مضامین

امریکا کے بعد کا افغانستان

امریکا کے بعد کا افغانستان

ظہیر اختر بیدری
افغانستان سے انخلاء کے وقت امریکا کی دو ترجیحات نظر آتی ہیں اول یہ کہ اس کی فوجیں اور جنگی سازوسامان خیریت سے اس خطے سے نکل جائیں، دوسری ترجیح یہ دکھائی دیتی ہے کہ افغانستان چھوڑنے کے بعد اس خطے میں اس کے سیاسی اور اقتصادی مفادات محفوظ رہیں۔ امریکا لگ بھگ بارہ سال تک افغانستان میں طالبان سے برسر پیکار رہا، اس حماقت کے نتیجے میں اسے کھربوں ڈالر کے نقصان کے علاوہ اپنے سیکڑوں فوجی جوانوں کی قربانیاں بھی دینی پڑیں لیکن افغانستان کی بارہ سالہ جنگ میں پانچ لاکھ سے زیادہ افغان اور پاکستانی عوام کے جانی نقصان کے علاوہ اس پورے خطے میں دہشت گردی اور مذہبی انتہاپسندی جس انتہا کو پہنچی اور اس خطے کے مستقبل پر جو تلوار دہشت گردی کی شکل میں لٹکی ہوئی ہے کیا امریکا اور اس کے اتحادیوں کو اس کی کوئی فکر یا تشویش ہے؟ اس سوال کا جواب نفی میں اس لیے آتا ہے کہ سامراجی سیاست صرف اپنے مفادات کے محور پر گھومتی ہے، اسے اس بات کا بھی احساس نہیں رہتا کہ بندوق کی نوک پر اس نے جو اتحادی بنائے تھے ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ اس اخلاقیات کی وجہ یہ ہے کہ سامراجی ملکوں کی ساری اخلاقیات ان کے مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ پسماندہ ملکوں کا حکمران طبقہ خود اپنے قومی مفادات سے لاتعلق رہتا ہے اور اس کی ساری توجہ اپنے ذاتی اور طبقاتی مفادات پر لگی رہتی ہے اور اس کمزوری سے سامراجی حکمران پوری طرح واقف ہوتے ہیں لہٰذا انھیں اس بات کی کوئی چنتا نہیں رہتی کہ ان کی پالیسیوں سے اتحادی ملکوں کو جو نقصان ہوتا ہے اس کے خلاف حکمران طبقات کوئی شور شرابہ نہیں کریں گے اگر کسی طرف سے شور شرابے کی کوئی آواز اٹھی تو ادھر ڈالر کی گڈیاں اچھال دی جاتی ہیں، آواز بند ہوجاتی ہے۔ پچھلے دنوں میڈیا میں یہ خبریں آتی رہیں کہ امریکی ڈالروں کے تھیلے بڑی پابندی سے حامد کرزئی کو ملتے رہے ہیں، یہی صورت حال اس وقت موجود تھی جب روس افغانستان میں آیا تھا اس فرق کے ساتھ کہ اس وقت ڈالروں کی بارش میں نہانے والے حکمران نہیں بلکہ مقدس لوگ تھے۔
ہم نے امریکی واپسی کے حوالے سے جن دو ترجیحات کا ذکر کیا تھا اس کے حصول کے لیے امریکی حکومت اس حد تک بے قرار ہے کہ جن طاقتوں سے وہ بارہ سال تک لڑتی رہی اب وہ انھیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ساری اخلاقیات بھلا بیٹھی ہے۔ قطر میں طالبان کے دفتر کھلوانے کے لیے امریکا کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے اور آگے بیلنے پڑیں گے اس کی کچھ خبریں میڈیا میں آرہی ہیں اور آیندہ بھی آتی رہیں گی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ امریکا کو اپنے مقاصد کے حصول میں آسانیاں حاصل رہیں گی یا مشکلات کا سامنا ہوگا۔
بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکا کو اور اس کے اتحادیوں کو اس دلدل میں کس نے پھنسایا اور ان کے خلاف امریکا میں کیا کوئی کارروائی ہورہی ہے؟ اس حوالے سے اگر ہم افغان جنگ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمارے سامنے ’’بش اینڈ کمپنی‘‘ مجرم کی حیثیت سے سامنے آتی ہے۔ لیکن بش اور اس کے ساتھی جنہوں نے نہ صرف امریکا کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا بلکہ دنیا بھر میں امریکی سپرپاوری کو ذلیل و رسوا کیا، وہ بڑے آرام اور بڑی آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں نہ امریکی عوام کی نظریں اپنے قومی مجرموں کی طرف جاتی ہیں نہ امریکا کا آزاد میڈیا اس حوالے سے کوئی آواز اٹھاتا دکھائی دیتا ہے، نہ امریکا کے دانشورانہ حلقوں کی طرف سے بش اینڈ کمپنی کے احتساب کی کوئی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ رویے مستقبل کے حکمرانوں کو اس قسم کی حماقتوں اور جرائم کی ترغیب بھی فراہم کرتے ہیں اور کھلی چھوٹ بھی دیتے ہیں۔
