اداریہ

اور ویکسین کی فراہمی یقینی بن گئی

یوں تو ایک معمولی سی بیماری کے سامنے انسان بے بس ہو جاتا ہے اور جب کوئی بیماری مہلک یا سخت قسم کی ہوتی ہے تو انسان اور زیادہ پریشانی محسوس کرتا ہے ، سردرد، پیٹ درد ،کمر در یا اور کسی اور بیماری کا اگرچہ دنیا میں علاج مہیا ہے تاہم کوئی نئی بیماری آتے ہی اس کےلئے پہلے سائنسی طور طریقے اپنانا پڑتا ہے اور اس کے بعد اس کی دوائی لائی جاتی ہے۔
آج سے قریباً ایک سال پہلے کی بات ہے کہ جب کورونا وائرس نمودار ہوا اور ہماری اس سرزمین وادی کشمیر میں بھی مارچ ۲۰۲۰ کے آخری عشرے میں اس بیماری نےدستک دی ہے۔ حالانکہ ابتدائی ایام میں اگرچہ بیماری میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد محدود ہی تھا تاہم وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہماری اس سر زمین وادی کشمیر میں بھی کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ مریضوں کی تعداد میں آئے دن کے اضافے نے لوگوں کو کافی زیادہ پریشان کر دیا ۔ ہر طرح لوگ مرد وزن، بچے،جوان اوربوڑھے بے بس نظر آتے رہے اور ہر کوئی اس پریشانی میں لاحق ہوا کہ کہیں کورنا وائرس ان کے خاندان میں دستک نہ دیں۔ بہرحال وقت گذرتا گیا اور کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا رہا اور اگر کسی علاقے میں کورونا وائرس انفیکشن میں کسی کو مبتلا پایا گیا تو ناصرف اس گھر یا خاندان کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس محلے یا گائوں یہاں تک کہ کہیں کہیں پر پورے علاقے کو بند کرنا پڑا۔ یہ بیماری ہی کچھ ایسی تھی جس کی کسی کو بھی زرہ برابر اس کے بارے میں علمیت نہ تھی۔ ان ایام میں لوگ کافی زیادہ پریشانیوں میں مبتلا رہے۔ کسی کو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کورونا وائرس پر قابو پا یا جاسکے اور اس کےلئے ایک دن ویکسین کی فراہمی یقینی بن جائے گی۔ صورتحال ہی کچھ ایسا ہی دکھ رہی ہے ۔ کئی ایک لوگ اس بات پر زیادہ زور دے رہے تھے کہ کورونا وائرس اللہ کی طرف سے لوگوں کے لئے عذاب کی صورت میں آیا ہے۔ اس طرح سے اپنے اپنے خیالوں کا تبادلہ ہر کوئی کرتا رہا۔ کوئی کسی سے ہاتھ ملانے تک ڈرتا تھا اور اکثر لوگوں نے اپنے ملاقات بھی محدود کردئے ۔
کورونا وائرس کو قابوکرنے کےلئےکئی ایک ممالک نے بہر حال ویکسین تیار کیا ہےا ور اس کے ساتھ بھارت میں بھی کورونا وائرس مخالف ویکسین تیار کی گئی جس کی اب باضابطہ شروعات ہو چکی ہے۔
ملک کی دوسری ریاستوں وعلاقوں کی طرح جموں وکشمیر میںکورونا وائرس کے خلاف ویکسین کے استعمال کا باضابطہ آغاز ہوا ہے۔پہلے مرحلے میں ایک لاکھ ۴۶ہزار ہیلتھ ورکروں اور فرنٹ لائین ورکروں کو ٹیکے لگانے کاہدف مقررکیاگیا ہے۔ جموں میںلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں کے گورنمنٹ میڈیکل کالج کے اسپتال میں کورونامخالف ویکسین مہم کاآغاز کیا ہے۔کشمیروادی میں مہم کے سلسلے میںشیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں افتتاحی تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔تقریب کے دوران ویکسین مہم کا آغاز ڈائریکٹر سکمز ڈاکٹر اے جی آہنگر کو ٹیکہ لگا کر کیا گیا۔اس دوران جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کورونامخالف ویکسین کے بارے میں جھوٹ پرمبنی پھیلائی جانے والی افواہوں کے بارے میں لوگوں کو خبردار کیا۔
حالانکہ کورونا وائرس کےلئےویکسینز کے استعمال کے آغاز کے بعد سے متعدد جھوٹے دعوے سامنے آنے لگے ہیں۔ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے اور لوگوں کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ ویکسین میں کوئی ایسی شئے نہیں ہے جسے انسان کو کسی طرح کے فائدے کے بجائے نقصان ہو۔ اس لئے ویکسین کو قبول کیا جانا ہی بہتر ہے۔ حالانکہ انتظامیہ کو بھی عام لوگوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے اور انہیں کورونا وائرس سے نمٹنے کےلئے ویکسین کے معلومات کے بارے میں تیزی سے آگاہ کرناچاہئے تاکہ ایک عام شہری بھی ایک دوسرے کو قائل کرسکیں ۔ایک عام آدمی کے لیے یہ بہت الجھا ہوا مسئلہ ہوتا ہے اور خاص کر جب آپ کہیں پر یہ پڑہیں کہ ویکسین میں شامل اجزا سے نقصان کا خدشہ ہے ۔ ویکسین کے خلاف ہونے والے گمراہ کن پراپیگنڈا کے رجحان کی روک تھام کے لیے ایک مہم شروع کرنی چاہئے تاکہ برادری اور سماج کے ہر فرد کو ویکسین کی فراہمی یقینی بن جائے ۔ سرکار کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کے ہر کسی شہری کوکو رونا سے پاک رکھنے کے لئے ویکسین لگائیں۔