مضامین

آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا

عبد المعید ازہری

مسلمان دنیا کی وہ واحد قوم ہے جو مال و دولت کے خرچ کرنے ،جذبہ ایثارکے اظہار اور قربانی پیش کرنے جیسے اعمال پر خوشیاں مناتی ہے۔ مذہب اسلام کی یہ انفرادی اور اعجازی شان سے کہ وہ راہ خدا میں اپنی کمائی کی جمع پو نجی کو اللہ کے حکم سے خرچ کر دینے کا نہ صرف حکم دیتا ہے بلکہ اس کی ترغیب بھی کرتا ہے ۔ ذی الحجہ اسلامی دن تاریخ کے اعتبار سے سال کا آخر مہینہ ہے جس کی ۱۰،۱۱،۱۲ تاریخ کو لوگ قربانی پیش کرتے ہیں ۔ ان تین تاریخوں میں حج ہوتا ہے۔ حج و قربانی بارگاہ خداوندی میں بے حد عزیز عمل ہے۔ یہ عمل مالک نصاب ،صاحب ثروت پر فرض ہے۔ ترک کرنے پر گناہ کا مرتکب ہوگا۔ حج کے ایام میں پوری دنیا کے ہر رنگ و نسل کا مسلمان ایک مرکز پر ایک ہی لباس میں ایک صف ہو کر خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو تا ہے ۔ ہر سال حج کے ایام کا ایک لباس اور ایک تکبیر ہونا مسلمانوں میں اتحاد قائم کر نے کا پیغام دیتا ہے۔ محنت کی کمائی سے لاکھوں روپئے خرچ کر کے، آل و اولاد کو چھوڑ کر، وطن کو خیرآباد کہہ کر وہ مکہ و مدینہ کے وادیوں کا طواف کر تا ہے۔ رب کی قدرت کے جلووں کو کبھی عرفات میں تو کبھی منی و مزدلفہ میں تلاش کر تا ہے ۔ صفا و مروہ کی سعی کے دوران سنت ہاجرہ کو زندہ کر کے رب کے خاص فضل واحسان کے ذرائع تلاش کرتا ہے ۔ شیطان کے مجسمہ کو کنکری ما ر کر حضرت ابراہیم و اسمٰعیل علیمھا السلام کے جزبہ ایثار وایمان کو یاد کرتا ہے ۔ حجر اسود کوبوسہ دیتے وقت حضرت عمر کی بات یاد آئی ہے جو آپ نے فرمایا تھا کہ اے حجر اسود میں تجھے اسلئے بوسہ دیتا ہوںکیونکہ تجھے ہمارے آقا نے چوما تھا ۔ مقام ابراہیم پر سجدہ ریز ہونے کے بعد رب کے کر شمائی قدرت کا قائل ہو تا یہ کہ اے رب ایک دن وہ تھا جب تونے اپنے گھر ،خانہ کعبہ کو پتھر وں سے آزادکرنے کا حکم دیا تھا اور ایک دن آج ہے کہ پتھرں میں اپنی نشانی پنہا کر رکھی ہے ۔ مقام ابراہیم سے لے کر صفا و مروہ اور حجر اسود سے لے کر شیطان کو کنکری مارنے تک پتھروں سے اپنی عبادت کو گھیر رکھا ہے۔انہیں اپنی تجلیات کا مرکز و محور بنا رکھا ہے ۔ اسے عقل کا جواب ملتا ہو گا ان پتھروں کو کعبہ سے خالی کرایا گیا تھا جنہوں نے برابری کا دعویٰ کیا تھا ۔ ان کو بھی معبود تصور کیا گیا تھا ۔اور جن پتھروں کو قریب رکھا گیا ، تجلیا ت کا مظہر بنایا گیا یہ وہ پتھر ہیں جو اللہ کی نشانیاں ہیں۔ خدا پر یقین،جزبہ ایثار،خدمت نبی پر انعام اور بوسہ رسول کی ضامن ہیں ۔ اب یہ عام پتھر نہیں ۔ یہ رب کی عطا، اس کی رحمت و کرامت ہے جسے جتنی عزت چاہے بخش دے۔ وہ خالق کل،مالک کل ہے جسے جو چاہے عطا کر دے ۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں خرچ کر کے، مشکل کا سامنا کر کے ،مصائب کو برداشت کر کے وہ پتھروں میں رب کے جلوے تلاش کرتا ہے اور فخر محسوس کرتا ہے ۔ حج کے تعلق سے علماء کرام اور صوفیا ئے عظام نے اپنے اپنے فقہی و روحانی خیالات کا اظہار فرمایا ہے ۔ علماء کرام نے حج و قربا نی کے اصراف اور خرچ کی توجیہہ اس طرح فرمائی ہے کہ یہ خرچ اور اجتماع اسلئے ہے کہ خدا کی راہ میں اس کے حکم سے خرچ کر نے کے عادی ہو جا ئو۔ جب ضرورت پڑے تو مال و دولت خرچ کر کے ،متحد ہو کر قوم مسلم کے مسائل کا حل تلاش کرو۔ اپنے آپ کو ہمیشہ دین کےلئے تیار رکھو۔
