اِسلا میات

آقا۔۔۔..ہم شرمندہ ہیں

آقا۔۔۔..ہم شرمندہ ہیں

محمدشارب ضیاء
انسانیت کے ختم ہوجانے کے بعدظلم وتشددکی تاریک فضاؤں کے اندرماہ ربیع الاول میں ایک بااخلاق،باکرداراورصالح معاشرہ کی بنیاد’’ایک نیرتاباں‘‘کے ظہورسے رکھی گئی۔ اس عالم رنگ وبومیں بس ایک ہی ’’انسان کامل ‘‘ پیداہوا،جس پرحسن وخوبی اورکمال وبلندی کی انتہاء ہوگئی۔وہ ذات آقاومولی حضرت محمدمصطفیٰ ؐ کی ہے۔اب جسے بھی عروج وسربلندی کی تلاش ہو، اسی ’’انسان کامل‘‘کے اسوۂ حسنہ کی پرچھائیوں میں مل سکتی ہے۔آفتابِ رسالت کے طلوع ہونے کے بعد فکرونظراورضمیروباطن کاعظیم انقلاب پیداہواجس نے صالح تمدن اورپاکیزہ معاشرہ کی بنیادڈالی اوراوردنیاکووہ قانون دیاجوچودہ صدی کے بعدبھی دنیاکے ہرخطہ اورہرقوم میں نافذالعمل ہونے کی صلاحیت رکھتاہے
چنانچہ نبی امیؐکے ساتھ آنے والے اس عالمگیرمذہب نے عرب کے جاہل وناخواندہ ماحول کوسب سے شائستہ ،بااخلاق متمدن اورساری دنیاکااستاذورہبربنادیا۔ دنیاکے تمام ہادی اورتمام انبیاء اپنی اپنی قوموں کیلئے جس قدرتعلیمات لے کرآئے تھے وہ سب کے سب اصولی طورپرآپؐکے قلب اطہرپہ نازل ہونے والی کتاب میں موجودہیں اورزندگی کے جس شعبہ میں علمی رہنمائی کی ضرورت ہو،وہ نبی آخرالزماںؐ کی ذات جامع جمیع کمالات نبویہ وانسانیہ کے ذریعہ ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔آنچہ خوباں ہمہ دارندتوتنہاداری۔
آپ ؐکی ولادت بابرکت اس بات کااعلان تھی کہ حضرت ابراہیمؑ کی اْس دعاء کے پوراہونے کاوقت آچکاہے جوانہوں نے تعمیرخانہ کعبہ کے بعدمانگی تھی:مفہوم’’ اے میرے رب!آپ میری اولادمیں سے ایک رسول کوبھیجئے،جس کے تین کام ہوں،تلاوتِ آیات،تعلیمِ کتاب وحکمت اورتزکیہء نفوس‘‘۔نیزحضرت عیسیؑ ٰ کی یہ بشارت بھی پوری ہونے والی ہے:مفہوم ’’میرے بعدایک نبی آئے گاجس کانام احمدہوگا‘‘۔چنانچہ نبی آخرالزماں کی بعثت کیلئے ایک مناسب جگہ کاانتخاب کیاگیاجسے جغرافیائی اعتبارسے بھی مرکزیت حاصل ہے اور حضرت ابراہیمؐ سے ایک خاص نسبت بھی۔اس مقدس مقام میں آپ کومبعوث فرماکر بتایاگیاکہ محمدؐ عالمی نبی ہیں۔ساتھ ہی اسراء میں مسجدحرام سے بیت المقدس تک کی سیرکراکرگویابتاگیا کہ یہ تمام امم سابقہ کے نبی ہیں،دونوں قبلوں کے امام ہیں اورانبیاء کی امامت کرائی گئی کہ ان تمام انبیاء سابقہ کی امتوں کوبھی ان کی امامت تسلیم کرنی ہوگی۔بعدازخدابزرگ توئی ایں قصہ مختصر۔
