اداریہ

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟

یکم مارچ 2015 کو جب مفتی محمد سعید نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے جموں یونیورسٹی کے زور آور سنگھ آڈیٹوریم میں حلف لیا اور پہلے ہی دن یعنی حلف برداری کی تقریب کے فوراً بعد وزیراعلیٰ مفتی ممد سعید نے پی ڈی پی بی جے پی مشترکہ ایجنڈے کے پیس منظر میں ایک پریس کانفرنس کے سامنے اس بات کا انکشاف کیا کہ پُر امن چنائو کرانے کے لئے حریت کانفرنس ، جنگجوئوں اور پاکستان کا رول قابل ستائش ہے۔ مفتی نے مسئلہ کے داخلی اور خارجی پہلو حل کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ مزاحمتی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کی خواہش بھی ظاہر کی تھی۔ اس وقت مفتی محمد سعید نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پی ڈی پی نے بی جی پی کے ساتھ اصولوں کی بنیاد پر اتحاد کیا، اقتدار یا مراعات کے لئے نہیں۔ اس کے ردعمل میں 2مارچ کو مفتی کے بیان پر پارلیمنٹ میں ہنگامی کھڑا ہوا۔ جس میں مفتی نے کہا تھا ریاست میں حریت پاکستان اور جنگجوئوں کے تعاون کے بغیر اسمبلی الیکشن بخوبی انجام دینا ممکن نہیں تھا، پر ملک کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت اور بی جے پی مفتی کے اس بیان سے اتفاق نہیں کرتی۔ مرکزی کی طرف سے جب مفتی محمد سعید کو اپنے اوقات میں رہنے کی ہدایت دی گئی تو مفتی محمد سعید نے میڈیا کو تنقید کیا اور کہا کہ میں نے پُر امن انتخابات کرانے میں الیکشن کمیشن، سیکورٹی فورسز اور جموں کشمیر کے لوگوں کے تعاون کی بات کی تھی۔ اس طرح سے مفتی کا پہلا بیان جس میں پُر امن انتخابات کے لئے پاکستان، حریت کانفرنس اور جنگجوئوں کو سہارا دیا گیا یہ کوشش کی گئی کہ عوام کو یہ بیان پی ڈی پی سرپرست کا نہیں بلکہ حریت کانفرنس کا بیان لگنا چاہیے تاکہ آئندہ کیلئے پی ڈی پی کو عوام میں ساکھ بن جائے۔ لیکن جب بیان دینے سے اقتدار کولاخطرہ لاحق ہوا تو فوراً بیان میں تبدیلی لائی گئی اور اس کو سنبھالنے کی کوشش کی گئی جس میں پُر امن انتخابات الیکشن کمیشن، سیکورٹی فورسز اور جموں وکشمیر کے لوگوں کے تعاون کی بات کی گئی۔
آج جبکہ ایک اور ہنگامہ کھڑا ہوا کہ وادی سے فرار ہوئے یعنی مائیگرنٹ پنڈتوں کی وادی واپسی اور اُنہیں الگ سے بسانے کا چرچا ہوا، میں مفتی محمدسعید کو دہلی بلا کر ان سے اس بارے میں صلاح مشورہ کیا گیا۔ ریاست کے وزیراعلیٰ نے مرکز کو یقین دلایا کہ وہ جلد از جلد اس بارے میں زمین کا انتخاب کرکے مائیگرنٹ پنڈتوں کو الگ بستیوں میں بسانے کا بندوبست کرے گا۔ اس پر بھی جب علیحدگی پسندوں کے ساتھ ساتھ دیگر مین سٹریم جماعتوں نے شور مچایا اور کہا کہ ریاست میں اسرائیلی طرز پرکالونیاں بنانے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائیگی۔ تو مفتی محمد سعید نے بھی اپنے بیان میں نرمی لا کر اسمبلی میں ایک بیان دیا کہ کشمیری پنڈت کشمیر تہذیب کا حصہ ہے انہیں الگ سے بسانے کا سرکار کو کوئی پلان نہیں ہے۔
حقیقی معنوں میں اگر دیکھا جائے تو پی ڈی پی کے سرپرست اور وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کو مصالحت ہے، اسی لئے وہ اتنے نرم پڑ جاتے ہیں ورنہ مفتی محمد سعید پرانے سیاستدان ہیں اور اچھی سیاست کرنا جانتے ہیں، مصالحت اقتدار کی ہے اگر وہ اچھی سیاست اور کشمیری عوام کی بہبود کیلئے کچھ بہتر کرنے کی کوشش کرتے تو اقتدار چھن جانے کا خطرہ ہے۔ اسی لئے پی ڈی پی کا ضمیر مرکز اور بی جے پی کے پاس گروی ہے۔یہاں اصولوں کی بنیاد نہیں بلکہ اقتدار اور مراعات مد نظر ہیں۔اسی کے بلبوتے پر گذشتہ مہینے میں بی جے پی کے سرکردہ لیڈر اور پارٹی صدر امیت شاہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے دور میں مسئلہ کشمیر حل ہونے والا ہے اور اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہواتو پی ڈی پی سے الگ ہونے میں ایک سکنڈ بھی نہیں لگتا سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ مسئلہ کشمیر کا حل امت شاہ کے نظر میں کیا ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