اِسلا میات

امام ولی اللہ دہلوی

مسعود عالم ندوی
ایک طرف چھ سات سو سال کی گم راہیاں تھیں، دوسری طرف ایک فقیر اور ایک شہنشاہ کی مجاہدانہ کوششیں۔ یہ کوششیں اپنی جگہ آبِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں، اور اگر عالم گیر کے جانشین لائق اور صاحبِ عزیمت ہوتے تو یقیناًیہ کوششیں برگ و بار لاتیں اور اْن کے اچھے ثمرات ظاہر ہوتے۔ لیکن وہ جو کہ ہند میں ملت کے ناموس کا آخری نگہبان تھا، اْس کے جانشین ایسے کم زور اور بودے ثابت ہوئے کہ آن کی آن میں حکومت ڈانواڈول ہونے لگی، اور فتنوں سے سر اْٹھایا133 حسبِ دستور بدعات کی گرم بازاری شروع ہوگئی۔ ہندوانہ چلن، جو حضرت مجددؒ اور سلطان عالم گیرؒ کی جدوجہد سے مٹنے لگے تھے پھر رواج پانے لگے، شیعت آخری کم زور بادشاہوں کی آغوش میں پھر سر چڑھنے لگی۔ یہ تو عام فضا تھی133 ’’خواص‘‘ یعنی اہلِ درس اور اصحابِ مسند کا حال اور برا تھا۔ صاف صاف کہتے ہوئے ڈر معلوم ہوتا ہے، پر موقع ایسا آپڑا ہے کہ بے کہے رہا بھی نہیں جاتا133 نام نہاد فقراء اور صوفیہ، فقر کی بساط بچھاکر سادہ لوح مسلمانوں کے مال اور ایمان پر ڈاکا ڈال رہے ہیں، مدرسوں میں ابھی تک ارسطو کی گلی سڑی لاش پر عملِ جراحی جاری ہے، ’’شمس بازغہ‘‘ اور’’قاضی مبارک‘‘ کی دھوم ہے، قرآ ن مجید اور حدیث رسول ؐ کی کانوں میں بھنک پڑجائے تو خیر حرج نہیں، لیکن ان کی تحصیل میں عمرِ عزیز کے کچھ حصے نذر کیے جائیں، یہ ناممکن!!! بڑے بڑے ’’علما‘‘ کے خانوادے، ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ اور ’’مشارق الانوار‘‘ پڑھانا کافی خیال کرتے تھے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پیر مجددؒ اور شیخ عبدالحق ؒ کی ترغیب و تحریص کے فیض سے کوئی جماعت اگر یکسر محروم رہی ہے، تو اِنھی اہلِ مدرسہ کی۔ اہلِ فتویٰ کا حال نہ پوچھو، ان کے ہاں بس متاخرین کے تدوین کردہ فقہ اور فتاویٰ کی گویا پرستش ہونے لگی، کیا مجال ابن نجیم (م: 970ھ) اور ملا علی قاری (م:1014ھ) [یہ نام محض تمثیلاً لیے گئے ہیں، شکوہ ان کتابوں یا مصنفوں سے نہیں، شکوہ ان پر قرآن کریم کی طرح عمل کرنے والوں سے ہے] کے کسی فتویٰ یا قول سے آپ اختلافِ رائے کا اظہار کرسکیں، اور کسی سر پھرے نے کبھی ایسی جرآت کی تو وہ، ’’وہابی‘‘، ’’مبتدع‘‘، ’’غیر مقلد‘‘133 اور دوسری ’’شرعی‘‘ گالیوں کا مستحق ٹھیرا۔
آپ پوچھیں گے کہ اِس بزم میں کتابِ ربّانی کا کیا حال تھا؟ تو سچی بات تو یہ ہے کہ آج تک سننے میں نہیں آیا کہ یہ ان ’’اہلِ مدرسہ‘‘ کے ہاں ’’کتابِ عزیز‘‘ کبھی بار پاتی تھی۔ اور واقعی ان بے چاروں کو ’’علوم الٰہیہ‘‘ سے اتنی فرصت کہاں ملتی تھی کہ وہ کلامِ الٰہی کی طرف توجہ کرتے! پورے ’’درسِ نظامی‘‘ میں اگر کوئی کتاب واقعی درس سے خارج تھی، تو یہی ’’کتابِ ربّانی‘‘ جسے ’’قرآن کریم‘‘ کہا جاتا ہے، جس پر ہم آپ ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
یہ تو علما اور اصحابِ درس کی حالت تھی، عوام اور متوسط طبقہ کی حالت بے حد دردناک تھی۔ ایک غیر مسلم مبصر کے الفاظ میں: ’’فی الجملہ اسلام کی جان نکل چکی تھی اور محض بے روح رسمیات اور مبتذل توہمات کے سوا کچھ نہ رہا تھا، اگر محمد صلی علیہ وسلم پھر دنیا میں آتے تو وہ اپنے پیروکاروں کے ارتداد اور بت پرستی پر بیزاری کا اظہار فرماتے‘‘۔ (جدید دنیائے اسلام، از اسٹوڈارڈ (Stoddard) مترجمہ جمیل الدین صاحب بدایونی)۔
یہ پُرآشوب زمانہ تھا اور یہ دردناک حالات تھے کہ غیرتِ حق کو حرکت ہوئی ، وقت آیا کہ ازسرِنو پیامِ محمدیؐ کی تجدید ہو، مسجد نبوی (مدینہ منورہ) کے دو طالب علم خاص طور پر اِس منصب سے نوازے گئے، ان میں ایک ہندی نژاد تھا، دوسرا نجد کا بادیہ نشین۔ آپ سمجھے؟ یہ طالب علم کون تھے؟ نجد کا بادیہ نشین محمد بن عبدالوہابؒ (و: 1115ھ، م: 1206ھ)، اور ہندی نژاد ولی اللہ بن عبدالرحیم ؒ دہلوی (و:1114ھ، م:1176ھ)۔ یہ دونوں کیا تھے؟ اور انھوں نے کیا کیا؟ اِس کی تفصیل ضخیم جلدوں کی محتاج ہے۔ ہم اتنا جانتے ہیں کہ آج ہندوستان میں ایمان اور علمِ دین کی جو کچھ بری بھلی متاع ہمارے پاس موجود ہے وہ سب امام ولی اللہ اور اْن کے جانشینوں کا صدقہ ہے، اور اِس دیس میں آج جہاں کہیں بھی علم و معرفت کی کوئی سبیل جاری ہے، سب کا منبع وہی ذاتِ گرامی ہے، جس کی یاد تازہ کرنے کے لیے آج کی صحبت مرتب کی گئی ہے اور جس کی خدمت میں ہم آپ اپنے علم اور حوصلوں کے مطابق اپنی عقیدت اور محبت کی نذر پیش کررہے ہیں۔
[’’امام ولی اللہ دہلوی سے پہلے اسلامی ہند کی دینی حالت اور تدریجی ارتقاء‘‘۔ مولانا مسعود عالم ندویؒ ۔
مجلہ ’’الفرقان‘‘ بریلی، ’’شاہ ولی اللہ نمبرجلد: 7، شمارہ: 9 تا 12۔ صفحات : 38 تا 40]