اداریہ

اننت ناگ کے ضمنی انتخابات موخر کیوں؟

2014 کے اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے طور اُبھر آئی۔ اُس وقت پی ڈی پی کے28 امیدوار کامیاب قرار پائے گئے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر25 ممبران کی کامیابی بی جے پی کوملی۔ تیسرے نمبر پر نیشنل کانفرنس اور چوتھا نمبر کانگریس کو ملا۔ اس سے پہلے اگر چہ انتخابات کرانے کی تیاریوں کے دوران سبھی پارٹیوں نے عوام کو سبز باغ دکھانے شروع کئے اور ہر ایک پارٹی نے اپنا اپنا منشور پیش کیا۔ پی ڈی پی نے بھی اپنا منشور دیا جس میں عوام کی فلاح و بہبود کی بہت ساری باتیں کی گئی اور تو اور پی ڈی پی نے الیکشن ریلیوں میں عوام کو خاص طور اس بات کی طرف دھیان دینے کی کوشش کرائی کہ ریاست میں کسی بھی طرح سے بی جے پی کی کامیابی نہ ہونی پائے یہاں تک کہ پی ڈی پی کے سینئر لیڈروں کے ساتھ ساتھ پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے بھی بی جے پی کو فرقہ پرست اور مسلمانوں کی دشمن جماعت بتایا۔ الیکشن نتائج میں جب بی جے پی دوسری بڑی پارٹی کے ساتھ اُبھر آئی تو سبھی پارٹیوں کے منہ تقریباً بند ہو گئے۔ سب لوگ الگ الگ رائے قائم کرنے لگے کئی لوگ خیال کر رہے تھے کہ پی ڈی پی کسی ایک پارٹی کے ساتھ گڑھ جوڑ نہیں کر سکتی اور کئی ایک حلقے اس بات کی طرف دھیان دے رہے تھے کہ شاید مرحوم مفتی محمد سعید کانگریس کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والے ہیں اورکئی حلقے نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کے اتحاد کی باتیں کرنے لگیں ، مگر ایسا بھی نہیں ہوا قریباً دو مہینے کا وقفہ دے کر مرحوم مفتی محمد سعید نے تمام حلقوں کی قیاس آرائیاں اُس وقت ختم کر دی جب بی جے پی کے ساتھ اتحاد قائم کر کے پی ڈی پی بی جے پی کی مخلوط سرکار بنائی جس کے وہ سربراہ یعنی وزیراعلیٰ بن گئے۔ اس طرح سے پی ڈی پی کا بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے ریاست میں سرکار بنانے سے ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا اوربی جے پی کو ریاست میں پہلی بار اقتدار ملا۔ اس کے بعد مرحوم مفتی محمد سعید نے ابتداء میں ہی اس بات کا اعتراف کیا سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے، یعنی سیاست میں نہ کوئی دشمن ہوتا اور نہ دوست، وقت دیکھ کر سب کچھ کیا جاتا ہے۔ اس طرح سے عوام کو پہلے الیکشن ریلیوں میں پی ڈی پی کے وعدوں کو مد نظر رکھ کر اب بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے پر ناراضگی پائی جاتی تھی اور عوام کو پی ڈی پی کی ایک طرح سے نفرت ہونے لگی تاہم کئی حلقے اس بات کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کا شوشہ پھیلانے لگے کہ مفتی محمد سعید کوئی نیا سیاست دان نہیں بلکہ یہ کافی ہوشیار اور ماہر سیاستدان گردانتے جاتے ہیں،اس لحاظ سے مفتی محمد سعید بی جے پی سے ضرور کچھ ایسے مراعات حاصل کریں گے جس کو خاص طور سے کشمیری عوام سرآنکھوں پر بیٹھائیں گے اور مفتی کی جئے کرنے لگیں گے، تاہم یہ قیاس آرائیاں بھی حقیقت میں نہیں دیکھی گئی، کچھ مہینوں کے بعد مفتی محمد سعید کی رحلت ہو گئی اور ریاست میں گورنر راج کا نافذ کرنا پڑا، قریباً تین مہینے گذر جانے کے بعد پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بھی اپنے والد کی طرح پھر سے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے سرکار بنائی، وقفے والے مہینوں میں کیا طے پایا گیا اس کے فوری نتائج نہیں نکلے۔ مرحوم مفتی محمد سعید کی رحلت کے بعد اُن کے حلقہ اننت ناگ میں اسمبلی کی نشست خالی ہو گئی جس پر اگر چہ فوری طور الیکشن نہیں کرائے گئے تاہم محبوبہ مفتی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جاتا تھا کہ جلد ہی حلقہ انتخاب اننت ناگ میںضمنی چنائو ہونے والے ہیں تاہم یہ حلقہ کون سا رُخ اختیار کرنے والا ہے مستقبل میں اس کا پتہ چل ہی جائے گی تاہم ابھی سے یہی خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ پی ڈی پی کے صدر اور وزیراعلیٰ مفتی محمد شاید یہ جان چکی ہے کہ پی ڈی پی کے تئیں عوام کو کافی ناراضگی ہے اور اس لحاظ سے وہ فوری طور سے ضمنی چنائو کرانے کے حق میں نہیں ہے۔وزیراعلیٰ یہ سوچتی ہو گئی کہ اگر اننت ناگ کے ضمنی انتخابات میں پی ڈی پی کو کامیابی نہیں ہوئی تو اُنہیں لینے کے دینے پڑ جائیں گے یہی وجہ ہے کہ اننت ناگ کے ضمنی انتخابات فی الحال موخر کر دی گئے۔