صوفیا ء کا خیال یہ ہے کہ حج میں خرچ واجتماع کا مقصد یہ ہے کہ بندہ عاجزی و انکساری کا عادی ہو جا ئے ۔ اپنے اپنے گھروں میں چاہے جتنے قیمتی لباس زیب کرتا رہا ہو یہاںآکر ایک ہی لباس پر اکفتا کرنا ہو گا۔ ہر رنگ و نسل قوم و ذات کے ساتھ یکساں رویہ ہوگا۔ حدو د حرم میںبندے کا سارا اختیار ختم ہو جا تا ہے ۔ عاجز محض بن جاتا ہے ۔ ایک چینٹی تک کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔ یہاں تک کہ خود کے سر کے بال بھی نہ ٹوٹنے پائے اس کا خیال رکھنا پڑتا ہے ۔ اس کے لئے غسل کے وقت آہستہ سے سر کی مالش کر نیکی تلقین کی گئی ہے ۔ سر میں جوں پڑ جا ئے تو اسے بھی نہیں مار سکتے ۔ خلاف ورزی کر نے پر اس کا ہر جا نہ اور جرمانہ دینا پڑے گا۔اس عجز و انکساری کا انعام بھی عظیم ہے۔ جب بندہ عاجز ہو جا تا ہے تو پتھروں میں خدا کے جلوں اور نشانیوں کو تلاش کرتا ہے ، اسے ہر شئی میں خدا کا جلوہ نظر آ تا ہے۔ جو ان جلوں کو جزب کر لیتا ہے تو اس پر یہ حقیقت منکشف ہو جا تی ہے کہ یہ تو وہ جگہیں ہیں جہاں اللہ نے ا پنے کچھ خاص بندوں سے اپنی رضا کا اظہا ر کیا تھا۔جب رضائے الٰہی کے اظہار کی جگہیں اتنی متبرک ہوگئیںتو ان بندوں کا کیامقام ہو گا جنہوں نے اپنی رضا کا اظہار کیا۔ پھر اس کا کیا مقام ہو گا جس کی بشارت ہر نبی نے دی ہے ۔ پھر تو دیوا نگی کا یہ عالم ہو تا ہے کہ حج مکہ میں ہوتا ہے اور شکرانہ مدینہ میں ادا کیا جا تا ہے ۔ تیسرا یہ بھی مقصد ہے کہ کچھ دن دنیا اور اس کی ضرورتوں سے بے نیاز ہو کر صرف رب کے ہو جا ئو ۔ ایسی جگہ قیام کرو جہاں صرف عبادت ہو ئی اور رب کی خاص رحمت کے ساتھ جلوں کا ظہور ہوتا ہے ۔ اسی میں کھو جا ئو ۔ کسی غیر شئی کے فکر و خیال کودل ودماغ سے نکا ل دو ۔ بس اللہ ہی اللہ کی کیفیت طاری کر لو ۔ پھر دیکھو رب ایسے واپس بھیجے گا جیسے تم ابھی پیدا ہو ئے ہو۔ سارے گناہ ایسے معاف جیسے کبھی کئے ہی نہ ہوں ۔ یہ رب کا ایک خاص فضل ہے جو صرف حاجیوں پر ہوتا ہے۔صوفیاء نے حاجیوں کی کیفیت یوں بیان کی ہے ۔ جب حج کا ارادہ کر لیا جائے اور سفر پر روانہ ہونے کی نیت کر لی جائے تو اس بات کا بھی ارادہ کر لیا جائے اب دنیا کی خواہشوں سے بھی منہ موڑ رہا ہوں۔ اب سے ہماری زندگی کا مقصد آخرت اور رضائے الٰہی کی تلا ش و جستجو ہے ۔جب صفا و مروۃ کی سعی کرے تو اس بات کا عزم کر لے کہ آج سے ہمارا ہر اٹھنے والا قدم راہ خدا میں ہوگا ۔ منیٰ میں قربانی پیش کرتے وقت یہ احساس ہوکہ آج سے ہم تما م نفسانی خواہشات ، حرص و ہوس،جھوٹ فریب، ریاء و مکر کو بھی قربان کر رہے ہیں۔شیطان کو کنکری مارتے وقت ہم اپنے دلوں سے بھی شیطان کو نکال دیں گے ۔اگر ایسی کیفیت بندے کے دل میں داخل ہو جاتی ہے تو یقینا اسے ان جلووں کا دیدار نصیب ہوتا ہے جس کے لئے رب کریم نے سفر کرنے کا حکم دیا ۔