نمونہ اورآئیڈیل بنانے کیلئے اس چیزکی ضرورت پڑتی ہے جوہرطرح سے کامل ومکمل ہو،یہ شرف صرف پیغمبراسلامؐکوحاصل ہے کہ آپ کی زندگی اورآپ کی سیرت،جامعیت وکاملیت کے ساتھ بہترین نمونہ ہے جس کی شہادت، قرآنی آیات دیتی ہیں۔اسلام ،خوداپنے پیغمبرؐ کواپنی کتاب کاعملی نمونہ بناکرپیش کرتاہے۔گویاآپ نے وہی کیاجوقرآن نے بتایا’’محمدؐاپنی مرضی سے کچھ نہیں بولتے وہ وہی بولتے ہیں جو’’وحی ‘‘ہوتی ہے۔حضرت عائشہؓ سے پوچھاگیاآپ ﷺکااخلاق کیساتھا، جواب دیا’’تم نے قرآن نہیں پڑھا؟،کان خلقہ القرآن آپ کی سیرت ہی قرآن ہے اورآپ کی پوری سیرت طیبہ، قرآن کی آئینہ داراورقرآن کی عملی تشریح ہے۔نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول ،وہی آخر وہی قرآں ،وہی فرقاں، وہی یٰسین ،وہی طٰہ۔ قدرت نے آپﷺکوانسان کامل بناکربھیجاتھاچنانچہ ایسے انسان کوسیرت وصورت اورظاہروباطن کے اعتبارسے خوبی وکمال کاجامع ہوناہی چاہئے تھااورآپ اس کے صحیح مصداق تھے۔دونوں جہاں آئینہ دکھلاکے رہ گئے لاناپڑاتمہیں کو،تمہار ی مثال میں۔
ہدایت اورتعلیم کاسب سے کارگراسلوب یہ ہے کہ صرف زبان سے ہی کہہ کرنہ چھوڑدیاجائے بلکہ جن چیزوں کی تعلیم دینی ہوان کاعملی نمونہ بن کربھی لوگوں کے سامنے آیاجائے،کیونکہ انسان،کانوں کے ذریعہ کم اورآنکھوں سے زیادہ سیکھتاہے،تمام ادیانِ عالم میں یہ شرف پیغمبراسلامؐ کوہی حاصل ہے کہ وہ تعلیم اوراصول کے ساتھ ساتھ اپنے عمل اوراپنی مثال پیش کرتے ہیں،نمازکاطریقہ اس طرح سکھاتے ہیں’’ تم اس طرح نمازپڑھوجس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے ہو‘‘۔نمازکی نصیحت فرمائی تواپنایہ عالم بنالیاکہ کھڑے کھڑ ے پاؤں سوج جاتے ،سجدہ اتنالمباہوتاکہ ایسالگتاکہ اب سرہی نہیں اٹھائیں گے،روزہ کایہ عالم کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ روزہ رکھنے پرآتے تومعلوم ہوتاکہ اب کبھی افطارہی نہیں فرمائیں گے۔بیوی اوربچوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم ان الفاظ میں دیتے ہیں،خیرکم خیرکم لاھلہ واناخیرکم لاھلی تم میں سب سے اچھاوہ ہے جواپنی بیوی بچوں کیلئے اچھاہواورمیں اپنے اہل وعیال کیلئے تم سب سے اچھاہوں۔حج الوداع میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ذاتی نظیراورعملی مثال بھی ہرقدم پرپیش کی جارہی ہے۔فرمایا’’آج عرب کے تمام انتقامی خون باطل کئے گئے اورسب سے پہلے میں اپنے خاندان کاخون معاف کرتاہوں،ایامِ جاہلیت کے تمام سودی لین دین اورکاروبارآج ختم کئے گئے اورسب سے پہلے میں اپنے چچاعباس بن عبدالمطلب کاسودمعاف کرتاہوں‘‘۔