افغانستان کے صدر حامد کرزئی مستقبل کے افغانستان میں اپنی جگہ حاصل کرنے کے لیے مختلف حوالوں سے بلیک میلنگ کرتے نظر آرہے ہیں لیکن امریکا ان کی وجہ سے پریشان نہیں کیونکہ کرزئی کی حیثیت گھر کی مرغی جیسی ہے، امریکا کو پریشانی یہ ہے کہ اس کی فوجیں اور جنگی سازوسامان خیریت سے گھر کس طرح پہنچے اور مستقبل میں اس خطے میں اس کے مفادات کے تحفظ میں وہ افغانستان کو کس طرح استعمال کرسکتا ہے۔ حامد کرزئی اپنی بارگیننگ پوزیشن بہتر بنانے کے لیے امریکا کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی بلیک میل کر رہے ہیں اور اس حوالے سے دوسرے حربوں کے علاوہ ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے سے انکار بھی کر رہے ہیں۔
قطر میں ہونے والے مذاکرات کے اصل فریق امریکا اور طالبان ہیں۔ مختلف قبائلی اور نسلی گروہوں میں بٹے ہوئے افغانستان کے اسٹیک ہولڈروں کی جن میں طالبان ایک اہم حیثیت کے اسٹیک ہولڈر ہیں، کوشش یہ ہے کہ افغانستان کا اقتدار ان کے ہاتھوں میں آجائے تاکہ وہ ملاعمر کو امیرالمومنین بناکر افغانستان میں طالبانی نظام قائم کریں۔ جس کا مشاہدہ دنیا نے ماضی کے طالبانی نظام میں کیا ہے۔ امریکا کی طالبان سے اہم شرط یہ ہے کہ طالبان القاعدہ سے اپنا رشتہ توڑ دیں۔ مشکل یہ ہے کہ القاعدہ اور طالبان نظریاتی طور پر دودھ اور پانی کی حیثیت رکھتے ہیں اس صورت میں امریکا ان دونوں طاقتوں کے رشتوں میں دراڑ ڈالنے میں اور دودھ اور پانی کو علیحدہ کرنے میں کس طرح کامیاب ہوسکتا ہے۔
قطر کی حکومت نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ قطر میں طالبان کا دفتر کھل گیا ہے۔ طالبان کے ترجمان محمد نعیم کا کہنا کہ ہم افغانستان کے ہمسایہ ملکوں سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں مذاکرات کے دوران امریکا طالبان سے پرتشدد کارروائیاں روکنے، القاعدہ سے تعلقات ختم کرنے، افغان آئین کو تسلیم کرنے اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے دباؤ ڈالے گا۔ امریکی وزیر خارجہ کیری کا کہنا ہے کہ مذاکرات کئی مرحلوں پر مشتمل ہوں گے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان ان مذاکرات میں تعاون کرے گا۔
امریکا اور نیٹو نے باضابطہ طور پر افغانستان میں سیکورٹی اور جنگی قیادت افغان حکومت کے حوالے کردی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آیندہ افغان جنگ میں امریکا اس کے اتحادیوں اور نیٹو کا کردار ختم ہوگیا ہے۔ حامد کرزئی نے کہا ہے کہ آج سے ہماری یعنی افغان فوج سب سے آگے ہوگی اور افغانستان کی سیکورٹی کی تمام تر ذمے داری ہماری بہادر فوج کے کندھوں پر ہوگی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ قطر مذاکرات میں طالبان ٹیم میں ملا عمر کے قریبی ساتھی طیب آغا اہم کردار ادا کریں گے اور امریکا کی مذاکراتی ٹیم میں وائٹ ہاؤس کوآرڈی نیٹر برائے جنوبی ایشیا ڈگلس لوٹ اور افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی جیمز ڈوبنر شامل ہوں گے۔
اب اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ امریکا 2014 میں افغانستان سے نکل جائے گا لیکن افغانستان کے فوجی اڈوں پر ضرورت کے مطابق امریکی فوجی موجود ہوں گے، ان اڈوں کی اہمیت اور معنویت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان میں سے ایک اہم اڈہ ایران کی سرحد سے چند فرلانگ پر واقع ہے۔ قطر مذاکرات میں لگتا ہے کہ امریکا اپنی فوجوں اور جنگی سازوسامان بحفاظت واپس لے جانے کی گارنٹی حاصل کرلے گا لیکن امریکا کے بعد کے افغانستان کے اہم مسائل میں حامد کرزئی کا مستقبل، پاکستان کے مفادات کا تحفظ، بھارت کا کردار، افغانستان کی مستقبل کی حکومت میں قبائلی اور نسلی وار لارڈز کا مقام اور سب سے زیادہ اہم بات طالبان کا کردار ہوگا۔
قطر میں ملاعمر کے نمایندے نے افغانستان کے نظریاتی مستقبل کی تو کوئی واضح بات نہیں کی لیکن ایک انتہائی مثبت بات یہ کی ہے کہ ’’افغانستان اپنے ہمسایہ ملکوں سے دوستانہ تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے‘‘ طالبان نے 12 سال تک دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے خلاف کامیاب جنگ لڑی ہے، کاش! افغانستان کی مستقبل کی حکومت کے ایجنڈے کا پہلا آئٹم افغانستان کو ماضی کے فرسودہ قبائلی نظام سے نجات دلاکر افغانستان کو ایک ترقی یافتہ اور مہذب ملک بنانا ہو تاکہ صدیوں سے پسماندگی، غربت اور جنگوں کے ستائے ہوئے عوام ایک بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہوسکیں۔ کیا ایسا ممکن ہے؟ اگر ایسا نہ ہوا تو افغانستان ایک شدید خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے۔