اداریہ

آخر ہوا کیا؟

اب باضابطہ طور پر مفتی محمد سعید وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف لے رہے ہیں ،اس طرح سے پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان مفاہمت ہوئی ہے۔ ایک طرف کئی حلقوں میں خوشی اور مسرت ہے دوسری طرف سے کئی حلقے خدشوں اور اندیشوں میں مبتلا ہیں۔ کئی ایک حلقوں کا ماننا ہے کہ سیول حکومت ہی عوامی بہبود کے اقدامات کرتے ہیں جبکہ کئی حلقے اس بات کو لے کر سنجیدہ ہو رہے ہیں کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان آخر ہوا کیا؟ بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان کن مدعوں پر غور وخوض ہوا اور کون سے ایسے مدعے ہیں جن کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ گذشتہ دونوں پارٹیوں کے سربراہوں نے دہلی میں ملاقات کر کے حکومت تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے ،جس کے بعد دونوں لیڈروں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا کہ آئندہ دنوں میں ریاست جموں و کشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت معروض وجود میں لائے جائے گی۔ تاہم پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اس بات کا اشارہ دیا کہ پی ڈی پی نے ریاست اور ملک کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ مفاہمت کی ہے اور اس طرح دونوں پارٹیوں نے فیصلہ کیا کہ ایک مخلوط حکومت معروض وجود میں لائی جائے گی جس کی پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید سربراہی کر رہے ہیں۔ تاہم عوامی حلقوں میں یہ بات گشت کر رہی ہے کہ ایک طرف گذشتہ مہینے میں مفتی محمد سعید نے کہا تھاکہ پی ڈی پی عوامی منڈیٹ کا سودا نہیں کرے گی اور نہ کسی بھی حساس معاملے پر سمجھوتہ کرے گی۔ مفتی محمد سعید نے اس بات کا بھی اعتراف کیا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے کے طلبگار بھی نہیں ہے۔ دوسری طرف کئی حلقوں میں سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ سچ ہے کہ بی جے پی نے پی ڈی پی کے اس ایجنڈے پر مفاہمت کی ہے جو پی ڈی پی کی ڈیمانڈ ہے کہ ریاست میں افسپا کی منسوخی ہوں اور دفع 370 کو اور مضبوط کیا جائے۔ سوال یہ اُٹھ رہا ہے کیا بی جے پی نے پی ڈی پی کی دونوں اہم ڈیمانڈوں کو مان لیا ہے؟ اگر مان لیا ہے تو یہ پی ڈی پی کے لئے کامیابی کی کنجی ہے اور اگر یہ محض شوشہ ہے تو اس کا بھی آئندہ نتائج نکلنے والے ہیں، اندیشہ تو وہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کہیں پی ڈی پی نے دل وجان سے بی جے پی کی کشمیر دشمن پالیسی قبول تو نہیں کی۔ کہیں ایسا بھی نہ ہو اقتدار حاصل کر کے جس طرح بی جے پی چاہیے کشمیر میں اپنی پالیسی اپنائے۔ جس طرح کہ پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے پہلے ہی رفوجیوں کے حق میں فیصلہ صادر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی خدشے مد نظر رکھ کر کئی حلقے اس وسوسے کے شکار ہے کہ آخر پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان کن معاہدوں پر سمجھوتہ ہوا ہے۔