سرورق مضمون

اوبامہ کی وائٹ ہاؤس سے حیدر آبادہاؤس آمد / مذہبی تنگ نظری کے بجائے مذہبی رواداری اختیار کرنے کامعنی خیز مشورہ

ڈیسک رپورٹ/
26 جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقعے پرمنعقد کی گئی تقریب میں امریکی صدر باراک اوبامہ نے مہمان خصوصی کے طور شرکت کی۔ اس طرح کی تقریب میں یہ کسی امریکی صدر کی شرکت کا پہلا موقعہ تھا۔ اس موقعے پر ملک بھر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔ دہلی میں اب تک کی سخت ترین سیکورٹی دیکھنے کو ملی ۔ مہمان صدر کے لئے سات دائروں والی سیکورٹی کا انتظام کیا گیا تھا۔ سیکورٹی کی سخت ترین حصار میں اوباما نے چالیس منٹ کھلے آسمان تلے گزارے۔ اس دوران انہوں نے یوم جمہوریہ کی تقریب کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ ہندوستان کے فوجی دستوں نے انہیں سلامی دی اور ہیلی کاپٹر سے ان پر پھول نچھاور کئے گئے ۔ اوبامہ کی تقریب میں موجودگی کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے ۔ ان کے اس دورہ سے خطے کے حالات پر کافی اثرات پڑنے کا امکان ظاہر کیا جارہاہے ۔
باراک اوبامہ کا ہندوستان کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ ان کی آمد کو وزیراعظم نریندر مودی نے بڑا ہی اہم دورہ قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دورہ ہندوستان کے لئے بہت ہی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اندازہ بھی یہی ہے کہ ہندوستان کی بین الاقوامی اہمیت مزید بہتر ہوگی۔ دس بارہ سال پہلے مودی نے امریکہ جانے کے لئے وہاں کے سفارت خانے سے ویزا مانگا تھا۔ لیکن امریکی حکومت نے انہیں امریکہ آنے کی اجازت دینے سے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ ان کے ہاتھ گجرات میں مارے گئے مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ لیکن اس دوران حالات میں کافی تبدیلی آئی ہے اور صورتحال یہ ہے کہ امریکی صدر خود دوڑ کے چلا آرہاہے اور مودی سے گلے مل رہاہے۔ مودی نے بھی امریکی صدر کے استقبال میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ پروٹوکول کے تمام ضابطوں کو ترک کر کے مودی نے آئر پورٹ جاکر ان کااستقبال کیا اور انہیں اپنے ہمراہ لایا۔ اس کے بعد وزیراعظم نے اپنے ہاتھوں چائے تیار کرکے انہیں نوش کرائی ۔ ون ٹو ون ملاقات میں کہا جاتا ہے کہ دونوں سربراہوں کے درمیان اہم معاملات پر بات چیت ہوئی۔ امریکی صدر کے دہلی دورے سے خیال کیا جاتا ہے کہ ہندوستان پر ہی نہیں بلکہ پورے برصغیر پر گہرے اثرات پڑسکیں گے ۔ ہندوستان نے امریکہ کے ساتھ تجارت اور نیوکلیر توانائی کے کئی معاہدے کئے ہیں۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ کسی امریکی صدر دہلی آکر پاکستان کو نظر انداز کیا۔ اس سے خطے میں طاقت کے توازن پر اثرات پڑنے کا امکان ہے۔ واحد سپر پاور کا اس طرح خطے کے واحد ملک کی حوصلہ افزائی کرنا معنی خیز قرار دیا جاتا ہے۔ اوباما نے اعلان کیا ہے کہ ہندوستان کو یو این سلامتی کونسل کا ممبر بنانے کی کوششوں کو تیز کیا جائے گا اور امریکہ اس میں بھر پور تعاون دے گا۔ اگر چہ افغانستان میں حالات میں بدلاؤ آنے کی وجہ سے امریکہ کی طاقت اور یہاں اس کے اثر و نفوذ میں کافی کمی آگئی ہے تاہم ہند امریکہ تعلقات میں جو گرم جوشی دیکھنے کو مل رہی اس سے اندازہ لگایا جارہا کہ امریکہ ہندوستان کو عالمی سطح پر ایک بڑا رول دینے کا خواہاں ہے ۔ ادھر چین کی بھی سخت کوشش ہے کہ خطے کے حالات میں سرگرم رول ادا کرے۔ چین اور پاکستان ایک دوسرے کے سخت قریب دکھائی دے رہے ہیں۔ اس بات نے بھی امریکہ کو پریشان کررکھا ہے۔ چین کا اثر کم کرنے کے لئے دہلی کو مدددی جارہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان تجارت کے میدان میں جلد ہی چین کی سطح کو چھو جائے گا۔ اس کے باوجود امریکہ ہند تعلقات میں سب سے زیادہ اہمیت دونوں ممالک کے درمیان ہوئے سیول نیوکلیر معاہدے کو دی جارہی ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ کئی سالوں سے کھٹائی میں پڑا تھا۔ اب صدر نے اپنے اختیارات استعمال کرکے اس معاہدے پردستخط کئے ہیں۔ اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں پانچ گنا اضافہ ہونے کا بھی امکان ہے۔ امریکہ کو اس وقت تجارتی منڈی کی از حد ضرورت ہے اور ہندوستان اس حوالے سے پوری دنیا میں اس کے لئے مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات پہلے سے کافی آگے بڑھ چکے ہیں ۔
امریکی صدر کے ہندوستان دورے کے آخر پر ایک اہم بات سامنے آئی ہے ۔ اصل میں صدر یہاں تین دن کے دورے پر آیا تھا لیکن سعودی حکمران شاہ عبداللہ کی وفات کی وجہ سے دورے میں ایک دن کی کمی کی گئی اور اوباما تعزیت کے لئے ریاض تشریف لے گئے ۔ اپنا دورہ ختم کرنے سے پہلے اوباما نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ہندوستان اپنی ترقی کی رفتار بحال رکھنا چاہتا ہے تو اسے مذہبی رواداری کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کا یہ بیان بی جے پی کی بنیادی پالیسی کے سراسر منافی ہے اور مودی کے لئے صرف ایک مشورہ نہیں بلکہ ایک انتباہ بھی ہے ۔ اوباما کا یہ بیان ایک ایسے مرحلے پر سامنے آیا ہے جبکہ ہندوستان میں گھر واپسی پروگرام کے تحت مسلمانوں اور عیسائیوں کو مبینہ طور اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جارہاہے اور انہیں ہندو بنایا جارہا ہے ۔ان کے اس بیان کو معنی خیز قرار دیا جارہاہے ۔