اس ماہ کی یہ بھی ایک خصوصیت ہے کہ اس ماہ کی دس سے لے کر تیرہ تک چار دنوں کو اللہ نے اپنے بندوں کی مہمان نوازی کے لئے منتخب فرمالیا۔ ان دنوں میں بندہ کو روزہ رکھنے سے منع کر دیا۔ روزہ خود ایک عبادت ہے ۔ اللہ نے خود ایک عبادت سے منع فرمایا ہے ۔ اس کی شان کریمی ہے کہ جب کسی چیز سے منع فرماتا ہے تو بدلے میں اس سے اچھا عطا فرما تا ہے ۔ ان چار دنوں میں خود کھانا اور دوسروں کو کھلانا عبادت ہے اور ایسی عبادت ہے جو ان دنوں روزہ سے بھی افضل ہے ۔ حج و قربانی کے احکام و اعمال ، فرائض ، واجبات ، سنت و مستحبات ہمارے ایمان و یقین اور رب کی ذات پر مکمل توکل اور اعتماد کی تلقین کر تے ہیں ۔ شہادت کے ذریعہ توحید کے گہوارہ میں قدم رکھنے سے قبل خوب غورو فکر کر لو ۔ کیونکہ یہ ایسا دین ہے جس میں کسی طرح کی کراہت اور جبر کی گنجا ئش نہیں ہے ۔ایمان میں داخل ہونے کے بعد بالخصوص جلووں کا مشاہدہ کر نے کے بعد مکمل اعتماد لازمی ہے ۔ صفا و مروہ کی سعی میں اگر اللہ کی نشانی ہے تو یقین ہے ۔ مقام ابراہیم اگر چہ وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم ؑ نے کعبہ کی تعمیر کی تھی۔لیکن اس پتھر کو قدر و منزلت حاصل ہے تو تسلیم ہے ۔ وقوف عرفہ ،منی مزدلفہ ، طواف اور حجر اسود کا بوسہ اگر رب کو راضی کرتا ہے تو اس کی عظمت ہمارے سرآنکھوں پر ہے ۔ جہاں تعظیم مقام و مرتبت تک پہنچاتی ہے وہیں توہین تمام اعمال کو ایک لمحہ میں مٹا دیتی ہے اور اس کا احساس تک نہیں ہو پاتا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس یقین کی تبلیغ حدود حرم سے باہر کی جا ئے ۔جو پیغام ہمیں سر زمین حجاز سے ملا اسے پوری دنیا میں عام کیا جا ئے۔ مکہ و مدینہ میں جن جلووں کا مشاہدہ ہوا ہے ان کی نورانیت سے تمام عالم کو منور کیا جا ئے ۔ جذبہ ایثار کا جو عزم منی ،مزدلفہ میں کیا تھا اسے تا حیات قائم رکھا جا ئے ۔ خود سپردگی اور اللہ پر یقین و اعتماد کا جو سبق صفا مروہ کی سعی ، مقام ابراہیم پر سجدے کر دوران پڑھا یا گیا ،اسے اپنے معاشرے میں پڑھا یا جا ئے ۔ عاجزی و انکساری کی جو کیفیت حدود حرم میں طاری تھی اسے پامال ورسویٰ نہ ہونے دیں ۔
حج پر جا نے سے پہلے جن فکر و نظر اور فعل و عمل کو ترک کیا تھا ،حج کے بعد حجاز مقدس کے جلوے تمام اعمال و افکار سے جھلکیں۔ حج کی بدولت رب کریم نے ایک بار قلب کو گناہوں کی سیا ہی سے پاک کر دیا ہے ۔ دوبارہ اسے سیاہ نہ ہونے دیں ۔ کفر و نفاق ،حسد و کینہ ، جھوٹ فریب، دھوکہ ،عیاشی ،نفرت ،کدورت سے اپنے آپ کو دور رکھے ۔ محبت، اخوت، انسان دوستی،خلق خدا کی خدمت کے سانچے میں ڈھل جا ئیں ۔ حج کا فریضہ انجام دیا ہے،حاجی کا لقب پایا ہے ، اس کی بے قدری نہ ہو نے پا ئے ۔