فتحِ مکہ کے موقعہ پر فاتحِ اعظم کے حسنِ سلوک کودیکھئے جنہوں نے دشمن کے گھرکوبھی دارالامان بنادیا۔انسانیت کی پوری تاریخ ،عفوودرگذرکی اس مثال سے خالی ہے۔یہ خصوصیت بھی آپ ﷺ کوہی حاصل ہے کہ آپﷺکے وصال کے بعدبھی آپ کے پیام اوراسوۂ حسنہ کوزوال وفناسے محفوظ کردیاگیاہے،مقدس زندگی کی ایک ایک ادا،آپﷺکاایک ایک عمل،ایک ایک فرمان چودہ سالوں سے آج تک محفوظ ہے۔جس طرح قرآن مقدس کی حفاظت کی ذمہ داری اسے نازل کرنے والے کی طرف سے لی گئی اسی طرح بیانِ قرآن،معانیِ قرآن ،شرحِ قرآن ،تفسیرِقرآن اورحاملِ قرآن کی ایک ایک اداکی حفاظت کاانتظام بھی قدرتی طورپہ کیاگیاچنانچہ آپﷺکاایک ایک عمل اسی طرح زندہ ہے جس طرح مکہ ومدینہ ،بدر واحد ،طائف وحنین ،خندق وتبوک میں جاری ونافذتھا۔
یہ ایک افسوس ناک پہلوہے کہ جوذاتِ گرامی ہماری ہدایت کیلئے آئی تھی آج ہم نے اس کے دیئے ہوئے سبق کوبھلادیا، ہم صرف محبتِ رسولﷺکے دعویٰ کوہی اپنی نجات کیلئے کافی سمجھ بیٹھے ہیں ،ہمارے اعمالِ حسنہ کاپھولْ مرجھاگیاہے۔ جس طرح بنی اسرائیل کوان کی بداعمالی اوربداعتقادی کی وجہ سے ہزاروں سال کی عظمت ،فضیلت اورنعمت سے محروم کیاگیااسی طرح اگرہم نے اس غلامی کی نعمت اور اس حبل متین کوچھوڑدیاجس کانزول قلب امین پرہواتھاتوہم بھی محروم وخاسرہوجائیں گے۔گذشتہ دنوں جوکچھ ہوا،ایک لعین نے شانِ رسالت میں گستاخی کی،اس پرجواحتجاج ہورہاہے وہ ہرباضمیراورمحبِ رسول کی آوازہے۔ لیکن کیاہم نے کبھی اس پہلوپرغورکیاکہ ہم وقتی نعرے تولگاتے ہیں،لیکن ہمارے دل اورہمارے ا عمال سیرت طیبہ سے کتنے ہم آہنگ ہیں۔راسوکاکی مدت ختم ہونے کے ساتھ ہی گیارہ ماہ کے بعدحکومت اسے رہابھی کردے گی،ہمارے حوصلے اورہمارجذبہ ایمانی دیکھتے ہی دیکھتے سردہوجائے گاکیونکہ ان نعروں میں جذباتیت توہے لیکن روح سے خالی۔ہم ڈاڑھی کے مسئلہ پرعدالت توجاتے ہیں لیکن پیروی کارکے چہرے سنت رسول سے خالی ہوتے ہیں۔اسلام کے تعلق سے ساری غلط فہمیاں اسی بے راہ روی کی وجہ سے پیداہورہی ہیں اوراسلام دشمن طاقتیں ہماری اس بے عملی کافائدہ اٹھاکراسلام کی غلط تشریح کررہی ہیں۔حقیقی احتجاج تویہ ہوگاکہ ہم اپنے اندرانقلابی تبدیلی پیداکریں،ضمیرودل کاانقلاب ہو،یہ عہدکریں کہ آج سے اپنے محبوب کی کوئی سنت نہیں چھوڑیں گے،اپنے چہرے،لباس،رہن سہن،اخلاق ومعاملات سب کچھ اپنے آقاؐکے اسوۂ حسنہ کے مطابق بنائیں گے۔ہم وہ زندگی گذاریں گے جوہمارے محبوب کومحبوب تھی۔گھریلومعاملات سے لے کرمعاشرتی امورتک ہماراکوئی بھی کام محبوب کی مرضی کے خلاف نہیں ہوگا۔