اداریہ

اورمحبوبہ مفتی کو مجبوراً کہنا پڑا

گذشتہ دنوں پی ڈی پی صدر اور ممبر پارلیمنٹ محبوبہ مفتی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ ریاست میں وزیراعلیٰ کی ذمہ داریاں اپنے سر نہیں لینا چاہتی ، محبوبہ مفتی نے باتوں باتوں میں اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ریاست میں مخلوط سرکار یعنی پی ڈی پی بی جے پی اتحاد کیلئے حریت کی رضا مندی بھی شامل تھی تاہم یہ دونوں باتیں کس حد تک درست ہیں غائب اللہ ہی جانتا ہے مگر حریت کی رضا مندی کہنے پر حریت لیڈروں نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور تقریباً تمام لیڈروں نے محبوبہ مفتی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ کہہ کر محبوبہ مفتی سے کہا کہ اگر آپ کو جرأت ہے تو ان حریت لیڈروں کی نشاندہی کریں جنہوں نے آپ کو بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے پر رضا مندی دکھائی۔ جن حریت لیڈروں نے محبوبہ مفتی پر پلٹ وار کیا ان میں سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاورق، شبیر احمد شاہ اور یٰسین ملک خاص طور پر شامل ہیں
یہ ایک حقیقت ہے کہ سیاست اور اقتدار انسان کو کچھ بھی کراتا ہے، ایک طرف محبوبہ مفتی کا یہ کہنا کہ پی ڈی پی کا بی جے پی کے ساتھ اتحاد پر حریت کی رضا مندی بھی شامل تھی اور دوسری طرف یہ کہنا کہ اُنہیں ریاست میں وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے کی چاہت ہی نہیں ہے۔ اصل میں یہ سیاست ہی ہے جس نے محبوبہ مفتی کو یہ دونوں باتیں کہلانے پر مجبور کیا، کیونکہ محبوبہ مفتی کے ساتھ ساتھ پی ڈی پی کے دوسرے چھوٹے بڑے لیڈر اس بات سے بخوابی وقف ہے کہ آب آئندہ یعنی اگلے دور میں پی ڈی پی کو اقتدار ملنا بڑا کٹھن ہے۔ اس لئے کچھ ایسے بیانات داغے جائیں جس سے عوام کو اس بات کی یقین دہانی ہو جائے گی کہ پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد اپنی مرضی سے نہیں بلکہ حریت کی رضا مندی سے کیا۔ یعنی پی ڈی پی دوسری حریت ہے۔اس لئے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عوام غلط فہمی کا شکار ہو جائیں، دوسری اور محبوبہ مفتی کے وزیراعلیٰ بننے کے لئے بی جے پی کے راضی ہونے کی ضرورت ہے اس لئے بی جے پی کو اعتماد میں لئے بغیر پی ڈی پی کوئی ایسا فیصلہ نہیں لے سکتا۔ اس لئے محبوبہ مفتی کے وزیراعلیٰ بننے کے لئے بی جے پی کی مہر ثبت کرنا ضروری ہے، فی الحال بی جے پی نے ان کے وزیراعلیٰ بننے پر رکاوٹیں ڈالی ہیں اور یہی محبوبہ کے بیان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی نے اُن کے وزیراعلیٰ بننے پر وہ مہر ثبت نہیں کی جسے ان کے وزیرا علیٰ بننے کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور محبوبہ مفتی کو مجبوراً یہ باتیں کہنی پڑی، اور یہی سیاست ہے۔