مضامین

امریکی فوج کے سربراہ کا بیان امریکی صلیبی جنگ اور اس کے مسلمان سپاہی

امریکی فوج کے سربراہ کا بیان امریکی صلیبی جنگ اور اس کے مسلمان سپاہی
پروفیسر شمیم اختر
امریکی افواج کی مشترکہ کمان کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے 19 جولائی کو سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کو تحریری بیان میں بتایا کہ القاعدہ کی شکست کے لیے افواجِ پاکستان کا تعاون بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امورِ سلامتی میں ماضی کے مقابلے میں پاکستان کا تعاون محدود رہا جسے اس نے عملیت پسندی کے تقاضوں پر محمول کیا، تاہم 2009ء کے بعد امریکہ اور پاکستان کی کارروائیاں مشترکہ اہداف پر مرکوز ہوگئیں، اور اس ضمن میں انھوں نے اپنی اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ملاقاتوں کا خاص کر ذکر کیا جس کے باعث دونوں ریاستوں کی افواج میں نچلی سطح پر روابط قائم ہوئے۔ جنرل ڈیمپسی نے پاکستان کی افواج سے نچلی سطح پر تعاون پر زور دیا تو اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا اعلیٰ سطح پر یعنی طرفین کی عسکری قیادتوں کے مابین نچلی سطح کے مقابلے میں کم تعاون یا باہمی اعتماد کا فقدان ہے؟ آخر امریکی جنرل کی پاکستان کی افواج کی نچلی سطح سے کیا مراد ہے؟ نچلی سطح پر تو سپاہی، لانس نائیک، حوالدار، لیفٹیننٹ، کپتان اور میجر وغیرہ شمار ہوتے ہیں جو اعلیٰ افسران کے حکم کے بغیر کوئی فیصلہ کن اقدام نہیں کر سکتے۔ اگر جنرل مارٹن ڈیمپسی کی بات مان لی جائے تو کیا یہ باعثِ تشویش نہیں ہے کہ ایک غیرملکی طاقت کسی ملک کی فوج کے اعلیٰ سطح کے افسران پر ان کے ماتحتوں کو ترجیح دیتی ہے؟ باب وڈورڈ (Bob Wood ward) نے اپنی کتاب ‘‘Obama’s War’’ میں صاف لکھا کہ اس نے امریکی اہلکار کو یہ کہتے سنا کہ امریکہ نے پاکستان کے بعض حکام کو خرید لیا ہے۔ لیکن ڈیمپسی کا یہ کہنا کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے اکثر و بیشتر ملاقات کرتے رہے ہیں، ظاہر کرتا ہے کہ وہ ان کو شیشے میں نہیں اتار سکے، لہٰذا مایوس ہوکر انہوں نے نچلی سطح پر پاکستانی اہلکاروں سے روابط استوار کرلیے۔ جنرل کیانی کے بارے میں یہ خبر شائع ہوچکی ہے کہ انھوں نے نام نہاد انسداد دہشت گردی کی جنگ کے بارے میں اپنی تحریر کردہ رپورٹ/ تجزیہ میں امریکہ پر پاکستان کے جوہری اسلحہ خانے کو ختم کرنے اور اسے قربانی کا بکرا بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
امریکی جنرل پاکستان اور امریکہ کے مابین نچلی سطح پر تعاون کے فوائد گنواتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کے باعث پاکستانی اور امریکی افواج نے مشترکہ ہدف پر اپنی توجہ مرکوز کردی۔ اس نے یہ تاثر بھی دیا کہ گویا امریکہ کی ایما یا دباؤ اور امداد پر افواج پاکستان نے سوات، شمالی اور جنوبی وزیرستان، باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کیں۔
اس نے پاکستان کو اتحادی فنڈ سے دی جانے والی رقوم کا بھی ذکر کیا ۔اسی طرح ڈیمپسی نے عسکریت پسندوں کے خلاف ’’سرحدپار‘‘ امریکی اور پاکستانی افواج کی کارروائی کا بھی ذکر کیا ہے۔
سمجھ میں نہیں آیا کہ جب امریکہ پاکستان میں اپنے اہداف کا خود تعین کرتا ہے تو اس کی حلیف پاکستان کی فوج بھی کارروائی کرتی ہے جس کے عوض اسے امریکہ اتحادی فنڈ سے رقم فراہم کرتا ہے تو اسے پاکستان اپنی جنگ کیسے کہہ سکتے ہیں؟
اپنی جنگ تو اپنے وسائل، اپنی طاقت اور اپنے وطن کے مفاد میں لڑی جاتی ہے نہ کہ کسی غیر ملکی کے کہنے پر۔
