سرورق مضمون

اور ستمبر کا وہ دن آگیا

اور  ستمبر کا وہ دن آگیا

ڈیسک رپورٹ
7 ستمبر کا دن آرہا ہے گھبرانے کی ضرورت نہیں آنے دو جس کو آنا ہے، آ نے والا دن آتا ہے جانے والا دن جاتا ہے۔ گزشتہ سال ہم سب مست و مغرور تھے وہم و گمان سے دور امسال ہم بہت نادم اور خاموش ہیں آج جہاں سرکاری سطح پر’’ جشن‘‘ منانے کی تیاری ہو رہی ہے اور جرأت مند لوگوں کو عزت افزائی کے لئے سرکاری خزانے سے انعامات نقدی وغیرہ دینے کے لئے حکمرانوں نے لنگر لنگھوٹھے کس لئے ہیں خاص کراپنوں کے نام سرفہرست رکھ لئے جو اُس دن سرینگر سے جان بچا کر گائوں گھٹوں میں چھپے بیٹھے تھے جو دور دراز گائوں کے نوجوان جان جوکھم میں ڈالکر سرینگر میں پھنسے لوگوں کو مدد کرنے کے لئے ٹولیوں میں جا رہے تھے اور موت سے کھیل کر واپس لوٹے ان کا نام تک کسی سرکاری کھاتے میں نہیں ہو گا بہر حال سختی کے وقت یا مصیبت میں انسان ایک دوسرے کے کام آئے اللہ کے پاس اجر موجود ہے۔
بات ہورہی تھی گزشتہ سال کے اُس طوفان نوح سیلاب کی جس کا ایک سال مکمل ہو رہا ہے اس پہلی سالگرہ پر ریاستی مخلوط سرکار شرمندگی اور ندامت کے بجائے جشن منانے جا رہی ہے اور مظلوم کشمیری اس پہلی سالگرہ پر بی جے پی اور پی ڈی پی سرکار کی معتصبانہ پالیسی پر یوم ماتم منانے کی تیاری کر رہے ہیں سرکار میں شامل پی ڈی پی ترجمان کے مطابق احیائے نو کا اعلان ہو رہا ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جن لیڈروں نے کشمیریت کا نعرہ دے کر بدلائو لانے کا وعدہ کیا تھا وہی لوگ اقتدار کے خاطر ضمیر تک گروے رکھ کر آج مظلوم کشمیریوں کی بے بسی اور بے کسی پر خاموش تماشی نظر آتے ہیں اور سرکاری سطح پر اُن کی بے بسی کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مفتی سعید کے اعلانات ’’ حکم نواب تادر نواب ثابت ہو رہے ہیں۔اب آمد برسرمطلب سال گزشتہ کے سیلابی قہر نے ریاست میں جانی نقصان کے علاوہ مالی تباہ کاری مچا دی جس کی وجہ سے زرعی زمین باغات مکانات تباہ و برباد ہو گئے عام لوگوں کے جو وسائیل روزگار اور ذریعہ معاش تھا وہ تمام ذرائع سیلابی قہر سے متاثر ہو گئے تھے روزمرہ کی جو آمدنی ہوا کرتی تھی اس پر دوگناہ بوجھ بڑ گیا جو آدمی روزانہ مزدوری تین یا چار سو روپیہ کماتا ہے اس پر وہ غریب مزدور مکان بنائے بستر بنائے یا اشیاء خوردنی لائے کرے تو کیا کرے، اگر چہ سرکاری طور سیلاب متاثرین کے لئے نقدی امداد تقسیم کیا گیا ہے مگر وہ ناکافی ہے، ہاں سرینگر میں واقعی بہت زیادہ نقصان ہوا اور اس کی تلافی مشکل بھی نہیں کیونکہ سرینگر کے کارو بار حلقے انشورنس اسکیموں کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں مشکل وقت کو آسان بنانے کے گُر جانتے ہیں۔اُس کے بجائے گائوں اور دیہاتوں کے لوگ اُن اسکیموں کا زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے اگر چہ سرکاری طور کسانوں کے لئے فصل بیمہ سکیم ملک میں موجود ہے لیکن کشمیر میں اس کی ایک افواہ ضرور ہے زمینی سطح تک پہنچنے کے لئے ابھی بہت وقت درکار ہے۔ اس لئے غریب دیہاتی لوگ سرکار کی طرف عدم توجہی کے شکار ہو جاتے ہیں سال گزشتہ کی سیلاب کے وقت یہاں NC PCI نیشنل کانگرنس مخلوط سرکار موجود تھی جو صرف نام نہاد پنچایت راج کے گرد گھومتی تھی سیلاب کے ساتھ وہ بھی بد حواس ہو کر اپنے کرتوتوں کے بوجھ تلے دب گئی اس کے بعد لوکل پارٹی پی ڈی پی لوگوں کی ہمدر د بن کر سامنے آگئی عوام نے حد سے زیادہ بھروسہ کیا اکثریت دلائی گئی حکومت بنانے میں مشکلات پیش آئے نیشنل کانفرنس،کانگریس پارٹی نے بلا شرط اعتماد دیا مگر پی ڈی پی کو بھروسہ نہیں رہا، بالآخر سیلاب متاثرین کے امداد بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے وسائل روزگار اور بہت سارے مسائلوں کا حل کرنے کے بہانے مسلمانوں کے ازلی دشمن RSS کی برادر پارٹی یعنی بی جے پی جو مرکز میں بر سر اقتدار ہے ناطہ جوڑ دیا وہ بھی دو ماہ کا طویل عرصہ مسلسل بات چیت کے بعد اُس وقت یہ عندیہ دیا گیا تھا کہ بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا اصلی مقصد ریاست میں مالی ترقی اور حالیہ سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری جس کازبردست ڈھونڈورہ پیٹا گیا تھا اب چونکہ پی ڈی پی بی جے پی مخلوط سرکار کو ایک سال ہونے کو آرہا ہے ان سات مہینوں میں حکومت کی کارکردگی کیا رہی بے روزگاری کے خاتمہ کیلئے کونسی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے۔ بنکوں کے مقروض لوگوں کو کیا راحت دی گئی کسانوں کا زعی قرضے کا جو بوجھ تلے دبے ہیں کیا پالیسی چل رہی ہے،ہر طرح کے معاملات پر جو خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں سرکار اس بات کا ایک عام آدمی بھی آسانی سے یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ بھارت کے حکمران طبقہ کشمیریوں کے مشکلات اورمصیبت میں دیکھنا چاہتے ہیں ان کی خوشحالی بھارت والوں کو ہرگز پسند نہیں یہ لوگ جان بوجھ کر کشمیر میں خود حالات بگاڑ دیتے ہیں اور اس بہانے ہم غلام کشمیری لوگوں کو تڑپ تڑپ کر مارنا چاہتے ہیں جس کے لئے کشمیری حکمران طبقہ امریکی بموں نے ناگاساکی اور ہیرو شیما شہروں پر تباہی مچا دی صرف ایک سال میں دوبارہ پائوں پر کھڑے ہو گئے، یہاں اس کے نسبت معمولی سیلاب کے بعد اب بھی متاثرین امداد کے انتظار میں تڑپ رہتے ہیں ، اٹوٹ انگ کہنے والے پنجابی کسانوں کو معمولی بارش پر سو فیصد قرضہ معاف کرتے اور پھر کنبہ کو بیس بیس ہار روپیہ نقدسی امداد دے کر مالی معاونت کرتے ہیں۔
ریاست بہار کے لئے وزیراعظم نریندر مودی ایک بڑے مالی پیکیج کا اعلان کرتے ہیں چونکہ وہاں ایک غیر بی جے پی سرکار ہے اسکو گرانے کے لئے اتنا وسیع نظریہ اور ریاست جموں وکشمیر میں اس کی من پسند سرکار ہے اور یہاں تنگ نظریہ سرکار کے چیلے چانٹوں نے افواہ اڑائی کہ ۱۵ اگست کے روز وادی کے لئے لال قلعہ کے فیصل سے مالی پیکیج کا اعلان کرینگے جو جھوٹ ثابت ہوا۔ پی ڈی پی کے ایک بہت سینئر لیڈر نے اس نمائندے کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران اقرار کیا ہے کہ حکومت بننے میں دیر اس لیے لگ گئی کہ مفتی سعید چھ سالوں کے لئے وزیراعلیٰ کی کرسی چاہتا تھا حالانکہ بی جے پی اسکو غیر ضروری تڑپاتے تھے اس کو معلوم تھا لاٹھی بھی ناٹوٹے سانپ بھی نا مرے کے مصداق اسکو اس طرح قابو میں رکھنا چاہتے تھے، سب مشترکہ پروگرام سفید جھوٹ تھے اس بات کا اعتراف کل پرسوں ہی ممبر پارلیمنٹ مظفرر حسین بیگ بھی کر چکے ہیں، تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ پی ڈی پی کا ایک طبقہ آج کل زبردست مایوس بیٹھے ہیں جس میں خود محبوبہ مفتی بھی اندر سے شامل ہیں اُن کو پتہ چل چکا ہے لوگوں میں پی ڈی پی کی اعتباریت ختم ہو رہی ہے وہ دن دورنہیں جب مجبور لوگوں کا صبر کا پیمانہ ٹوٹ جائے اور پی ڈی پی بی جے پی سمیت سیاست کے نقشے مٹ جائے گی اب رہا سوال کیا لوگ اسی روٹی کے ٹکڑے پر قناعت کرینگے اور چپ چاپ مصائب جھیلتے رہیں گے یا اپنی آواز بلند کرینگے اگرچہ اس بارے وقت زیادہ دور نہیں لیکن پھر سیلاب متاثرین کا وہ طبقہ جن کا زرعی زمین ملیاری ، شالی وغیرہ برباد ہو چکا ہے ان کا فاصلہ کرنا ابھی باقی ہے وہ طبقہ ابھی تک امداد سے محروم نہیں اسی طرح بے روزگار نوجوانوں کے تئیں سرکار کے پاس کوئی واضح پالیسی بھی نہیں ہے غرضیکہ کسان جنہوں نے بنکوں سے سالانہ قرضہ لیا ہے ناسازگار موسی حالات کے شہار کو کو مقروض رہ گئے ان کو یقین تھا کہ اُن قرضہ سوفیصد معاون کیا جائے گا جو پہلے کہا گیا تھا وہ بھی نالان ہیں عام لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ابھی تک بدلائو کا نعرہ لگانے والے خود نہیں بدلے تو اقتصادی بدلائو کس طرح آئے گا اس بی جے پی پی ڈی پی دور میں بھی کنبہ پروری اقربا پروری عروج پر ہے جس کے خلاف یہ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے تھے سرکاری مشینری جام لگ رہی بذات خود مفتی سعید صاحب کا صحت پرانا جیسا نہیں ہے ۱۵؍ اگست کی تقریر میں محسوس ہوا کہ بات بھول جاتے ہیں، ہمت بھی کمزور سی لگ رہی ہے ان حالات کے ہوتے ہوئے اب جو ٹیم وزیراعلیٰ کے ہمراہ ہے سب کے سب جونیئر ہیں۔ سینئر تماشا دیکھتے ہیں۔