غیروں کے ساتھ ملنے جلنے میں شادی بیاہ سمیت تمام معاملات میں،بازاروں سے لے کرتنہائی تک صرف محمدرسول اللہﷺکے غلام رہنے کاعہدکریں۔تمام رسوم ورواج کے بندھن کوتوڑکرخالص اسلامی زندگی گذاریں گے۔ہم جائزہ لیں کہ کیابیوی،والدین،اولاد ،رشتہ داروں،پڑوسیوں اورغیروں کے ساتھ ہماراسلوک وہی ہوتاہے جس کی ایک ایک قدم پررسول کریمﷺنے عملی رہنمائی فرمائی تھی۔دنیاکاکون ساقانون ہے جوہمیں اسلامی معاشرت کے ساتھ زندگی گذارنے سے روکتاہے،کس آئین نے مجبورکیاہے کہ ہم جہیزکے رواج کوفروغ دے کرنکاح کومشکل اورزناکوآسان بنادیں۔رسول اللہﷺ نے تونکاح کوآسان بنایاتھا،ہمارے معاشرے نے زناکوآسان بنادیاہے ،کون ساقانون کہتاہے کہ پڑوس میں بیٹیاں سسکتی رہیں اورتم فضول خرچی کرتے رہو۔رسول نے توہمیں ایک صف میں کھڑاکرکے امت واحدہ بنایاتھا، انتشارکی راہ پرکس چیزنے ہمیں چلنے پرمجبورکیا۔ وجہ ظاہرہے کہ اس کے ذمہ دارہم خودہیں،ہم نے نبوی تعلیمات سے دوری اختیارکی اللہ نے ظالموں کومسلط کردیا،ظالم حکمرانوں کاتسلط مکافات عمل ہی توہے۔رسولﷺنے ز ندگی کے ہرشعبہ میں ہماری مکمل رہنمائی کی ہے جس کے بعدکسی اورراہنماکی ضرورت نہیں۔ یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کم ازکم روزانہ سوباردرودشریف پڑھیں اورغائبانہ رسولﷺ سے معافی مانگیں کہ محبوب رب العالمین ہمارے اعمال ایسے ہوگئے کہ ہماری وجہ سے آپ کویہ سب کچھ کہاگیا۔ساتھ ہی سیاست چمکانے والے مسلم لیڈران بھی اپنی زبان پرقابورکھیں جن کے بیانات عام مسلمانوں کیلئے نقصاندہ اور جذبات کومجروح کرنے کاسبب بنتے ہیں۔نیزقانون سازاداروں کوبھی ایسے قوانین بنانا چاہئیں جومذہبی جذبات کومجروح کرنے والوں کی سخت گرفت کرے۔خواب خرگوش میں بدمست عرب حکمرانوتمہاری غیرت کوکیاہوگیاہے، اٹھواورپوچھواپنے دوست ملک کے ذمہ داروں سے جن کی سرپرستی میں ان جیسوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔سوال کروان اہل اقتدارسے جن کے قدموں کیلئے اپنے ملک میں تم نے قالین سجائے تھے۔جس طرح روضہ رسولﷺکی حفاظت تمہارے ذمہ ہے،اسی طرح حرمت رسول کونشانہ بناکرعالم اسلام کی غیرت ایمانی کوچیلنج کیاگیاہے۔حرمت رسولﷺکے مقابلہ میں علاقائی سیاست اورتجارتی مفادات کوئی معنی ٰنہیں رکھتے۔مسلمانوں کیلئے حرمت رسول ﷺسے بڑھ کرکوئی سرمایہ نہیں ہوسکتا۔بس آقاسے یہ گنہگارامتی عرض کرتاہے،کہ آقاہم شرمندہیں،ہم نے خودآپ کی سنت کوفراموش کیا،آپ کی شریعت مطہرہ کے احکام کوخودپامال کیااور آپ کی غلامی کی قدرنہ کی جوکچھ ہوااورہورہاہے سب ہمارے اعمال کی سزاہے۔