حقائق یہ بتاتے ہیں کہ قبائلی علاقوں کی پولیٹیکل ایجنسیوں کے اہلکار یا ان کے مخبر وزیرستان میں امریکی افواج کے انعام کے لالچ میں عسکریت پسندوں کی نشاندہی کرکے ڈرون حملے کراتے ہیں۔ ایبٹ آباد کمیشن نے بھی یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا 2 مئی کو بلال ٹاؤن میں واقع اسامہ بن لادن کی مبینہ رہائش گاہ پر امریکی فضائی حملے کے بارے میں فضائیہ کے سربراہ کو اطلاع کیوں نہیں دی گئی جبکہ ملک کے طول و عرض میں امریکی سی آئی اے نے اپنا جال بچھا رکھا ہے۔ کمیشن نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ امریکی حملے سے ایک دن قبل امریکی سفارت خانے سے بڑی بڑی گاڑیاں ایبٹ آباد کی جانب رواں دواں تھیں لیکن کسی نے اس کا نوٹس نہیں لیا، نیز یہ کہ حسین حقانی نے 2 مئی کی واردات سے قبل کھیپ کی کھیپ امریکیوں کو پاکستان کے ویزے دیے تھے جب کہ ان کی چھان بین آئی ایس آئی سے نہیں کرائی گئی کیونکہ وفاقی حکومت نے یہ اختیار مذکورہ ایجنسی سے واپس لے لیا تھا۔ اسلام آباد میں امریکی چانسری کی تعمیر کو بھی کمیشن نے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، اسی طرح کراچی میں 26 ایکڑ پر امریکی قونصل خانہ بنایا جارہا ہے جس کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ آئے دن لاہور اور اسلام آباد میں جعلی نمبر پلیٹوں اور رنگیں شیشوں والی گاڑیاں امریکی قونصل خانوں سے آتی ہیں جن میں سوار مسلح امریکی ایجنٹ شہر میں واردات کرتے رہتے ہیں۔
کیا وجہ ہے کہ کراچی میں خود کار اسلحے کی ترسیل نہیں روکی جاتی؟ یہ اسلحے نہ تو فاٹا سے آتے ہیں نہ پاٹا سے۔ انہیں پاکستان سے افغانستان جانے والے امریکی کنٹینر لاتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ منشیات اور اسلحہ کی طرح انسداد دہشت گردی ایک مستقل کاروبار بن گیا ہے۔اس میں لڑنے والوں کو امریکہ کی اتحادی امدادی رقم (Coalition Support Fund) کی مد میں سے اجرت یا دیہاڑی دی جاتی ہے اور بلیک واٹر کے گماشتوں کو پاکستان میں لسانی، فرقہ وارانہ فسادات کرانے اور ہدفی قتل جاری رکھنے کے لیے بم، 9MM Gun، AK47 رائفل، اس کے میگزین، کارخانوں میں آتش زنی کے لیے آتش گیر مواد تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اگر پاکستان میں جاری دہشت گردی مذہبی انتہا پسندی اور تعصب کی وجہ سے ہو رہی ہے تو طالبان کا تختہ الٹنے کے لیے افغانستان پر امریکی حملے میں مشرف جنتا کی معاونت سے قبل یہ کیوں نہیں تھی؟ کیونکہ پاکستان تو مذہب کے نام پر بنا تھا اوراس کا دستور ہمیشہ سے اسلامی رہا ہے، اس لیے اگر موجودہ دہشت گردی کے عوامل مذہبی تھے تو 11 ستمبر 2001ء سے پہلے یہ دہشت گردی کیوں نہیں برپا ہوئی؟
جو لوگ امریکہ کی جنگ کو اپنی جنگ کہتے ہیں انہی کے پیشرو نوآبادیاتی دور میں خلافتِ عثمانیہ کے خلاف برطانیہ کی جنگ کو بھی اپنی جنگ کہتے تھے اور تحریکِ خلافت کے رہنماؤں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خان کے منع کرنے کے باوجود انگریز کی فوج میں بھرتی ہو کر خلافتِ عثمانیہ پر حملے کرکے مسلمانوں کا قتل عام کرتے رہے اور اس کے صلے میں ان کو اعلیٰ عہدے، سرکاری مراعات اور اعزازات ملے۔ اسی طرح آج امریکہ کی جنگ کو جو صلیبی جنگ ہے، اپنی جنگ کہہ کر لوگ مراعات، انعامات اور اعلیٰ عہدے حاصل کررہے ہیں۔
امریکہ نے جس ڈھٹائی سے بعض اخبارات، ٹیلی ویڑن چینلوں اور صحافیوں کو نقد و جنس کی صورت میں ادائیگی کی ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے مفاد کی خاطرکس حد تک جاسکتا ہے۔ ایبٹ آباد کمیشن نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ بعض عناصر کو رقم، شراب اور عورتیں مہیا کی جاتی رہی ہیں۔ یہ لوگ اگر اس جنگ کو اپنی جنگ نہ کہیں تو ان کا ’’من و سلویٰ‘‘ بند ہو جائے گا۔
اگر انتظامیہ یا جو محکمہ بھی ان سفارشات پر عملدرآمد میں لیت و لعل کرتا ہے اسے عوام کے سامنے بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ پاکستان میں امن و امان کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ اندرون ملک غیر ملکی ایجنٹوں کو نکال باہر کیا جائے، کیونکہ وہ ریاست کے لیے مہیب خطرہ ہیں۔ ظاہر ہے جو انہیں تحفظ دے گا اْس کی حب الوطنی مشتبہ ہوجائے گی۔ قائداعظم آزاد مسلم ریاست کے قیام کے خواہاں تھے، نہ کہ اسے استعمار کا اڈہ بنانا چاہتے تھے۔ پاکستان کے عوام یہ سمجھ لیں کہ پاکستان کی جدوجہدِ آزادی میں ان کو کیا کردار ادا کرنا ہے۔