سرورق مضمون

انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل: ستر فیصد سے زیادہ پولنگ ، بائیکاٹ کال بے اثر

انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل: ستر فیصد سے زیادہ پولنگ ، بائیکاٹ کال بے اثر

انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل:
ستر فیصد سے زیادہ پولنگ ، بائیکاٹ کال بے اثر
ڈیسک رپورٹ/
25 نومبر کو پہلے مرحلے پرریاستی اسمبلی کے 15حلقوں کے لئے ووٹ ڈالے گئے۔ الیکشن کمیشن کے حکام کی طرف سے دئے گئے بیان کے مطابق اوسط طور ستر فیصد ووٹ ڈالے گئے ۔ان اعداد وشمار کے مطابق سب سے زیادہ ووٹ سوناواری کے حلقے میں ڈالے گئے جبکہ گاندربل میں 53 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ کرگل میں ساٹھ فیصد کے قریب ووٹروں نے اپنی رائے کا استعمال کیا ۔ علاحدگی پسندوں کی طرف سے الیکشن بائیکاٹ کی دی گئی کال کا لوگوں پر زیادہ اثر نہیں رہا۔ پولنگ بوتھوں پر ووٹروں میں سخت جوش و خروش دکھائی دیا۔ معمولی نوعیت کے واقعات کو چھوڑ کر مجموعی طور ووٹنگ پرامن رہی ۔
ریاست میں ہورہے اسمبلی کے انتخابات کو اس وجہ سے بڑی اہمیت دی جارہی ہے کہ ان انتخابات کے لئے علاحدگی پسند حلقوں نے بائیکاٹ کی کال دی تھی ۔ اس سے پہلے یہاں پارلیمنٹ کے لئے انتخابات ہوئے۔ پارلیمنٹ کے ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات ہوئے اور بہت کم لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ۔ لیکن اب کی بار لوگوں نے علاحدگی پسندوں کی اپیل پر کان نہیں دھرا اور سردی کے باوجود ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ بوتھوں پر آگئے۔ علاحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے انہیں لوگوں تک پہنچنے نہیں دیا۔ یاد رہے کہ کئی علاحدگی پسندلیڈروں جن میں یاسین ملک اور شبیر شاہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں گرفتار کئے گئے جبکہ سید علی گیلانی گھر میں نظر بند ہیں ۔لیکن علاحدگی پسند مخالف جماعتوں کا کہنا ہے کہ لوگوں نے ان کی کال کو نظر انداز کرکے بڑے پیمانے پر ووٹنگ میں حصہ لیا۔ اس ووٹنگ کا یہاں کے حالات پر کیا اثر پڑے گا ، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ اب دوسرے مرحلے کے لئے ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ اس بارے میں ریاستی پولیس کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ پرامن ووٹنگ پر اثر ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ادھر ترال میں ایک بڑا واقعہ اس وقت پیش آیا جب تین جنگجووں کو مشکوک حالت میں ہلاک کیا گیا ۔ یہ عسکریت پسند ایک سومو گاڑی میں سفر کررہے تھے کہ آبہ گھر ترال میں ان پر گولیاں چلائی گئیں اور تینوں موقعے پر ہلاک کئے گئے جبکہ گاڑی کو پولیس نے اپنے تحویل میں لے لیا۔ سیکورٹی فورسز اس کو اپنے لئے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں ۔ جنوبی کشمیر میں اب تک کے تمام انتخابات میں حالات پیچیدہ رہے ہیں اور یہاں کسی حد تک بائیکاٹ کا اثر بھی رہتا ہے۔ لیکن موجودہ انتخابات میں اس طرح کی حالت نظر نہیں آتی ہے ۔ لوگ بڑے پیمانے پر انتخابی جلسوں میں حصہ لے رہے ہیں اور اپنے اپنے امیدوار کے ساتھ گھومتے نظر آتے ہیں۔ اس صورتحال سے اندازہ لگایا جارہاہے کہ یہاں بھی کافی ووٹ پڑسکتے ہیں۔ جنوبی کشمیر میں پی ڈی پی کا پلڑا بھاری ہے۔اگرچہ کئی حلقوں میں صورتحال بدلنے کا اندازہ لگایا جارہاہے ۔ پچھلے پارلیمانی انتخابات میں یہاں کے تمام ہی اسمبلی حلقوں میں پی ڈی پی نے اکثریت حاصل کی تھی ۔ لیکن سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ آج صورتحال بدلنے کا امکان ہے ۔ البتہ ڈاکٹر  محبوب بیگ کے این سی کے خلاف اعلان جنگ نے صورتحال ایک بار پھر پی ڈی پی کے حق میں کردی ہے ۔ نورآباد میں پہلی بار کانٹے کا مقابلہ نظر آرہا ہے ۔ اس نشست پر این سی کی کابینہ وزیر سکینہ ایتو کا مقابلہ پی ڈی پی امیدوار سے ہے ۔ ایتو کو اگرچہ یقین ہے کہ وہ یہ سیٹ جیت جائیں گی ۔ لیکن بہت سے این سی کے پنج اور سر پنج ان سے ناراض ہوکر پی ڈی پی کے خیمے میں چلے گئے ہیں۔ اسی طرح کوکرناگ میں موجودہ وزیر پیرزادہ سعید کو بھی مزاحمت کا سامنا ہے ۔ البتہ راجپورہ کی سیٹ پر حالات پی ڈی پی کے قابو سے باہر جارہے ہیں۔ یہاں سابق اسمبلی ممبر سید بشیر کو پی ڈی پی نے پھینک دیا ہے اور ان کی جگہ حسیب درابو کو میدان میں اتارا گیا ہے ۔ بشیر نے بغاوت کرکے آزاد امیدوار کے طور فارم بھردیا ہے ۔ اس کا فائدہ این سی امیدوار کو مل رہاہے ۔ سرینگر کی ایک دو نشستوں پر پی ڈی پی کو کامیابی ملنے کا خدشہ ہے ۔ تاہم این سی سخت کوششوں میں لگی ہوئی ہے اور میدان اپنے حق میں کرنے کی کوششیں کررہی ہے ۔ اس طرح سے انتخابات بڑے دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں ۔