یہاں پارٹی کے غیر معروف امیدوار محمد اشرف میر نے حلقہ سونہ وار سے سابق وزیراعلیٰ اور این سے لیڈر عمرعبداللہ کو شکست دی ۔ این سی کے بلند پایہ لیڈر اور سابق وزیر مالیات عبدالرحیم راتھر بھی چھ دہائیوں کے بعد حلقہ چرار شریف سے ناکام ہوگئے ۔ این سی کو کل ملاکر 15 نشستیں مل گئیں جبکہ کانگریس کو 12 حلقوں پر کامیابی ملی ۔ پیوپلز کانفرنس کے دو امیدوار پہلی بار کامیابی درج کرپائے ہیں۔ اس پارٹی کے چیرمین سجاد غنی لون ہندوارہ سے اور بشیر احمد ڈار کپوارہ سے کامیاب قرار دئے گئے ہیں ۔ سابق رکن اسمبلی انجینئر رشید اپنی نشست بچانے میں کامیاب رہے ہیں۔ اسی طرح حکیم یاسین اور محمد یوسف تاریگامی بھی کامیاب قرار پائے ہیں ۔ اس کے برعکس سابق وزیرتاج محی الدین ، تارا چند ، سکینہ ایتو ، غلام احمد میر اور پیرزادہ سعید بری طرح سے ناکام ہوگئے ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بی جے پی سخت کوششوں کے باوجود کشمیر اور لداخ خطوں سے ایک بھی نشست حاصل نہیں کرپائی ہے ۔ اسی طرح پی ڈی پی لداخ سے کوئی نشست حاصل نہیں کرپائی ہے ۔ یہاں کانگریس کے تین امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جبکہ زنسکار سے آزاد امیدوار این سی کی حمایت سے کامیابی حاصل کر پائے ہیں ۔ اب ریاست میں وزارت تشکیل دینے کاسخت مرحلہ در پیش ہے ۔ بی جے پی نے نے دہلی سے اپنے فائنانس منسٹر ارون جیٹلی کو جموں بھیجدیا ہے تاکہ نئی حکومت کے لئے ساجھے دار تلاش کئے جائیں ۔ انہوں نے یہاں کئی سیاسی لیڈروں سے ملاقات کی اور اعلان کیا کہ بی جے پی کو حکومت بنانے کا پہلا حق ہے ۔ اس حوالے سے کہا جارہاہے کہ انہیں این سی کے علاوہ کئی آزاد امیدواروں نے وزارت کے عوض اپنی حمایت دینے کا اعلان کیا ہے ۔ سجاد لون نے انتخا بات کے دوران ہی وزیراعظم مودی کو اپنی حمایت کی یقین دہانی کی تھی ۔ تاہم ابھی تک تذبذب برقرار ہے اور پوزیشن جلد واضح ہونے کا امکان ہے ۔