مضامین

انتظامی یونٹس مخلوط سرکار کیلئے ایک اور درد سر

جی این حکیم
مخلوط سرکار کا یہ کام نام بظاہر ایک خوشمنا کام ہے جس کا پہلا حصہ آزاد سرکار نے چند ڈسٹرکٹ یعنی کچھ نئے ضلع قائم کر کے انجام دیا تھا پھر جب ایک اور یعنی موجودہ مخلوط سرکار وجود میں آئی تو یہ کام ابھی ادھورا رہ گیا تھا ساڑھے پانچ سال مخلوط سرکار اسبارے میں پر اسرار طور پر خاموش بیٹھی رہی حکومت کے آخری دنوں میں جیسے تاج محل بنانے کا خیال آیا آخر مخلوط سرکار کے سربراہ عمر عبداللہ اس وقت یہ فیصلہ کیوں عملانے پر بضد رہے جب حکومت کا وقت پورا ہو رہا ہے شاید اسی لئے کہ اگر ساجھے دار پارٹی نے ساتھ نہیں دیا تو ہم موجودہ اسمبلی کو توڑ کر الگ ہو جائیں گے اور عوام کو یہ کہنے کا موقعہ ملے گا کہ کانگریس والوں نے یہ بہت بڑا کارنامہ انجام دینے نہیں دیا اس طرح وہ سیاسی مظلوم بن کر شہید ہونا چاہتے تھے تب ہی اگلی میٹنگ میں کانگریس کے رویہ سے تنگ آکر عمر عبداللہ اسمبلی توڑنے کی دھمکی دے دئے گئے ایک طرف نیشنل کانفرنس مشتاق گنائی کمیشن کی سفارشات لاگو کروانا چاہتے تھے تو دوسری طرف کانگریس والے اس کمیشن کی سفارشات ماننے سے انکار کرتے تھے حتیٰ کہ جموں میں وزیر خزانہ عبدالرحیم راتھر کو ایک کانگریسی غنڈے نے وزیراعلیٰ کے سامنے گریبان سے پکڑ کر قراقُلی گرا دی وزیر زراعت غلام حسن میر کی مداخلت سے معاملہ دبا دیا گیا یہ دیکھ کر سوز صاحب جس کو پہلے ہی چپ رہنے کیلئے کہا گیا تھا ہکا بکا رہ گیا تو غلام حسن میر کے مشورے پر دہلی میں سونیا گاندھی سے مشورہ لینے کا پروگرام طے ہوا دونوں فریق دوڑے دوڑے دہلی چلے گئے جہاں دونوں فریقین کے ذمہ داروں کو کان کھینچائی کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ جموں صوبے کو کشمیر صوبہ سے زیادہ حصہ ملنا چاہیے جو اس کو مل ہی گیا اب رہا سوال وادی کو کتنے CDB ملے یا نیابتوں کی تعداد کتنی رہی نئے تحصیل بنائے گئے اور کتنے سب ڈسٹرکٹ وجود میں آئے یہ ایک الگ بحث ہے دیکھنا یہ کہ جو حکمران یا بھارت نواز سیاست دان دفعہ 370 کی واعظ خانی کرتے ہیں اور گلے پھاڑ پھاڑ کر ریاست کی وحدت کو اس دفعہ سے مضبوطی کے دعوے کرتے تھکتے بھی نہیں ان کو اب یہ احساس ہونا چاہیے کہ ریاست کے وزیراعلیٰ کو یہ اختیار نہیں رکھا گیا ہے کہ وہ از خود یہ فیصلہ کر سکے کہ نیابت تحصیلدار کو اپنی مرضی سے کسی جگہ بیٹھنے کے لئے جگہ منتخب کر سکیں بات بات پر مرکز کی منظوری اور کانگریس والوں کی حکمرانی جو بظاہر مخلوط سرکار میں شامل ہو کر بھی اپنی الگ سرکار چلاتے ہیں صلاحیت اس حکمرانی پر اور ان حکمرانوں پر جو بظاہر تخت پر تو جلوہ افروز نظر آتے ہیں مگر بہرے اور گونگے بننے پر رضا مند ہیں چلو مان لیتے ہیں کہ سیاست کی کچھ مجبوریاں بھی ہیں مگر سب سے زیادہ مجبوری اقتدار کی ہی نظر آتی ہے تاکہ حکمران کو عیش و عشرت کا جو چسکا لگ چکا ہے وہ بر قرار رہے۔ اب آتے ہیں وادی کی طرف جموں کی نسبت یہاں بہت سارے ایسے مسائل نے گھیر رکھا ہے جن کا سدباب پہلے ضروری تھا بعد میں بڑے مسائل انتظامی یونٹس کا قیام دس سال بعد میں بھی اگر عملایا جاتا ٹھیک ہی تھا کیونکہ اس بارے میں لوگوں کی چاہت ضرور تھی مگر حکومت پر زیادہ دباؤ نہیں تھا۔ دباؤ جس بات کا حکومت پر تھا وہ صرف بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مستقبل کو بچانے کا ہے جس کو آج تک تمام سرکاریں نظر انداز کر چکے ہیں اُمید تھی کہ عمر عبداللہ ایک نوجوان اور ریاست کے حکمران بھی بن گئے شاید یہ مرکزی سرکار کو یہاں عوام کے لئے کوئی خاص پیکیج دلوانے کی طرف دباؤ ڈالے گا جس طرح مرکزی سرکار نے ملی ٹینسی کے بعد پنجاب سرکار کو وہ اپنے اقتدار کی بندر بانت کے لئے آہو زاری کرتے ہیں۔ ریاست مخلوط سرکار اپنے دور حکمرانی میں کوئی خاص بڑا کارنامہ انجام دینے میں ناکام رہی ہے نہ بے روزگاری کا خاتمہ ہوا نہ مہنگائی قابوں میں آگئی نہ وسائیل ہی پیدا کئے گئے بجلی کا بحران بھی برقرار ہے اس پر انتظامی یونٹوں کا قیام جو ایک نیا بہران پیدا کرنے جا رہا ہے بہت سارے علاقوں کے لوگ آپس میں دست گریبان میں کوئی گاؤں، بلاک نہ ملنے پر ناراض کوئی نئے قائم شدہ تحصیلوں کے ساتھ رکھنے اُلجھی ہوئی نظر آتی ہے دوسری جانب وادی کے نوجوان زبردست ناراض ہیں مگر خاموش مخالف سمت سے ہوا کا رُخ بھی بدل رہا ہے تمام تدبیریں ناکام نظر آتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے مخلوط سرکار کا آخری داؤ بھی کانگریسی کے وزیر صحت شبیر خان کی خجالت کی نظر ہو جائے گا شاید اب کی سنبھلنے کا موقعہ بھی نہیں ملے گا۔ بقول شاعر
الٹی ہو گئی سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا