خبریں

امریکہ کا شام پر اچانک حملوں کیلئے غور شرو

 واشنگٹن: شام پر اچانک حملوں کے حوالے سے امریکی حکومت کے اندرونی حلقوں نے غور شروع کر دیا، غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوج کے چیرمین برائے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی نے امریکی سینیٹ کو بتایا ہے کہ شام پر اچانک حملوں کے حوالے سے امریکی حکومت کے اندرونی حلقوں نے غور شروع کر دیا ہے۔ امریکی سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر جان میک کین شام میں امریکی مداخلت کے پْر زور حامیوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے ایک سوال کے جواب میں امریکی فوج کے چیئرمین برائے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی نے سینیٹ کو بتایا کہ شام میں امریکی حملوں کا معاملہ زیر غور ہے۔ ڈیمپسی کے مطابق شام میں اسد حکومت کے اہداف پر محفوظ اور اچانک حملوں کا معاملہ صدر باراک اوباما اور منتخب حکومتی اہلکاروں کی منشا سے ہو گا اور اس مناسبت سے اعلیٰ فوجی قیادت کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ امریکی جنرل کے مطابق اس معاملے پر غور کرنے کے عمل میں بعض حکومتی ایجنسیاں بھی شریک ہیں۔ ڈیمپسی نے یہ بھی واضح کیا کہ اس حوالے سے وہ حکومتی فیصلے میں شریک ہو کر اپنا اثر استعمال کرنے کو نامناسب خیال کرتے ہیں لہٰذا حکومت اپنی رضا سے حتمی فیصلہ کرے گی۔ کمیٹی کے سامنے اپنی رائے دینے سے گریز کرنے پر سینیٹر جان مک کین نے اپنی خفگی کا بھی اظہار کیا۔ جان مک کین کا کہنا تھا کہ یہ جنرل کے فرائضِ منصبی میں شامل ہے کہ وہ سینیٹ کے اراکین کو اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ جنرل ڈیمپسی نے واضح کیا کہ وہ شام میں امریکی مداخلت کی راہ کو روکنے یا اس عمل میں رکاوٹ کا باعث نہیں ہیں۔ شام میں مداخلت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے اور کمیٹی کے اراکین کو ممکنہ ملٹری آپشنز کے بارے میں بند کمرے میں بریفنگ دی جا چکی ہے اور فوج کا استعمال ملک کی منتخب قیادت کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری جانب شام میں اسد حکومت کے خلاف برسر پیکار ایک اہم باغی کمانڈر کے امریکی دورے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ شامی باغیوں کی سپریم ملٹری کونسل کے جنرل سلیم ادریس اگلے ہفتے کے دوران امریکا پہنچ رہے ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کا دورہ کرنے کے بعد واشنگٹن بھی امکاناً جائیں گے۔ سیریئن ایمرجنسی ٹاسک فورس کی سیاسی مشیر ایلزبیتھ او باگی نے بتایا ہے کہ جنرل سلیم ادریس کے دورے کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ شامی باغیوں کے قومی اتحاد کی نمائندہ اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی سفارت کار مریم جلابی نے جنرل سلیم ادریس کے دورے کی تصدیق کر دی ہے۔