اداریہ

اُستاد کے ہا تھوں طالبعلم کی تذلیل
ہم ایک سماج کی حیثیت سے کس سمت بڑھ رہے ہیں ؟

سر ی نگرکے پر ے پو رہ علا قہ میں قائم ایک نجی ٹیو شن مرکز میں گزشتہ دنوں ایک استاد نے ایک طا لبعلم کی زبردست پٹائی کرکے نہ صرف اس طالبعلم کو بھری کلا س میں تذلیل کا نشانہ بنایا بلکہ اس حوالے سے ویڈیو وائرل ہو جا نے کے بعد مذکو رہ استاد کو خودبھی حوالات کی ہوا کھا نا پڑی ۔اس مسئلہ کو لے کرسوشل میڈیا پر زبردست بحث و تمحیص جا ری ہے جہاں پرکچھ لوگ اُستاد کے رویے کو نا قابل قبول قرار دیتے ہو ئے اس واقعہ کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ استادکے خلاف سخت کا رروائی کا مطالبہ بھی کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف کچھ لوگ جن میں سے اکثریت پرائیویٹ ٹیو شن مراکز میں پڑھا نے والوں کی ہے،استاد کے رویے کو جا ئز ٹھہراتے ہو ئے اس کے خلاف کی گئی کارروائی کی مذمت کررہے ہیں ۔ان لوگوں کے نز دیک ایک معلم کو یہ حق بنتاہے کہ وہ اپنے شاگرد کو راہِ راست پرلا نے کی خاطراس طرح کا طرز عمل اختیا ر کرسکتا ہے ۔فیس بک، ٹویٹراورانسٹا گرام پر جا ری اس بحث و مبا حثہ کے بیچ کچھ لوگ استادِ مذکو رہ کی حر کت کو یہ کہہ کر جا ئز قرار دیتے ہیں کہ وہ ایک انتہائی ذہین استاد ہے اورپچھلے کئی سال سے انہوں نے اپنی قابلیت اور ذہا نت سے سماج کو کئی ڈاکٹراورانجینئر دئے ہیں۔اس دوران استاد کے رویے کی مخالفت کر نے والے افراد اپنے حق میں یہ دلیل پیش کررہے ہیں کہ استاد کو اس قدرشدت کے ساتھ طالبعلم کی پٹائی نہیں کر نی چاہئے کیو نکہ کسی طالبعلم کو راہ ِ راست پرلا نے کے اور بھی کئی طریقے ہیں ۔اس ساری گرما گرمی اور بحث و مبا حثے کے بیچ کچھ چیزیں ایسی انسان کے ذہن کے اندر اُبھرکرآجا تی ہیں جن کے جواب تلا ش کر نا ضروری ہے ۔پہلی بات یہ کہ کیا ایک استاد کو یہ با ت زیب دیتی ہے کہ وہ ایک طالبعلم کو طلبا ء سے کھچا کھچ بھر ے کلاس میں اس قدربے دردی سے ما رے ؟اس بات میں کو ئی شک نہیں کہ استاد کا اپنے شاگرد پرحق ہو تا ہے مگر یہ کو ئی اخلاقی با ت نہیں ہے کہ کسی بچے کو بھرے کلا س میں کھڑا کر کے اس پر یکے بعد دیگرے درجن بھرتھپڑ رسید کئے جا ئیں ۔دوسری با ت یہ ہے کہ ایک استاد کو بچوں کی نفسیات پر نظرہو نی چاہئے ۔کیا مذکو رہ استاد نے اس سارے عمل کے دوران ایک بھی با ر اس با ت کا خیال کیا کہ بھرے کلا س میں ایک طالبعلم کو کھڑا کرنے اُسے ما ر ما ر کرذلیل کر نے سے اس بچے کی نفسیات پرکیسے منفی اثرات مرتب ہو نگے؟۔یہ با ت یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ مار پیٹ کا شکا روہ بچہ پٹائی کی ویڈیو وائرل ہو جا نے کے بعدیقیناً ڈپرشن کا شکا رہوا ہو گا اوراُسے آئندہ کئی سال تک یہ واقع منفی طور متا ثرکر تارہے گا۔ایک اوراہم بات جو انٹر نیٹ پر اخلا قیات کا راگ الاپنے والوں کو اپنے ذہن میں رکھ لینی چاہئے کہ مذکو رہ استاد نے خیراتی جذبے کے تحت کا م کر تے ہوئے ڈاکٹراورانجینئر پیدا نہیں کئے ہیں بلکہ ان لوگوں نے تو تعلیم کو ایک با ضابطہ کا روبار کی شکل دی ہے اور بچوں کو میڈیکل اینٹرنس یا انجینئرنگ اینٹرنس کے لئے تیا ر کر نے کی خاطران کا لہو تک پیا جا رہا ہے ۔استاد کو دنیا کے تمام مذاہب نے ایک اعلیٰ مقام عطا کیا ہے تاہم اس کے کبھی بھی یہ معنی نہیں ہیں کہ ایک استاد کسی کو بھری محفل میں ذلیل کر دے۔استاد کے پیشہ کو پیغمبرانہ پیشہ کہا جا تا ہے اوروہ شائد اس لئے کہ ایک اللہ کا پیغمبراپنی اُمت یا قوم کے نا ہنجا رسے نا ہنجا رترین افراد کے ساتھ بھی محبت ،شفقت اورہمدردی سے پیش آتا ہے اوراپنی بات پہنچانے کے لئے تاریخ سے کہیں یہ ثابت نہیں ہو تاکہ کسی پیغمبرنے لا ٹھی اُٹھا ئی ہو یا پھردھو نس دبا ئو کا طریقہ اختیا رکیا ہو۔ہم سب کو پر ے پو رہ میں پیش آنے والے واقعے کی صاف صاف الفا ظ میں اوربھرپو رطریقہ سے مذمت کر نی چاہئے تاکہ اس طرح کا کوئی واقع دوبارہ پیش نہ آئے ۔ہمیں اس بات پر بھی سوچنا چاہئے کہ ایک نا مناسب اورنا خوب کار روائی یا طرز عمل کی حما یت میں کھڑا ہونے سے ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں اورایک سماج کی حیثیت سے ہم کس طرف جا رہے ہیں۔